کانٹ کی ماورائی تحلیل
افلاطونیت کے دو ہزار سالہ سحر کو توڑتے ہوئے کانٹ نے جو عقلی تحدیدات معین کیں، اُن سے فلسفہ و فکر کو ایک نئی جہت ملی اور بعد میں آنے والوں نے نئے در وا کرنے کی کوشش کی۔ شوپن ہاور کی یاسیت کے بادل اس قدر گہرے تھے کہ اُن کا چھٹا نا گزیر تھا۔ انسانی حواس کو حواس باختہ ہو کر دیکھنے کا جُرم صرف شوپن ہاور کا ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بشمول گوتم کے وہ تمام صوفیاء بھی تھے جو کائنات کے متغیرانہ رویے پر جوہرِ کُل کا استنباط کرتے رہے۔
کانٹ کی تنقیدی تحدید میں قبل تجربی Apriority وہی روزن ہے جس سے وہ روشنی جو حسّیات کے بغیر حاصل ہوتی ہو یا اُن سے پہلے بھی ہمارے اندر موجود ہو، علم کا جوہر ہے۔ بقول افلاطون انسانی ذہن اسی روزن سے اپنی اعیانی کیفیت کو محسوس کرتا ہے۔
مگر خود کانٹ بھی اس روشنی اور علم کے قضیے پر اشکالی صورت حال سے دو چار ہے، اور ہمیشہ حسّیات کو ہی قابلِ بھروسا علم کا منبع و ذریعہ متصور کیا۔ شوپن ہاور نے اسی غیر یقینی روشنی کو یاسیت کے اندھیروں میں غیر یقینی کیفیت سے تھامنے کی کوشش کی۔ اور اسی کو ذریعہ نجات تصور کیا۔ نطشے کا اوبر مین اور اقبال کا شاہین اسی کا ردِ عمل ہے۔ نطشے نے انہی ماورائی تحلیلات کے قضیے سے اٹھنے والی توانائی کا ادراک کرنے کی کوشش کی اور ایک مطلق روح کو جنم دیتے ہوئے خدا کی موت کا ڈھنڈورا پیٹا۔ اقبال کی خودی نے بھی اسی کی پیروی میں اڑان بھری مگر مذہب کو اپنے معاصرانہ رویّوں سے ہم آہنگ کرنے سعی لاحاصِل میں اپنے ہی پر کتر ڈالے۔
بہرحال انسانی ذہن کی اعیانی کیفیت اور حسّیات کے تجریدی علم کی تحدیدات کا ادغام کانٹ کے اُس روزن کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سے زندگی کا ماورائی تعلق انسانی وجود میں تحلیل پاتا ہے۔


