اساتذہ کرام، دوست اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
بک شاپ سے شروع ہونے والا سفر کمرہِ جماعت اور بخاری آڈیٹوریم سے ہوتا ہوا اوول گراؤنڈ میں اختتام پذیر ہوا۔ پہلا ایوننگ سیشن 2020 تا 2024۔ ڈگری بی۔ اے (آنرز) اُردو۔ اس سفر کی ابتدا میں 24 سواریاں تھیں۔ جن میں سے نصف کسی مجبوری، مرضی یا مصلحت کے تحت مختلف مقامات پر اتر گئیں۔ نصف (یعنی بارہ) مسافر ہی منزل تک پہنچ سکے ہیں۔ میں اس سفر کے احوال و مشاہدات و تاثرات قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے دوستوں کے جذبات ایسے ہی یا اس سے ملتے جلتے ہوں گے۔
اولاً اساتذہ پر بات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس کے لیے مجھے ایک تمہید باندھنی ہوگی تاکہ آپ کو بات سمجھنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں کبھی بھی لائق طالب علم نہیں رہا۔ لیکن مکمل نالائق بھی نہیں رہا۔ لہٰذا دونوں لذتوں سے محروم رہا۔ تعلیمی تسلسل طویل عرصہ قائم رہا حتٰی کہ میٹرک تک پہنچ آیا۔ خدا جانے اس کی منشا کیا تھی۔ مگر میں نے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لے لیا۔ لیکن پھر جو ہوا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ بزبانِ شاعر یوں سمجھ لیں۔ ؏ شوکت ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا
پھر یوں ہوا کہ میں فیل ہو گیا۔ پہلی بار زندگی میں ناکامی کو نہ صرف قریب سے دیکھا بل کہ محسوس بھی کیا۔ اس کی تقریباً تمام تر لذتوں سے آشنا ہوا۔ اس کے بعد مجھے پہلا احساس یہ ہوا کہ میں نے اپنی تمام تر ناکامی، جو کہ میری سستی، کاہلی اور تساہل کا نتیجہ تھی، کا ملبہ سابقہ اساتذہ پر ڈال دیا۔ کچھ باتیں بہت شاندار ہوئیں۔ اس عرصے میں مَیں پہلی بار غیر نصابی کتابوں سے روشناس ہوا۔ اسی دوران میری ملاقات نہایت قابل استاد سے ہوئی۔
(جو باقاعدہ پڑھاتے تو نہیں تھے لیکن استاد کی تمام تر صفات کے مالک تھے۔ ) بعد ازاں ان کے پاس میں روزانہ کی بنیاد پر جانے لگا۔ ان کی صحبت میرے لیے بہت مفید اور بابرکت ثابت ہوئی۔ میں زندگی کے نئے زاویوں سے واقف ہوا۔ انھوں نے مجھے نا امیدی سے نکال کر امید کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ خیالی دنیا سے حقیقت کی طرف لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ میرے لیے لاشعوری طور پر اساتذہ ہمیشہ سے مقدم اور قابلِ عزت رہے لیکن انٹر کی ناکامی کے بعد جو مَیل دل میں در آئی تھی، جاتی رہی۔
مجھے اساتذہ سے ایسا اُنس نصیب ہوا جو پھر کبھی کم نہ ہو سکا۔ اس ایک استاد نے میری ہمت بندھائی اور مجھے تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کیا۔ ایف۔ اے پاس کرنے کے بعد انھوں نے مجھے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں اپلائی کرنے کا مشورہ دیا۔ میں نے عمل کر دیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بی اے (آنرز) اردو (ایوننگ) کی میرٹ لسٹ میں نام آ گیا۔ ہر چیز اپنی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی لیکن اب میں کچھ بدل چکا تھا۔ اب میرے پاس حصولِ علم کا شوق تھا، آگے بڑھنے کا ارادہ اور نیت تھی۔ ناصر کاظمی کے شعر کے مصداق
؎ میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو
سچ بات تو یہ ہے کہ جی سی یونیورسٹی آنا کبھی بھی میرا خواب نہیں رہا۔ میرا شوق صرف پڑھنے کا تھا۔ میں نے تو صرف ایسی درسگاہ سے پڑھنے کی دعا اور تمنا کی تھی جہاں سے تعلیم اور تربیت دونوں ملیں۔ اللہ نے مجھے جی سی یونیورسٹی بھیج دیا۔ آپ یقین کریں مجھے یہاں سے تعلیم بھی ملی اور ان اساتذہ نے میری تربیت بھی کی۔ ڈاکٹر ماریہ امین صاحبہ کے ساتھ سب سے طویل رفاقت رہی۔ وہ ہماری محسن ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی ایک پہلو ہیں۔ ان کا شمار شفیق، قابل اور دردِ دل رکھنے والے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ میں نے جہاں ان سے بہت سی علمی باتیں سیکھیں وہیں مجھ میں مثبت سوچنے اور بات کرنے جیسی عادت بھی ان کی تربیت کا ثمر ہے۔ بعض اوقات مجھے ان کے صوفی ہونے کا شائبہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے یہ حقیقت ہو۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر نسیمہ رحمٰن صاحبہ، ڈاکٹر الماس خانم صاحبہ، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی اور دیگر اعلیٰ اذہان کے مالک اساتذہِ کرام سے کسبِ فیض کا موقع میسر آیا۔ یہاں سے مجھے بہت سے گُر ملے، امید ملی اور اساتذہ کی بے پناہ دعائیں ملیں۔ مجھے یہ موقع فراہم کرنے میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر صائمہ ارم (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ۔ شعبۂ اُردو) نے ادا کیا۔ ان کی ایک ہاں کی بدولت مجھے آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ وہ ایک لمحہ جس میں انھوں نے مجھے لاہور آنے والوں میں شامل کیا، اگر ایسا نہ کیا جاتا تو میرے پاس لاہور آنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
میں نے ان چار برسوں میں جو کچھ بھی سیکھا، اس کے پسِ پردہ ڈاکٹر صاحبہ کی جنبش قلم کا وہ ایک معمولی لمحہ کار فرما ہے۔ جس نے غیر معمولی نتائج برپا کیے۔ میں ان کا خصوصاً احسان مند ہوں۔ مجھے تمام اساتذہ کی صحبت میں رہنے پر بے حد فخر ہے۔ یہاں کے اساتذہ کا علم اور رویہ دونوں قابلِ رشک ہیں۔ میں نہایت عقیدت اور احترام سے ڈاکٹر صائمہ ارم اور باقی تمام اساتذہ کی بارگاہ میں نذرانۂ شکریہ پیش کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ شاید ہی کسی اور درس گاہ میں فکری، علمی اور عملی تربیت کرنے والے اتنے اساتذہ ایک ساتھ موجود ہوں، جتنے جی سی یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے حصے میں آئے ہیں۔
دوست زندگی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اتنا اہم کہ ان کے نہ ہونے کو غربت سے منسوب کیا گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری پہلی ملاقات تب ہوئی جب ہم پہلے سیمسٹر کے دوران کرونا کے ایام میں کتابیں لینے کی غرض سے یونیورسٹی آئے تھے۔ تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ اللہ نے مجھے ایسے چنیدہ (گیارہ) دوست عطا کیے ہیں، جو ہر اس خوبی سے مالا مال ہیں کہ جو میں اپنے اندر پیدا کرنا چاہتا تھا۔ کوئی پہلوانی کے اسرار و رموز سے آشنا تو کوئی ہمت و جرات کا استعارہ، کوئی نوشاہی سلسلے کی روایتوں کا امین تو کوئی علامہ جیسی صفات کا حامل، کوئی طالب علمی میں ہی استاد کے مرتبہ پر فائز ہوا تو کوئی لیڈر شپ کے ہنر سے بہرہ ور، کسی کے پاس زیست کے سادہ ورق پر رنگ بھرنے کا ملکہ تو کسی کے پاس مرجھائے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا فن، کوئی گمبھیر حالات کو خوبصورت دلیل سے حل کرنے میں ماہر اور کوئی بے ساختہ اور چٹ پٹے جواب سے استاد کے غصے میں تغیر برپا کرنے میں ماہر تھا۔
ان سب میں چند خوبیاں مشترکہ تھیں اور وہ یہ کہ یہ سب کے سب ذہین، نرم دل اور رونقِ محفل تھے۔ مجھے ایک بات کا رنج ہے کہ میں کبھی ان کے کسی کام نہ آ سکا کیوں کہ میرے پاس ایسی کوئی خوبی یا ہنر نہیں تھا کہ جس سے ان دوستوں کے لیے کچھ آسانی ہو سکتی۔ لیکن میں نے بڑی چالاکی سے ان کی خوبیوں کو چرایا، عمل کرنے کی کوشش کی اور ان کو شاید خبر بھی نہیں ہونے دی۔ آج بی اے (آنرز) اردو کی ڈگری کے ساتھ ہی یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔
کانووکیشن بخاری آڈیٹوریم میں ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے جگہ بدل بدل کو یادگار لمحوں کو قید کیا۔ آخری بار ہم اوول گراؤنڈ میں جمع ہوئے، تصاویر بنائیں، گپ لگائی، قہقہے لگائے اور ہاسٹل لوٹ آئے۔ میرا خیال ہے ہم افسردہ نہیں ہوئے کیوں کہ ہمیں معلوم تھا کہ زندگی سفرِ مسلسل ہے اور یہاں ایک اختتام نئے آغاز کی نوید لاتا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو میں نے بہت سی درس گاہوں سے مختلف پایا۔ میں بالکل بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں ان چار برسوں میں اس درس گاہ کو سمجھ پایا ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی اپنا ایسا حصار اور تاثر رکھتی ہے کہ جس کا دیواروں اور گیٹ کے باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے یونیورسٹی کے باہر اور اندر کے ماحول میں زمین اور آسمان کا فرق محسوس ہوا۔ خدا جانے اس کی اینٹوں میں اس کے در اور دیواروں میں ایسی کون سی کشش ہے جو اس کے ماحول کو ذرا سی بھی ٹھیس نہیں لگنے دیتی۔
باہر کی دنیا میں شور شرابا، ہنگامہ، احتجاج، بے سکونی، افراتفری، اضطراب اور بد تہذیبی ملے گی جب کہ یونیورسٹی کے اندر کی دنیا میں سکون، تہذیب، ثقافت، شائستگی، ادب و احترام اور نفاست ملے گی۔ یہاں ایسے اساتذہ ملیں گے جن کے پاس بیٹھ کے، بات کر کے ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہو گا کہ یہ خواب ہے۔ لیکن یقین کریں یہ بالکل بھی خواب نہیں ہو گا۔ ایسے شُستہ مزاج اور تہذیب یافتہ لوگ آج بھی جی سی یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ مجھے ایسے افراد سے ملنے کا اتفاق ہوا جو اس درس گاہ کے عشق میں مبتلا ہیں۔ لیکن اگر ان سے اس عشق کی وجہ دریافت کی جائے تو وہ بتانے سے قاصر رہیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس درس گاہ کی رگ رگ میں لطیف و حفیف پُراسراریت ہے، جسے بیان تو نہیں کیا جا سکتا لیکن محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔


