گریٹ گیم، پامیر کی تقسیم اور واخان کا المیہ


اٹھارہویں صدی میں جب یورپ مشرق اور مغرب میں تقسیم ہو چکا تھا۔ دنیا ایک ایسی عالمی جنگ سے گزری تھی جس کی وسعت پہلے نہ سنی نہ دیکھی۔ افریقہ کے صحراؤں سے یورپ کے برفانی کوہساروں تک بکھری لاشوں کا تخمینہ ایک کروڑ سے زائد لگایا گیا جو اس سے پہلے ایک صدی میں لڑی جنگوں کی کل اموات سے زیادہ تھا۔

جنگ تو رک گئی مگر مغرب سے روس اپنے پنجے گاڑتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا تو مشرق میں برطانوی سامراج ہندوستان میں اپنے قدم جما چکا تھا۔ اس اثنا میں دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آمنے سامنے آ گئیں تو یہاں قدم جمانے اور اور بالادستی قائم کرنے کی سیاست اور سفارت کو ’گریٹ گیم‘ کا نام دیا گیا جو بہ الفاظ دیگر عظیم سازشوں کا کھیل تھا جس کو دنیا کی دو بڑی طاقتیں ایک دشوار گزار علاقے میں ایک دو سے کے خلاف کھیل رہی تھیں۔

انگریزوں کو موجودہ پاکستان اور کشمیر کے انتہائی شمال کے محل وقوع اور جغرافیہ کا ہی شاید معلوم نہیں تھا اس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ جموں وال نے 1846 ء کے معاہدہ امرتسر میں اس علاقے پر اپنی عملداری کا دعویٰ کر کے ہتھیا لیا۔ اپنے مربی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے انتباہ کے باوجود گلگت کی طرف پیش قدمی کر کے پے درپے شکست کھانے کے باوجود گلاب سنگھ نے اس علاقے پر عملداری کا دعویٰ کیا تھا جس سے نووارد انگریز بے خبر تھے۔

دہلی میں بیٹھی انگریز سرکار کو پہلی بار پنجاب یونیورسٹی کے بانی اور ماہر تعلیم و مستشرق گوٹلیب ولیم لیٹنر نے اس علاقے کی طرف توجہ دلائی جو کشمیر سے اس علاقے میں کچھ درد قبائل کے لوگوں سے تعارف ہونے کے بعد داخل ہوا تھا۔ اس علاقے کی دفاعی اور عسکری حساسیت اور اہمیت کے بارے میں ولیم لیٹنر کی سفارش پر ہی رائل جیو گرافک سوسائٹی کی طرف سے سر جارج ہائیورڈ نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ سفر کے دوران جارج ہائورڈ نے جب یاسین میں معاہدہ امرتسر کے بعد کشمیری ڈوگروں کے ڈھائے ظلم کو دیکھا تو اپنا دورے کو معطل کر کے لاہور جاکر ایک پریس کانفرنس کر کے دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کی۔

دنیا کو ظلم کے بارے میں آگاہ کرنے کی پاداش میں دوبارہ سفر کے دوران غذر میں پامیر سے متصل وادی یاسین کے آخری گاؤں درکوت میں 17 جولائی 1880 ء کو جارج ہائیورڈ کا بے دردی سے قتل ہوا۔ جارج ہائیورڈ کی موت پر سر ہنری نیوبولٹ نے اپنی مشہور زمانہ نظم ’ہی فل امنگ دی تھیوز‘ لکھی جس میں اس اندوہناک قتل کی منظر کشی کی گئی ہے۔

دوسری طرف روسی سفارتکاروں نے ہنزہ کے میر سے رابطہ کر کے اپنی وفاداری کے لئے مائل کرنے کی کوشش کی جس کی بھنک دہلی کو پڑ چکی تھی۔ انگریزوں نے 1891 ء میں نگر نلت کے مقام پر ایک بھرپور جنگ مسلط کی۔ 28 دنوں تک انگریزی فوج کے خلاف لڑی گئی جنگ کو تاریخ میں ’اینگلو بروشو وار‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں ہندوستان میں پہلا اور آخری وکٹوریہ کراس کا اعزاز بھی کرنل جارج ارنلڈ ڈیورنڈ کو دیا گیا۔

گلگت بلتستان اور چترال میں اپنی سرحد کا تعین کرنے کے بعد انگریزوں نے روسیوں سے کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی خاطر پامیر میں واخان کی راہ داری قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ سویت یونین کی سرحد براہ راست برطانوی ہندوستان سے نہ مل سکے۔ اس مقصد کے لئے دریائے پنج کو سرحد قرار دے کر واخان کو افغانستان اور تاجکستان کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔

افغانستان کی عملداری کو سویت سرحد تک توسیع دینے کی خاطر وادی واخان کے نصف کو برٹش کرنل جارج ارنلڈ ڈیورنڈ کی طرف سے 1899 ء میں اس کے حوالے کیا گیا جس کے احوال تفصیلاً ان کی کتاب ’میکنگ آف اے فرنٹئیر‘ میں لکھے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ برٹش انڈین سول سرونٹ اور سفارتکار سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن کے درمیان 1893 ء میں ہوئے معاہدہ کے بعد کی کارروائی ہے جس کے نتیجے میں موجودہ پاکستان کی مغربی سرحد وجود میں آ گئی تھی۔ افغانستان کے ساتھ سرحد کا تعین کرنے والے دونوں برٹش افسران کا نام ڈیورنڈ ہونے کی وجہ سے لوگ آج بھی گلگت بلتستان، چترال کی افغانستان کے ساتھ سرحد کو بھی ڈیورنڈ لائن ہی سمجھتے اور کہتے ہیں۔

واخان کی تقسیم کے بعد دریائے پنج کے دونوں اطراف میں رہنے والے خاندان دو ملکوں میں منقسم ہوئے۔ اس سے پہلے یہ برٹش ہندوستان کی سرحد قائم ہونے پر تین ملکوں میں بکھر گئے تھے اور چین کی طرف سے اپنی عملداری قائم کرنے پر چار ملکوں میں تقسیم ہوئے۔

وخی زبان بولنے والوں کی نسبت سے پامیر کی اس وادی کو واخان کہا گیا ہے یا واخان کے رہنے والوں کی زبان کو وخی کہا گیا ہے اس بارے میں زیادہ قرئین قیاس یہی ہے کہ زبان کی وجہ سے علاقے کا نام پڑ گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ تو چار اور ممالک میں بھی رہتے ہیں۔

وخی ہند آریائی یا ہند ایرانی زبانوں کی ایک شاخ ہے جن میں فارسی، دری، پشتو، بلوچی وغیرہ شامل ہیں جو پاکستان میں بولی جاتی ہیں۔ اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد لاکھ سے سوا لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ 2018 ء کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں وخی بولنے والوں کی تعداد 64 ہزار، افغانستان میں 21 اور تاجکستان میں 20 ہزار جبکہ چین کے صوبے سنکیانگ میں 14 ہزار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس، ترکی، امریکہ اور کینیڈا میں ہجرت کر کے گئے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔

چار مختلف ممالک میں منقسم وخی لوگوں کے معاشی و سماجی حالات ان ملکوں کے مجموعی حالات سے مختلف نہیں۔ تاجکستان کے گورنو بدخشان کے رہنے والوں میں سویت یونین کے دور میں معیار تعلیم بہت بلند ہوا ہے مگر اس کے بعد یہاں اعلیٰ تعلیم کی شرح کم ہوئی ہے۔ معیار زندگی بھی سویت دور کے مقابلے میں انتہائی پست ہے۔

افغانستان میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے علاوہ شناختی تعصب کی وجہ سے حصول روزگار اور کاروبار میں مشکلات درپیش ہیں۔ زیادہ تر لوگ گلہ بانی کرتے ہیں اور بھاری رشوت دے کر اپنی مویشی پاکستان کے حدود میں لاکر کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ سال میں ایک بار اپنی ضروریات زندگی پاکستان کے سرحدی علاقوں سے خرید کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پامیر میں زیادہ تر لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کابل میں کس کی حکومت نہ وہ اس سے سروکار رکھتے ہیں۔

چین میں وخی بولنے والوں کو تاجک قرار دے کر ان کی لسانی انفرادیت ختم کردی گئی ہے۔ معاشی طور پر چین میں رہنے والے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ لوگوں میں گلہ بانی کے علاوہ کاروبار اور تجارت کا رجحان بھی ہے۔ یہاں وخی بولنے والے سرکاری ملازمتوں میں بھی ہیں اور کمیونسٹ پارٹی میں متحرک نظر آتے ہیں۔

پاکستان میں یہ ہنزہ کے بالائی علاقے گوجال، ضلع غزر کے علاقے بالائی اشکومن، چترال کے بالائی علاقے بروغل میں رہتے ہیں۔ بالائی علاقوں میں رہنے کی وجہ سے ان کو ’آدمِ بالا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں رہنے والوں میں ہنزہ گوجال میں رہنے والے زیادہ ترقی یافتہ ہیں یہاں شرح خواندگی بہت زیادہ ہونے کے علاوہ وخی بولنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ خواتین انتہائی متحرک ہیں اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے پاکستان کی پہلی کوہ پیما خاتون ہونے کا اعزاز بھی وخی زبان بولنے والی ثمینہ بیگ کو حاصل ہے۔

چترال میں وخی بولنے والے ریاستی اور غیر ریاستی بے اعتنائی کا شکار ہیں۔ شرح خواندگی میں انتہائی کمی، معیار زندگی پست اور معاشی ابتری سے دوچار ہیں۔ چترال بروغل کے لوگ یہاں پہلے سے رہتے آئے ہیں مگر 1899 ء کے بعد ان کی آمد و رفت افغانستان اور تاجکستان تک ممکن نہ رہی جس کی وجہ سے وہ اپنے عزیز و اقارب سے کٹ کر تنہائی کا شکار ہوئے ہیں۔ پشاور کی صوبائی حکومت کی پہنچ یہاں تک کبھی نہ رہی جس کی وجہ سے یہاں تک بہتر سڑک تک نہ بنائی جا سکی۔

غذر اشکومن کے لوگ 1899 ء میں واخان کے افغانستان کو حوالہ کرنے کے بعد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان کا امیر امان اللہ جس کو غازی بھی کہا جاتا تھا ایک متعصب شخص تھا۔ واخان کے والی علی مردان نے غازی امان اللہ کے ارادے بھانپتے ہوئے اپنے لوگوں کے ہمراہ اشکومن کی طرف ہجرت کی اور یہاں سکونت اختیار کی۔

نئی گریٹ گیم کے لئے بچھائی بساط پر ایک بار پھر واخان راہداری کا نام گونج رہا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک بار پھر واخان کی اہمیت عالمی طاقتوں کی گزر گاہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ امریکہ کو واخان چاہیے تاکہ وہ وسط ایشیائی ریاستوں کا انحصار روس پر سے ختم کر کے ان کو حقیقی آزادی دلائے۔ چین کو واخان وسطی ایشیا میں تجارت کے لئے چاہیے۔ افغانستان تجارت پر محصولات کا متمنی ہے اور پاکستان وسط اشیا تک براہ راست رسائی کا خواہشمند ہے۔

اگر سوا سو سال بعد واخان کی زمین کو یکجا کرنے کا کوئی سوچ رہا ہے تو وخی زبان بولنے والے انسانوں کا بھی سوچے اور ان کو یکجا کرنا بھی مطمح نظر ہو۔ کم از کم ان لوگوں کو آپس میں ’شاہ مبارک بود اور امبرِ پامیر‘ گا کر گلے ملنے کی آزادی تو ہو، اگر ایسا نہ ہوا صرف سرحد سے باڑ ہٹا کر سڑک پر خاردار تار لگار راہداری بنا دی گئی تو یہ ایک اور المیہ ہو گا۔ دنیا تجارت اور کاروبار ضرور کرے مگر گوجال، اشکومن، بروغل، تاشکرغن، واخان سے گورنو بدخشان تک پھیلی سوا لاکھ وخی بولنے والی آبادی کو اپنے ابائی وطن پامیر میں آزادی سے آنے جانے کا حق بھی دیا جائے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan