دی ٹرائل: کافکا کا نظام عدل اور نوکر شاہی پر تحریر کیا گیا تنقیدی فکشن
دی ٹرائل کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر تو مستحکم تھے مگر بے چینی میں بھی عمر بتائی۔ ان کے کام میں بے گانگی، وجودی بے چینی اور جدید زندگی کی بے معنویت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ادبی کامیابیوں کے باوجود وہ الگ تھلگ ہی رہے اور اپنی ذات کے ناقد بھی رہے۔
کافکا کا شہرہ آفاق ناول دی ٹرائل 1925 میں کافکا کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ 1937 میں اس کا پہلا انگریزی ترجمہ ولا موئیر اور ان کے خاوند ایڈون موئیر نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس کے علاوہ بھی اس ناول کے کئی انگریزی ترجمے موجود ہیں لیکن جس اردو ترجمے سے ہم مستفید ہوئے ہیں وہ انجینئر منظور قریشی کا ہے جو انہوں نے 2009 میں چھپنے والے ڈیوڈ ولی کے انگریزی ترجمہ سے کیا ہے۔ اس کتاب کے 272 صفحات ہیں اور یہ دس ابواب پر مشتمل ہے۔
دی ٹرائل بیسویں صدی کا ایک لازوال ادب پارہ ہے جس کی پراسرار اور دل ہلا دینے والی کہانی کی وجہ سے اسے جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی کہانی ’کے‘ نامی شخص کی ہے جسے ناقابل فہم قانون کے تحت گرفتار کر کے اس پر عجیب و غریب مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے مبینہ جرم سے کبھی واقف نہیں ہو پاتا۔
کافکا نے اس مضحکہ خیز کہانی کے ذریعے ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ جس میں ایک ذمے دار شہری اپنے ہی معاشرے میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگتا ہے۔ کافکا نے اس میں عام لوگوں کی بے بسی پر روشنی ڈالنے کے علاوہ بیوروکریسی کے روایتی کردار کو بھی بخوبی قلم بند کیا ہے۔ وہ اپنے مخصوص اندازِ تحریر کے ذریعے قارئین کو ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں انسان کو شناخت سے محروم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے جو غیر منطقی نظام کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اپنی بے بسی پر سوال اٹھانے پر مجبور ہے۔ کافکا نے اپنی نثر میں علامتی اور مبہم صورت حال کے ذریعے مختلف توضیحات پیش کی ہیں جن میں وجودیت اور نفسیات جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے سماج پر گہری تنقید کی ہے۔
ناول کا پلاٹ ’کے‘ نامی بینک افسر کے مقدمے کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کا آغاز اس کی تیسویں سالگرہ کے دن گرفتاری سے ہوتا ہے۔ بغیر کسی قانونی وضاحت کے وہ ایک غیر حقیقی اور پیچیدہ مقدمے میں الجھ جاتا ہے۔ بے گناہی ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود نہ تو جرم کی وضاحت کی جاتی ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں کے مطابق انصاف مہیا کیا جاتا ہے۔ بالآخر اسے سزائے موت دے دی جاتے ہے اور وہ اپنی آخری سانسوں تک اپنے جرم سے آگاہ نہیں ہو پاتا۔
کافکا کا ’کے‘ کے جرم کو مبہم رکھنا اس ناول کی نمایاں خصوصیت میں سے ایک ہے۔ غیر واضح جرم نے کہانی کو محض ایک قانونی ڈرامے سے کہیں بڑھ کر ایک وجودی تمثیل بنا دیا ہے۔ ’کے‘ ہر اس انسان کی مثال ہے جو ظالمانہ قوتوں کے خلاف اپنی بقا کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
کافکا کا ماننا ہے کہ جب انصاف غیر شفاف اور پیچیدہ بیوروکریسی کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حقیقی معنی کھو دیتا ہے اور ایک بے ترتیب اور بے مقصد تصور میں بدل جاتا ہے۔ کافکا نے اس ناول میں نوکر شاہی کو ایک غیر واضح، جابرانہ اور ناقابل فہم ادارے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس میں عدالتی نظام خفیہ طریقے سے کام کرتا ہے، جہاں نہ تو الزامات کی وضاحت پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی طریقہ کار کی شفافیت زیر غور لائی جاتی ہے۔ یہ پیچیدہ اور مبہم نظام ایک ایسی طاقت کی علامت بن جاتا ہے جو اپنی بے ترتیبی اور سختی کے ذریعے انسانوں کو بے بس کر دیتا ہے۔
پھر ہم طاقتوروں کے مقابلے میں عام انسان کی بے بسی کو دیکھتے ہیں۔ آغاز میں ’کے‘ کی شخصیت ایک پراعتماد اور خود پر یقین رکھنے والے شخص کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ اسے اپنے بے گناہ ہونے اور ہر مشکل کا سامنا کرنے کی صلاحیت پر مکمل یقین ہوتا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ اس عجیب و غریب اور جابرانہ نظامِ قانون میں دھنستا چلا جاتا ہے اس کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کا یقین الجھن، مایوسی اور بے بسی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جتنا وہ اس نظام سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی وہ اس میں الجھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی سوچ اور یقین جذباتی کمزوری اور بے بسی میں بدل جاتا ہے۔
کافکا نے اس ناول میں عمارات اور جگہوں کو تمثیلی طور پر پیش کیا ہے کیوں کہ یہ مقامات جدید معاشرے میں طاقت اور اختیارات کے ناقابل فہم ڈھانچوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کافکا نے ان پوشیدہ اور پریشان کن مقامات کو ’کے‘ کی ذہنی کیفیت کے آئینے کے طور پر پیش کیا ہے، جو اس کی بے بسی اور تنہائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ جگہیں محض کہانی کا منظرنامہ نہیں بلکہ اس کا لازمی جزو بھی ہیں، جو یہ دکھاتی ہیں کہ انصاف یا وضاحت کی تلاش ایک بے حس اور افراتفری سے بھرپور نظام میں کس طرح بے نتیجہ ہو سکتی ہے۔
ناول میں کافکا انصاف کے تصور پر گہری تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ایسے سماج کا تصور پیش کرتے ہیں کہ جہاں نظامِ قانون انصاف کی فراہی کے بجائے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے جابرانہ نظام قائم کرنے میں مصروف ہے۔ جہاں عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے اور انہیں ایسے نظام تلے رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے جہاں ان کی تکالیف اور ذہنی آسودگی بے معنی ہے۔
ناول کا اختتام بے رحم اور غیر حقیقت پسندانہ صورت میں پیش کیا گیا ہے، جو کافکا کے اس پیغام کو واضح کرتا ہے کہ زندگی اور انصاف دونوں ہی ایک غیر
واضح اور غیر منطقی حقیقت کا حصہ ہیں۔ ’کے‘ کی مسلسل جدوجہد جو وہ اپنے بے گناہ ہونے کو ثابت کرنے کے لیے کرتا ہے بے سود رہتی ہے۔
اختتام پر ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ عالمی ادب کے قارئین کے لیے یہ ناول اس فہرست میں شامل ہے جسے پڑھا جانا لازم ہے۔ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ آپ اکتاہٹ کا شکار بھی ہوں کیوں کہ ایک ہی طرح کے واقعات بار بار جنم لیتے ہیں اور مکالمے بھی طویل ہیں مگر مستقل مزاجی سے اگر اختتام کو پہنچے تو وقت اکارت نہ جائے گا اور دی ٹرائل آپ پر اچھا تاثر چھوڑے گا۔


