جب میں کورنٹائین سے باہر نکلوں گی اس دن خود کو فطرت کی آغوش کے سپرد کر دوں گی۔ گھر کے پاس بہتی ندی جسے میں نے کورنٹائین میں سرگوشیاں کر تا ہوا ساتھی پایا ہے، اس سے جی بھر کر باتیں کروں گی۔ اس میں بچپن میں نہ کھیلے جا سکنے والے کھیل یعنی کاغذ کی کشتی چھوڑوں گی۔ کھڑکی سے باہر کے سارے منظر اپنے وجود میں بھر لوں گی۔ آسمان جسے میں نے مہربان سائبان کی طرح اپنے سر پر پایا اس کو کسی چادر کی طرح اوڑھ کر سیر کو نکل جاؤں گی۔
رات کو چاند کسی قدر بھلا لگتا ہے۔ کئی راتیں جن میں چاند کی کرنیں میری چھت پر اٹکھیلیاں کرتی ہیں، ان کو دیکھوں گی۔ اب یہ رات جو سنہری ہے کسی گندم کے لہلہاتے ہوئے کھیت کی طرح، ناز و انداز دکھا تی ہوئی۔ اس چاندنی کے سمندر میں ڈوب جاؤں گی۔ چاند کیسے بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا ہے؟ خود کو اس کھیل کا حصہ بنا کر دیکھوں گی۔ میں نے دیکھا ہے کہ رات کی ہیبت، چاند کیسے کم کر دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی تاریک راہوں میں محبتیں چاند بن کر نور کا سماں باندھ دیتی ہیں۔
Read more