ٹرمپ کارڈ چل گیا
20 جنوری 2025 کو امریکہ کے 47 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کی بحیثیتِ صدر یہ دوسری مدت ہے۔ اپنی اس افتتاحی تقریب میں وہ بار بار یہ باور کراتے رہے کہ ”امریکہ کا سنہری دور اب شروع ہو رہا ہے“ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ”میں امریکہ میں ریڈیکل اور کرپٹ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایکشن لوں گا“ ۔ امیگریشن اور سرحدوں کے راستوں کی سیکیورٹی بڑھانے کی بات بھی کی۔ انہوں نے جنوبی سرحد پر فوری طور پر قوی ہنگامی حالت کا اعلان کیا تاکہ غیر قانونی امیگریشن پر پابندیاں عائد کی جا سکیں۔ میکسیکو کے وہ تمام گروہ جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں انہیں غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔ اس کے علاوہ ”ایکسٹرنل ریونیو سروس“ کے نام سے ایک نیا نظام متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا جس کے ذریعے درآمدات پر نئے محصولات عائد کیے۔ تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے ”قومی توانائی ایمرجنسی“ بھی لگانے کا فیصلہ کیا۔ امریکی معیشت مضبوط کرنے کے لیے توانائی کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا۔
اگر کثرت سے لوگوں کی رائے لی جائے تو شاید لوگ کہیں گے ڈونلڈ ٹرمپ فقط تہلکہ مچانے کے لیے یہ سب باتیں کر رہے ہیں۔ مگر شاید غور کریں تو بنیادی طور پر امریکہ جیسے بڑے ملک میں جسے ہم سُپر پاور کے طور پر لیتے ہیں وہاں بھی بولنے کی اور احتجاج کی آزادی سلب کی گئی۔ اگر کوئی فلسطین کے ایشو پر بات کرے تو اس کی نوکری تک خطرے میں پڑ جاتی تھی۔ وہاں کے عوام بھی جو درمیانے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ناجائز کرپٹ ٹیکسوں اور مہنگائی کی بات کرتے ہیں اور تو اور واشنگٹن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں میں نے خود سڑکوں پر بھکاری بھیک مانگتے دیکھے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ”امریکہ فرسٹ“ یعنی سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ مُکہ لہراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کا معاہدہ کیا جو 19 جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوا۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ 471 دنوں سے قید تین اسرائیلی خواتین کو حماس نے رہا کیا۔ جواب میں اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے جنگ بندی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ پیش رفت ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی اور پہلی کامیابی سمجھی جائے گی۔ جنگ بندی کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا کے کہ ٹرمپ انتظامیہ پچیدہ عالمی تنازعات اور جنگوں کے خاتمے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا متعارف کردہ ”ایجنڈا 471“ بہت سی پالیسیوں پر مشتمل ہے جن کا مقصد امریکی حکومت اور گرتے ہوئے معاشی اور معاشرتی نظام میں تبدیلیاں لانا ہے۔ امریکہ کو پیرس ماحولیاتی ایکارڈ سے نکالنے کا اعلان کیا جس کے تحت مقامی توانائی کے وسائل کو فروغ دیا جائے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے حکومتی مراعات ختم کی جائیں گی۔ ٹرمپ نے ایک اور کارڈ بھی کھیلا جس میں اس نے پانامہ کینال کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی تجویز پیش کی۔ کرپٹ اسٹیبلشمنٹ کو بے نقاب کر کے امریکی فوج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوج کے بجٹ میں اضافے کا اعلان بھی کیا۔ مزید برآں امریکی صنعتوں کو تحفظ دینے کے لیے غیر ملکی اشیاء پر اضافی ٹیکس بھی لگانے کی پالیسی بنائی۔ امریکی خلائی مشن کے تحت مریخ پر امریکی پرچم لہرانے کا اعلان بھی کیا۔ یہاں ایک اور اہم بات قابل غور ہے کہ 2008 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ایک نعرہ ”ڈِرل بے بی ڈِرل“ بہت مقبول ہوا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ امریکہ کو اپنے تیل اور گیس کی پیداوار میں زبردست اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ توانائی کے شعبے میں بھی دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے خود مختاری حاصل کر سکیں۔ اس وقت اس نعرے کو ریپبلکن نائب صدارتی امیدوار سارہ پیلین نے کنزورویٹو مشہور کیا اور یوں اس وقت یہ فقط ایک قدامت پسند ایجنڈے کا حصہ بن کر رہ گیا۔ اب 20 جنوری 2025 میں ایک بار پھر سے ٹرمپ نے اس نعرے کو اپنی توانائی کی پالیسی کا محور قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی اور ماحولیاتی بڑھتے ہوئے خطرات اور قومی سلامتی کا اٹوٹ انگ بنا کر پیش کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ زیادہ تیل اور گیس کی پیداوار سے امریکہ کو کم قیمتوں پر ایندھن دستیاب ہو گا جس سے عام شہریوں اور کاروباری حلقوں کو فائدہ ہو گا۔ یوں اس شعبے میں نئی ملازمتوں کے دروازے بھی وا ہوں گے۔ جو بائیڈن حکومت کی پابندیوں کو ختم کر کے فیڈرل زمینوں پر ڈرلنگ میں اضافہ کر دیا۔ بہر کیف ان دعووں کے نتیجے میں امریکہ ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہو گیا ہے۔
ڈیمو کریٹک رہنماؤں اور ماحولیاتی تنظیموں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو سب سے اہم اور خوب صورت کارڈ کھیلا ہے وہ یہ ہے کہ اب امریکہ میں صرف دو ہی جنسوں یعنی مرد اور عورت کو قانونی طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس نے تمام سرکاری ریکارڈز اور پالیسیوں میں ٹرانس جینڈر شناخت کو تسلیم نہ کرنے کا منصوبہ قائم کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کے لبرل حلقوں نے ٹرانس جینڈر پر قانون پاس کر دیا تھا کہ اگر کسی لڑکی کا دل چاہے کہ خود کو لڑکا بنا لے اور جس لڑکے کا دل چاہے وہ لڑکی بن کر اپنی زندگی بسر کر لے۔ امریکہ کے ایک ریستوران میں ایک لڑکی بیرے کے طور پر ہمیں سرو کر رہی تھی جس کی نرم و نازک جلد پر داڑھی اور مُونچھیں تھی مگر آواز نسوانی۔ مجھے اس کی حالت پر رحم آیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ پیدائش کے وقت جس کی جو جنس درج کی جائے گی وہ شناخت ہوگی۔ یہ نہایت خوش کُن اقدام ہے۔ تاہم اس ایجنڈے کو قدامت پسندوں کی حمایت تو حاصل ہے جبکہ شہری حقوق اور لبرل گروپوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت سے کارڈ کھیل دیے ہیں۔ لگتا ہے ٹرمپ کارڈ چل گیا کیونکہ فی الحال امریکی عوام کافی خوش ہیں۔


