ابھی تو مجھ کو پڑھنا ہے بڑا انسان بننا ہے


پیارا ملک پاکستان چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ”نازک دور“ سے ہی گزر رہا ہے اس لئے ہمیں اس ملک میں بیروزگار نوجوان، مایوس بزرگ، اور معصوم و نادار بچے جنہیں بچپن کے ابتدائی دور میں بے فکری کے جہانوں میں، کھیل کود کے میدانوں میں، خوب صورت قہقہوں میں مگن ہونا چاہیے وہ زمانے کے سرد و گرم سے بے نیاز تارکول کی لمبی سیاہ سڑکوں پر ننگے پیر اور پھٹے پرانے اور موسم کے حساب سے ناکافی لباس میں ملبوس مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

کبھی یہ بچے کسی مکینک کی دکان پر اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھاری بھرکم اوزار تھامے اپنے استاد کی درشت مزاجی کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں کبھی چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں برتن دھونے یا ویٹر کے کام سر انجام دینے پر معمور ہوتے ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے روز ایسے مناظر دیکھتے ہیں جب یہ معصوم بچے اپنے ناتواں کندھوں پر غربت کا بوجھ اٹھائے چند پیسے کمانے کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں یا پھر لوگوں کی ڈانٹ سن رہے ہوتے ہیں۔ جب بھی ان بچوں کو بے فکری کی عمر میں اتنے سخت کام کرتے دیکھتی ہوں تو میرے ذہن میں ایک نظم گونجنے لگتی ہے جو میں نے سٹوڈنٹ لائف میں اپنی ڈائری میں نوٹ کی تھی یہ نظم مجھے ایسے بچوں کی معصوم خواہشات کی تفسیر لگتی ہے۔ میری یادداشت میں محفوظ وہ نظم کچھ یوں ہے کہ

میرے ننھے کھلونوں کو
میرے معصوم جذبوں کو
ابھی کچھ دن تو سنبھالو
مُجھے کچھ روز تو پالو
ابھی تو مجھ کو پڑھنا ہے
بڑا انسان بننا ہے

یہ بچپن کے حسیں منظر
کسی چائے کے کھوکھے پر
ابھی گروی تو نہ رکھو
میرا بستہ تو نہ بیچو
ابھی تو مجھ کو پڑھنا ہے
بڑا انسان بننا ہے

میری ننھی سی جھولی میں
یوں مستقبل کی ڈولی میں
یہ اندھیرے تو نہ ڈالو
مجھے کچھ روز تو پالو
ابھی تو مجھ کو پڑھنا ہے
بڑا انسان بننا ہے

ہم ہمیشہ پاکستان کی تقریباً تمام حکومتوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہم نے ملک سے غربت کا خاتمہ کر دیا، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، ہم نے ملکی معیشت بچانے کے لئے اپنا دن رات ایک کر دیا۔ اب دیکھیں ہمارے دور میں امن ہی امن ہے ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان کے بقول ملک میں ہر طرف چین ہی چین ہے ترقی ہی ترقی ہے تو کوئی ان سے پوچھے کہ سڑکوں پر مزدوری کرتے بچے پھر اسکولز میں کیوں نہیں ہیں اگر بے روزگاری کو آپ نے ختم کر دیا ہے تو ان بچوں کے والدین کیوں اپنے چھوٹے بچوں کو تپتی دھوپ میں یا ٹھٹھرتی سردی میں چند روپوں کی خاطر مزدوری کرنے کے لئے سڑکوں کے حوالے کر دیتے ہیں جہاں وہ خدانخواستہ کسی بھی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کوئی بھی والدین اپنے بچوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے سبھی ماں باپ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں مگر غربت اور کمزور معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے معصوم بچوں کو کام پر بھیجتے ہیں تاکہ روز ملنے والی اجرت سے وہ اپنے گھر کا چولہا جلانے میں اپنے والدین کی مدد کر سکیں۔

چائلڈ لیبر کو کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک بہت بڑا جرم تصور تصور کیا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس کو انتہائی نارمل چیز کے طور پر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے خلاف پاکستان میں قانون بھی پاس ہو چکا ہے مگر اس کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چار سے چودہ سال تک کی عمر کے تقریباً ساڑھے گیارہ ملین بچے مختلف فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ہیں جہاں پر انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور اکثر یہ بچے انسانی اسمگلنگ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ چائلڈ لیبر جیسے جرم کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کا ڈیٹا جمع کرے اور ایسے والدین کی مالی معاونت کے لئے سالانہ بجٹ میں سے فنڈز کا ایک حصہ مختص کرے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ان کی ایماندارانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ خاندان جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور مجبوراً اپنے بچوں کو چھوٹی چھوٹی عمروں میں مزدوری کرواتے ہیں وہ اپنے بچوں کو پڑھائی کے لئے اسکولز میں داخل کروا سکیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لئے ایسے ادارے اور ٹریننگ سینٹر تعمیر کیے جائیں جہاں سے وہ مفت تعلیم کے ساتھ خود کو ہنر مند بنا سکیں اور اپنے معاشی حالات میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Facebook Comments HS