ٹاک ٹاک کا استعمال اور سکڑتی ہوئی ارتکاز کی صلاحیت


اگر آپ روزانہ اپنے فون پر ٹک ٹاکس دیکھنے کے عادی ہیں تو سنبھل جائیں۔ ٹک ٹاکس کے اخلاقی اور مذہبی نقصانات کیا ہیں، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ جو ٹک ٹاک اور ریلز سکرولنک کی وجہ سے پنپ رہا ہے وہ ہے ارتکاز اور توجہ کے دورانیہ میں کمی۔ Decrease in attention span and ability to focus

اگر کوئی ہر روز ایک گھنٹہ بھی ٹک ٹاکس دیکھتا ہے تو یہ اس کے کسی نکتے پر توجہ دینے کی صلاحیت کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ بار بار کلک ہو یا نہ تھمنے والا سکرول، یہ وہ سائیکی ہے جس نے لوگوں کو اتنا بے صبرا بنا دیا ہے کہ ان کا کہیں ٹھہرنے کا من نہیں کرتا۔ نہ سکرین پر نہ اپنی زندگی کی موجودہ صورت حال پر۔ وہ ٹک کر کسی بھی سوال پر سوچ نہیں سکتے، کسی بات پر چند منٹوں سے بڑھ کر توجہ نہیں دے سکتے، ان سے سنجیدہ قسم کی گفتگو کو جاری تو کیا شروع کرنا ہی محال ہے، لیول آف فوکس زیرو۔ کیوں کہ انگلی کہیں ٹکنا بھول چکی ہے، آنکھ اور کان بھی۔ جب ظاہری حسیات میں یہ صلاحیت نہیں رہی تو کیا انہوں نے دماغ کو اپنے ساتھ سنکرونائز (Synchronize) نہیں کیا ہو گا؟

ایک بائٹ برابر کونٹینٹ، جو مثبت بھی ہو تو بغیر کسی سیاق و سباق کے، کسی وضاحت اور تفصیل کے آپ کو کسی نئی ڈگر پر ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ صرف اور صرف بے چینی، بے اطمینانی لاتا ہے۔ یہ سوچنے اور غور کرنے کی مہلت ہی نہیں دیتا کیونکہ یوزر کو اگلا کلک کرنا ہوتا ہے۔ آگے۔ اور آگے۔ اور آگے۔ پتا نہیں کہاں۔ (کیوں کہ ایلگوردم نے تھکنا نہیں ہے، آپ اس کی مچھلی ہیں، اس کے ہاتھ میں کیڑا، لیکن کانٹے کے ساتھ اور آپ اس کے پیچھے ) وہ مسلسل آپ کو مانیٹر کر رہا ہے، جس طرز کی وڈیو پر آپ ایک سے دوسری بار کلک کریں گے وہ فیڈ میں، تجاویز میں اس سے متعلقہ اور اس سے مشابہ مواد کا ڈھیر لگا دے گا۔ یہ ڈھیر اتنا بڑا ہو گا کہ آپ کو اس سے مختلف چیز تلاش کرنے میں بنا ٹھہرے طویل سکرولنک کرنا ہوگی۔ سب کو لگتا ہے یہ سولہ سترہ سیکنڈوں کی وڈیو ہے، ایک موضوع پر مبنی طویل ویڈیو دیکھنے سے اچھا ہے اتنی دیر کے اندر مختصر قسم کی پندرہ بیس ٹک ٹاکس اور ریلز دیکھ لی جائیں۔ ریلز اور ٹک ٹاکس جس کے اندر وائرل ہو جانے والا میوزک ہو گا، کچھ اداکاری ہوگی، کچھ سنسنی ہوگی اور ساتھ ایک یا چند جملے ہوں گے جن کی صحت معلوم کرنا بھی ٹک ٹاک دیکھنے والے ذہن کی اہلیت سے بلند ہدف ہے۔ اور یہی ٹک ٹاک ہے جس کے ایلگوردم کو کسی مقصد کے حصول کے لیے کسی مخصوص قسم کے مواد کو وائرل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے جھوٹ، اعداد کے ہیر پھیر پر مبنی ایسا مواد دکھا دینا، سنا دینا جو بظاہر تو سچ لگ رہا ہو لیکن اس کی تصدیق نہ ہو سکے۔ تصدیق کے مرحلے تک آنے سے پہلے وہ وائرل مواد اپنا کام دکھا چکا ہوتا ہے۔ یعنی وہ دیکھنے والے کے ذہن میں وہ خیال ڈال چکا ہوتا ہے جو اسے ڈالنا تھا۔

یہ بیس بیس تیس تیس سیکنڈز کی ٹک ٹاکس، ریلز اور شارٹس واقعتاً لوگوں کی ذہن سازی انہیں بنانے والوں کی ضرورت کی بنیاد پر کر رہی ہیں۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ حسیات سی ملی معلومات کو پروسیس ہونا ہوتا ہے اس پر منطقی اصول لگا کر اس کی صحت (ویلیڈیٹی) کو جانچا جاتا ہے تبھی ہم اس معلومات پر بھروسا کر سکتے ہیں یا اسے رد کر سکتے ہیں۔ جب یہ عمل ہی نہیں ہو گا تو حسیات سے حاصل شدہ ڈیٹا آپ کے دماغ کے ساتھ وہی کرے گا جو کرنے کے لیے اسے ترتیب دیا گیا ہے۔ لائک، شیئر، فالو می سے شروع ہونے والا کھیل آپ کے دماغ کے ساتھ کھیلنے لگ جاتا ہے، آپ کو لگتا ہے آپ نے اپنی مرضی سے فیصلہ لیا ہے لیکن وہ آپ کی مرضی نہیں ہوتی وہ دوسروں کی مرضی ہوتی ہے۔ آپ نے تو اس پر ٹھہر کے سوچا ہی نہیں تھا۔

لمبا گیان نہیں دے رہے۔ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، جو آپ کو بتا دی ہے۔ عقل کریں، زندگی میں کہیں ٹکنے، سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اپنی پسند کے موضوعات بھلے وہ جو بھی ہوں ان کے متعلق تفصیل پسندی کا رویہ اپنائیں، پوڈکاسٹس سنیں، ڈاکومنٹریز دیکھیں، ان کے متعلق دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔

اس عادت سے پیچھا چھڑانے کا طریقہ بھی آپ کو بتائے دیتے ہیں۔ عمل کر کے دیکھیں معیار زندگی میں فرق پڑے گا۔

اگر تو آپ کونٹینٹ کریئٹر ہیں، اور آپ کے پاس پبلک اکاؤنٹ ہے تو میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہاں البتہ ٹک ٹاکس دیکھنے تک ہی محدود ہیں تو پھر چند چیزیں ہیں، اگر آپ انہیں سمجھ جائیں تو فائدے میں رہیں گے۔

پہلے اپنے دل و دماغ کو یہ بتائیں کہ یہ نقصان دہ ہے، کسی بھی بدہیئت چیز کی طرح اس کا آپ کے نزدیک آنا خطرناک ہے۔ آپ کو جلد از جلد اس سے دور ہونے کی ضرورت ہے۔ لازمی نہیں ہے کہ بیسٹس ہمیشہ اونچے سینگوں والی ہوں، ان کے ٹھوڑی تک لمبے دانت ہوں، آج کی بیسٹس موبائل ایپس کی شکل میں بھی ہو سکتی ہیں، جو خون پینے کے بجائے، انرجی اور کام کا جذبہ نچوڑتی ہیں۔

اگر آپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر کے ایپ ان انسٹال کر کے سمجھ رہے ہیں کہ جان چھوٹ گئی تو شاید آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے۔ کسی بھی لت کو چھڑانے کے لیے اسے ایک ہی لمحے میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مرحلہ وار عمل ہے۔ پہلے یہ نوٹ کریں کہ آپ ٹک ٹاکس کن اوقات میں دیکھتے ہیں، اس وقت کے لیے اپنے لیے کوئی زیادہ ترجیحی کام پلان کریں، اور اس کام کو انہی لمحات میں کرنے کا پلان کریں، معمول بنائیں۔

لیکن اگر آپ نے یہ وقت موبائل کو ہی دینا ہے اور انٹرٹینمنٹ ہی حاصل کرنی ہے تو پھر ڈرامہ یا مووی دیکھ لیں۔ (تاریخ، فلسفے، ادب پر ڈھیروں مواد میسر ہے، اس میں دلچسپی لینے کی کوشش کریں، جھوٹ بولنے والے ملینز آف سبسکرائبرز والے صحافیوں کے وی لاگز سے تو پرہیز ہی کریں۔ ایک بات یہاں برسبیل تذکرہ بتا دوں، جو شخص سیاست پر وی لاگز کر رہا ہو اور اس کے ویوز اور سبسکرائبر کروڑوں تک پہنچ جائیں تو محتاط ہو جائیں، وہ شخص سچ نہیں بول رہا۔ سچ میں ایک ایسی وائب ہوتی ہے جو لوگوں کو کشش نہیں کرتی، اگر لوگ اٹریکٹ ہو رہے ہیں اور اٹریکٹ ہونے والے بھی عام جنتا سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ وی لاگر فارغ ہے، وہ محض تماشا گر ہے اور لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے، بس۔

انڈرائیڈ فونز کے اندر پیرنٹل کنٹرول اور ڈیجٹل ویل بینگ کا بلٹ ان فیچر ہوتا ہے، اسے استعمال میں لائیں۔ (آپ کے فون میں یہ فیچر نہ ہو تو اس سے ملتی جلتی ایپ پلے سٹور سے لے لیں ) روزانہ کی بنیاد پر اس میں ٹک ٹاک کے استعمال کا دورانیہ مانیٹر کریں۔ اور اسی ایپ میں ٹک ٹاک پر ٹائمر سیٹ کر دیں۔ اگر آپ ایک گھنٹہ ٹک ٹاکس دیکھتے ہیں تو ٹائمر آدھے گھنٹے کا سیٹ کریں۔ ایسا کرنے کے بعد جب آپ ٹک ٹاک کھولیں گے تو وہ آدھ گھنٹہ ہی استعمال ہوگی، آدھ گھنٹہ مکمل ہونے کے بعد ایپ اوپن نہیں ہوگی، اس پر پوپ اپ آئے گا جو آپ کو بتائے گا کہ آپ اپنی طے کردہ لمٹ کا وقت یہاں صرف کر چکے ہیں، مزید کرنا ہے تو سیٹنگز میں جا کر دورانیہ دوبارہ سیٹ کریں، جو کہ ظاہر ہے آپ کو نہیں کرنا۔ تین ہفتوں کے بعد دورانیہ بیس منٹس پر لے آئیں۔ چھٹے ہفتے کے اختتام تک آپ کے اندر صبر کا پودا تھوڑا قد نکال چکا ہو گا، اب آپ ٹک ٹاک ان انسٹال کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ٹاک ٹاک کا استعمال اور سکڑتی ہوئی ارتکاز کی صلاحیت

  • 24/01/2025 at 6:24 صبح
    Permalink

    a very good and indeed timely warning

Comments are closed.