قانون بین الاقوام کی نو آبادیاتی بنیادیں
کسی بھی مضمون کی تدریس کے حوالے سے اساتذہ اس مضمون کے تاریخی آغاز، ابتداء اور ارتقاء کو ایک منطقی نقطہ نظر کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ آگے چل کر طلبہ اس مضمون کے اصول و نظریات، طریقہ کار، تشریح اور تنقید کی ایک بہتر تفہیم حاصل کر سکیں۔
قانون بین الاقوام کی تدریس کے سلسلے میں عام طور پر فرانسسکو ڈی وٹوریا اور یوگو گروٹیس کو بابائے قانون بین الاقوام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فرانسسکو ڈی وٹوریا کے نام اور کام سے سے عام طور پر لوگ زیادہ واقف نہیں ہے۔ قانون بین الاقوام کے آغاز یا ابتدا کے بارے میں علمی طور پر مختلف توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں تاہم قانون بین الاقوام کی پیدائش کو یورپی کالونیل توسیع پسندی کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آنے والے ڈاکٹرائن آف ڈسکوری کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
قانون بین الاقوام کی تاریخی بنیادوں کا تعلق دیگر اقوام کی زمینوں پر قبضے سے ہے۔ قانون بین الاقوام کا ارتقا یورپی کالونائزیشن کی بدولت ہوا۔ اس کالونائزیشن کی بنیاد ڈاکٹرائن آف ڈسکوری (Doctrine of Discovery) اور ڈاکٹرائن آف ٹیرانالیس (Doctrine of Terra Nullius) کو کہا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹرائن آف ڈسکوری کا آغاز پوپ نکولس پنجم نے 1455 میں ایک حکمنامے ”رومنوس پونٹیفیکس“ کے ذریعے کیا۔ جس میں مسیحی اور یورپی طاقتوں کی جانب سے زمینوں کی دریافت کے نام پر غیر مسیحی غیر یورپی لوگوں کی فتح اور غلامی کو جائز قرار دیا گیا تھا تاکہ یورپی طاقتوں کو زمینوں کے حصول، قبضہ اور وسائل کے استحصال کے لیے قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس حکمنامہ نے یورپی کالونیل ازم کے لیے ایک مذہبی، اخلاقی اور قانونی بنیاد فراہم کی، جس کے تحت دیگر غیر یورپی اقوام کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا اور ان کے وسائل کا استحصال کیا گیا۔
( واضح رہے کہ 30 مارچ 2023 کو، قریبا پانچ سو سال بعد پوپ فرانسس نے ”ڈاکٹرائن آف ڈسکوری“ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حکمنامہ کا خاتمہ کیا۔ )
ڈاکٹرائن آف ڈسکوری چونکہ ایک قانونی اور مذہبی اصول تھا جو یورپی کالونیل ازم کے دوران استعمال کیا گیا اس لیے جب یورپی بادشاہتیں نئی زمینوں کو دریافت کرتی تھیں تو انہیں ان علاقوں پر قابض ہونے کا حق حاصل ہوتا تھا، چاہے وہ زمینیں کسی دوسری قوم، قبیلے یا ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ملکیت ہوں۔
ڈاکٹرائن آف ڈسکوری کے تحت، یورپی طاقتیں دنیا کے مختلف حصوں میں جا کر مقامی لوگوں کی سرزمینوں پر قبضہ کر لیتی تھیں اور ان کے وسائل کا استحصال کرتیں تھیں۔ ڈاکٹرائن آف ڈسکوری نے نہ صرف مفتوحہ مقامی لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کیا بلکہ ان کی زمینوں پر قابض یورپی حکومتوں کو قانونی حیثیت دی۔ اس نظریہ کی بنیاد پر کئی معاہدے اور دستاویزات تیار کی گئیں جنہوں نے کالونیل ازم کو قانونی جواز فراہم کرتے ہوئے عالمی سطح پر طاقت کا عدم توازن پیدا کیا اور قانون بین الاقوام کی کالونیل بنیادوں کی تشکیل کی۔
ڈاکٹرائن آف ڈسکوری جسے غلامی، نسل پرستی، قبضہ گیریت، نو آبادیات اور استحصال کے جدید قانون بین الاقوام کی بنیاد کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ڈاکٹرائن آف ڈسکوری موجودہ دور کے جدید قانون بین الاقوام کی ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے قانون بین الاقوام کی بائبل بھی کہا جا سکتا ہے۔
فرانسسکو ڈی وٹوریا اور ہیوگوگروٹیس جیسے قانون دان جو اپنی اپنی سلطنتوں اسپین اور نیدرلینڈ کے نوآبادیاتی قبضہ گیریت، سامراجی تسلط اور توسیع پسندی کو قانونی جواز فرام کرتے رہے اور انہیں جائز ثابت کرنے کے لیے قانون بین الاقوام کی تشکیل کرتے رہے، فخریہ طور پر بابائے قانون بین الاقوام کہلائے۔
فرانسسکو ڈی وٹوریا ( 1483۔ 1546 ) ایک اسپینش فلسفی اور مفکر تھے، جنہیں جدید قانون بین الاقوام کی ترقی میں سب سے اہم شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ ڈومینیکن آرڈر کے رکن تھے اور یونیورسٹی آف سالامانکا، اسپین میں پڑھاتے تھے۔ وٹوریا کو ”اسکول آف سالامانکا“ کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ دانشوروں کا ایک گروپ تھا جنھوں نے اسپینش/یورپی کالونیل ازم کو قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرنے کے لیے بنیادی کام کیا۔
وٹوریا اس نقطہ نگاہ کے حامی تھے کہ اسپینش سلطنت ”مسیحیت کے پھیلاؤ“ اور ”امن کے تحفظ“ کے تحت امریکہ کے مقامی باشندوں کو فتح کرنے کا حق رکھتی تھی۔ ذرا سوچئے یہ تھے قانون بین الاقوام کے باوا آدم۔
وٹوریا کو ”جس جینٹیئم“ ( Jus Gentium ) قوموں کا قانون ( Law of Nations) کے نظریہ کا موید کہا جاتا ہے، جو جدید قانون بین الاقوام کی ایک ابتدائی شکل تھی، جس میں خودمختار ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کے لئے ایک مشترکہ قانون کی بات کی گئی تھی۔
جس جینٹیم 242 سال قبل مسیح رومی سلطنت میں ایک قانون تھا جس کا مقصد مسلسل جنگوں اور توسیع پسندی کے ذریعے زمینوں و افراد پر قبضہ کی شکل میں رومنوں اور غیر رومن افراد ( غیر ملکیوں ) کے درمیان تعلقات، معاملات، تنازعات، ذمہ داریوں، مسائل اور پیچیدگیوں کا قانونی حل نکالنا تھا۔
امریکی علاقوں (غیر یورپی/غیر مسیحی) پر اسپینش کالونیل ازم کا آغاز 1493 میں کیریبین کے جزیرے ہسپانیولا (جو اب ہیٹی اور ڈومینیکن ریپبلک کہلاتا ہے ) سے ہوا، جب اٹلی سے تعلق رکھنے والے کرسٹوفر کولمبس (جسے بعد ازاں اسپینش سلطنت کی جانب سے مقبوضہ امریکی علاقوں میں وائسرائے مقرر کیا گیا) نے 1492 میں اسپینش ملکہ ازابیلا اول کی اجازت، مدد اور سرمایہ سے نوآبادیاتی قبضہ کا یہ سفر شروع کیا جسے فخریہ طور پر امریکہ کی دریافت کا خوشنما نام دیا جاتا ہے۔ اور اس دریافت کے دوران مقامی لوگوں کی نسل کشی، قتل عام، ان کی زمینوں، چراگاہوں اور جنگلات پر قبضہ کو شعوری طور پر چھپایا جاتا ہے۔
اسپینش سلطنت کے یہ غیر ملکی امریکی علاقے 1898 تک شاہی خاندان کے ماتحت تھے۔ اسپینیوں نے مقامی باشندوں کی کثیر آبادی کو ایک اہم معاشی وسیلہ سمجھا اور اس علاقے کو شاہی خاندان کے لیے بہت زیادہ دولت پیدا کرنے والے علاقے کے طور پر دیکھا۔ ڈاکٹرائن آف ڈسکوری نے اسپینش فتح اور مقامی باشندوں کو مسیحیت (Christianity) میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ کے مقامی باشندوں کو مسیحیت میں پر امن طریقوں اور زور زبردستی شامل کیا گیا۔ اسپین کے شاہی خاندان نے وسیع امریکی علاقے کو انتظامی اور مذہبی ڈھانچے کے ذریعے منظم کیا۔ اسپینش کالونائزر کی سب سے بڑی تعداد ان علاقوں میں آباد ہوئی جہاں مقامی قیمتی وسائل کی موجود تھی۔
وٹوریا کے خیالات اسپینش کالونیل دور کے آغاز اور ارتقاء کے سیاق و سباق سے جڑے ہوئے تھے۔ وٹوریا کے نظریات نے اسپینش اور بعد ازاں یورپی کالونیل ازم کی قانونی اور اخلاقی مدد کی اور یہی نظریات بعد میں قانون بین الاقوام کے ارتقاء پر اثرانداز ہوئے۔ وٹوریا نے کالونیل طور طریقوں کو قانونی جواز فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہیوگو گروٹیس ( 1583۔ 1645 ) جنہیں ہیوگو دے گروٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک ڈچ سفارت کار، وکیل، قانون دان اور سیاستدان تھے۔ گروٹیس کے خیالات ڈچ اور یورپی نو آبادیاتی اور سامراجی مفادات کا ہی عکس تھے۔ گروٹیس کی کتاب The Rights of War and Peace جسے قانون بین الاقوام کے حوالے سے اس کی مشہور و معروف کتاب سمجھا جاتا ہے یورپی نو آبادیاتی پھیلاؤ اور قبضہ گیریت کے جواز کو فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ گروٹیس کا یہ علمی کارنامہ غلامی اور نسل کشی کا اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ اپنی کتاب میں ”جائز جنگ“ کا تصور دینے والا (غیر یورپی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے یورپی جنگوں کو جائز قرار دینے والا) ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے لوگوں کو وحشی، غیر مہذب قرار دے کر ان پر قابو پانے اور انہیں غلام بنانے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے والا نوآبادیاتی یورپی نسل پرست ”بابائے قانون بین الاقوام کے“ درجے پر فائز ہیں۔ گروٹیس کے سامراجی نسل پرستانہ نظریات کے مطابق قانونی طور پر ”خود مختار فرد“ صرف مسیحی اور یورپی ہو سکتا ہے غیر مسیحی غیر یورپی مقبوضہ علاقوں کے غلام افراد یکساں قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔ گروٹیس کے نظریات جنگ، خود مختاری، زمین کی ملکیت اور جائیداد کے حوالے سے نو آبادیاتی قبضہ گیر پالیسیوں کی وکالت کرتے تھے اور انہیں فکری قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرتے تھے۔ گروٹیس معاوضہ پر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی بھی خدمت کرتے تھے۔
گروٹیس نے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایماء پر مختلف ایشیائی حکمرانوں کو خطوط لکھے جس میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ تجارت کی ترغیب کے علاوہ مقابلے پر موجود اسپین اور پرتگال سے تعلقات کے خاتمے کی بھی تجاویز دی گئی تھی۔ گروٹیس کے سمندری قوانین وضع کرنے کے پیش نظر بھی سمندروں میں ڈچ تجارتی مفادات تھے۔
گروٹیس کی تحریروں نے ایک مخصوص قسم کی ڈچ سفید فام کالونیل برتری کے تصور کو ابھارا۔ گروٹیس کے تمام علمی کاموں میں یورپی کالونیل مفادات کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ گروٹیس غیر یورپی لوگوں کے غلام بنائے جانے کے عمل کو قانونی اور اخلاقی طور پر درست خیال کرتے تھے۔ ان کے نظریات کے مطابق ڈچ تاجر ان لوگوں کو غلام بنانے کا حق رکھتے تھے جو جنگی قیدی ہو۔ ( یعنی جنگ کے بعد نیدرلینڈ نے جن کی زمین پر قبضہ کر لیا ہو) گروٹیس غلامی کو انصاف پر مبنی ایک نظام سمجھتے تھے۔ گروٹیس نے یہ نظریات وٹوریا سے مستعار لیے تھے کیونکہ وٹوریا بھی اسپینش نوآبادیات کے لیے جنگ اور غیر مسیحی افراد کو غلام بنائے جانے کو قانونی طور پر درست سمجھتے تھے۔ گروٹیس نے بھاری رقم کے عوض ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی مفادات، قبضہ گیریت اور ان کی لوٹ مار کو بین الاقوامی قانون سے ثابت کرنے کے لیے De Indis نامی کتاب لکھی۔
گروٹیس ڈچ مقبوضہ علاقوں کے صرف ایک فرد کو ہی غلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کی پوری نسل کو ہی غلام تصور کرتے تھے۔ Servitio Subjectum Uterum کی اصطلاح کے تحت گروٹیس ایک غلام عورت کے رحم/بچہ دانی (پیٹ) کو ہی غلام سمجھتے تھے۔ یعنی ایک غلام عورت کے جو بچے پیدا ہوں گے وہ بھی غلام ہی ہوں گے۔ کس قدر سفاک تھے یہ بابائے قانون بین الاقوام۔
1788 میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کی سرزمین پر ڈاکٹرائن اف ٹیرا نالیس (Terra Nullius ) کے تحت قبضہ کیا۔ قانون بین الاقوام میں ٹیرا نالیس کا مطلب ہے ایسی زمین جو کسی کی ملکیت نہیں ہے۔ خالی زمین /بے آباد زمین یا ویران زمین۔ اس نظریے کے تحت قابض انگریزوں نے اس بات کو قطعی کوئی اہمیت نہیں دی کہ آسٹریلیا کی سرزمین پر مقامی Aboriginals پینسٹھ ہزار سال سے آباد تھے۔ جن کی اپنی ثقافت، رسوم و رواج اور زمین سے گہری جڑت تھی۔ آسٹریلیا پر قبضہ کرتے وقت ڈاکٹرائن آف ڈسکوری یعنی دریافت کے اصول کا بھی سہارا لیا گیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ مقامی لوگ پہلے سے ہی اپنی زمینوں پر آباد تھے۔ وہ زمین ہزاروں سالوں سے ان کی ملکیت تھی۔ لیکن خود ساختہ قانون بین الاقوام کا استعمال کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی زمینیں چھینی گئیں اور ان کا زبردست استحصال کیا گیا آسٹریلیا میں انگریزوں اور مقامی لوگوں کے درمیان 1788 سے 1939 تک جاری رہنے والی فرنٹیئر وار (Frontier War) کی تاریخ بہت ہی دردناک اور خونی ہے۔ انگریز قابضین نے اس دوران ہزاروں مقامی Aboriginals کا قتل عام کیا۔ ان کی زمینیں چھینی گئیں اور انہیں ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کیا گیا اور یہ سب کچھ ٹیرا نالیس کے تحت کھلے عام کیا جاتا رہا۔ اگر کبھی کسی کو موقع ملے تو وہ فرنٹیئر وار کی خونریز داستانوں کو ضرور پڑھے۔
قانون بین الاقوام سمیت بین الاقوامی تعلقات کے تمام مضامین یورو سینٹرک نقطہ نگاہ سے پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ علم کا ایک کالونیل تصور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس یورو سینٹرک کالونیل تصور علم کو چیلنج کیا جائے۔ ایشیائی افریقی اور لاطینی امریکی نظریات کو بھی تمام علوم کا حصہ بنایا جائے۔


