انور پیرزادو: مقدور ہو تو خاک سوں پوچھوں۔۔۔


مہناز رحمان صاحبہ کی انور پیرزادو پر لکھی ہوئی خوبصورت تحریر نظر نواز ہوئی۔ ان کا بہت شکریہ۔

انور پیرزادو (یاد رہے انور اپنا آخری نام پیرزادہ کے بجائے سندھی روایت کی پیروی میں پیرزادو لکھنا پسند کرتے تھے ) اپنی شخصی وجاہت، اصول پسندی اور علمیت کی بنیاد پر بجا طور پر صرف سندھ ہی نہیں پاکستان کی قد آور شخصیات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ وہ ان شخصیات میں سے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پسند کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ مہناز رحمان صاحبہ نے بہت خوب لکھا ہے، مگر میرے خیال میں انور کا تعارف درج ذیل واقعہ کو جانے بغیر نہیں ہو سکتا۔

1970 کے رستا خیز میں جب مشرقی محاذ پر محافظ اور رعایا میں جاری جنگ میں رعایا کی گردنیں ارزاں اور عزتیں پامال ہو رہی تھیں، انور پاک فضائیہ میں پائلٹ افسر تھے۔ انہوں نے، کہ طاقتور کی طرف سے کھیلی جانے والی اس کشت و خون کی ہولی پر خاموش رہنا انور کی فطرت کے خلاف تھا، اپنے دوست کو، جو خود سندھ کی ایک جامعہ میں استاد تھے، کرب بھرا خط لکھا جس میں اس خونِ ناحق پر شدید غم و غصے اور اپنی بے بسی کا اظہار کیا گیا تھا۔

جنگ کے دن تھے، خط پکڑا گیا۔ انور کا کورٹ مارشل ہوا۔ انہیں سات سال کی سزا سنائی گئی اور جب بالآخر قفس سے رہائی ملی تو ظاہر ہے ان پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند ہوچکے تھے۔ جو اماں ملی تو ایک سندھی اخبار ’ہلالِ پاکستان‘ میں ملی۔ انور کے ساتھ تو خیر جو ہوا سو ہوا، ان کے دوست، یونیورسٹی کے استاد جنہیں خط لکھا گیا تھا، وہ ایسے غائب ہوئے کہ پھر ان کا سراغ نہ مل سکا۔ نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔

مجھے ان سے بالمشافہ ملاقات کا شرف سن 2001 کی جولائی میں تب ہوا جب وہ رسول بخش پلیجو، نور الدین سرکی اور متعدد اور زعما کے ساتھ سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا (سانا) کے سالانہ کنوینشن میں شرکت کے لیے تشریف لائے اور بحیثیت سانا کے جنرل سیکریٹری، مجھے انہیں شکاگو میں خوش آمدید کہنے کا موقع نصیب ہوا۔

انور نے بے تحاشا لکھا، افسانے، ناول، انشائیے، سفرنامے اور خاص طور پر شاعری۔ ضیا مارشل کے سیاہ دور میں جب سندھ میں مارشل لائی ظلم و استبداد کا بازار گرم تھا، انور کی تحریریں، خاص طور پر شاعری، مزاحمت کا استعارہ بن کر ابھریں۔

انور کی شاعری کا ایک خوبصورت نمونہ، ’اے چاند بھٹائی سے کہنا۔ ‘ پیش خدمت ہے۔ ترجمہ اس نظم کا مشتاق علی شان کیا ہے :

اے چاند بھٹائی سے کہنا!
جس رات میں تو نے شعر کہے
وہ رات ابھی تک جاری ہے
سورج کی تمازت ہے ویسی
صحرا میں سفر وہ جاری ہے
میں کس سے اپنا درد کہوں؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
یہ رات ہے خوں آنسو روئی
تاروں نے درد پیا گھولے
وہ سانجھ سسکتی روئے ہے
سولی پر گیت ہیں آویزاں
تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
میں نے تیرے راگوں کے سُر میں
ہلکی سی دُھن بجائی ہے
ہر شخص نے پتھر برسائے
گھر گھر میں گویا سولی ہے
کرنوں کی کروں اک چیخ بلند
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
تیرے دان سے میں نے آج ذرا
چاہت کی اک چسکی ہے بھری
بیراگ جدل سے میں نے لیا
ہر شخص کو اپنا ویر کیا
تیری ”وائی“ بن کر خوب لڑا
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
ہر شخص ترے اشعار یہاں
دھرتی سے جدا کر دیتا ہے
تری ”وائی، وائی“ سر نوچے
ترے سارے سُر ہیں اشک فشاں
فریاد یہ ساری کر دینا
اے چاند بھٹائی سے کہنا!
اے چاند بھٹائی سے کہنا
کسی ظلم کی ہے سب بدنظمی
تجھے لوگ کہیں سب شاہ یہاں
اور تیرے راگ رسالے کو
آیات سمجھ کر سر ہیں دھنیں
تُو دور گیا جانے کتنا؟
اے چاند بھٹائی سے کہنا!

Facebook Comments HS