شیام بنیگل کی دنیا


شیام بنیگل جی رخصت ہوئے۔ انہیں انڈین سینما کی دنیا میں پیرالل یا آرٹ سینما کا بانی مانا جاتا ہے۔ متوازی سینما (Parallel Cinema) دراصل فلمی دنیا میں ایک ایسا رجحان ہے جو روایتی کمرشل فلموں کے برعکس حقیقت پسندی، سماجی مسائل اور انسانی زندگی کے حقیقی پہلوؤں کو پیش کرتا ہے۔

یہ رجحان 1940 اور 1950 کی دہائی میں شروع ہوا اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنے عروج پر پہنچا۔ اس کی بنیادیں فرانسیسی نیو ویو (New Wave) اور اطالوی نیو ریئلزم سے جڑی ہوئی ہیں اور دنیا میں اس کے کئی ماننے والے موجود ہیں جو متوازی سینما کے فلسفے کو انسانی زندگی کے حقیقی، غیر رومانی اور غیر گلیمرائزڈ پہلوؤں کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ سماجی حقیقت پسندی، انسانی وجودیت، مقامی ثقافت اور شعور کے فکری پہلو اجاگر رہ سکیں۔

بنگالی فلم ساز ستیہ جیت رے، مرینال سین، ریتوک گھاتک جیسے ہیرے بھی اسی متوازی سینما میں عالمی شہرت یافتہ فلم ساز ہیں جبکہ پاکستان میں اے جے کاردار اور جمیل دہلوی کا تعلق بھی اسی قبیل سے ہے۔

شیام جی نے بھی اسی کوشش میں اپنی عمر گزاری اور مرتے دم تک وہ سینما دکھایا جسے عام لوگوں کا سینما کہا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ آرٹ کے اس ”الف“ سے وابستہ رہے جو ”اصل“ کی تشریح میں استعمال ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی فلموں میں اب تک جتنے کردار لکھے، بنائے اور فلمائے وہ سب کے سب حقیقت سے قریب تر تھے اور ان میں عام انسانوں کی کہانیاں تھی۔

کہانی کہنا اور کہانی بنانا بھی انسانی ورثے کا بڑا قدیم ہنر رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ روئے زمین پر ایک تنہا شخص نے جب برسوں تک اپنے جیسا کوئی اور نہ دیکھا تو وہ اپنے اکیلے پن سے ڈر گیا اور رو دیا۔ پھر اتنا رویا، اتنا رویا کہ شدت غم سے نڈھال ہو کر بے ہوش ہو گیا اور جب ہوش آیا تو ایک اجنبی کو اپنے پاس پایا۔

اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ پوچھتا یا یہ اُس سے کچھ کہتا۔ دونوں کئی دنوں تک ایک دوسرے کو حیرت سے تکتے رہے اور بولنے کی کوشش میں لفظوں کے ناکام اشارے کرتے رہے۔ بس یہی وہ وقت تھا جب اس زمین پر قصہ گوئی نے جنم لیا اور یہاں پہلی داستان کہی گئی۔

بعد ازاں اس رسم نے کئی شکلیں اختیار کی اور کہانیاں سنانے اور بتانے کے طور طریقے، زبان و متن، حال احوال سالہا سال بدلتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ کہانیاں کاغذ کے پنوں سے کپڑے کے پردے پر سمٹنے لگیں اور اس پر افسانوی ملمع کاری، اضافی کردار نگاری اور وقت شماری کے تجربات کیے جانے لگے تاکہ کہانی کو اس کی ارتقائی اور حقیقی شکل میں حنوط کیے جانے کا ہنر برقرار رکھا جا سکے۔

شِیام بنیگل کے پاس بھی یہی فن تھا لیکن انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1959 ء میں ایک کاپی رائٹر کی جاب سے کیا انہیں کہیں اور جانا تھا اور اس کا ادراک انہیں محض 3 سال بعد ہی ہو گیا تھا جب انہوں نے ”گھر بیٹھا گنگا“ کے نام سے اپنی پہلی گجراتی ڈاکیومنٹری شوٹ کی جسے کافی سراہا گیا۔

بعد ازاں 1963 میں اے ایس پی (ایڈورٹائزنگ، سیلز اینڈ پروموشن) نامی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ساتھ 900 سے زیادہ اسپانسر شدہ دستاویزی اور فیچر فلموں کی ہدایت کاری کی۔

1966 اور 1973 کے درمیان، شیام نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، پونہ میں پڑھایا اور دو مرتبہ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دی۔

وہ اس وقت تک دستاویزی فلموں کے ماہر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان بنا چکے تھے۔ لہذا جب انہیں یہ ہنر بڑے پردے پر آزمانے کا موقع ملا تو انہوں نے اپنی پہلی فلم ”انکور“ سے ہی اپنے ناقدین سے اپنی کہانی بُننے کی صلاحیت کا اعتراف کروایا اور اس کے بعد نیشانت، منتھن، بھومیکا اور جنون جیسی فلمیں بنائیں لیکن انڈیا سینما انہیں 2000 ء میں بننے والی فلم ”ہری بھری“ اور 2001 ء کی ”زبیدہ“ سے جانتا ہے جس میں بالترتیب شبانہ اعظمی، کرشمہ کپور اور منوج باجپائی نے اپنے لازوال کردار ادا کیے۔

ان کی ایک فلم ”نیشانت“ میں انہوں نے مجموعی طاقت اور سماجی تقسیم کی عکاسی اس کردار سے کروائی جو اپنی تنہائی سے تنگ آ کر ہجوم کا غم پال لیتا ہے اور پھر اس ہجوم کو ایک قوم بنانے کے لیے اپنی کوششیں تراشتا ہے جبکہ فلم منتھن سینما انڈسٹری کی ایک ایسی فلم تھی جسے بطور کریڈٹ سب سے زیادہ پروڈیوسرز رکھنے کا اعزاز حاصل ہے یعنی اس فلم کو بنانے کے لیے کسانوں سے فنڈ ریزنگ کی گئی تھی اور اس وقت ساؤتھ انڈیا کے پانچ لاکھ ڈیری فارمرز کسانوں یا گوالوں سے 2 روپے فی کس کے حساب سے فنڈز اکٹھے کیے گئے تھے جو فلم بنانے میں استعمال ہوئے۔

انہوں نے فلم بنانے کے کام کو محض ایک جاب کی طرح نہیں لیا بلکہ اس فن سے ایک ایسے انسٹیٹیوٹ کو جنم دیا جس میں سوجھ بوجھ کی بات فلم کے ذریعے کہی جانے لگی اور اپنی انہی کوششوں سے انہوں نے نسیم، شکنتلا دیوی جیسی سماجی اصلاحات متعارف کروائی۔

بنیگل کی فلموں میں نیچرلسٹک ایکٹنگ اور میتھڈ ایکٹنگ کا استعمال ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کو زندگی کے قریب تر رکھنے کے لیے پیشہ ور افراد یا کم معروف اداکاروں کو بھی کاسٹ کرتے تھے۔ یعنی اگر انہیں اپنی کسی کہانی کے لیے ایک بس ڈرائیور کا کردار چاہیے تھا تو انہوں نے ایک حقیقی بس ڈرائیور کو ہی اس رول کے لیے کاسٹ کر لیا۔

نامور فلمی ستاروں نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شمیتا پاٹل، امریش پوری اور شبانہ اعظمی جیسے کرداروں کو بھی فلمی دنیا میں متعارف کروانے کا اعزاز شیام بنیگال جی ہی کے نام آتا ہے اور نصیر الدین شاہ اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر شیام کی نظر مجھ پر نہ پڑتی تو آج میں ایکٹر نہ ہوتا۔

انہوں نے اپنے اس فلمی سفر میں متعدد ایوارڈز اپنے نام کیے۔ جن میں اٹھارہ نیشنل فلم ایوارڈز، ایک فلم فیئر ایوارڈ اور نندی ایوارڈ شامل ہیں جبکہ 2005 میں، انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا جو سنیما کے شعبے میں ہندوستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ بعد ازاں 1976 میں انہیں ملک کا چوتھا بڑا اعزاز پدم شری اور 1991 ء میں پدم بھوشن ملا۔

وہ زندہ رہے تو آخری دم تک اپنے فن سے محبت کرتے تھے اور کسی نہ کسی پروجیکٹ میں مصروف رہے لیکن جب اَجل نے آن دبوچا تو 23 دسمبر 2024 ء کو چپ چاپ رخصت ہو گئے لیکن ان کی تخلیقات آج بھی ایک اکیڈمی کے طور پر موجود ہیں۔

 

Facebook Comments HS