عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: تیسری قسط


لیکن دیکھیے اسے کیا رنگ دیا گیا۔ شمن کو ویسی ہی ایک لڑکی سمجھا گیا جو اپنی ٹیچرز پر اپنی نوبلوغت کے جنسی جذبات انڈیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض اوقات ٹیچرز بھی اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بجائے یہ کہ مس چرن کو نفسیاتی معاملات کا ماہر قرار دیا جاتا جس نے تنہائی کی ماری ایک بچی کو بنیادی دھارے میں شامل کیا، مس چرن کو سکول سے نکال دیا گیا اور عسکری صاحب کو لگا کہ بات ادھوری رہ گئی۔

اس کے ساتھ ایک اور بات جس پہ مجھے حیرت ہوئی کہ عسکری صاحب نے ناول کے بقیہ حصے کو اس طرح یا کسی بھی اور طرح دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی، جو ہونی چاہیے تھی۔ محض پہلے پچاس صفحات کو ہی سراہ کر رہ گئے جو ایک ایسی بچی کی پیدائش اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے طرزِ عمل پر مشتمل ہیں جو اس گھر میں جانوروں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا جاتا۔

ناول کی ابتدا ہی یوں ہوتی ہے :

”وہ پیدا ہی بے موقع ہوئی۔ بڑی آپا کی چہیتی سہیلی سلمہ کی شادی تھی اور وہ بیٹھی جھپا جھپ سروئی کریپ کے دوپٹے پر لچُکا ٹانک رہی تھی۔ اماں اتنے بچے جننے کے بعد بھی ننھی ہی بنی ہوئی تھیں۔ بیٹھی جھانویں سے ایڑیوں کی مردہ کھال گھس گھس کر اتار رہی تھیں کہ ایکا ایکی گھٹا جھوم کر گھر آئی۔ وہ دہائی ڈالی کہ میم کو بلانے کا ارمان دل کا دل ہی میں رہا اور وہ آن دھمکی۔ دنیا میں آتے ہی بغیر گلے میں گھانٹی کیے ایسا دھاڑی کہ توبہ بھلی۔

نو بچوں کے بعد ایک کا اضافہ جیسے گھڑی کی سوئی ایک دم آگے بڑھ گئی اور دس بج گئے۔ کیسی شادی کس کا بیاہ۔ حکم ملا ننھی سی بہن کے نہلانے کے لیے گرم پانی تیار کرو۔ پانی سے زیادہ کھولتے آنسو بہاتے، آپا نے کوستے ہوئے چولہے پر پتیلی چڑھا دی، پانی بھی مذاق میں ذرا چھلک گیا اور سارا ہاتھ ابل کر رہ گیا۔ ”

ایک تو پیدائش دسویں اور اوپر سے بچی۔ ماں ہے تو سہی پر ایسی کہ نہ ہوتی تو اچھا ہوتا۔ نہ پلانے کی نہ کھلانے اور بہلانے کی۔ سب کچھ بڑی بہن پر ہے جو ایک تو اس لیے خفا ہے کہ سہیلی کی شادی پر ایک اور کام آن پڑا اور ایسا کہ ٹالے نہ ٹلے۔ دودھ پلانے والی کا انتظام ایسے ہوا کہ انّا آ گئی لیکن ساتھ میں عاشق بھی موجود جس کا ہونا رنگ لایا اور انّا بھی گئی۔ دودھ تو پیٹ میں بوتل سے چلا جائے گا لیکن بہن کتنا سنبھالے گی؟ وہ تو ویسے ہی اوبھی ہوئی ہے اور کئی بہنوں کی دیکھ بھال سے سارے شوق سمیٹ چکی ہے۔

ناول کے پہلے ہی صفحے پر عصمت نے نثر کا وہ کرشمہ دکھایا ہے کہ عش عش کے بغیر چارہ دکھائی نہیں دیتا۔

”اماں کو کیا کم فکر ہو رہی ہو گی۔ آخر یہ اتنی ڈھیر سی لڑکیوں کا نصیبہ کہاں کھلے گا؟ مانا کہ روپیہ بھی ہے اور لڑکی دکھانے کا فیشن نہیں، پھر بھی کہاں تک تالے ڈالے جائیں گے، کیا ہو گا؟“

دو پونے دو سطروں میں نہ صرف گھر کی حالت اور مسائل بھی بتا دیے بلکہ باہر کی پوری تصویر دکھا دی گئی ہے۔ لڑکیاں ہوں تو پیسہ ہونا ضروری ہے لیکن لڑکیاں ڈھیر ساری ہوں تو نصیب بھی چاہیے۔ لڑکی دکھانے کا فیشن نہیں، پھر بھی کہاں تک۔

”پھر بھی کہاں تک“ کے چار لفظوں نے ناول میں آگے کیا کیا کیا؟ وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تالے تو دور کی بات ٹھہری، مگر ماؤں کی طرف سے اس بوجھ کو اتار پھینکنے کے لیے وہ وہ چشم پوشی، ڈھیل اور رعایت ہے کہ پڑھنے والا پھنس کر رہ جاتا ہے اور آگے کا ناول وہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا۔ شاید یہی عسکری صاحب اور شمیم حنفی صاحب کے ساتھ بھی ہوا ہے۔

عسکری صاحب کے مقابلے میں شمیم حنفی کچھ آگے بڑھے اور ایک سو چھ صفحات تک اپنی دلچسپی برقرار رکھ پائے۔

ایک سو چھ صفحوں تک کی کہانی میں شمن کا بچپن اور ابتدائی بورڈنگ سکول تک کی کہانی بیان کی گئی ہے جس میں ایک لڑکی معاشرے کے ترتیب دیے گئے ضابطوں پہ چلنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو ڈھونڈھ رہی ہے۔ اس کوشش میں وہ گرتی ہے، غلطیاں کرتی ہے لیکن رہتی وہ چھوئی موئی سی ہی ہے جو معاشرے کے طے شدہ پیمانوں کو توڑنے کی جرات تو کیا تصور تک نہیں کرتی۔

عصمت نے اس دور کے مسلمان گھرانوں کی منظر کشی کی ہے۔ گھریلو عورتیں، بچے، لڑکیاں، شادیاں اور روایتی تہذیب و ماحول۔ وہ ماحول جو لڑکی کو ہمت و اختیار نہیں دیتا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ کرے یا اپنی زندگی کے عزائم کو والدین کی خواہشات کے تابع نہ رکھے۔

شمن، ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی ہے جہاں گھر کے سربراہ کو اس بات کی پرواہ ہی نہیں کہ کتنے ہو گئے؟ جانوروں کی طرح پلتے افراد اس کا درد سر نہیں۔ اس کا تعلق تو بیوی سے ہے جسے بچے کی پیدائش کے بعد دودھ پلانے تک کی اجازت نہیں کہ ازدواجی معاملات میں خلل پڑنے کا شائبہ ہے۔

”خدا غارت کرے اس منی سی بہن کو۔ اماں کی کوکھ کیوں بند نہیں ہو جاتی“ آپا نے کوستے اور آنسو بہاتے چولہے پر پتیلی چڑھا دی۔

یہ سب ابا کا قصور تھا، کیا مجال جو اماں دودھ پلا جائیں، ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر آگرے سے گوالن بلا لی۔ ”

آج تک کسی بھی نقاد نے گھر کے ایسے سربراہ کے کردار کے بارے میں کچھ نہیں لکھا شاید اس لیے کہ مرد ہونے اور پدرسری کے ناتے اسے چھوٹ دے دی جاتی ہے اور Taken for granted لے لیا جاتا ہے۔ وہ جب جی چاہے بیوی کو بستر میں بلائے اور حاملہ کر کے بچہ ”دینے“ کے لیے چھوڑ دے۔ اُسے یہ عظمت اور آزادی کیوں حاصل ہے؟ اس لیے کہ وہ گھر کا معاشی، مالیاتی ذریعہ اور ریسورس ہے۔

Facebook Comments HS