امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری اور قدرت کا نظام


دنیا کے طاقتور ترین ملک کے طاقتور ترین صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، وہم و گمان کے سارے بادل چھٹ گئے اور ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کا الیکٹورل پروسیس تکمیل کے مراحل کو بالآخر پہنچ ہی گیا۔

دنیا بھر کے ریاستی نمائندوں کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی، سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ بزنس ٹائیکون بھی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جن کی دولت کا کوئی شمار نہیں۔ مطلب طاقت کا مجموعی مظاہرہ ایک ہی فریم میں دکھائی دے رہا تھا اور یہ وہی یہود و ہنود ہیں جن کو ہم کافر اور پتا نہیں کیا کچھ سمجھتے ہیں لیکن لمحہ موجود کی اس حقیقت یا صورت حال پر ہم اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں

”قدرت کا نظام ہے جسے چاہے نوازے“

اسٹار لنک والے ایلون مسک جو ٹیسلا موٹرز کے سی ای او بھی ہیں اس تقریب میں سب سے نمایاں تھے، ان کے علاوہ جیف بیزوس ایگزیکٹو چیئرمین آف امیزون، مارک ذکر برگ سی ای او فیس بک اور سندر پیچائی سی ای او آف گوگل بھی موجود تھے۔ یہ مالیاتی دیو دنیا بھر کے طاقتور ترین انسان کہلاتے ہیں، یوں کہہ لیجیے کہ قدرت نے ان چار افراد کو دنیاوی بادشاہت کے لیے فی الوقت چن لیا ہے اور یہ لوگ بڑے ٹھاٹ سے منصب انجوائے کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے ہمارے ایقان کے مطابق قادر مطلق ہر چیز پر قادر ہے اور وہی سب کو مناصب عطا کرتا ہے اور انہیں ہی عطا کرتا ہے جن پر وہ راضی ہوتا ہے۔ مطلب اس کی تقسیم میں رنگ، نسل یا مذہب کی کوئی تخصیص نہیں تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی کے متعلق کچھ بھی وثوق سے کہنے والے یا دعویٰ زبانیاں کرنے والے؟

کیسے لوگ ہیں یار نا ہی ”چوزن ون“ ہونے کا دعویٰ اور نا ہی خواہ مخواہ کا کوئی طنطنہ، بس خاموشی سے اپنے ٹارگٹ پر نظریں گاڑے مسلسل چلتے رہنے کا عزم۔

کوئی کیا کہتا ہے اور کیا سوچتا ہے، کس کو پرواہ؟
ان سارے تکلفات سے بے نیاز اپنی لگن میں مگن۔

اب اسے محنت کا معجزہ کہیں یا استحصالی چکرویو، مائٹ از رائیٹ کے اصول سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ یہ مالیاتی میدان کے شہنشاہ ہیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ آپ کا طرز زندگی، انداز فکر اور بدلتے سمے کے ساتھ انتہائی سمجھ داری سے ہم آہنگ ہونے کا فہم آپ کو بلندیوں کے ماؤنٹ ایورسٹ تک پہنچاتا ہے ورنہ تو پتا نہیں کتنے پھنے خان آئے چلتے بنے کسی کو ان کا نام تک یاد نہیں۔

سوال یہ ہے کہ نیکو کار، متقی و پرہیزگار اور دعا و مناجات والے سطح صارفین تک ہی ٹکے ہوئے ہیں جبکہ اہل کفار جو ہماری نظر میں جہنم کا ایندھن بنیں گے وہ دنیاوی رینکنگ اور عزت و منزلت میں سب کو پچھاڑ کر صف اول میں کھڑے ہو چکے ہیں، یہ کیا ماجرا ہے اور قدرت کا نظام انہی کی طرف کیوں کھنچا چلا جا رہا ہے؟ آخر ان میں کچھ تو ایسا منفرد ہے کہ قدرت نے بھی اپنی ساری نعمتیں ان کی جھولی میں ڈال دی ہیں؟ خلاؤں سے لے کر سمندر کی تہوں تک انہی کی بادشاہت ہے، چاند پر نئی بستیاں بسانے کا سوچ رہے ہیں، اس کے علاوہ انسانی زندگیوں کو محفوظ ترین بنانے کے لیے انسانی خلیات پر تحقیق، ادویات و ویکسین کے علاوہ نجانے کیا کچھ کر رہے ہیں کہ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ بلندیاں کیسے نصیب ہوئی ہیں اور ہم عبادات، مساجد اور درگاہوں میں خود کفیل ہونے کے باوجود بھی اتنا پیچھے کیوں ہیں؟ ہمارے پاس تو روحانی بابے بھی خاصے ہیں جو قدرت کے قرب کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں وہ بھی قدرت کو اپنے حق میں نہیں کر پائے؟ اگر صرف علمی میدان کو ہی لے لیں ہم تو ان کے مقابل ابھی غاروں کے دور میں جی رہے ہیں، ہمارے اور ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔

وجہ جاننے کی کوشش کریں گے تو پتا چلے گا کہ ہم اپنے عصر سے ہم آہنگ نہیں ہیں، نجانے کب سے کٹے ہوئے ہیں اور محض دعا و مناجات کے سہارے قدرت کو اپنے حق میں کر کے دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، ایں خیال است و محال است و جنوں، ایسا تھوڑے ہوتا ہے، قدرت بھی طاقتور کا ہی ساتھ دیتی ہے بھائی! شکست خوردہ کا نہیں۔

لاکھوں خلیوں میں صرف وہی ایک نمو پاتا ہے جو طاقتور ترین ہوتا ہے باقی سب اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS