محمد فاروق بمبے والا (آخری قسط)
رفیع صاحب کے خاندان سے پرانا تعلق
” رفیع صاحب کے باپ دادا نے گانا نہیں گایا تھا تاہم میرا تعلق محمد رفیع سے زیادہ تھا۔ جب میں رفیع صاحب کے بارے میں کوئی بات کہتا تھا تو اُن کے چھوٹے بھائی صدیق کہتے فاروق ٹھیک کہہ رہا ہے۔ رفیع صاحب 6 بھائی تھے۔ سب سے بڑے حاجی محمد شفیع، پھر ابراہیم صاحب ان کے بعد دین محمد صاحب پھر اسماعیل صاحب، اس کے بعد رفیع صاحب پھر سب سے چھوٹے محمد صدیق۔ ہمارا ان کے خاندان سے 1920 سے تعلق ہے۔ ان کے والد حاجی علی محمد صاحب پکوائی کے ماسٹر تھے۔ میرے چچا امین کی 1940 میں شادی ہوئی۔ ایک دفعہ میں نے رفیع صاحب کے والد سے پوچھا کہ حاجی صاحب! ذرا یہ بتائیں کہ چچا امین کی شادی پر کون کون تھا؟ کہنے لگے کہ میں تھا۔ میرے ساتھ شفیع تھا ابراہیم تھا۔ میں نے پوچھا کہ لڑکوں میں کون تھا؟ کہنے لگے کہ رفیع تھا۔
رفیع صاحب شریف انسان تھے۔ انہیں پتا نہیں تھا کہ وہ ایک دن محمد رفیع بن جائیں گے۔ رفیع صاحب اپنی والدہ کے فوت ہونے پر 1948 میں لاہور آئے۔ فلم ’میلہ‘ ( 1948 ) کا گانا ’یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے‘ اُن کی ماں نے سُن لیا تھا۔ رفیع صاحب کے والد 1961 میں فوت ہوئے۔
ظہیر نے عبدالحمید کی جگہ لی
” بمبئی میں قیام کے دوران جب میں رفیع صاحب کے گھر سے واپس جاتا تو وہ اپنے سالے سے کہتے ظہیر! (جو بعد میں اُن کا سیکریٹری اور معاون بنا) فاروق بھائی کے لئے ٹیکسی لاؤ“ ۔
” رفیع صاحب کو لاہور سے بمبئی لانے والا عبدالحمید کیا ہوا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
”عبدالحمید تو بے چارا بمبئی سے بنگلور چلا گیا تھا۔ اس نے وہاں جا کے لوہے کا کام شروع کر دیا اور بعد میں وہ کینیڈا نقلِ مکانی کر گیا۔ رفیع صاحب کی بیوی بِلقیس نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اب رفیع صاحب کے ساتھ ہر جگہ ظہیر جایا کرے گا۔ عبدالحمید کی بیوی اور رفیع صاحب کی بیوی بِلقیس آپس میں فرسٹ کزن تھیں! “ ۔
بمبئی فلمی دنیا کی پارٹی بازی
ایک سوال کے جواب میں فاروق بمبے والا صاحب نے بتایا، ”فلمی گیتوں سے دوری کی کہانی یوں ہے کہ بمبئی کے فلمی حلقوں میں پارٹی بازی چل رہی تھی۔ کئی لوگ اس پارٹی بازی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ اب جیسے میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں! دلیپ صاحب اور شیاما (خورشید) جیسے اچھے لوگ بھی تھے جنہوں نے بمبئی فلمی دنیا میں میری جگہ بنانے میں کوشش کی“ ۔
لتا اور سمن کلیان پور
” بمبئی کی فلمی دنیا میں پارٹی بازی کی نذر ہونے والی پلے بیک سنگر سمن کلیان پور (پیدائش 28 جنوری 1937 ) نے لتا منگیشکر کو کھا جانا تھا۔ لتا نے اس وقت کے میوزک ڈائریکٹروں سے کہا تھا کہ اگر آپ نے سمن سے گانا لیا تو میں اُس فلم میں نہیں گاؤں گی۔ سمن کلیان پور نے میرے ساتھ محبوب اسٹوڈیوز میں دو عدد دوگانے ریکارڈ کرائے۔ ایک گانے میں، رفیع صاحب کی طرح میں بھی تیسری سبتک تک آواز لے گیا۔ رفیع اور میں دونوں ٹِکا کے تیسری سبتک تک جاتے تھے“ ۔
” او پی نیر ابھی بمبئی فلمی دنیا میں لاہور سے نیا آیا تھا۔ دوسروں کے ساتھ لتا کو بھی لوگوں نے اِن کے بارے میں بتایا کہ یہ نیا میوزک ڈائریکٹر ہے۔ وہ دو تین دفعہ نیر صاحب کے پاس سے گزریں لیکن کوئی ہیلو ہائے نہیں کیا۔ او پی نیر نے بھی طے کر لیا کہ میں اگر یہاں کچھ بنا تو کبھی بھی لتا سے ایک پیسے کا کام نہیں لوں گا“ ۔
موسیقار مدن موہن
” میٹھی دھنیں بنانے والے موسیقار مدن موہن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” آپ نے مدن موہن کے بارے میں بڑا اچھا سوال کیا ہے۔ یہ لالہ چُنی لال بہادر صاحب کے بیٹے تھے جو چکوال کے رہنے والے تھے۔ اِن کو بھی گانے کا شوق تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ موسیقار خیّام نے غزلوں کی بڑی اچھی دھنیں بنائیں لیکن مدن موہن کی غزلیں اپنی مثال آپ ہیں۔ مدن موہن کا ارینجر، ماسٹر سونک تھا ( ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور یہ نابینا تھے ) ۔ موسیقارہ اوشا کھنّہ کا بھی ارینجر، ماسٹر سونک ہی تھا۔ موسیقارہ اوشا کھنّہ میرے دوست منوہر کھنّہ کی بیٹی تھی“ ۔
محمد فاروق بمبے والا کا انتقال
ابھی یہ انٹرویو پروفِنگ کے مرحلے میں تھا کہ اطّلاع موصول ہوئی کہ ہمارے محترم محمد فاروق بمبے والا اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
محمد فاروق بمبے والے صاحب نے چھوٹی عمر میں بڑا نام پیدا کیا۔ فیض احمد فیضؔ دیکھے، استاد بڑے غلام علی خان جیسی شخصیت کہہ رہی ہے کہ اِس سے بڑا سنگر نہیں ہو گا! استاد برکت علی خان جیسا سنگر کوئی نہیں۔ وہ بمبے والا کے چچا کو کہہ رہے ہیں کہ فاروق جیسی آواز مجھے سننے کو نہیں ملی۔ موسیقاروں میں انیل بسواس ہوں، شنکر ہوں، جے کشن ہوں، سجّاد حسین ہوں، اور نہ جانے کن کن موسیقی کی شخصیات نے اُن کی آواز کی تعریف کی لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر وہ بمبئی کی فلمی دنیا میں آگے کیوں نہ بڑھ سکے۔ پھر یہ کہ انہوں نے بمبئی سے واپس لاہور آ کر اپنی زندگی کیوں تباہ کر لی؟ محمد فاروق بمبے والا پاکستان نہ آتے تو اس بات کا روشن امکان تھا کہ بمبئی میں ٹاپ پر پہنچتے۔
شان فاروق
اس بات چیت کے لئے دو مرتبہ جناب فاروق بمبے والا صاحب کے ہاں جانا ہوا۔ وہاں ان کے چھوٹے صاحب زادے شان فاروق سے ملاقات ہوئی۔ شان کو موسیقی کا شوق ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اُس نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گانے اور موسیقی کے باقاعدہ اسرار و رموز سیکھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کو تال میں پورے ہونے کے ساتھ خداوند کی جانب سے دو اور عطیات ملے ہیں : ایک اچھی آواز اور دوسرے یہ کہ تیسرے سبتک تک آرام سے جانا اور آنا۔
جیسا کہ آج کل نوجوان ”کیریوکی“ پر فن کا مظاہرہ کرتے ہیں ویسا شان بھی کرتا ہے اور رفیع صاحب کے اونچے سروں والے گیت بخوبی گاتا ہے۔ پھر اس میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ لائیو میوزک پر بھی ویسا ہی اچھا گاتا ہے۔ مزید حیران کُن بات شان میں یہ دیکھی کہ اسے جب ایک نئی غزل، نئی دھن پر گانے کو دی گئی تو اس نے ریکارڈ کم وقت میں جیسا کہ طرز بنانے والے نے طرز بنائی اس نے ویسے ہی گا دی۔ یہ ہی تو اصل فن ہوتا ہے۔ شاباش شان! امید ہے کہ اگر اس نے یوں ہی محنت جاری رکھی تو جو مقام اس کے والد حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ شان کے ساتھ شان کے حصے میں آ سکتا ہے۔




