مدینہ منورہ میں چند دن


سال 2024 کا آغاز ہوا تو میں نے حساب لگایا کہ گزشتہ تین برس سے میں نے اندرون اور بیرون ملک کوئی سفر نہیں کیا۔ ان تین سالوں میں دفتری اور گھریلو مصروفیات نے مجھے اس قدر جکڑے رکھا کہ گھر اور دفتر کے علاوہ مجھے کسی اور جانب توجہ دینے کا وقت ہی نہیں مل سکا۔ فہد صاحب سے میں نے کہا کہ چند دن کے لئے کہیں گھومنے چلتے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ تجاویز ان کے سامنے رکھیں۔ وہ کہنے لگے کہ جانا ہی ہے تو پھر ادھر ادھر جانے کے بجائے اپنے اللہ کے گھر چلتے ہیں۔ اس تجویز سے بھلا کسے اختلاف ہو سکتا ہے۔ یوں اللہ کے فضل سے بیٹھے بٹھائے عمرہ کا پروگرام بن گیا۔ برادرم شفیق کاشف صاحب نے مہربانی کی او ر ہمیشہ کی طرح تمام انتظامات اپنے ذمے لے لئے۔ ہم نے بھی جلدی جلدی عمرہ کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ عمومی طور پر سفر ہم کسی مجبوری کے تحت کرتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم اپنے شوق اور تفریح کی غرض سے کرتے ہیں اسے ہم سیاحت کا نام دیتے ہیں۔ سفر حجاز ہم مسلمان اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہایت عقیدت اور چاہت سے کرتے ہیں۔ سو میرے نزدیک یہ سفر بھی ہے اور سیاحت بھی۔ سعودی عرب روانگی کے دن لاہور ائر پورٹ پہنچے تو کافی رش تھا۔ میرے دونوں بچے بھی ساتھ تھے۔ مجھے پہلی مرتبہ اتنے دنوں کے لئے اپنے بچوں سے جدا ہونا پڑ رہا تھا۔ تاہم ان کی خالاؤں کی موجودگی میں مجھے کچھ زیادہ فکر مندی نہیں تھی۔ بچے اللہ کے حوالے کیے اور سب کو خدا حافظ کہہ کر رخصت ہو گئے۔

ائر پورٹ بے ترتیبی اور بد انتظامی کا مظہر تھا۔ فلائیٹ البتہ وقت پر تھی۔ پی آئی اے کا جہاز وقت پر اڑا۔ پائیلٹ نے نہایت عمدگی اور مہارت سے ٹیک آف کیا (اور لینڈنگ بھی) ۔ قومی ائر لائن کی عمرہ فلائیٹ کو آپ کسی مقامی بس کا سفر سمجھ لیجیے۔ سچ پوچھئے تو ہماری بیشتر پرائیویٹ ٹریول کمپنیوں کی بسیں کہیں اچھی اور آرام دہ ہیں۔ اس جہاز کی سیٹیں ایسی تھیں جیسے سرکاری سکول کی کھردری کرسیاں۔ کھانا جیسے لنگر کی سادہ بریانی۔ عملہ جیسے سرکاری ہسپتال کی بے مروت نرسیں۔ میں نے سوچا کہ اللہ کے بندو! کم از کم یہی خیال کر لو کہ یہ ایک انٹرنیشنل فلائیٹ ہے۔ دوران سفر مجھے وہی پرانی باتیں ذہن میں آتی رہیں، جو پی آئی اے میں سفر کرتے وقت ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ یہ ائر لائن کسی زمانے میں ہمارا فخر ہوا کرتی تھی۔ سارے ایشیا میں اس کا نام اور مقام تھا۔ آج یہ خسارے کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ پی۔ آئی۔ اے کی مدد سے بننے والی ایمریٹس ائر لائن کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ اور ہم اپنی قومی ائر لائن کی نجکاری کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

وقت مقررہ پر جہاز نے لینڈ کیا۔ پچھلے کئی سال سے محمد بن سلمان کے جدید سعودی عرب میں ہمیں کئی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ عرب خواتین مختلف شعبوں میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔ ائر پورٹ کے امیگریشن کاؤنٹروں پر بھی باپردہ خوبصورت خواتین اہلکار موجود تھیں۔ ہمارے پاسپورٹوں پر ٹھپا لگا اور ہم ائر پورٹ سے باہر آ گئے۔ عمومی طور پر کسی دوسرے ملک میں اکیلے سفر کرتے وقت مجھے زیادہ محتاط اور چوکس رہنا پڑتا ہے۔ تاہم فہد صاحب کی موجودگی میں، میں اس ذمہ داری سے آزاد تھی۔ ہم نے ٹیکسی لی اور ہوٹل پہنچے۔ شام کا وقت تھا۔ ہمارا ہوٹل مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں واقع تھا۔ محض دو تین منٹ پیدل چلنے پر ہم مسجد کے احاطے میں داخل ہو جاتے۔ ہوٹل کے کمرے میں کچھ دیر ہم نے اپنے بستروں پر کمر سیدھی کی۔ پھر خیال آیا کہ آرام کرنے کے بجائے ہمیں فوری طور پر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضری دینی چاہیے۔ اس خیال کے تحت وضو کیا اور مسجد نبوی ﷺ کا رخ کیا۔ فہد صاحب پہلی مرتبہ عمرہ کے لئے حاضر ہوئے تھے۔ جبکہ میں دو مرتبہ پہلے بھی یہ سعادت حاصل کر چکی ہوں۔ ہم تیز تیز چلتے، درود شریف کا ورد کرتے مسجد میں داخل ہوئے۔ میرے نبی ﷺ کی مسجد کی رونق بالکل ویسی تھی، جیسے ہمیشہ ہوتی ہے۔ وہی بڑی بڑی چھتریاں۔ وہی کھلا آسمان۔ وہی سنہرے دروازے۔ وہی سفید فرش۔ وہی سرخ قالین۔ وہی صاف ستھرے وضو خانے۔ وہی ٹھنڈک۔ وہی سکون۔ وہی عشاق کا ہجوم۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی مجھے اپنی ماں کا خیال آیا۔ پہلے دونوں عمرے میں نے اپنی امی کے ہمراہ کیے تھے۔ اس جگہ میں نے ان کے ساتھ گھنٹوں وقت گزارا تھا۔ آج میری امی میرے ساتھ نہیں تھیں۔ وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو چکیں۔ عمرہ کے دوران مجھے اپنے بچوں کی یاد تو نہیں آئی۔ البتہ امی کی یاد اور ان کا خیال ہر پل میرے ساتھ رہا۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

میں نے اور فہد صاحب نے مسجد کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک مکمل چکر لگایا اور مسجد نبوی ﷺ کی رونق دیکھی۔ سبز گنبد کے سامنے جا کر ہم دونوں رک گئے۔ اس گنبد کے عین نیچے میرے نبی ﷺ کی قبر اطہر ہے۔ ان کا روضہ مبارک ہے۔ کیسی مبارک اور پاک جگہ ہے۔ میں تو باہر ایک احاطے میں بچھی چٹائی پر جا بیٹھی۔ فہد صاحب روضہ رسول ﷺ پر حاضری دینے چلے گئے۔ موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے کہ میرے رب نے مجھ گناہ گار کو یہاں بلایا۔ اپنے رب کے حضور کچھ دعائیں عرض کیں۔ خیال آیا کہ چند دن پہلے میرا شاگرد معین عمرہ کے لئے روانہ ہوا تھا تو میں نے حسب عادت اس کے ذریعے روضہ مبارک ﷺ پر سلام بھجوایا تھا۔ میری خوش بختی کہ آج میں خود سبز گنبد کے بالکل سامنے موجود تھی۔

مدینہ منورہ میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا شہر ہے۔ اس کی فضیلت کا اندازہ کیجئے کہ یہاں میرے نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری دس سال بسر کیے۔ اس کی سرزمین مقدس میں میرے نبی ﷺ کا جسد مبارک موجود ہے۔ یہاں میرے نبی ﷺ کا روضہ ہے جہاں صبح شام ہزاروں فرشتے حاضری دیتے ہیں۔ اس شہر مبارک کے لئے میرے نبی ﷺ نے برکت کی دعا کی تھی۔ اس شہر محفوظ کے بارے میں فرمان نبوی ﷺ ہے کہ اس کے ہر دروازے پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتے۔ اس کی ہر گھاٹی اور ہر راستے پر بھی پہرے دار فرشتے مقرر ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے نزدیک ایمان سمٹ کر اس شہر مبارک کی طرف آ جائے گا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے مدینے میں موت نصیب فرما۔ سفر حجاز کے دوران جتنے دن میں مدینہ شریف میں مقیم رہی مجھے ہر آن اس امر کا احساس رہا کہ میں اپنے پیارے نبی ﷺ کے شہر میں موجود ہوں۔ یہ خیال بھی آتا کہ سینکڑوں برس پہلے اس شہر میں میرے نبی ﷺ ازواج مطہراتؓ کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ اس زمین کو میرے حضور ﷺ کی قدم بوسی کی سعادت حاصل ہے۔ یہاں میرے نبی ﷺ دین اسلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ مدینہ میں چلتے پھرتے مجھے یہ خیال بھی آتا کہ اس شہر میں ہزاروں صحابہ کرام اور صحابیات نے اپنی زندگیاں گزاریں۔ یہیں کہیں مدینہ کے بازاروں میں صحابہ کرام ؓ کاروبار کیا کرتے تھے۔ جنگیں لڑا کرتے تھے۔ مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں جنت البقیع کے قریب سے گزرتے وقت خیال آتا کہ کس قدر مبارک ہے یہ جگہ جہاں سینکڑوں ہزاروں صحابہ اور صحابیات نے مدینے کی خاک اوڑھ رکھی ہے۔

فہد صاحب کا اور میرا معمول تھا کہ ہم تہجد کے وقت بیدار ہوتے اور وضو کے بعد مسجد نبوی ﷺ کی طرف چل پڑتے۔ راستے میں یہ مناظر نہایت بھلے لگتے کہ ہر سمت سے اللہ کے بندے جوق در جوق مسجد نبوی ﷺ کی جانب گامزن ہوتے۔ مسجد کا دروازہ عبور کرتے ہی میں خواتین کے لئے مخصوص احاطے میں بیٹھ جاتی اور فہد صاحب مردانہ احاطے کا رخ کرتے۔ مسجد نبوی میں نماز تہجد پڑھنا۔ اپنے نبی ﷺ کی مسجد کی رونق دیکھنا۔ مسجد پر سایہ فگن آسمان کا جائزہ لینا۔ مسجد کے سپیکروں کے ذریعے اذان سننا۔ با جماعت نماز ادا کرنا۔ ہر نماز سے فراغت کے بعد نمازیوں کے ہجوم کو بکھرتے دیکھنا۔ یہ سب مجھے بہت اچھا لگتا۔ میں سوچتی کہ یہ رونق بھی آدمی نصیبوں سے ہی دیکھ سکتا ہے۔ میں وہ دعا دہراتی جو میری امی کیا کرتی تھیں کہ یا اللہ، ہمیں اور ہماری سات نسلوں کو یہاں بار بار آنا نصیب فرما۔ آمین۔ مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھ کر جب میں ارد گرد دیکھتی تو تاریخ کی کتابوں میں پڑھی باتیں میرے ذہن میں در آتیں۔ ہم سکول کے زمانے میں پڑھا کرتے تھے کہ جب حضور اقدس ﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو بنی نجار کے محلے کی ایک جگہ کو مسجد کی تعمیر کے لئے پسند فرمایا۔ یہ زمین دو یتیم بھائیوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی۔ ان بھائیوں کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو یہ قطعہ زمین پسند ہے تو انہوں نے بلامعاوضہ اسے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ تاہم حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قیمت ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ زمین کی خریداری کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اپنے مبارک ہاتھوں سے اس مسجد کی تعمیر کی۔ کیا خوش نصیب مسجد ہے کہ جس کی بنیادوں میں میرے حضور ﷺ کے ہاتھوں کا لمس شامل ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سعودی حکومتیں مسجد نبوی ﷺ میں تبدیلی اور توسیع کرتی رہیں۔ سنتے ہیں کہ 1995 میں جو توسیع ہوئی اس نے حضور ﷺ کے زمانے کا سارا شہر مدینہ مسجد نبوی ﷺ میں سمو لیا۔ یہ مسجد واقعتاً ایک شہر جتنی کشادہ ہے۔ لاکھوں نمازی اس میں نماز ادا کرتے ہیں۔ یہاں صفائی ستھرائی کا نظام نہایت عمدہ ہے۔ دن میں پانچ مرتبہ لاکھوں آدمیوں کے چلنے پھرنے کے باوجود یہاں دھول مٹی نہیں ہوتی۔ فرش اس قدر صاف ہوتے ہیں کہ بہت سے نمازی وقت یا احاطے میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے ننگے فرش پر ہی سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ وضو خانوں میں بھی صفائی کا خصوصی اہتمام اور پانی کی فراوانی نظر آتی ہے۔ پنکھوں اور روشنی کا انتظام بھی ہر طرح کی خامی سے پاک ہے۔ بسا اوقات مجھے خیال آتا کہ یہ انتظام کاری بندوں کے بس کا روگ نہیں ہے، میرا رب ہے جو یہ سارا نظام اس عمدگی اور برکت سے چلا رہا ہے۔ اگرچہ زم زم کا کنواں مکہ میں موجود ہے تاہم مسجد نبوی ﷺ میں جگہ جگہ آب زم زم کے سینکڑوں ڈرم پڑے ہوتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں بندے زم زم پیتے ہیں اور بوتلیں بھر بھر کر ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود زم زم کی کمی نہیں ہوتی۔ کمی ہو بھی کیسے؟ میرے نبی ﷺ نے اس شہر کے پیمانوں میں برکت کی دعا کی تھی۔ ہم بھی مسجد سے واپسی پر پانی بوتلوں میں بھر کر ہوٹل لے جاتے۔ زم زم پیتے اور اس سے چائے بھی بناتے۔ ایسی برکت اور فراوانی صرف شہر نبوی ﷺ میں ہی نصیب ہو سکتی ہے۔

آج کا شہر مدینہ جدید طرز تعمیر اور رہن سہن کا عکاس ہے۔ ہر طرح کی سہولیات سے مزین، رہائشی علاقے اور کاروباری مراکز یہاں موجود ہیں۔ صرف مسجد نبوی ﷺ کے گرد و پیش کے علاقے میں ہی سینکڑوں ہوٹل، ریستوران، دکانیں اور شاپنگ مال موجود ہیں۔ آپ یہاں سے سستی مہنگی ہر طرح کی شاپنگ کر سکتے ہیں۔ مسجد نبوی ﷺ کے بالکل سامنے سونے کی درجنوں دکانیں ہیں۔ خواتین کے فطری رجحان کے برعکس مجھے سونے سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔ تاہم ہر مرتبہ جب میں یہاں آتی ہوں تبرکاً کچھ نہ کچھ ضرور خریدتی ہوں۔ یہ احساس مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ میں پیارے نبی ﷺ کے شہر کی کسی دکان سے خریداری کر رہی ہوں۔

مجھے جب بھی عمرے کی سعادت حاصل ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ مکہ اور مدینہ کے موسم مختلف ہیں اور یہاں کے شہریوں کے مزاج بھی۔ میرا مشاہدہ ہے کہ شہر مکہ کا موسم اور شہریوں کا مزاج نسبتاً خشک ہے۔ جبکہ میرے نبی ﷺ کے شہر کا موسم ہمیشہ خوشگوار رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ خوش مزاج ہیں۔ یہاں کے دکان دار بھی خوش اخلاق ہیں۔ مکہ میں آپ کو یہ خوش مزاجی اور خوش اخلاقی شاذ و نادر ہی ملے گی۔ کفار مکہ کے رویے سے تنگ آ کر آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی تھی۔ اس موقع پر اہل مدینہ نے نہایت خوش دلی سے نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا تھا۔ اپنا جان و مال نبیﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا تھا۔ تاریخ اسلامی میں انصار مدینہ کی سخاوت، بھائی چارے او ر دیگر فضائل کا بہت ذکر ملتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ شہر مدینہ کے باسیوں کے رویوں میں، اس شہر کی فضاؤں میں سینکڑوں برس پرانی یہ کشادگی اور خوش گواریت آج بھی موجود ہے۔

Facebook Comments HS