احمد سلیم کا ناولٹ تتلیاں اور ٹینک: موت، مزاحمت اور محبت کی داستان

احمد سلیم ایک ایسے نظریے کا نام ہے جس میں مساوی معاشرے کا خواب پوشیدہ ہو تا ہے۔ جس کی تعبیر کے لیے انہوں نے عملی زندگی کے ہر ممکنہ گوشے پر شبانہ روز محنت کی۔ احمد سلیم نے اس روشنی کی پوَ کو پھوٹنے ہوئے دیکھنے کے لیے جاگتی آنکھوں سے عمر گزار دی۔ اس خوبصورت زندگی کے دبے پاؤں نوید لانے کے انتظار میں، دل کا ہر دروازہ کھولے رکھا۔ یوں تو اس خواب کی تعبیر ہنوز باقی

Read more

موسم خوش رنگ: زندگی سے مکالمہ کرتی تحریریں

شاہد صدیقی کی کتاب ”موسم خوش رنگ“ زندگی کے شدتوں اور حدتوں بھرے موسموں کی داستان ہے۔ جس میں تاریخ ہر جملے میں زندہ اور لطیف پیرائے میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ قاری صدیوں کا سفر ایک جست میں طے کر لیتا ہے۔ وہ خوبصورت اسلوب کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل موڑ، بنا بھولے بھٹکے پار کر لیتے ہے۔ معاصر صورت حال کا تجزیہ ایسے انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے کوئی قصہ گو رات

Read more

کھول دو۔ پون صدی کا قصہ

ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا، اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا کھڑکی کھول دو۔

سکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی، بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار کو نیچے سرکا دیا، بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، زندہ ہے۔ میری بیٹی زندہ ہے۔ ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہو گیا۔

Read more

جب میں کورنٹائین سے باہر نکلوں گی۔ ۔ ۔

جب میں کورنٹائین سے باہر نکلوں گی اس دن خود کو فطرت کی آغوش کے سپرد کر دوں گی۔ گھر کے پاس بہتی ندی جسے میں نے کورنٹائین میں سرگوشیاں کر تا ہوا ساتھی پایا ہے، اس سے جی بھر کر باتیں کروں گی۔ اس میں بچپن میں نہ کھیلے جا سکنے والے کھیل یعنی کاغذ کی کشتی چھوڑوں گی۔ کھڑکی سے باہر کے سارے منظر اپنے وجود میں بھر لوں گی۔ آسمان جسے میں نے مہربان سائبان کی طرح اپنے سر پر پایا اس کو کسی چادر کی طرح اوڑھ کر سیر کو نکل جاؤں گی۔

رات کو چاند کسی قدر بھلا لگتا ہے۔ کئی راتیں جن میں چاند کی کرنیں میری چھت پر اٹکھیلیاں کرتی ہیں، ان کو دیکھوں گی۔ اب یہ رات جو سنہری ہے کسی گندم کے لہلہاتے ہوئے کھیت کی طرح، ناز و انداز دکھا تی ہوئی۔ اس چاندنی کے سمندر میں ڈوب جاؤں گی۔ چاند کیسے بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا ہے؟ خود کو اس کھیل کا حصہ بنا کر دیکھوں گی۔ میں نے دیکھا ہے کہ رات کی ہیبت، چاند کیسے کم کر دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی تاریک راہوں میں محبتیں چاند بن کر نور کا سماں باندھ دیتی ہیں۔

Read more

دو متحرک استاد اور لاک ڈاؤن

وبا کے یہ دن یو ں بھی مشکل ہیں لیکن بزرگو ں کے لیے تو اور بھی محال ہو گئے ہیں۔ میں نے لفظ بزرگ پر قدرے محتاط ہو کر سو چا کیو نکہ جن کا ذکر مجھے کرنا مقصود ہے وہ شاید عمر کے اعتبار سے تو بزرگ ہو ں لیکن زندگی کی امنگیں اور توانائیاں ان میں نو جو انوں سے بھی زیادہ ہیں۔ جن میں ایک نام سر احمد سلیم صاحب کا ہے، دوسرا ڈاکٹر انوار احمد

Read more