تعلیمی زبوں حالی پر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کا مرثیہ

گزشتہ دنوں ڈاکٹر اشتیاق احمد کا ایک وڈیو کلپ نظروں سے گزرا، جس میں وہ انتہائی کرب کے ساتھ ہماری تعلیمی و فکری زبوں حالی کا مرثیہ پڑھ رہے تھے۔ اس ویڈیو میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس کا لب لباب یوں ہے:
بیکن ہاوس اسکولز سسٹم جس کی شاخیں کراچی اور لاہور میں بھی موجود ہیں، ان کا تعلیمی معیار، مینجمنٹ اور شہرت اول درجے میں شمار ہوتی ہے۔ بیکن ہاؤس اسکول کراچی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جس نے اس اچھی شہرت کے حامل تعلیمی ادارے پر کم از کم پاکستان کی حد تک تو سوال اٹھا دیے ہیں اور اس کی کریڈیبلٹی کو مشکوک بنا دیا ہے، ہوا کچھ یوں ہے کہ ایک چھٹی جماعت کی طالبہ جس کی بنیادی اسکولنگ مغرب میں ہوئی ہے اور حال ہی میں یہ فیملی سمیت کراچی شفٹ ہوئے تو انہوں نے اپنی بچی کو چھٹے گریڈ میں اس اسکول میں کراچی میں داخل کروا دیا۔
دوران کلاس اردو کے پیریڈ میں اردو کی معلمہ نے بچوں سے کہا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے صفاتی نام سنائیں، جو کم و بیش بچیوں نے سنا دیے۔ جب اس بچی کی باری آئی تو شرم، جھجک، ہچکچاہٹ یا ممکنہ طور پر کسی اور وجہ سے وہ سنا نہ پائی یا بولنے کا دورانیہ تھوڑا طویل ہو گیا، اردو کی معلمہ نے فوری طور پر اسے کہا کہ کیا تمہیں یہ نام نہیں آتے؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ کیا تم پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتی ہو؟ اتنے سارے سوالات ایک ہی سانس میں پوچھے جانے پر وہ بچی سہم گئی اور ڈرتے ہوئے کہنے لگی کہ ”نہیں میڈم ایسی بات نہیں اور میرے والدین بھی مسلمان ہیں“ ۔ ٹیچر کا غصہ اس معصومانہ سی وضاحت پر بھی شانت نہیں ہوا بلکہ اس نے چند بچیوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ پتا کریں کہ یہ بچی پانچ وقت کی نماز بھی پڑھتی ہے یا نہیں۔
کیا یہ ایک ٹیچر کا رویہ یا لب و لہجہ ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سب ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ کیا چھٹی جماعت کی بچی کو اس حد تک کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے؟
ہم میں سے بہت سوں کو بہت کچھ نہیں آتا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا نا کہ آپ اس کی بنیاد پر دوسروں کے ایمان پر شک کرتے پھریں اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں؟ سوال یہ ہے کہ اس قسم کا رویہ اختیار کرنا ایک استاد کو زیب دیتا ہے؟
اردو کا مضمون جو کہ خاصا کشادہ دامن ہوتا ہے اس میں اسلامیات یا مذہب کا دخول اور اس قدر غیر سنجیدگی کے ساتھ، کیا یہ پروفیشنل یا اخلاقی بددیانتی کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ اگر بیکن ہاؤس اسکولز میں یہ حال ہے تو ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی کیا حالت ہوگی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ستم ظریفی کہیں یا اخلاقی زوال، یہاں جو جس مضمون میں ماسٹرز، ایم فل یا پی ایچ ڈی ہوتا ہے وہ اسی سے لاتعلق ہوتا ہے اور اپنے مضمون سے مکمل وفاداری برتنے یا پروفیشنلی ساؤنڈ ہونے، دیانت دار اور یکسوئی کی بجائے اسلامیات پڑھانے میں زیادہ دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اپنے مضمون سے اس قدر لاتعلق ہو جاتا ہے کہ چالیس منٹ کے پیریڈ میں آخری پانچ منٹ متعلقہ مضمون پڑھاتا ہے اور باقی کے پینتیس منٹ میں اسلامیات پڑھا کر قادر مطلق کی خوشنودی حاصل کرتا ہے اور ثواب کا دفتر سمیٹ کر آخرت کے خزانے میں جمع کروا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسا ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جس فرض کی ادائیگی کے لیے وہ ماہانہ معاوضہ لیتا ہے اس میں بددیانتی کرنے والے کو کیا کہا جائے گا؟ وہ کس قسم کا معلم ہو گا جس کی تعلیم و تربیت اسے دیانت دار نہ بنا پائی اور وہ انفرادیت، پرسنل سپیس، اختلاف، تنوع اور حلم و بردباری سے بھی بیگانہ رہا؟
مذہب تو ہر انسان کا انتہائی نجی معاملہ ہوتا ہے اور قلب اس کی باؤنڈری ہوتی ہے، اپنے اپنے فکری بندوبست کے تحت ہر کوئی اپنے من کی شانتی اور روحانی تسکین کے لیے نجی حدود میں جو بھی کرنا چاہیے کر سکتا ہے، ہمیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے اور نا ہی خدائی فوجداروں کی طرح سے چابک اٹھا کر کسی کی نجی باؤنڈری یا بیڈروم میں زبردستی گھسنا چاہیے۔ استاد اور مبلغ میں فرق ہوتا ہے، استاد اپنے مضمون کے حساب سے طلباء کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتا ہے اور اس کا مقام اسکول، کالج یا یونیورسٹی ہوتا ہے۔ جبکہ مبلغین کا کام تبلیغ و تلقین کا ہوتا ہے اور ان کا حقیقی میدان مساجد کا منبر ہوتا ہے۔
وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مبلغین کی تو کثرت ہے لیکن پروفیشنلز کا خاصا فقدان پایا جاتا ہے، اور جو چند ایک پروفیشنلز ہیں بھی وہ اپنی فیلڈ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتے، اب تو تعلیمی زبوں حالی کا یہ حال ہو چکا ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پروفیشنلز کی بجائے موٹیویشنل اسپیکرز، کلین شیو اور پینٹ شرٹ میں ملبوس روحانی بابوں اور تبلیغی مبلغین کو مدعو کیا جاتا ہے۔
جب تعلیم کے میدان میں اس قدر فکری مڈبھیڑ ہو جائے تو تعلیم کا عمل خالص یا آزادانہ نہیں رہ جاتا، ٹیلنٹ ہنٹنگ یا ذہنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال انہی معاشروں میں ممکن ہوتا ہے جہاں نسلوں کو فکری آزادیاں میسر ہوتی ہیں اور تعلیمی حدود میں عقائد کی بجائے نئی تحقیقات و ٹرینڈز شامل کیے جاتے ہیں اور ابھرتے ہوئے چیلنجز پر گفتگو کرنے کے لیے دنیا بھر سے ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے۔
اس اسکول سسٹم کے ذمہ داران کو اس واقعہ پر انکوائری کرنی چاہیے اور اردو کی متعلقہ ٹیچر سے پوچھنا چاہیے کہ اخلاقیات کے نام پر بچوں کے گھروں اور ان کی نجی زندگیوں میں جھانکنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا ہے؟ چھٹی جماعت کی بچی کو مذہب کے نام پر ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا عمل ایک مجرمانہ فعل تو ہو سکتا ہے اخلاقی یا انسانی نہیں۔
آپ ویڈیو اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔
https://www.youtube.com/watch?v=rtwCdkvUb8E

