پیش بینی ہزار نعمت ہے


گزشتہ کالم کی اشاعت پر میرے ایک دوست نے فون کیا کہ آپ حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال کرنے کے بجائے ہمیں پرانے قصّے سناتے اور تاریخ کے دھندلکوں کی طرف دھکیلتے رہتے ہیں۔ مَیں نے جواب میں کہا کہ آج ہم جن پیچیدہ اَور لاینحل مسائل میں گِھرے ہوئے ہیں، اُن کے اسباب کا صحیح سراغ لگانے اور اُن کا معقول حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں اپنا ماضی کھنگالنا ہو گا۔ وہ اَقوام جو آج بہت زیادہ ترقی یافتہ دکھائی دیتی ہیں، ایک زمانے میں ہم سے بھی کہیں زیادہ پس ماندہ تھیں۔ سینکڑوں سال کے تجربات کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ ہم علم اور تحقیق کے ذریعے بدحالی سے نکلنے کے ساتھ ساتھ نئے امکانات بھی دریافت کر سکتی ہیں، چنانچہ اُنہوں نے اعلیٰ معیار کے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں اور تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کرنے والے محققین کو اَپنے سر آنکھوں پر بٹھایا، اُنہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کیں اور اُن کی سفارشات کو غیرمعمولی اہمیت دی۔ اِس قابلِ رشک بندوبست سے جہالت کے اندھیرے چھٹتے گئے اور دَریافت اور اِیجادات کے اُجالے پھیلتے گئے۔ آج امریکہ جو دُنیا کی واحد سپرپاور ہے، صرف چھ سات صدیوں پہلے برطانوی نوآبادیات کا حصّہ اور پس ماندگی کا بڑا ہولناک نمونہ تھا۔ اِسی طرح جب مسلمانوں نے اسپین میں علم و معرفت کے مراکز قائم کیے، تو یورپ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔

اِن تاریخی حقائق سے یہ عقدہ کھلتا ہے کہ اِنتہائی پس ماندہ ملک بھی عالمی برادری میں ایک باعزت مقام پا سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اُس ملک یا خِطے کے باشندے ایک ایسا نظام وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اِنسانی وسائل کو جدید خطوط پر بروئے کار لانے اور دَولت کی منصفانہ تقسیم کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اِس کے علاوہ اُنہیں وقت کے صحیح استعمال کا پورا شعور بھی حاصل ہو۔ اُن کے اندر اَفکارِ تازہ کو پوری اہمیت دینے کی امنگ پائی جاتی ہو۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب با اختیار طبقے معیاری تعلیم کے فروغ کو اَپنی اوّلین ذمے داری سمجھیں اور ملک میں اچھی یونیورسٹیوں کا ایک جال بچھا دیں جن میں طلبہ اور طالبات اپنی تاریخ اور جدید علوم سے مالامال ہو کر قائدانہ کردار اَدا کریں۔ قائدانہ کردار اَدا کرنے کے لیے اُن چیلنجوں کا سائنسی انداز میں پوسٹ مارٹم کرنا ہو گا جو ایک متوازن اور آسودہ زِندگی بسر کرنے میں حائل چلے آ رہے ہیں۔

آج ہمیں خیبر پختونخوا اَور بلوچستان میں بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے جس کی ہلاکت آفرینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں علاقے پاکستان کے قیام کے وقت ہی سے شورش زدہ چلے آ رہے ہیں۔ ہم اِس انتہائی تشویش ناک صورتِ حال کے اسباب تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جلد سے جلد ایک تسلی بخش حل تلاش کر سکیں اور ماضی کی غلطیاں دہرانے سے باز رہیں۔ صوبہ سرحد جس کا نام آج کل خیبر پختونخوا ہے، 1947 ء میں اِس کی سیاسی صورتِ حال بڑی پیچیدہ تھی اور ہندوستان کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہونے کی اہلیت رکھتی تھی۔ اِس کی مسلم آبادی نوے فی صد سے زائد تھی، مگر 1937 ء سے حکومت اُس جماعت کی قائم تھی جو پوری طرح کانگریس کے زیرِاثر تھی اور حالات ثابت کر رہے تھے کہ اِس کا ایجنڈا ہندوستان میں ہندو رَاج قائم کرنا ہے۔ وہ اَنگریزوں سے سازباز کر کے مسلمانوں کا وجود ختم کر دینا چاہتی تھی۔ مختلف عوامل کی بنا پر آل انڈیا مسلم لیگ اِس صوبے میں عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر سکی۔

گاندھی جی کے عدم تشدد کے سیاسی فلسفے ’اہنسا‘ اور اُن کی کھدر پوشی سے متاثر ہو کر خان عبدالغفار خاں نے 1929 ء میں خدائی خدمت گار تنظیم قائم کی۔ وہ باچا خاں اور سرحدی گاندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔ اُنہوں نے اپنی سوانح عمری انگریزی میں لکھی ہے۔ اُس میں تحریر کیا ہے کہ اُنہوں نے قرآن حکیم ترجمے سے پڑھا اور اَعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ کالج اور دَارالعلوم دیوبند بھی گئے اور عبدالحلیم شررؔ کے ناول سے اُن کے اندر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا تھا۔ اُنہوں نے تحریکِ خلافت میں بھی حصّہ لیا تھا، مگر سیاست میں وہ کانگریس کے چیلے تھے۔ 1937 ء کے انتخابات میں خدائی خدمت گار نے حکومت بنائی جس کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب، باچا خاں کے بڑے بھائی تھے۔ دس برسوں بعد حالات بہت پلٹا کھا چکے تھے اور گاندھی جی نے قیامِ پاکستان کا منصوبہ تسلیم کر لیا تھا۔ اِس پر باچا خاں دہلی گئے اور مولانا ابوالکلام آزاد کے بقول کانگریس سے بے وفائی کی شکایت کرتے ہوئے بار بار کہتے رہے کہ تم نے ہمیں بھیڑیوں کے آگے پھینک دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جس حقیقت کا مہاتما گاندھی کو بھرپور اِحساس ہو گیا تھا، اُسے ’سرحدی گاندھی‘ کیوں نہیں سمجھ پائے اور پاکستان کے خلاف شدید ردِعمل ظاہر کرتے رہے۔

فروری 1946 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ خان عبدالقیوم خاں جو 1937 ء کے انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے، وہ حالات میں جوہری تبدیلی کو بھانپتے ہوئے 1946 ء میں مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور اَسمبلی کی نشست جیت لینے میں کامیاب رہے، مگر حکومت ڈاکٹر خان صاحب ہی نے بنائی۔ جولائی 1947 ء کے ریفرنڈم میں لاکھوں کی تعداد میں ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ عوام نے کانگریس کو مسترد کر دیا ہے۔ حقیقت پسندی کا تقاضا یہی تھا کہ ریفرنڈم کے بعد ڈاکٹر خان صاحب مستعفی ہو جاتے، مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ 14 ؍اگست کی رات پاکستان وجود میں آ گیا اور 15 ؍اگست کی صبح یومِ آزادی منایا جانا تھا جس میں وزیرِ اعلیٰ نے پاکستان کا پرچم لہرانا اور اُسے سلامی پیش کرنا تھا، لیکن ڈاکٹر خان صاحب اور اُن کی جماعت اُس تقریب میں شریک نہیں ہوئے، چنانچہ قدرتی طور پر اِسے پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف سمجھا گیا اور گورنر جنرل قائدِاعظم محمد علی جناح کے احکام پر خدائی خدمت گار کی حکومت برطرف کر دی گئی اور خان عبدالقیوم خاں وزیرِ اعلیٰ منتخب کر لیے گئے۔ ہم آگے چل کر یہ بتائیں گے کہ جس طرح باچا خاں پیش بینی سے کام نہیں لے سکے تھے، اِسی طرح خان عبدالقیوم خاں بھی مستقبل بینی کا ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ اِس طرح ایک ایسا گہرا زخم لگا جو اَب سرطان کی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS