طریقِ عشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط!
وقت کی تیز رفتار موجوں میں غوطے لگاتے ہم، جن کا مستقبل حال اور حال سفرِ ماضی پر ہر دم گامزن ہے۔ آج ہیں، کل نہیں ہوں گے۔ حال میں ایامِ زندگی بسر کرتے ہوئے خود کو ماضی کا قصہ پارینہ تصور کرنا انتہائی تکلیف دہ امر ہے، مگر ایسا ہونا ہے کیوں کہ یہی قانونِ فطرت ہے اور فطرت اپنے قوانین کبھی نہیں بدلتی۔ ہر مسافر دنیا کے رموز جاننے میں غلطاں و پیچاں ہے۔ گولز، کیریئرز، عزائم، خود سے باندھے گئے عہد، دنیاداری، ناموری، بہترین زندگی کا خواب اور تیز رفتار وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی خواہش۔ ایک طویل فہرست ہے جو مکمل ہو کے نہیں دیتی۔ خواہ وقت کا بے رحم پنجہ مہربان ثابت ہو یا نہ ہو۔ وہ کسی نے کہا تھا ناں ؛
میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
اس بے نام دوڑ میں خوشیاں کہاں ہیں؟ آسودگی کہاں ہے؟ احساسِ طمانیت کہاں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر ہم کہاں ہیں؟ وہ ڈھیروں ڈھیر اَن کہی باتیں جو کہہ نہیں پائے، وہ خوشگوار احساسات جو آئندہ اچھے وقتوں میں بانٹنے کے لیے چھوڑ رکھے ہیں۔ گویا وقت کا نقارہ قافلے کو پڑاؤ کی مہلت دیے بغیر ہی بجتا چلا جا رہا ہو اور اس حد درجہ تیز سفر کے مسافر ہر جذبہ، ہر احساس بُھلائے مزید سے مزید تر کی جستجو میں دوڑے چلے جا رہے ہوں۔
ٹھہریے اور سوچیے!
کہیں ایسا تو نہیں منزل کی تلاش میں پیر تھکن سے چور ہیں؟ دل بے نام اداسیوں اور وسوسوں کی آماج گاہ بنا ہے؟ بس ایک امیدِ پیہم ہے کہ منزل پر پہنچ کر ہر تھکن اتر جائے گی۔ منزل تمام دکھوں کو، راستے کی تھکاوٹوں کو شفا دے دے گی۔ خواہ منزل کے ملنے تک ہم ہی نہ رہیں، منزل کا احساس ہی قلب کو طمانیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ مگر وہ کسی نے کہا ہے ناں ؛
”منزل اہم نہیں ہوتی، سفر اہم ہوتا ہے۔ جو سفر پہ قانع نہیں ہوتا، منزل اسے آسودگی نہیں دے سکتی۔“ تو حقیقت کچھ ایسی ہی ہے۔
قبل اس کے کہ وقت کا دھارا آپ کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جائے، خود کے ساتھ وقت گزاریے!
زندگی کے سنہرے سال سفر کی تھکاوٹوں کی نذر کرتے ہوئے اسی سفر میں سے خوشیاں کشید کیجیے۔ آسودگی و طمانیت کے مواقع خود کے لیے خود نکالیے۔ جو کام سکون کا باعث بنتا ہے، کر ڈالیے۔
کسی کے لیے بنا کہے رب کے حضور دعا کر کے، چپکے سے کسی مجبور کی مدد کر کے، نیم شب کسی بُجھتے چراغ میں اُمید کا تیل ڈال کے، معاف کر کے، بولنے کا موقع ہونے کے باوجود خاموش رہ کے، تند و تیز رویوں کو اخلاص کی نرمی سے برداشت کر کے۔
لفظ وجہ سکون ہیں تو اٹھائیے قلم اور لکھ ڈالیے!
مطالعہ سے تزکیہ نفس ہوتا ہے تو کمر کسیے اور مطالعہ شروع کر دیجیے!
آج اور ابھی سے! کیوں کہ کل کے لیے چھوڑے گئے کام ہمیشہ ادھورے ہی رہتے ہیں۔
تدّبرِ قُرآن، آرٹ، فلسفہ، سائنس، تحقیق، گھرداری جس چیز میں دل لگتا ہے، بس جڑ جائیے اس چیز سے۔ اچھا نہیں کر سکتے برا کیجیے۔ آج برا کریں گے کل اچھا کرنے لگیں گے۔ کریں گے تو صلاحیتوں میں نکھار آئے گا۔
؎طریقِ عشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط!
کہیں چڑھاؤ، کسی جا اُتار راہ میں ہے۔
سب کیجیے مگر بنا کسی صلے اور تمنا کی پروا کیے۔ خود کو خود داد دیجیے۔ اپنی موٹیویشن آپ بنیے۔ اپنی حوصلہ افزائی کے لیے دوسروں کے چہرے نہ کھوجیے کیوں کہ بلاشبہ آپ سے بڑھ کر کوئی آپ کو نہیں جان سکتا۔ کوئی اس کام پر صرف ہوئی محنت نہیں جان سکتا۔ صرف آپ اپنی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں۔ صرف آپ کو آپ کی ہمت کی ضرورت ہے۔ روح کی شادمانی کے اسباب پیدا کیجیے اور اس مختصر زندگی میں مثبتیت کے در وا کیجیے!
آغاز کیجیے وقت کو اپنے حق میں مہرباں بنانے کا، خود کو ایک مثبت انسان بنانے کا، دنیا سے بے نیاز ہو جانے کا، اپنے اوقات کو بہترین انداز میں استعمال کرنے کا۔ وقت کے حق میں مہربان بنیں! وقت آپ کے لیے مہرباں ثابت ہو گا۔


