جد و جہد مسلسل کی کہانی


بیوروکریسی کسی ملک کا نظام حکومت چلانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اگرچہ کتابوں میں بیوروکریٹ کو ”سول سرونٹ“ کہا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ”سول سرونٹ“ اپنے آپ کو حکمران ہی سمجھتے ہیں ملکی ترقی کا انحصار بیوروکریسی کی بنائی گئی پالیسیوں پر ہوتا ہے جس ملک کی بیورو کریسی جس قدر دیانت دار اور اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتی ہے اسی قدر اس کا قبلہ درست سمت میں ہوتا ہے بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جس کی بیوروکریسی نہ صرف دیانت داری کے معیار پر پوری نہیں اترتی بلکہ سیاست دانوں کو بدعنوانی کے راستے بتاتی ہے اور پھر دونوں مل کر ملکی وسائل کو لوٹتے ہیں ہمارے ملک میں مسعود کھدر پوش، قدرت اللہ شہاب، لطف اللہ مفتی، مظہر رفیع، ابو محمد عاکف، احمد بخش لہڑی اور ارشد مرزا جیسے سینکڑوں بیوروکریٹس بھی اس نظام کا حصہ رہے جن کی چھوڑی ہوئی روایات آج بھی بیوروکریسی کے لئے نیک نامی کی گنجائش رکھتی ہیں نصف صدی سے زائد پیشہ صحافت سے وابستگی کے دوران میرا بیوروکریسی سے بڑا قریبی رابطہ رہا ہے میں نے ”سول سرونٹ“ کی شکل میں ”دیسی گورے“ بھی دیکھے ہیں اور عوام کے خادم بھی۔ اچھی شہرت رکھنے والے بیوروکریٹس کی ایک بڑی تعداد کے نام گنوا سکتا ہوں میرا آج کا کالم اچھی شہرت رکھنے والے ان بیورو کریٹس کے نام ہے جنہوں نے نہ صرف ملک و قوم کی خدمت کی بلکہ اپنی نیک نامی سے بیوروکریسی کے بارے میں عوام میں پائے جانے منفی تاثرات کو دور کرنے میں اپنے حصہ کا کردار ادا کیا۔

دور جدید میں خط و کتابت کی جگہ فیس بک، ایکس اور وٹس ایپ نے لے لی ہے، اگلے روز ایوان صدر کے سیکریٹری ملک شکیل اعوان کا وٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے 43 سالہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی کہانی تحریر کی تھی میں ملک شکیل اعوان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا ان کا تعلق ضلع اٹک کے ایک پسماندہ گاؤں قطبال جو نیو اسلام آباد ائر پورٹ کے قریب ہے سے تعلق ہے ان سے گاہے بگاہے فون پر تو بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن ان کی 43 سالہ سروس میں تین چار بار ہی ملاقات ہوئی تھی میرا ان کے بارے میں شروع دن سے یہ تاثر تھا کہ وہ ایک با اصول اور دیانت دار افسر ہیں سیاست سے دلچسپی ہے اور نہ ہی سیاست دانوں کی کاسہ لیسی کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

ان کی جہد مسلسل کی کامیاب کہانی ( گریڈ 7 سے 22 تک پہنچنے کا سفر) آج کی مایوس نسل کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے میں اس کہانی کو اپنی نئی نسل سے شیئر کرنا چاہتا ہوں محنت اور مسلسل جدوجہد کسی کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دیتی انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ”آج ابھی ای میل موصول ہوئی ہے کہ 15 جنوری سے میری تنخواہ بند ہو جائے گی۔ میری نگاہوں میں ایک لمحے میں اپنی زندگی کے 60 سال گزر گئے جن میں سے 43 سال حکومتِ پاکستان کی نوکری کی نذر ہو گئے۔ کوئی کھیل کھیلنے کا وقت ہی نہ ملا بس آگے بڑھنے کی جد و جہد مسلسل۔ مجھے وہ دن یاد آیا جب میں تقریباً 17 سال کی عمر میں محکمہ ڈاک میں ملازمٍ ہوا صبح سویرے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو واپس آتا تھا کیونکہ صبح سرسید کالج راول پنڈی پڑھتا اور شام کو ڈاکخانے میں کام کرتا تھامیں نے میٹرک راولپنڈی ڈویژن میں ٹاپ کیا سرسید کالج میں میگزین“ سرسیدین ”کا مدیر بنا سٹوڈنٹس یونین کا الیکشن بھی جیت گیا فیڈرل ایجوکیشن بورڈ کا رزلٹ آیا تو میں نے بورڈ میں سیکنڈ پوزیشن لی میرے ابا جی بھی محکمہ ڈاک میں تھے۔ ان سے معاصرانہ چشمک کی وجہ سے محکمہ ڈاک والوں نے میری شام کو کام کرنے کی سہولت ختم کردی۔ ابا جی نے نوکری سے استعفے دینے کا کہا لیکن میں اپنی امی کے ہاتھ پر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ رکھتا تھا ان کی آنکھوں میں خوشی کی جو چمک نظر آتی اس نے مجھے نوکری نہیں چھوڑنے دی ملک شکیل اعوان نے کہا“ میں نے محکمہ ڈاک میں پوسٹل کلرک کے طور پر چھ سال نوکری کی۔ اس دوران میں نے خود پڑھ کر اکنامکس کے ساتھ بی اے کیا۔ اس زمانے میں جہاں ملازمت کے لئے درخواست دیتا سلیکشن ہو جاتی لیکن میرا خیال تھا کسی ایسے محکمے میں جاؤں جہاں پڑھنے کے مواقع بھی مل سکیں اور بیرون ملک سکالرشپ مل جائے۔ آرمی میں بھی سلیکشن ہو گئی لیکن میں محض اس لئے جوائن نہ کر سکا کیونکہ وہاں گھر کچھ پیسے بھجوانے کی بجائے گھر سے منگوانے پڑتے تھے۔ میری مالی حالت مستحکم نہ تھی اس لئے فوج میں جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

”میٹرک میں ہی میں نے سول سرونٹ بننے کا خواب دیکھا جو مسلسل محنت سے نہ صرف حاصل کر لیا بلکہ محنت، لگن اور دیانت داری سے کام کرنے کا صلہ یہ ملا کہ میں صدر مملکت کے سیکریٹری کی حیثیت سے گریڈ 22 میں ریٹائر ہوا ہوں اور صدر مملکت نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تین سال کا کنٹریکٹ دے دیا جس سے مجھے اپنا زیر تعمیر گھر مکمل کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے ملک شکیل نے اپنے پیغام میں بتایا کہ“ میں نے وزارت تعلیم میں اسسٹنٹ کے طور پر جوائن کیا کہ یہاں سکالرشپ ملے گا وہاں جاکر اندازہ ہوا تعلیم کے علاوہ سب کام ہو رہے تھے۔ پہلے میں نے ایم اے اکنامکس کی تیاری کر کے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ بھیجا لیکن یونیورسٹی نے قبول نہ کیا کہ بی اے کے بعد تین سال بعد امتحان دے سکتا تھا۔ پھر میں نے ایم اے انگریزی کی تیاری شروع کر دی دو گاڑیاں تبدیل کر کے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں گھر پہنچتا۔ میں نے ایف اے کرنے کے بعد ایف اے کے طالبعلموں کو پڑھانا شروع کیا اسی طرح بی اے کے بعد بی اے کی انگریزی پڑھاتا رہا۔ گھر پہنچتا تو میرے شاگرد انتظار کر رہے ہوتے۔ ان میں سے کچھ فیس دیتے تھے اور کچھ نہیں دیتے تھے لیکن میں کسی سے فیس نہیں مانگتا تھا۔ ان حالات میں ایم اے انگریزی کی تیاری کی اور سات پیپرز اکٹھے دیے۔ جس دن میرا ولیمہ تھا اس دن رزلٹ آیا اور میں ایم اے انگریزی ہو گیا۔ میں نے سی ایس ایس کا داخلہ بی اے کی بنیاد پر بھیج رکھا تھا۔ دفتر سے چھٹیاں لے کر تین ماہ میں امتحان کی تیاری کی میری والدہ کی خواہش تھی کہ ایسا گروپ جوائن کروں کہ پنڈی اسلام آباد سے باہر نہ جاؤں آفس مینیجمنٹ گروپ ملا والدہ کا حکم تھا مزید کوشش کی ضرورت نہیں اسی گروپ میں ”پوڑھی اخیر تک و یسیں“ (اسی گروپ میں آخر تک ملازمت کرو) ان کی اس دعا سے گریڈ 22 آخری ”پوڑھی ’میں‘ ایوانِ صدر تک پہنچ گیا۔

میں نے تہجد کے وقت گھر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے تین سال مانگے تھے کہ تریسٹھ سال تک نوکری کروں۔ میرے ابا جی تریسٹھ سال کی عمر میں اللہ کریم کے پاس چلے گئے میں نے سول سروس میں جتنے فیصلے کیے اس کے بعد کبھی نتائج کا نہیں سوچا۔ کبھی کسی پریشر میں نہیں آیا انہوں نے کہا میرا تعلق ایک پسماندہ گاؤں سے ہے میرا اپنا ذاتی گھر مکمل نہیں لیکن اس ملک میں میں آزادی سے گھومتا ہوں لکھتا ہوں۔ میرا یہ پیغام ان نوجوانوں کے لئے ہے جو مایوس ہو کر ملک چھوڑنے کی باتیں کرتے ہیں سروس کے دوران میرے سامنے گمبھیر مسائل آئے صدمات سے دوچار ہوا ڈائلیسز کروا کر دفتر آتا تھا۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے مسائل کا سامنا کیا۔ ٹرانسپلانٹ کے بعد اللہ نے نئی زندگی دی۔ میں نے 43 سال کی ملازمت میں صرف دو بار ٹوٹل پانچ ماہ کی چھٹی لی۔ پہلی بار سی ایس ایس کی تیاری اور دوسری بار کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لئے چھٹی لی۔ ریٹائرمنٹ پر میری پانچ سال سے زائد چھٹی موجود ہے۔

Facebook Comments HS