سفرِ کوسوو: آخری قسط


پے آ میں آمد کے تقریباً تین دن بعد رکی سے رابطہ ہوا تو وہ اگلے دن ہی مجھے ملنے آ گیا۔ اپنی گاڑی میں بٹھایا اور یہ کہتے ہوئے رگووا پہاڑ کی طرف چل پڑا کہ میں تمہیں سرپرائز دوں گا۔ وہ مجھے ایک پہاڑی پہ واقع ایک نہایت وسیع و عریض ریستوران میں لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد سلیمان، اس کی بیگم، بیٹا اور بہو نمودار ہوئے۔ سلیمان رکی کا بہنوئی تھا اور میرے اس وقت کے قیام کے دوران کلینا نامی قصبے میں ایک چھوٹا سا ریستوران چلاتا تھا۔ اسے اب اتنے شاندار ریستوران کے مالک کے طور پر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور تمام فیملی کو مبارکباد دی۔

باتوں باتوں میں میں نے سلیمان سے کہا۔ میرے پاس تمہاری ایک ایسی تصویر ہے جو تمہارے کلینا والے ریستوران میں اتاری گئی تھی اور اس میں پنزا بھی ہے اور گورڈن بھی۔ وہ بولا گورڈن تو اب بھی کوسوو میں ہے۔ جیلان ریجن میں ایک سیکیورٹی کمپنی کا سربراہ ہے۔ یہاں بھی آتا رہتا ہے۔ سلیمان سے نمبر لے کر شام کو اس سے رابطہ کیا تو میری پے آ میں موجودگی کا سن کر بے حد خوش ہوا۔ بولا آج میں میسیڈونیا میں ہوں۔ پرسوں دن بارہ بجے سلیمان کے ریستوران میں ملیں گے۔ وہ دیے ہوئے وقت پر اتنی دور سے بھی پہنچ گیا اور آتے ہوئے شہر میں اب بھی موجود دوسرے ساتھیوں کو جن میں ترجمان رکی کے علاوہ بیلی اور لیڈی کلینر فتورے شامل تھے، کو بھی یہاں پہنچنے کا کہہ دیا۔ ( دیکھئے تو یہ گورے کمی کمین لوگوں کو بھی برابری کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ قیامت کی نشانیاں نہیں تو کیا ہے ) ہم سب وہاں شام پانچ بجے تک موجود رہے اور پرانے واقعات اور ساتھیوں کو یاد کرتے رہے۔ کھانے، مشروبات اور کافی کا تمام بل گورڈن نے ادا کیا جو کہ گوروں خاص کر امریکیوں کے ہاں نارمل بات نہیں ہے۔

کوسوو نے 2008 میں اعلانِ آزادی کیا اور بہت سے ممالک نے اسے آزاد ریاست کے طور پر تسلیم بھی کر لیا۔ تیسری دنیا کے ہر ملک کی طرح یہاں اشرافیہ کی زندگی مہکتے میٹھے مستانے زمانوں میں داخل ہوئی جبکہ عام لوگوں کی زندگیوں میں اب بھی کوئی بدلاؤ نہ آیا۔ چنانچہ بہت سے لوگ مغربی یورپ کو ہجرت کر گئے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو سرکاری نوکری کے ساتھ باروزگار تھے۔ ایسے کئی جاننے والوں کو اب وہاں نہ پا کر بہت ملال ہوا۔

جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا رنج ہوا
اس پرانے بام پر وہ صورتِ زیبا نہ تھی

اب کے قیام کے دوران اس بدلے اور نکھرے ہوئے شہر میں کچھ نئے دوست بھی بنے۔ ان میں ہوٹل کے مالک بورم اور منیجر ریاض کے علاوہ ان کے دو دوست زینی اور شانی بھی شامل تھے جو روزانہ یہاں دس، گیارہ بجے آ کر کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے دو ڈھائی گھنٹے گزارتے تھے۔ یہ ریٹائرڈ لوگ تھے اور ان سے روزانہ سامنا ہونے کی وجہ سے جلد ہی مجھ سے بے تکلف ہو گئے۔ زینی بے ڈھب موٹا تھا اور بلا کا ٹھرکی۔ کاؤنٹر پہ موجود دو نوخیز لڑکیوں سے اٹکھیلیاں اس کا دل پسند مشغلہ تھا۔ میں اسے چھیڑتا کہ مجھے تو تمہارا ان پر لٹو ہونے والا معاملہ یک طرفہ ہی لگتا ہے۔ اسے دو طرفہ ہونے میں ذرا دیر نہ لگے اگر میں ان پہ کچھ خرچہ کرنا شروع کر دوں۔ اب مسئلہ یہ ہے کی میرے پاس زیادہ پیسے بھی نہیں ہیں اور میں بلا کا کنجوس بھی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے زوردار قہقہہ لگایا۔

پرانے جاننے والوں میں ایسے مہربان اور دوست بھی تھے جو اس دوران اس جہاں کو سدھار گئے تھے کی جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ ان میں اپنا ایک بہت ہی پیارا دوست رجب بھی تھا۔ میں جب اس سے ملنے اس کے ہول سیل سٹور پر گیا تو وہاں موجود ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ میرے والد تھے جو باسٹھ سال کی عمر میں 2016 میں فوت ہو گئے تھے۔

نہ پوچھیں کہ کیا حال ہوا کہ وہ میرا نہایت بے مثل اور بے تکلف دوست تھا۔ میں اس نوجوان کو نہیں جانتا تھا لیکن مجھے اس نے اس وقت حیران کر دیا جب تھوڑے وقفے کے بعد بولا، آپ وحید ہو میرے والد کے پاکستانی دوست۔

تتلیاں ہجرت کریں گی موسموں کے ساتھ ساتھ
اور شہرِ گل میں آشوبِ ہوا رہ جائے گا

Facebook Comments HS