جناب وجاہت مسعود کے کالم ”نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام“ کے جواب میں
مدیر اعلیٰ ”ہم سب“ ، جناب وجاہت مسعود صاحب کا مندرجہ بالا کالم روزنامہ جنگ لاہور کے 15 جنوری 2025 کے شمارہ میں شائع ہوا اور ہم سب کی ویب پر 14 جنوری 2025 کو نمودار ہوا۔ ان کے کالم پر تبصرہ کرنا مقصود ہے۔ ہم سب کے ادارتی نظم کے مطابق صحافت پر صرف پیشہ ور صحافیوں کا ہی اجارہ نہیں ہے بلکہ قارئین کے مضامین اور تبصرے بھی اسی معیار کے حامل ہوتے ہیں بلکہ وہ معاوضے اور تنخواہ کے حصول سے بھی بالا تر ہوتے ہیں۔ اختلاف رائے کا حق دینا اور مکالمے کا احترام تو بہر حال ایک مسلمہ اصول ہے۔
آغاز میں لکھا گیا کہ ہم دوسروں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے تھے اس لیے ہم نے پاکستان بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان ہندووں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے اور اس کی وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہی تھی۔ محمد علی جناح نے اپنی سیاست کا آغاز کانگرس ہی سے کیا تھا لیکن وہ اپنے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کا حقیقی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے تو پھر انہوں نے 1906 میں قائم شدہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کر کے اپنی سیاسی جد و جہد کا آغاز کیا۔ قائد نے ایک سیاسی، جمہوری اور قانونی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا اور سارے مخالفین اس جد و جہد کو روکنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں قیام پاکستان، مخالفین اور ان کی ذریت نے قیام پاکستان کو انگریز کی سازش کہا اور اس کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کیے۔ اگر قیام پاکستان انگریز کی سازش بھی تھی تو یہ مخالفین کی شکست ہی تھی جو اس سازش کو نہ روک سکے۔ جدوجہد قائد اور قیام ہاکستان ایک امر واقعہ حقیقت ہے جس کو تسلیم نہ کرنا صریح ظلم ہے۔ قائد نے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ برصغیر کے سیاسی مسائل کا حل قیام پاکستان کے سوا کچھ نہیں تھا اور تاریخ نے اس کو سچ ثابت کر دیا ہے۔
پاکستان کے حالات اگر بہتر نہیں ہوئے تو اس میں قیام پاکستان یا پاکستان بنانے والوں کا کوئی قصور نہیں ہے، بلکہ جن کے ہاتھوں میں مملکت کی زمام کار رہی وہ ہی اس کی ابتر حالت کے ذمہ دار ہیں۔ اگر فوجی اور سیاسی حکمران چاہتے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ اس کے باسیوں کی بھی حالت سدھر جانی تھی، لیکن انہوں نے بوجوہ پاکستان اور اس کے شہریوں کو ایسی ہی حالت میں رکھنا ہی پسند کیا ہے۔
مذکورہ کالم میں چار مشہور کالم نگاروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں انتظار حسین جو روزنامہ مشرق میں لاہور نامہ کے نام سے کالم نگاری کرتے تھے۔ دوسرے روزن دیوار والے عطا الحق قاسمی، تیسرے روزنامہ پاکستان کے مدیر اعلیٰ مجیب الرحمٰن شامی ہیں جو جلسہ عام کے نام سے کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور آخری عرفان صدیقی ہیں جو نقش خیال کے نام سے روزنامہ جنگ میں کالم نگاری کرتے ہیں اور مسلم لیگ نواز کے سینیٹر بھی ہیں۔
انتظار حسین کے کالموں سے تو اتنی آگاہی اور جان پہچان نہیں ہے لیکن مؤخر الذکر تینوں کالم نگاروں اور ان کے کالموں سے بخوبی آگاہی ہے۔ کوئی کالم نگار غیر جانبدار نہیں ہوتا ہے۔ ان تین کالم نگاروں نے اپنی کالم نگاری سے بہت زیادہ سیاسی منفعت حاصل کی ہے۔ ہے آج کا کوئی کالم نگار یا اہل قلم ہے جو عصمت قلم کو عصمت مادر کے برابر جانتا ہو۔ ان کالم نگاروں نے خوشامد کی انتہا کر کے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔ عطا الحق قاسمی نے نواز شریف کے دور میں ہونے والی خود کشیوں کو یہ لکھ کر ختم کر دیا کہ ناروے میں اس سے بھی زیادہ خود کشیاں ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی مدح سرائی کرنے کے عوض انہیں ناروے میں حکومت پاکستان کی طرف سے سفیر لگا دیا گیا۔ جب سفارت کا عہد ختم ہوا تو انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کا چیئرمین لگا دیا گیا۔
مجیب الرحمٰن شامی، اکبر علی بھٹی کے روزنامہ پاکستان کے مالک کیسے بنے اور اکبر علی بھٹی کی موت کیسے ہوئی یہ تمام حالات اس دور کے اخبارات میں محفوظ ہیں۔ موصوف کو مسلم لیگ نواز کا زبردست حامی سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے اس کو ثابت بھی کیا ہے۔ کسی ٹی وی چینل پر کہہ رہے تھے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دستک ہر گھر کے دروازے پر ہو رہی ہے اور چھتیس سے زائد پنجاب حکومت کی عوامی سہولیات آپ کو گھر بیٹھے میسر ہوں گی۔ جن کا پتا نہیں کب میسر ہوں گی۔ وقت نے ثابت کر دیا تھا کہ ان کا پاکستان کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا موقف بھی درست ثابت نہیں ہوا تھا۔
عرفان صدیقی صاحب نے صحافت کا آغاز 1990 میں کیا۔ اس سے پہلے وہ اٹھارہ برس تک ایف جی سرسید کالج راولپنڈی میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1988 میں سرکاری ملازمت سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے کر انہوں نے 1990 میں شعبہ صحافت میں قدم رکھا۔ انہوں نے روزنامہ نوائے وقت، جنگ اور پاکستان میں مختلف اوقات میں نقش خیال کے نام سے کالم نویسی کی۔ وہ بھی مسلم لیگ نواز کے زبردست حامی ہیں جس کے عوض انہیں سابق صدر مملکت رفیق تارڑ کا پریس سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ وہ نواز شریف کی بطور وزیر اعظم تقاریر بھی لکھتے رہے ہیں۔ نواز شریف کے تیسرے عہد وزارت عظمیٰ میں انہیں ان کا ادبی و ثقافتی مشیر مقرر کیا گیا۔ مسلم لیگ نواز کی حمایت کی وجہ سے وہ 2021 سے چھ برس کے لیے صوبہ پنجاب سے مسلم لیگ نواز کے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ حال ہی میں وہ اس حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ہیں جو پی ٹی آئی کی کمیٹی سے مذاکرات کر رہی ہے۔
مذکورہ بالا تینوں کالم نگاروں نے اپنی سیاسی وابستگیوں کے باعث سیاسی اور سرکاری مراعات لیں ہیں۔ ان کے کالم کیسے غیر جانبدار ہو سکتے تھے۔ ہر عہد حکومت میں خوشامد اور چاپلوسی کرنے والے اہل قلم نوازے جاتے ہیں اور کلمہ حق اور اختلاف رائے رکھنے والے ہمیشہ زیرعتاب رہتے ہیں۔ پاکستان کے میڈیا میں بہت شد و مد سے خبریں نشر ہو رہی ہیں کہ پاکستان اسٹاک ایکسچنج تاریخی انڈیکس رقم کر رہی ہے۔ مہنگائی پچھلے سات برس کی سطح سے بھی کم ہو گئی ہے جب کہ پیٹرول 253 روپے لیٹر، دال چنا 400 روپے کلو، گھی 600 روپے کلو، سیمنٹ کی بوری 1500 روپے اور اینٹ 22000 روپے فی ہزار فروخت ہو رہی ہے۔
یہ کیسی مہنگائی کم ہوئی ہے۔ منظور نظر صحافیوں کو نوازنے، پلاٹ دینے اور دیگر مراعات دینے کا یہ ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ حکومتی نا اہلیوں، کمزوریوں اور ناکامیوں کو نہایت خوش نما بنا کر عوام کو پڑھائیں اور دکھائیں۔ اگر مملکت خداد داد میں اختلاف رائے کا احترام کیا جاتا اور مکالمے کو فروغ دیا جاتا تو نہ ملک کی یہ حالت ہوتی اور نہ صحافت کی۔ پیشہ ور صحافیوں کو اگر مؤقر و موثر ذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل ہے تو انہیں نہایت ہی غیر جانبداری اور ایمان داری سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے چاہئیں۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی صحیح کارکردگی اور ناقص کارکردگی کو اجاگر کرنا چاہیے اور اپنے حامی اور مخالف سیاستدانوں کی اچھائیوں اور برائیوں کو یکساں طور پر بیان کرنا چاہیے۔


Blunt, spot on and all true but may not match the crux / core of the WM column
شکریہ،
میں نے موازنے کے لئیے نہیں لکھاہے
صرف یہ بتایا ہے کہ ہر درخشاں مستقبل کے پیچھے کوئی نہ کوئی بدعنوانی ضرور پائی جاتی ہے۔