پی ایچ ڈی یورپ اور ہم ( 4 )
دیبرسن، ہنگری پہنچے ہوئے ہمیں تیسرا دن ہو گیا تھا۔ ہم نے کرائے پر اپنے لئے مکان اور میڈم سحر ذوالفقار صاحبہ کے لئے اپارٹمنٹ حاصل کر لیا تھا۔ دونوں رہائشیں یونیورسٹی کی مین بلڈنگ سے مخالف سمت پر واقع تھیں یعنی بلڈنگ سے مشرق کی جانب اپارٹمنٹ اور مغرب کی جانب ٹرام نمبر 2 کے آخری اسٹاپ ڈوبیرڈو اُتسا کے قریب ہمارا مکان واقع تھا۔
’اُتسا‘ ہنگیرین زبان میں گلی یا اسٹریٹ کو کہتے ہیں، ہمارا مکان فیادلم اتسا پر واقع تھا، فیادلم اُتسا دیبرسن کا اچھا علاقہ تھا یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ جیسے اسلام آباد کا سیکٹر ایف سکس یا ایف سیون۔ مکان میں داخل ہونے کے لئے دو دروازے تھے ایک گیراج میں کُھلتا تھا گاڑی کے لئے اور دوسرا لاؤنج میں۔ نیچے والی منزل پر فرنٹ یارڈ یا باغیچہ ایک وسیع لاؤنج، اوپن کچن اور لاونج کے پیچھے باغیچہ جس میں اخروٹ کے درخت، کچھ پُھول، باربی کیو کے لئے تندور، جبکہ بچوں کے لئے جُھولا لگا ہوا تھا، ہمارے بچے اور بے غم تو سب پاکستان میں ہی تھے اور ہنگرین نسل کو بڑھانے کے ہمارے کوئی ارادے نہیں تھے گو کہ ہمیں ڈاکٹر جوزف پاپ جو ہمارے ڈاکٹرل اسکول کے ڈائریکٹر تھے انہوں نے کئی بار ترغیب دی کہ ہمیں یہاں شادی کرنی چاہیے، ہنگرین دوشیزائیں بہت دلکش ہیں اور ہنگری کی آبادی کمی کا شکار ہے اور ہمیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مگر ہم تو اپنے وطن، اپنی مٹی اور یہیں سے محبت کا دم بھرتے رہے۔ اور ڈاکٹر پاپ صاحب کو زیرِ لب افتخار عارف صاحب کی زبانی یہ پیغام دیتے رہے کہ:
خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ
ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ
خیر بات چل رہی تھی مکان اور اس باغیچے کی تو جناب یہ باغیچہ لاؤنج کے شیشے سے بہت عمدہ نظارہ پیش کیا کرتا یہ اوپن ہونے کی وجہ سے پڑوسیوں کے باغیچے سے جُڑا ہوا تھا، اصول ہمارا یہ رہا کہ جب ہمارے پڑوسی اور ان کی فیملی لان میں آتے تو ہم ’سِیا‘ کہہ کر اندر چلے جاتے، ’سِیا‘ ہنگرین زبان میں ہیلو کو کہتے ہیں۔
لاؤنج سے سیڑھیاں اوپری منزل پر لے جاتیں جہاں 3 کمرے اور تینوں کے درمیان میں چاکوزی اور واش روم تھے۔ میرے کمرے کی کھڑکی لان کی طرف جب کہ عمیر اور اشتیاق صاحب کے کمروں کی کھڑکیاں فیادلم اُتسا یا سڑک کی طرف تھیں۔ گراؤنڈ فلور پر فلور ہیٹنگ تھی یعنی فرش کے نیچے گرم پانی کے بہاؤ سے گھر کو گرم کیا جاتا جبکہ اوپری منزل پر ریڈیئٹر ہیٹنگ سسٹم تھا۔
مجھے باغبانی کا شوق بچپن سے ہی ہے میں نے گیراج میں دیکھا تو گھاس کاٹنے والی مشین، آری اور دیگر باغبانی کے اوزار رکھے تھے جنہیں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، کچھ دن بعد میں نے مشین سے گھاس کاٹنا چاہی اور گیراج میں بجلی کے سوئچ سے جب کنیکٹ کیا تو باآواز بلند ایک سائرن بجنے لگ گیا یہ اتنا بلند تھا کہ پورا علاقہ گونجنے لگ گیا، میں نے بہت کوشش کی مگر مجال کہ وہ بند ہوتا ہو، ہم تینوں بہت پریشان ہو گئے، اتنے میں پڑوس سے اتیلا نامی ہمارا پڑوسی دوڑتا آیا اور پوچھنے لگا کہ خیر تو ہے، مجھے اس کے الفاظ تو سمجھ نہ آئے تھے بس صورت حال سے اندازہ لگایا کہ یہی کہہ رہا ہو گا، اسے انگریزی اور مجھے ہنگرین نہیں آتی تھی، خیر اس نے الارم بند کیا اور ہنگرین زبان میں ہمیں کچھ سمجھانے لگا جو ہمیں سمجھ نہ آیا اتنی دیر میں اس کی جواں سال بیٹی آئی اور اس نے مترجم کا کردار ادا کیا، کہنے لگی کہ اگر یہ الارم چند لمحے اور بجتا رہتا تو فائر برگیڈ کو آٹو کال ہو جاتی اور اگر ان کو کال ہو جاتی تو آپ پر بہت بھاری جرمانہ عائد ہو جاتا کہ فائر الارم بلاوجہ کیوں بجایا۔ یہ وہ تنبیہ تھی جو مالک مکان کے داماد مِسٹر جُولا نے ہمیں نہ کی تھی وگرنہ تو انہوں نے مکان کے سامنے کے حصے کو صاف رکھنا اور برفباری کی صورت میں صبح 6 بجے سے پہلے اپنے مکان کے سامنے سے فٹ پاتھ کو صاف کرنا اور بھی بہت کچھ گِنوا دیا تھا، سب سے سخت تاکید مسٹر جُولا نے فٹ پاتھ صاف کرنے کے لیے کی تھی کہ اگر کوئی شخص ہمارے گھر کے سامنے برف کی وجہ سے سلپ ہو کر گر جائے تو ہم پر جرمانہ بھی ہو گا اور گرنے والے کے علاج کا خرچ بھی ہمارے ذمے ہو گا۔ مگر جُولا صاحب کہ جو اکثر اپنی ’بے غم‘ کے ساتھ پدھارتے تھے نے ہمیں اس منحوس الارم کے بارے کچھ نہ بتایا تھا۔
ہمارے پڑوسی مسٹر اتیلا کی سٹی سینٹر میں الیکٹرانکس کی دکان تھی جس سے ہم نے اپنے چارجر کے لئے سوئچ خریدا تھا۔ یہ بھی بہت دلچسپ داستان ہے۔ پورے یورپ میں ایک ہی طرح کے ساکٹ ہیں یعنی ای یُو یا یورپین ایک ہی اسٹینڈرڈ اور ڈیزائن یعنی ہماری طرح نہیں کہ مختلف طرح کے سائز اور ڈیزائن کے پلگ اور ساکٹ ہوں، بلکہ ایک ہی طرح کے اور یہ محفوظ بھی ہیں کہ کمسن بچوں کی انگلیاں بھی ان میں داخل نہیں ہو سکتیں کہ کرنٹ لگنے سے نقصان ہو۔ ہمارے پاس جو چارجر تھے وہ یورپی ساکٹس میں لگتے نہیں تھے، ہم نے جب مسٹر اتیلا کو یہ مسئلہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ میری دکان پر آ جاؤ اور اپنی دکان کا ایڈریس بھی لکھ کر دے دیا۔ جب ہم ان کی دکان پر گئے تو ’زاروا‘ کا بورڈ لٹکا ہوا تھا یعنی دکان بند ہے، مگر لائٹ جل رہی تھی اور اتیلا صاحب نظر آرہے تھے، ہمیں دیکھ کر باہر آ گئے اور ’بُچانت‘ ’بُچانت‘ کی گردان دہرانے لگے بُچانت یعنی معاف کیجئے، معذرت یا سوری جب ہم نے گوگل ٹرانسلیٹر لگایا تو وہ کہنے لگے کہ وقت ختم ہو گیا ہے کاروبار کا، ہم نے درخواست کی تو کہنے لگے کہ اگر میں نے اس وقت فروخت کیا تو مجھ پر بھاری جرمانہ ہو گا کہ میری دکان کا وقت ختم ہو گیا ہے، خیر ہم نے چارجر اگلے دن ان کی دکان کے اوقات میں جاکر خریدا۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگ قانون کا کتنا احترام کرتے ہیں کہ اتیلا صاحب جانتے تھی کہ ہم ٹرام اور بس بدل کر ان کی دکان پر پہنچے ہیں مگر انہوں نے قانون کا احترام کیا اور ہمیں سوئچ فروخت نہ کیا۔ ہم اگلے دن یونیورسٹی گئے ہمارا کیمپس اگرار کیمپس یا ایگریکلچر کیمپس تھا ہم ڈاکٹرل اسکول کی سیکریٹری ڈاکٹر ہارنگی راکوش مونیکا سے ملے، مونیکا نے ہمیں کہا کہ وہ ای میل کر کے میٹنگ کا وقت بتائیں گی۔ ہم واپس آ گئے اور روٹی بنانے کا پروگرام بنایا، آٹا لیا اور گوندھنے کی ناکام کوشش کی کہ یہ ہمارا آٹا گوندھنے کا پہلا تجربہ تھا پھر ہم نے عُمیر بھائی کو دوڑایا کہ بریڈ لے آؤ اور ہم نے آلو انڈے کا سالن بریڈ پر ہی گزارا کر لیا، معید رہبر لکھنوی صاحب کا یہ شعر بھی ذہن میں آ رہا تھا کہ
ہم فقیروں کو نہیں کچھ تر نوالوں سے غرض
روکھی سوکھی کھا کے بھی اپنا گزارہ کر لیا
اور پھر اس گزارا کرنے پر ہمیں رانا عامر لیاقت صاحب کے یہ اشعار یاد آتے ہیں
حاصل وصل سے دل کش ہے میاں خواہش وصل
ہجر درپیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں
ہم نے تاخیر سے سیکھے ہیں محبت کے اصول
ہم پہ لازم ہے، ترا عشق دوبارہ کر لیں



110 وولٹ ۔ ساکٹ کے مسائل ۔ پاکستان سے وقت کا فرق ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی غیر ملک میں پہنچنے سے پہلے علم میں ہونے چاہئیں۔ اسی طرح آپ کے سامان میں ایک اچھا اور مضبوط ایکسٹنشن بورڈ بھی ہونا چاہئے۔ ساتھ اچھے اسکریو ڈرائیور سیٹ۔ جس کا استعمال بھی آنا چاہئے۔
ویسے تو ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے موٹے پلمبر، اے سی ہیٹنگ یا بجلی کے کام بھی ہوں تو عموما سرٹیفائڈ شخص کو بلانا پرتا ہے وگرنہ بھاری بعض اوقات بھاری جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ جہاں بھی جائین اگر قیام طویل ہے تو علاقے میں ون ڈالر یا دس ریال شاپ ٹائپ کی قریبی دکان کا علم ہونا بھی ضروری ہے جو متعدد مہنگے خرچوں سے بچاسکتا ہے۔
–
ہم جیسا پاکستانی ہوتا تو پڑوسی سے کہتا۔ پلگ آپ اپنے پاس رکھیں۔ آتے وقت گھرلے آئیے گا۔ رقم کی انٹری کل دکان جب کھلے کھاتے میں کرلیجئے گا۔
–
زندگی کو خوامخواہ مشکل کیا بنانا۔
–
جلال لکھنوی نے کہا تھا۔
شب کو مے پی خوب سی صبح کو توبہ کرلی
رند کہ رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر ملک (پاکستان بھی) میں چند اور باتوں کا خیال بہت ضروری ہوتا ہے۔ ممکن ہے کبھ فائدہ نہ دیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو بہت بڑئ مشکل سے بچاسکتے ہیں۔
اپنے تمام ضروری کاغذات پاکستانی اور غیرملکی شناخت، ویزا، پاسپورٹ، تمام تعلیم اسناد، بیگم بچوں کے متعلقہ ریکارڈ اور اسناد۔ ان کی تصاویر لے کر خود کو ای میل کرکے رکھ لیں ساتھ بیگم یا کسی اہم رشتہ دار کو بھی کردیں۔
گاہے بگاہے اس میں اضافہ کرتے رہیں جیسے مختلف معاہدے جیسے کرایے کہ۔
ہر ہفتے یا مہینے میں ایک بار۔ جتنی اہم شاپنگ کی ہیں ان کی رسیدوں کی تصاویر اس میں شامل کرلیں کہ وارنٹی کے وقت کام آئیں گی ساتھ متعدد اور مقامات پر بھی۔
گھر کے تالے کی ایک چابی گاڑی کی چابی میں مزید ایک گاڑی کے گلو کمپارٹ میں رکھیں ایک لفافے میں رکھ کر اعتبار والے پڑوسی کے سیل کرکے رکھوادیں۔ باقی اضافی حسب توفیق لوگوں کو دے دیں۔
اپنی گاڑی کی ایک اضافی چابی یا کوئی متبادل نظام گھر میں رکھیں۔ بعض اوقات اگر چابی ہو تو لوگ ایک طاقت ور مقناطیس کے ساتھ کسی لوہے کی ڈبیہ میں رکھ کر گاڑی کے نیچے (درمیاں میں) کسی جگہ یا ڈگی کی ایسی جگہ جہاں ہاتھ پہنچ سکے چپکا دیتے ہیں۔ مقناطیس کا طاقت ور ہونا شرط ہے۔
اپنی ڈگی میں ایسے دھاگے ڈوریاں ہینگر ضرور رکھیں جس کی مدد سے ایمرجنسی میں گاڑی کا دروازہ کھولا جاسکے یہ آپ کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کے لئے ہوگا۔ یو ٹیوب پر متعدد ایسی ویڈیو موجود ہین۔
جب کسی کو ضرورت ہو مدد کردیں۔
بالکل درست فرما رہے ہیں جناب
بہت شکر گزار ہوں کہ آپ بہت دلچسپی سے میری تحریر پڑھ رہے ہیں
آپ کے طالب علموں المعروف فالوورز یا معتقدین کا کمال ہے جو تحریر بے شک پڑھیں یا نہ پڑھیں استاد محترم کے لئے ویو بنا اور لائیک ضرور مار دیتے ہیں۔
تحریر بھی ظاہر ہے صاف اردو ہے۔ تو پڑھی تو جائے گی !
اصل بات یہ ہے کہ آپ یا کسی بھی لکھنے والے کی محنت پر داد نہ دینا زیادتی ہوتی ہے اور اگر تحریر میں کوئی کمی بیشی ہو تو بتادینا ایسے ہی ہے جیسے بھٹکے کو راہ دکھادینا۔
یہاں کچھ لکھنے والے ایسے بھی ہیں جن کے پاس رونے دھونے اور دوسروں پر تبرا بھیجنے کے علاوہ اور نیا کچھ نہیں۔
کچھ ہیں جنہیں ساری دنیا کے مسائل کی جڑ "مرد حضرات” نظر آتے ہیں اور دنیا کی سب سے مظلوم مخلوق عورت، بالخصوص پاکستانی۔
کچھ کو اسلامی عالم دین یا ملاؤں سے الرجی ہے سو وہ کسی نہ کسی کا کوئی بیان پکڑ کر اس پر تبراؑ بھیج دیتے ہیں۔
–
ایک اور طبقہ ہے جنہیں پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ اسٹبلشمنٹ میں نظر آتی ہے۔ ماجھے کی بھینس دودھ دینا بند کردے یا بٹیا کے لئے رشتے نہ آرہے ہوں۔ ساتھ والے محلے میں لاؤڈ اسپیکر پر ساری رات فل آواز میں لحن داؤدی ہورہی ہو اور یا صاحب خانہ کی بیوی سے نہ بن رہی ہو۔۔۔۔سب کی وجہ آب پارہ ہوتی ہے۔
–
ویسے بھی دنیا کا سب سے آسان کام وہی ہے جو میں کررہا ہوں ۔۔۔ دوسروں کے کاموں میں کیڑے نکالنا۔
ایسی صورت میں اچھی تحریر منہ کا ذائقہ اور مزاج کو بدلنے میں مدد دیتی ہے۔
بہت بہت شکریہ جناب عالی ۔ بہت مدد ہوگی کہ اگر آپ میری تحریر کی کمزوریوں کی بھی نشاندھی فرما دیں۔ آپ کی راہنمائی آئندہ بہتری لانے میں ضرور معاون ہو گی۔
سلامت رہیں، آپ کے کمینٹس سے بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے