اے عشق جنوں پیشہ

یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ فزکس اور میتھ کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر میں شاعر اور ادیب بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اِدھر اُدھر جہاں سے کچھ پڑھنے کو ملتا، میں خود کو مطالعہ سے لیس کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا۔ اور کچھ نہ کچھ لکھنے کی سعی بھی جاری رہتی۔ انہی دنوں آیا ”رادوگا“ اشاعت گھر ماسکو سے شائع شدہ، دستوئیفسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا پہلا اردو ترجمہ۔ میں نے یہ ناول آغا امیر حسین کی ”کلاسیک“ (بُک شاپ، ریگل چوک، لاہور) سے دو یا تین روپے میں خریدا تھا۔
بے شک اُس زمانے میں میرے جیسے بندے کے لئے دو یا تین روپے خرچ کرنا بھی آسان کام نہ تھا۔ تب میرے پاس کوئی ذاتی ادبی کتاب نہ تھی۔ یوں ظ۔ انصاری کا ترجمہ شدہ مذکورہ ناول ہی اُس وقت میری مکمل ذاتی لائبریری تھا۔ میں اسے ہر وقت ساتھ رکھتا۔ آئندہ کئی برس میں نے اس کے بیشتر کرداروں کے ساتھ گزارے۔ میں اُن کے ہمراہ سویا جاگا۔ وہ میرے دوست، ساتھی اور میری دنیا بن گئے۔ الیوشا، کاتیا، نتاشا، چھوٹی سی بچی نیلی، نیلی کی ماں اور پرنس کے بہت سے مکالمے تک، مجھے اُس زمانے میں ازبر ہو گئے تھے۔ سچ پوچھیے تو میں اس ناول کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو گیا تھا۔
وقت آگے بڑھا اور میں سٹیج ڈرامہ، فلم، فلم سکرپٹ اور فلمی صحافت تک پہنچا۔ (میں 1968 ء 1969 ء میں ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کا بھی حصہ رہ چکا تھا) ۔ 1978 ء میں، میَں سیاسی صحافت کے کارزار میں اُتر گیا۔ تب تک جنرل ضیا کا مارشل لاء نافذ ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اقتدار پر اُس نے اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔
میں ہفت روزہ ”صدائے وطن“ لاہور کے تحریری محاذ پر کامیابی سے ڈٹا ہوا تھا۔ تبھی کسی دوست نے پوچھا ”تم نے ایسی صحافت کہاں سے سیکھی؟“ ۔ میں نے کبھی باقاعدہ صحافت کی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ میرا جواب تھا ”احتجاج اور بغاوت کا یہ نسخہ مجھے ناول ذلتوں کے مارے لوگ سے ملا تھا۔ میں آج بھی اور بڑے واضح الفاظ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس ناول کا میری فنی تربیت میں بہت بڑا رول ہے۔
اس جریدے کی مقبولیت اور حکومتی جبر کے خلاف اس کی دشمنی عروج پر پہنچی ہوئی تھی کہ محترم قمر اجنالوی صاحب مجھے سیکرٹری انفارمیشن کے دفتر میں لے گئے، صلح کرانے کے لئے۔ لیکن میرے دماغ میں تو اُس وقت نیلی کی ماں کے الفاظ گونج رہے تھے۔ ”اُن کے پاس مت جانا، وہ بڑے سنگ دل اور خبیث لوگ ہیں۔ اور میری نصیحت تمہیں یہ ہے کہ غریب رہنا، محنت مزدوری کرنا، بلکہ بھیک بھی مانگ لینا لیکن اگر کوئی تمہیں بلانے آئے تو کہہ دینا۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جاتی“ ۔ میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے ہی اُن کی آفر قبول نہ کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ زبان سے تو کچھ نہ کہا کہ قمر اجنالوی صاحب مذکورہ سیکرٹری انفارمیشن کی تعریفوں میں مسلسل مصروف تھے۔ میں نے البتہ یہ کیا کہ وہاں پیش کی گئی چائے بھی، بہانہ بنا کے پینے سے انکار کر دیا۔
پھر 1979 ء میں جب مجھے جنرل ضیائی مارشل لائی مقدمات کی وجہ سے ملک بدر ہونا پڑا تو میری ذاتی لائبریری کم از کم دو صد کتب پر مشتمل تھی۔ اس میں ہند و پاک کے بہترین ادب کے علاوہ روسی، یورپی اور کئی امریکی شاہکار بھی شامل تھے۔ گو میرے ادبی رہبروں کا خاندان اب کافی پھیل چکا تھا۔ پھر بھی ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا مقام منفرد تھا۔ میں نے اقتصادی بہتری کے بعد سب سے زیادہ پیسہ کتابوں اور سب سے زیادہ وقت ان کے مطالعہ پر صرف کیا تھا۔ افسوس میری جلا وطنی کے دوران میرا یہ سارا خزانہ تباہ ہو گیا۔
روس بڑی بڑی تبدیلیوں سے ہمکنار ہوا۔ ماسکو سے دنیا بھر کی زبانوں میں آنے والے ترجمے بھی بند ہو گئے۔ پاکستان میں کچھ پبلشروں نے عالمی ادب کے دیگر تراجم کے ساتھ ساتھ روسی کلاسیک کے بہت سے ترجمے بھی شائع کیے۔ ”ذلتوں کے مارے لوگ“ بھی ان میں شامل تھا۔ وہ مجھے ملا بھی اور میں نے پھر سے پڑھا بھی اور تبھی مجھ پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ میں صرف اس ناول کے مندرجات کا عاشق نہ تھا۔ میرا عشق اس ناول کے گیٹ اپ، کاغذ، ٹائپنگ اور پرنٹنگ تک پھیلا ہوا تھا۔ میں پھر سے اُسی کاغذ کے لمس کا طالب ہو رہا تھا۔ میری آنکھوں کو بارِ دگر اس کے الفاظ کی بناوٹ مطلوب تھی اور پرنٹنگ کا معیار بھی۔
یہ عشق نہیں تھا۔ ایک جنون تھا یا یوں کہیے کہ عشقِ جنوں پیشہ
پچھلے کچھ برسوں سے اس جنون نے پھر سے سر اُٹھانا شروع کیا۔ میں جب بھی پاکستان آتا تو پرانی کتابوں کی دکانوں پر اُسی ایڈیشن کی تلاش میں جُت جاتا۔ دوستوں سے، ملنے والوں سے پوچھتا، کوئی میرا مطلوبہ ایڈیشن بیچ رہا ہو تو بتائیں۔ مگر کہیں سے کوئی حوصلہ افزا خبر نہ ملتی۔
اسی ضمن میں پچھلے سال میں نے ممتاز ادیب، شاعر اور استاد جمیل احمد عدیل سے اپنے اس جنون کا ذکر کیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس بارے میں میری مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پھر مجھے خبر ملی کہ وہ بھی کتاب کے معاملے میں میری ہی طرح انتہائی کنجوس ہیں۔ اپنی ذاتی لائبریری کی کتاب کسی کو ادھار بھی نہیں دیتے۔ میں پھر بھی امید سے بندھا رہا۔
اور آخر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی۔ اُس نے جمیل احمد عدیل کے دل کو، میرے اس جنون کے مدّ ِنظر رحم سے بھر دیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری میں موجود اس ناول کا 1986 ء کا ایڈیشن، جس میں پیش لفظ بھی شامل ہے، مجھے عنایت کر دیا۔
میں کل سے اس ناول کو اپنی مطلوبہ فارم میں حاصل کر کے بے شمار خوشی سے سرشار ہو رہا ہوں۔ میں اپنی اس محبوبہ کو گلے سے لگائے بیٹھا ہوں اور ٹھہر ٹھہر کر یہ بھی دیکھ لیتا ہوں، کہیں یہ میرا وہم ہی نہ ہو۔
میرے آس پاس کے بہت سے لوگ، جو عورت مرد کے عشق یا جنون سے تو واقف ہیں، انہیں کسی شخص کا کسی کتاب سے اس نوعیت کے جنوں پیشہ عشق کا، پہلی بار سامنا ہوا ہے۔ وہ ابھی اس پر یقین کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔
اے عشق جنوں پیشہ۔ صد پارہ و یک تیشہ


