عالمگیریت، معاشرتی قدریں اور لوک چوپال


رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں
صورت آئینہ مرہون تماشا ہم بھی ہیں

کسی بھی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان، آلات اور اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنون و لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، اخلاق، رسوم و رواج وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ گندھارا تہذیب جس کے آثار آج بھی ٹیکسلا اور اس کے گردونواح میں پائے جاتے ہیں۔ اگر گندھارا کی تہذیب کا بغور جائزہ لیا جائے تو بدھ مت کی ابتداء بھی اسی تہذیب میں ہوئی تھی۔ گوتم بدھ کی تعلیمات کا محور انسانیت، بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت جیسے فکری افکار پر کھڑی نظر آتی ہے۔

آج دنیا ایک عالمگیر مملکت، گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے ہماری مقامی تہذیب و ثقافت کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے اور دوسرا اہم نقطہ جس سے ہمارا کلچر تقریباً معدوم ہو کے رہ گیا ہے وہ استعماری قوتوں کا ہمارے معاشرے پر قبضہ ہے جو تاریخی طور پر ہمارے ہاں قائم رہا ہے، جس کی وجہ سے آج ہم اپنے آپ کو اپنی مقامی تہذیب و ثقافت کا وارث ماننے کے بجائے عرب، ترک اور انگریزی ثقافت کا امین سمجھنے لگے ہیں اور اپنی مقامی تہذیب کو اپنانے سے احساس کمتری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اصل عرب و ترک نہیں بلکہ ہماری اپنی گندھارا کی تہذیب ہے جس پر ہمیں احساس محرومی کے بجائے فخر کا احساس ہونا چاہیے۔ جیسے جیسے ہم اپنی تہذیب و ثقافت سے دور ہوتے چلے گئے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، مطلق العنانیت، فرقہ واریت جیسی منفی اور غیر جمہوری روایات نے جگہ لے لی اور ہمارا شمار دنیا کے پسماندہ ترین معاشروں میں ہونے لگا ہے۔

گندھارا کی تہذیب میں ہمیں انسانی حقوق اور جمہوری روایات بجا طور پر نظر آتی تھی۔ استعماری قوتوں کی بیجا مداخلت، معاشی بحران، تہذیب و تمدن سے دوری اور اس افراتفری کے دور میں بھی کچھ شخصیات اپنی روایات اور ثقافت سے جڑے نظر آتے ہیں۔ جنھوں نے گندھارا کی تہذیب کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور جمودی معاشرے میں ہلچل کا امکان پیدا کیا ہے۔ ٹیکسلا کے ویک فیلڈ ہومز جس کی فن تعمیر میں ہمیں باقاعدہ طور پر گندھارا تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے جس کے امین ایاز کیانی اور سابق وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا ہیں جنہوں نے لوک چوپال کے نام سے ایک باقاعدہ تنظیم بنا رکھی ہے جس میں ہر ماہ اس ارض وطن کی کہکشاں میں چمکتے دمکتے ستاروں کے ساتھ مختلف مکالموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ چند روز قبل اسی سلسلے کی کڑی میں گندھارا تہذیب پر ایک تعارفی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس کا اشتراک پنڈ گاکھڑاں کی مقامی آبادی نے کیا تھا اور جسے سپانسر Pakistan poverty Alliviation Fund نے کیا تھا جس میں مقامی فنکاروں کے ہاتھوں سے تیار کردہ مختلف فن پارے بھی آویزاں کیے گئے تھے۔ حکومت پاکستان کی لوک چوپال اور سول سوسائٹی جیسی تنظیموں کی حوصلہ افزائی اور معاونت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرے کی جانب گامزن ہو سکے۔

Facebook Comments HS