اپنے بچوں پہ احسان کیجیے: انہیں ڈاکٹر مت بنائیے


پچھلے پچاس ساٹھ دن میں سات آٹھ نوجوان ڈاکٹرز ہارٹ اٹیک ہونے سے وفات پا گئے ہیں۔ ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ سب نوجوان ڈاکٹرز تھے۔ نوجوانی میں دل کا دورہ پڑنے کے واقعات بہت کم واقع ہوتے ہیں لیکن اگر ایک ہی شعبے کے نوجوانوں کے ساتھ مسلسل ایسا ہو رہا ہے تو یہ کوئی اتفاق نہیں۔ میڈیکل کی پڑھائی، اس کے بعد کی جاب اور پھر ہمارے وطن عزیز میں میڈیکل پروفیشن کا نظام اتنا زیادہ سٹریس دیتا ہے، اتنا پریشان کرتا ہے کہ اس بوجھ تلے دل کا دورہ پڑنا عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

ہمارے یہاں کے لوگ اتنے غیر حقیقت پسندانہ رویے کی امید رکھتے ہیں کہ نوجوان ڈاکٹرز ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش میں قبر میں جا اترتے ہیں۔ گھر والے چاہتے ہیں کہ ڈاکٹرز جاب شروع کرتے ہی پیسوں کی لائن لگا دیں۔ عوام چاہتے ہیں ڈاکٹر فرشتے بن جائیں، کسی قسم کا کوئی پیسہ نہ لیں۔ سینئرز چاہتے ہیں کہ ڈاکٹرز چھتیس گھنٹے بغیر آرام کیے، بغیر کچھ کھائے پیے ڈیوٹی کرتے رہیں اور کسی بات پہ شکایت بھی نہ کریں۔ جب کہ جونیئر ڈاکٹرز کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کے لیے بھرپور نیند ایک عیاشی بن چکی ہوتی ہے جو بہت مشکل سے میسر آتی ہے۔

اور حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد ، کئی سالوں کے رت جگے کے بعد انھیں پچاس ساٹھ ہزار ماہانہ کی جاب ملنا مشکل ہو جاتی ہے۔ وہ بیچارے دن میں مختلف ہسپتالوں میں دو دو تین تین جابز کر کے ضرورت کے پیسے کمانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں اور اس سب کے ساتھ ساتھ مزید پڑھائی کی فکر کھائے جا رہی ہوتی ہے۔ اب سپیشلائزیشن کے پیپر دینے ہیں، اور ان انتہائی مشکل پیپرز کی سختی کو ایسے سمجھیں کہ دو پیپرز دینے ہیں اور دونوں میں پچھتر فیصد سے زائد نمبر لینے ہیں۔ کسی ایک میں بھی ذرا کم ہوئے تو دونوں پیپر فیل اور دونوں دوبارہ سے دینے ہوں گے۔ یہ پیپر ہو جائیں گے تو اس سے اگلے پیپرز کی تیاری شروع ہو جائے گی اور پھر ان سے اگلے پیپرز کی اور یہ سلسلہ چلتا ہی جائے گا۔

کیا آپ احساس کر سکتے ہیں کہ جب ڈاکٹر کے ہاتھوں میں کوئی مریض مرتا ہے تو وہ اس پہ کیسی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ ڈاکٹرز انسان ہوتے ہیں، احساسات سے بھرے عام سے انسان۔ ان کے لیے کسی کی موت دیکھنا کیسے آسان ہو سکتا ہے؟ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ مرتے ہوؤں کو بچانے کی کوشش بھی وہی کر سکتے ہیں۔ روتے کرلاتے مریضوں کو، مسلسل تکلیف میں ڈوبے لوگوں کو دیکھ دیکھ کر کیا ان عام سے انسانوں کی ذہنی حالت بالکل ٹھیک رہ سکتی ہے؟ ان نوجوان ڈاکٹرز کی حسیات متاثر ہو رہی ہوتی ہیں، دھیرے دھیرے مسلسل متاثر ہو رہی ہوتی ہیں۔ ہر مریض ان کی روح پہ اپنے نشان چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے۔ شدید مصروفیت میں شاید انھیں خود بھی یہ سب سمجھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن یہ سب روح میں گھر کرتا رہتا ہے۔ انھیں اندر ہی اندر زخمی کرتا رہتا ہے۔ سٹریس بڑھتا جاتا ہے، جاب کا، مستقبل کا، گھر والوں کی امیدوں کا، عوام کے رویے کا، اگلے امتحانات کا، اگلے سے اگلے امتحانات کا۔

آپ نہیں جانتے کہ ہسپتالوں کے اندر کیا ہو رہا ہے، آپ نہیں جانتے کہ ڈاکٹرز پہ کیا گزر رہی ہے تو ایک دفعہ کتاب ”مٹھی بھر مسیحائی“ پڑھ لیجیے۔ آپ کسی حد تک جان جائیں گے کہ ان بیچاروں پہ گزر کیا رہی ہوتی ہے۔ یہ نوجوانی میں دل کا دورہ پڑنے سے کیوں مر رہے ہیں۔

اپنے بچوں پہ ایک احسان کیجیے گا، انھیں ڈاکٹر مت بنائیے گا۔ اور اگر ان باتوں پہ یقین نہیں تو انھیں ڈاکٹر بنا کر یہ سب خود دیکھ لیجیے گا۔

Facebook Comments HS