احمد سلیم کا ناولٹ تتلیاں اور ٹینک: موت، مزاحمت اور محبت کی داستان
احمد سلیم ایک ایسے نظریے کا نام ہے جس میں مساوی معاشرے کا خواب پوشیدہ ہو تا ہے۔ جس کی تعبیر کے لیے انہوں نے عملی زندگی کے ہر ممکنہ گوشے پر شبانہ روز محنت کی۔ احمد سلیم نے اس روشنی کی پوَ کو پھوٹنے ہوئے دیکھنے کے لیے جاگتی آنکھوں سے عمر گزار دی۔ اس خوبصورت زندگی کے دبے پاؤں نوید لانے کے انتظار میں، دل کا ہر دروازہ کھولے رکھا۔ یوں تو اس خواب کی تعبیر ہنوز باقی ہے مگر وہ اپنی کتابوں میں تاریخ کے ان تاریک گوشوں کو اپنے سیاہ و سفید کے ساتھ دکھاتے رہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے محققین اور بالخصوص ساؤتھ ایشیاء کی تاریخ، سیاست اور ادب میں دلچسپی رکھنے والوں کے کے لیے ایک ادارہ (ساؤتھ ایشین ریسرچ اینڈ ریسورس سنٹرSARRC) قائم کر دیا ( 1 ) جس میں نادر اور نایاب کتب کے ساتھ ساتھ ایسے کوائف بھی موجود ہیں جن کے ذریعے عوامی تاریخ کے ہر باب کو کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کی پہچان بطور مؤرخ، محقق، مدوّن اور پنجابی شاعر کے تو مسلّم ہے مگر ان کی افسانوی جہات بھی ایک اہم ادبی حوالہ ہیں۔ جن میں ان کے پنجابی ناولٹ، ”نال مرے کوئی چلے“ ، ”تتلیاں تے ٹینک“ اور پنجابی افسانوی مجموعہ ”پریم کتھا“ جیسی اہم تصانیف شامل ہیں۔
ان کے ناولٹس اور افسانوی مجموعے میں بھی زندگی اور ادب کا ایک ایسا نظریہ دکھائی دیتا ہے جس میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ زندگی کے ان مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جس میں مادیت پرستی اور سر مائے کی غیر منصفانہ تقسیم اور جنگ و جدال کے نتیجے میں جبری مہاجرت، مذاہب کے نام پھیلائی گئی عدم برداشت اور آزادی اظہار پر لگائی گئی پابندیوں اور طاقت کے زعم پر عوام کا استحصال شامل ہیں۔ ان کا ناولٹ ”تتلیاں تے ٹینک“ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
”تتلیاں تے ٹینک“ اپنے موضوع، ہیئت اور تکنیک میں ایک بہت ہی منفرد پنجابی ناولٹ ہے۔ جس میں زندگی کی بجائے موت کو پینٹ کیے جانے کی جستجو نظر آتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ”احمد“ موت کی تصویر بنانا چاہتا ہے جس کے لیے وہ کراچی کا سفر کرتا ہے۔ جہاں وہ سوہنی کی قبر پر جا پہنچتا ہے، جہاں سے ایک اور تاریخ کا ورق کھلتا ہے کہ سوہنی پنجاب یعنی جہلم سے بہہ کر سندھ کی لہروں کی پناہ میں جا پہنچی جہاں کی لوک روایت کے مطابق اس کو شایان شان طریقے سے ایک قبر کی چادر اوڑھا دی گئی۔ مصنف سندھ اور پنجاب کے اس محبت بھرے رشتے کو سیاسی اور مارشل لائی جبر کے نتیجے میں نفرت میں بدلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ کہانی کا کلائمکس اسی طرح کے واقعات کو بنیاد بناتا ہے جن میں صوبائی تعصبات اور لسانی فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔
کہانی میں پنجاب کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کی وجہ سے مقامی لوگ، پنجابیوں کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اس نفرت کو ہوا دینے کے لیے وہ عوامل اور واقعات ہی کافی تھے جن میں کراچی کی سڑکوں اور جامعات میں دندناتے ٹینک اور ایک طالبہ کے ساتھ ہو نے والی زیادتی جیسے کئی اور واقعات شامل تھے۔ اس کشمکش کو کرداروں کی نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ بڑی عمدگی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے۔ ناولٹ میں کہانی محبتوں کی زنجیر سے بندھے وہ کردار بھی دکھائے گئے ہیں جو بلا تعصب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ وہ کسی کو پرایا نہیں جانتے بلکہ سب کو اپنا کہہ کر ان کے اپنے ہو نے کا ہنر جانتے ہیں۔ یوں اس کشمکش میں الجھی یہ کہانی ان ٹینکوں کا ذکر ایک استعماری طاقت کی علامت جبکہ تتلیاں اور پھول عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ واقعہ میری واپسی کے دوسرے دن رونما ہوا تھا۔ ایک سندھی لڑکی۔ شیریں کو کچھ خاکی پوش اٹھا کر لے گئے تھے۔ شیرنی سی یہ لڑکی مجھے کئی بار دکھائی دی تھی۔ وہ سوچتی تھی صدیوں پہلے کچھ عرب گھُڑ سوار ایک لڑکی کی عزت کا حوالہ بن کر سندھ کی طرف دوڑ پڑے تھے اور اروڑ کی گلیوں میں موت رقص کناں ہو گئی تھی۔ آج اسی لشکر کے خاکی پوشاک والوں نے سندھ کے پھول کو مسلنے کا گناہ کیا تھا۔ ”) 2 )
مزید اس واقعے کو ٹینک کی علامت کے ساتھ جوڑ کر اس واقعے کو فکشنائز کیا گیا ہے کیونکہ جبر کے زمانوں میں تلخ حقائق کو شاید اسی طرح ہی کہانیوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ اس سانحے کو احمد سلیم جیسے حساس ادیب نے بھی پورے ناولٹ کے پلاٹ پر پھیلا دیا۔ موت کی تصویر بناتے بناتے وہ آخر اسی مظلوم لڑکی کو پینٹ کرتے ہیں۔
کہانی کا کردار سکھاں کہتی ہے کہ
اس نے جیسے سنا ہی نہ ہو۔ کہنے لگی۔ ”میں نے آپ کو ایک ٹینک دکھایا تھا۔ اس کے اوپر اب پھل پھول اور پتے بھی اُگ آئے ہیں جو انہیں کھا لیتا ہے اس کا بدن“ شیریں ”کی طرح نیلا ہو جاتا ہے۔
اس واقعے کے رد عمل میں سندھ میں پنجابیوں کے لیے ایک ناپسندیدگی پیدا ہو گئی۔ کیو نکہ نفرت کی کوئی کڑی خاکی پوشوں سے لے کر ٹینکوں تک پنجاب سے جا کر جڑتی تھی۔
ثریا کی آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے اور زاہد کی آنکھوں سے راکھ جھڑ رہی تھی۔
”ہم بدلہ لیں گے“ ثریا کی آواز، آج اور بھی اونچی ہو گئی تھی۔
شیریں، سندھ ہے اور سندھ اور خاکی پوشوں، دونوں کو مٹی میں رول دیا ہے۔ ”ثریا انقلاب کسی وحدت الوجود بول رہی تھی۔
”بدلہ؟“ میں صرف اتنا کہہ سکا۔
”ہم سکھاں کو اغواء کروا لیں گے۔ اس کی پنجابی رُت بڑا زور مارتی رہتی ہے۔“
”میں کچھ دیر تک ثریا کی طرف دیکھتا رہا پھر کہا۔“
”شیریں تو ہیر کی طرح تھی۔ بالکل ہی ہیر کی طرح“ میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے سکھاں کی فکر پڑ گئی تھی۔
میں نے سکھاں سے کہا، ”بہت نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے“
اس نے جیسے سنا ہی نہ ہو۔ کہنے لگی۔ ”میں نے آپ کو ایک ٹینک دکھایا تھا۔ اس کے اوپر اب پھل پھول اور پتے بھی اُگ آئے ہیں جو انہیں کھا لیتا ہے اس کا بدن“ شیریں ”کی طرح نیلا ہو جاتا ہے۔“ ( 3 )
کہانی کا مرکزی کردار اس نفرت کو محبت میں بدلنے کی کو شش کرتے ہوئے شاہ لطیف کے سُروں کو پینٹ کرنے لگتا ہے، مگر اس تصویر میں شیریں کی آبرو ریزی کا دکھ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ کہانی میں سندھ اور پنجاب کے درمیان کھڑے ٹینک عوام کے دلوں میں محبتوں کا قتل کرتے جاتے ہیں۔ ناولٹ میں خواتین کرداروں کو روایتی کرداروں سے ہٹ کر عملی سیاست اور زندگی کے نظریاتی مباحث میں بہت متحرک اور فعال دکھایا گیا ہے۔ ”سکھاں“ اور ”رانی“ دو ایسے کردار ہیں جو صدیوں کا فاصلہ طے کرتے ہوئے مارشل لاؤں میں پھنسے کراچی کے منظر نامے تک آن پہنچتے ہیں۔ کہانی کار ان کرداروں کی تجسیم تاریخ کے سفر میں درپیش جنگوں کے درمیان عورت کے روپ میں محبت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ کہانی کے آغاز میں ہی سکھاں کے سندھ میں موجود ہو نے کو اور اس کی اجنبیت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے پوری بات سمٹ کر اپنے ایک نکتے پر مر کوز ہو جاتی ہے۔
میں ہر روز اس لڑکی کی تصویر بناتا ہوں مگر کسی اداس دل کی طرح، وہ تصویر بجھ جاتی ہے۔ میں جس لڑکی کی بات کر رہا ہوں وہ اک ایسے بوُٹے کی طرح ہے، جسے اپنی دھرتی سے دور کسی پرائی زمین پر لگا دیا جائے۔ یہ بوُٹا بڑھتا، پھلتا پھولتا ضرور ہے یہاں تک کہ اس پر پھول بھی لگتے ہیں، پھل بھی لگتا ہے، پھلوں میں رَس بھی ہوتا ہے، پھلوں کے اندر مہک بھی ہوتی ہے، ان پر رنگ بھی آتا ہے۔ ان کی خوبصورتی بڑھتی رہتی ہے مگر اس درخت میں سے وہ باس نہیں آتی جو اس میں سے صرف اس وقت پھوٹتی ہے جب وہ اپنی ہی مٹی میں اگایا گیا ہو۔ ( 4 )
اس کردار کی تشکیل میں مصنف کا زمان و مکان سے نکل کر ایک الگ اپنا ہی نظریہ ہے جس میں وہ عورت کے روپ کو الگ الگ ہو نے کے باوجود ایک ہی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ کیو نکہ صدیوں میں مردوں کی اپنی تاریخ ہے جس میں جنگ ہے جدل ہے، نا انصافی ہے، تاج وتخت ہے مگر عورت صرف ”محبت“ ہے۔
کئی صدیوں بعد تک جب بھی کوئی کتاب کسی تلوار کے ہاتھوں گھائل ہو کر ورق ورق اڑتی رہی اور اپنے لال ہونٹوں سے لہو پونچھتی رہی تب بھی مغلوں کے دور میں بھی اس کی چولی لیرو لیر تھی مگر پھر بھی اس کا نام ”سندری“ تھا اور اس کے بھائی کو گھوڑا منڈی میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
انگریزوں کے دور میں اس کا نام چاندی تھا اور وہ نظام لوہار کی بہن تھی جو سیٹی بجا کر گاڑی پر چڑھ جاتی تھی اور آخر نظام کی وفات پر اس کی آنکھیں چوم کر چپ چاپ ایک طرف ہٹ گئی تھی، مگر جب حملہ آوروں کی جگہ اپنوں کا وقت آیا تو وہ سندری تھی، نہ چاندی، نہ ثریا اور نہ ہی سرداراں۔ وہ اروشی تھی اور ایک پرائی عورت، مگر تاریخی اعتبار سے اس کا اس کے ابتدائی آثار سندھ کے ایک شہر شہداد پور سے جا کر ملا ہے جہاں اس کی ایک قبر ہے اور لوگ اس کا نام سوہنی بتاتے ہیں۔ اس قبر سے ایک کہانی منسوب کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماہی وال کے ساتھ دریا میں بہتی ہوئی پنجاب سے سندھ آ گئی اور شریف سندھیوں نے ایک پنجابی عورت کا بھرم رکھتے ہوئے اس کے کفن دفن کا انتظام کر دیا۔ ( 5 )
اسی طرح احمد کا کردار بھی ”گوتم“ ، اور ”آذر“ جیسے تاریخی اور روایت سے جڑے کرداروں کے ذریعے کہانی میں آگے بڑھتا ہے، جس میں مصنف خود بھی ایک روایتی قصہ گو کی طرح کہا نی میں بار بار قارئین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا نی کہیں روکتا، نئے رخ پر موڑتا اور کہیں یکبارگی قصے کو بالکل نئے موڑ پر لے آتا ہے۔
عورت کے ساتھ جڑے استحصالی رویوں کو بھی ایک مختلف تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی، جس میں ذات پات اور مذاہب اور فرقوں کی قدغنوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اور لسانی تعصبات کی بھینٹ چڑھتے رشتوں اور ان کی پاداش میں عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ ”تتلیاں تے ٹینک“ میں ایک کردار ”رانی“ ہے جسے محبت کی شادی میں اس بات کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اسے سندھی زبان نہیں آتی اور اس کا تعلق پنجاب اور پنجابی سے ہے۔
زاہد کی بہن ”وینا“ سندھی نیشنلسٹ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ صرف سندھی پنجابی کا جھگڑا ہی نہیں بلکہ مہاجر (اردو سپیکنگ ) کے حوالے سے بھی رد عمل کرداروں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد احمد سلیم کے نزدیک لسانی تعصبات کی کراچی کے لینڈ سکیپ پر مبنی کہانی میں وہاں کے مسائل کی نشاندہی کرنا ہو سکتا ہے۔ ثقافتی رنگوں کے تنوع کو وہ ایک گلدستہ کہتے تھے اس لیے سماجی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اس طرح کی کہانی کی پیش کش میں یہ سارے کردار اپنی نفرتوں سے محبت کا سفر کرتے ہیں۔
”وینا میرا ایک غیر سندھی لڑکی سے بیاہ کروانا اچھا نہیں سمجھتی۔“
”زاہد کی بات سن کر مجھے ایسے لگا کہ جیسے کوئی غیر سندھی لڑکی انسان ہی نہ ہو، مگر میں کچھ بھی نہ بول سکا۔“
”وینا کہتی ہے چلو لڑکی پنجابی ہے تو بہت حرج کی بات نہیں ہے۔“
”مہاجر لڑکی کے ساتھ تمہارا بیاہ کرنا تو کبھی بھی منظور نہ کرتی۔“
۔ ”وینا کی شرط ہے کہ اس کو بیاہ کے بعد سندھی بولنی پڑے گی۔“
میرا دل کرتا ہے کہ کہوں ”زاہد! یہ ایک ظالمانہ شرط ہے۔ اگر رانی کا بھائی یہ شرط عائد کر دے کہ تمہیں بیاہ کے بعد پنجابی بولنی پڑے گی پھر؟“ مگر رانی کا بھائی کچھ بھی نہیں کہتا۔ وہ ٹکٹکی باندھے زاہد کی طرف دیکھتا اور اس کی باتیں سنتا جا رہا ہے۔
”میں نے وینا کو پورا یقین دلایا ہے کہ رانی شادی کے بعد ہمیشہ سندھی بولے گی۔“ ( 6 )
رانی کے کردار میں زبان فہمی کے مسئلے کو بڑے علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ناولٹ کا ایک اور موضوع جسے انسانی رویوں کے ساتھ جوڑ کر بڑی عمدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں ایک طرف انقلابیوں کا رومانس ہے اور دوسری طرف محبت کا ایک تشنہ خواب ہے۔ ان دونوں کے درمیان الجھا ہوا فرد اپنی نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ کہانی میں نظر آتا ہے۔ خود مصنف کا تعلق ترقی پسند نظریات کے ساتھ براہ راست رہا ہے، شاید یہ ان کا داخلی تجربہ بھی ہو کہ انقلاب اور محبت کی کشاکش ان کی زندگی میں بھی کبھی شامل رہی ہو۔ کراچی اور مارشل لاؤں کے زمانوں میں ”انقلاب“ پائیدار معاشرے کا متمنی ہے جبکہ محبت سے تہی بھی رہا نہیں جا سکتا۔ ایسے میں مصنف نے جو علامتیں تراشی ہیں ان میں زندگی، انقلاب اور محبت کی تمثیل بے حد شاندار ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ میرا سارا وجود میری آنکھوں میں سما گیا ہے اور میں اپنے سامنے میز کے اوپر کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوا پڑا ہوں۔ میرے ایک ہاتھ میں لال جھنڈا اور دوسرے میں بندوق۔ میری انگلیوں سے لہو بہہ رہا ہے۔
بندوق، جھنڈے اور میز سمیت ایک زندگی راکھ ہو جائے گی، اور مرنے والے کے خون کا نشان بھی کسی عدالتی گواہی کے لیے نہیں رہے گا اور نہ ہی انقلاب کی تاریخ کے کسی ورق پر، راکھ نے تو اڑ جانا ہوتا ہے، اسے انقلاب کے ماتھے کے نہیں ملا جا سکتا۔ ( 7 )
……………………………
احمد سلیم ایک نظریاتی ادیب ہیں، ان کی کہانیاں اور تصانیف زندگی میں بین المذاہب ہم آہنگی، سرحدوں کے بغیر ملک، مساوی معاشرتی حقوق اور اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ جڑے تمام حوالوں کو ان کی رنگا رنگی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کی کہانیوں اور شعری تصانیف میں ”عورت“ ایک محبوبہ نہیں بلکہ ایک دوست ہے۔ عورت کے سارے روپ زندگی کے کینوس پر برابر اور فعال نظر آتے ہیں۔ ان کے ناولٹ ”تتلیاں اور ٹینک“ میں زندگی اور موت کی کشا کش کے بعد بندوق کو موت کی علامت بنا کر اور کتاب کو زندگی سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک پر امن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
”ہمیں بندوق کی ضرورت نہیں۔ ہمیں بندوق کی ضرورت نہیں۔“
میرا دل جو لہولہان ہو کر بھی اپنی سوچنے کی عادت سے نجات نہیں پا سکا، آنکھوں کو کہتا ہے۔
”یہ مُورکھ اپنی انگلیاں کاٹ ڈالے گا۔ کیونکہ انہیں ابھی بندوق کی نہیں، کتاب کی ضرورت ہے۔ ( 8 )
………………………………………………………
حوالہ جات
1: https://sarrc.org.pk/
2: احمد سلیم، ”تتلیاں تے ٹینک“ (ناولٹ) سارنگ پبلی کیشنز لاہور اشاعت اول دسمبر 1996 ص 87
3:ایضا ”، ص 88
4:ایضا ”، ص 7
5:ایضا ”، ص 8
6:ایضا ”، ص 1 4
7:ایضا ”، ص 62
8:ایضا ”، ص 68


