درد کی غیر موجودگی: جینیاتی تغیر کے فوائد، نقصانات اور نفسیاتی و جذباتی پہلو


ایک دلچسپ اور نادر طبی اور جینیاتی کیفیت جہاں کسی فرد کو درد محسوس نہیں ہوتا، جسے ”کانجینیٹل انسینسٹیوٹو پین“ (Congenital Insensitivity to Pain) یا ”کانجینیٹل اینالجزیا“ کہا جاتا ہے، انسانی جسمانیات اور جینیات کے میدان میں ایک منفرد معمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف فرد کی جسمانی حساسیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نفسیاتی، سماجی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ درج ذیل طبی، سائنسی، اور نفسیاتی تجزیوں کے ذریعے اس کیفیت کے فوائد، نقصانات، اور اس کے انسانی تجربے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے، جو کہ مستقبل میں طبی تحقیق اور جینیاتی ماڈیفکیشن کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔

اس کیفیت کے حامل افراد عام طور پر جسمانی تکلیف کے احساس سے محروم رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عام انسانی تجربات سے مختلف زندگی گزارتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2006 میں شائع ہونے والی تحقیق میں ڈاکٹر جیمز کا کس نے یہ بتایا کہ SCN 9 A جین میں موجود تغیرات اس کیفیت کا سبب بن سکتے ہیں، جو درد کے سگنلز کو دماغ تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ یہ افراد زخم اور جلن جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں لیکن انہیں محسوس نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان کے جسمانی نقصان کا علم نہیں ہو پاتا۔

درد انسان کے لیے ایک انتباہی نظام کے طور پر کام کرتا ہے، جو جسم کے اندرونی یا بیرونی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے افراد چھپے ہوئے زخم یا اندرونی چوٹ کا پتہ نہیں لگا پاتے، جس سے انفیکشن یا مزید پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ درد نہ ہونے کی وجہ سے ایسے افراد لاشعوری طور پر خطرناک سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ مستقبل میں ایسی جینیاتی تغیرات کو مصنوعی طور پر پیدا کرنا پیچیدہ ہو سکتا ہے اور اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انسانی جسم کی مکمل فزیالوجی جینیاتی ماڈیفکیشن کے بعد کس طرح جواب دے گی، یہ ایک غیر یقینی عمل ہے۔

اردو ادب میں درد ایک مرکزی موضوع رہا ہے جس نے ادباء کو انسانی حالات کی گہرائیوں میں اترنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ غالب کے درد بھری شاعری سے لے کر قرۃ العین حیدر کی گہرائیوں سے بھرپور نثر تک، درد خود شناسی، سماجی تنقید اور فنّی اظہار کا باعث بنا ہے۔ اردو ادب میں درد کا سب سے نمایاں پہلو محبت اور جدائی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ میر تقی میر اور غالب جیسے شعراء نے ناکام محبت، سماجی پابندیاں اور جدائی کے کرب کو بڑے دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری آج بھی قارئین کے دلوں کو چھو جاتی ہے کیونکہ وہ انسانی جذبات کی گہرائیوں میں اتر کر محبت اور نقصان کی پیچیدگیوں کو بڑی بھرپور انداز میں بیان کرتی ہے۔ غالباً سب سے معروف مثال غالب کی شاعری ہے۔ غالب نے اپنے اشعار میں دکھ کے کئی پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ ایک مثال ان کی مشہور غزل ”دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت“ ہے، جس میں انہوں نے دل کے دکھ اور مشکلات کو بیان کیا ہے۔ غالب کی شاعری میں درد اور غم کی گہری عکاسی موجود ہے۔ ان کے اشعار میں انسانی جذبات کی گہرائی اور ان کی پیچیدگی کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح، میر تقی میر کی شاعری بھی درد اور غم کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں دکھ اور غم کے پہلو کو ایک گہرے اور فلسفیانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کی غزل ”پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے“ میں انسانی جذبات اور دکھ کی عکاسی کی گئی ہے۔

ذاتی الم سے آگے بڑھ کر درد نے سماجی نا انصافیوں اور پسماندہ طبقوں کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ پریم چند اور سعادت حسن منٹو جیسے ادیبوں نے غربت، ظلم اور جبر کے اثرات کو بڑے دردناک انداز میں پیش کر کے انسانی کرب کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے کام سماجی حاشیوں پر زندگی گزارنے والوں کے صبر اور برداشت کی یاد دہانی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، درد نے وجودی اضطراب اور زندگی میں معنی کی تلاش کی جستجو میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جون ایلیا اور احمد ندیم قاسمی جیسے ادیبوں نے وجود کی بے معنیت اور زندگی کی ناپائیداری پر سوچ سمجھ کر، اکثر ملول اشعار اور گہرائیوں سے بھرپور نثر کے ذریعے اپنے کرب کا اظہار کیا۔ ممتاز مفتی کا ناول ”علی پور کا ایلی“ میں دکھ اور درد کی نمائندگی ایک نوجوان لڑکے کی زندگی کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس ناول میں دکھ اور غم کی داستان نے قارئین کو جذباتی طور پر متاثر کیا ہے۔ اسی طرح، درد کی عدم حساسیت یا اس کے عدم موجودگی کو بھی اردو ادب میں موضوع بنایا گیا ہے۔ ابن صفی کے جاسوسی ناولز میں جاسوس کرداروں کی عدم حساسیت اور جسمانی و ذہنی برداشت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان ناولز میں دکھ اور درد کی عدم موجودگی نے کرداروں کی مضبوطی اور طاقت کو پیش کیا ہے۔ درد اور دکھ کی عدم حساسیت کا ایک اور پہلو ڈاکٹر مبارک علی کی تحقیقی کتب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی کتاب ”تاریخ اور قومیں“ میں انہوں نے قومی اور تاریخی پس منظر میں دکھ اور درد کی عدم حساسیت کو بیان کیا ہے۔ ادبی اہمیت کے علاوہ، درد اردو فکری گفتگو میں بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ علامہ اقبال جیسے فلسفیوں اور مفکروں نے مختلف زاویوں سے درد کے تصور کا تجزیہ کیا ہے، اور اس کے ذاتی ترقی، روحانی ارتقاء اور سماجی تبدیلی میں کردار کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم، درد کی گہری تحقیق کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں درد کے احساس کی بے حسی کے تصور سے بھی نمٹا جاتا ہے۔ ادیبوں نے اکثر سماج میں موجود بے حسی اور بے التفاتی کی مذمت کی ہے، اور دوسروں کے دکھوں سے آنکھیں بند کرنے کے انسانی رجحان کو اجاگر کیا ہے۔ یہ تنقید ایک عمل کی دعوت ہے، جو قارئین کو دنیا کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے اور زیادہ ہمدردانہ اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ درد اور درد کے احساس کی بے حسی نے اردو ادب اور فکری گفتگو کو تشکیل دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ درد کے اپنے طاقتور اظہار اور سماجی بے حسی کی اپنی تنقید کے ذریعے، اردو ادیبوں نے نہ صرف انسانی حالات کی گہری سمجھ فراہم کی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو زندگی کی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہمدردی اور لچک کے ساتھ متاثر بھی کیا ہے۔

نفسیاتی پہلو سے، درد انسانی تجربے کا ایک لازمی حصہ ہے جو جذباتی ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔ درد کی غیر موجودگی بعض اوقات افراد کو دوسروں کے درد کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر ملنڈا اسمتھ ( 2017 ) کے مطابق، یہ کیفیت جذباتی روابط اور سماجی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ درد کی غیر موجودگی کی کیفیت میں درد نہ محسوس کرنے کی خصوصیت مریض کو کئی ذہنی اور جسمانی پریشانیوں سے بچاتی ہے۔ ایسے افراد عام طور پر ذہنی سکون میں رہتے ہیں اور درد یا تکلیف کے خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔ جب زخم جلدی بھر جاتے ہیں تو یہ جینیاتی تغیر جسمانی شفایابی کی ایک منفرد صلاحیت کا مظہر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی سکون اور خوشی جو کہ شخصیت کے مسلسل خوشگوار اور مثبت رہنے کی عکاس ہے۔ ان میں پریشانی یا غصے کے ہارمونز کی پیداوار محدود ہو سکتی ہے، جو ان کے خوش مزاج ہونے کی وضاحت کرتی ہے۔

درد کا نہ ہونا بظاہر ایک مثبت پہلو لگتا ہے، لیکن اس کی نفسیاتی اور جذباتی اثرات کئی چیلنجز اور مواقع کو نمایاں کرتے ہیں۔ درد نہ ہونے کی وجہ سے فرد کے اندر خطرے کی شناخت کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ جسمانی نقصان یا چوٹ کو نظر انداز کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ نفسیاتی طور پر، یہ افراد عموماً لاپرواہی کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں درد کے ذریعے اپنی حدود کا اندازہ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف درد اور خوشی انسانی تجربات کے دو بنیادی ستون ہیں۔ درد محسوس نہ کر سکنے والے افراد کے لیے جذبات کا تجربہ محدود ہو سکتا ہے کیونکہ وہ جسمانی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے۔ نفسیاتی نقطہ نظر سے، درد کا احساس انسان کو دوسروں کے جذبات اور تکالیف کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ جو درد محسوس نہیں کرتے، ممکن ہے کہ دوسروں کے دکھ یا تکلیف کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں۔ یہ نفسیاتی سکون ان کی زندگی کو خوشگوار بناتا ہے، لیکن یہ انہیں حقیقی دنیا کے چیلنجز سے دور بھی رکھ سکتا ہے۔ درد کے بغیر زندگی گزارنے والے افراد میں ایک منفرد قسم کا ذہنی تحفظ پایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں جسمانی نقصان کا خوف نہیں ہوتا۔ تاہم، یہ نفسیاتی طور پر ان کی خود حفاظتی فطرت کو کمزور کر سکتا ہے۔

نفسیاتی اور جذباتی پہلو سے دیکھا جائے تو درد کا نہ ہونا انسانی تجربے کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ اگرچہ یہ افراد ذہنی سکون اور خوش مزاجی کی زندگی گزارتے ہیں، لیکن ان کی جذباتی گہرائی اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، ایسے افراد کے لیے مخصوص تربیت اور شعور کی آگاہی ان کی زندگی کو مزید متوازن اور مکمل بنا سکتی ہے۔ ایملی فریڈمین اور ڈاکٹر جیمز کاکس جیسے ماہرین نے جینیاتی تغیرات پر تحقیق کی ہے، جنہوں نے اس کیفیت کو جینیاتی میوٹیشن کے نتائج کے طور پر بیان کیا ہے۔ جدید نینو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مستقبل میں ایسے نینو روبوٹس تیار کیے جا سکتے ہیں جو جسم میں کسی بھی زخم یا انفیکشن کا پتہ لگا سکیں۔ لیکن یہ ایک پیچیدہ عمل ہو گا، کیونکہ انسانی جینز میں مداخلت کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani