کہانی مجبوری اور لاچاری کی
یہ کہانی ہے غریبی کی، مجبوری کی، مفلسی کی، کچھ ایسے ضرورت مند جو پتا نہیں اِس وقت کہاں ہوں گے۔ میں سُناتا ہوں آپ کو جو میں نے اِس معاشرے میں ایک ہی دن میں دیکھ لیا اور جس کو میں اب تک بھول نہیں پایا، انہیں دُعاؤں میں یاد رکھتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ اللہ اُن کی مشکلیں آسان کرے۔ آمین۔
تو کہانی کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ ایک دن مجھے اسلام آباد جانا پڑا ایک کمپنی کا ایونٹ مینج کرنا تھا۔ تین دن کا ٹور تھا تیسرے دن ایونٹ تھا۔ خیر پہلے تو تیاریوں میں لگے رہے اور جس دن ایونٹ تھا اُس سے ایک رات پہلے میں ہوٹل پہنچ گیا سب سیٹنگ وغیرہ کروانے کے لئے۔ ایونٹ شروع ہوا اور شام کو اختتام پذیر ہو گیا۔ سب کچھ شُکر ہے اللہ کا بہترین رہا لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ آگے میں کیا دیکھوں گا، سُنوں گا۔
جنہوں نے میرے سے کام لیا تھا انہوں نے بعد میں پیسے دینے کا وعدہ کیا لیکن وہ لمبی کہانی ہے، مقصد یہ کہ میری جیب میں صرف 5000 روپے تھے اور میں اسٹیشن کو چل پڑا ٹیکسی پہ۔ باتیں کرتے کرتے اسٹیشن پہنچ گئے۔ گاڑی سے اُتر کے میں نے سیدھا ٹکٹ بوتھ کا رُخ کیا اور اے سی پارلر کا ٹکٹ لے لیا۔ اب میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ ٹرین پلیٹ فارم پہ آ کے لگے۔ میں جس بینچ پہ بیٹھا تھا ساتھ ہی ایک فیملی بھی تھی کہ ایک دم میری نظر ایک بچے پر پڑی۔
وہ بچہ اکیلا پھر رہا تھا، میں بھاگا بھاگا اُس کے پاس گیا اور اونچی آواز میں پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اِسی دوران وہی صاحب جو میرے ساتھ بینچ پہ بیٹھے تھے وہ آ گئے کہ یہ بچہ ہمارا ہے بس اِدھر اُدھر پھر رہا ہے، میری سانس میں سانس آئی اور ہم بچے کو لے کے واپس آ کے بیٹھ گئے۔ خیر بیٹھے بیٹھے باتیں شروع ہوئیں تو اُن صاحب نے اپنا دل کھول کے رکھ دیا، پتا نہیں وہ شاید انتظار میں تھے کہ کوئی سُننے والا بندہ ملے اور جب میں نے اُن کی باتیں سُنیں تو آپ یقین جانیں میرا دل پھٹنے والا ہو گیا۔
وہ صاحب دوست کی طرف آئے تھے، کچھ ایسی اَن بَن ہوئی دوست کے ساتھ کہ یہاں لکھنا مناسب نہیں۔ میرا دماغ گھوم گیا یہ سُن کر کہ وہ لوگ پچھلے چھ گھنٹے سے وہیں بیٹھے تھے کیوں کہ انہوں نے کراچی جانا تھا اور اُن کے پاس کراچی جانے کے پیسے نہیں تھے اور وہ اللہ کا بندہ کسی سے مانگ بھی نہیں رہا تھا۔ میرے پاس صرف 1500 تھے ٹیکسی کا کرایہ دینے کے بعد اور ٹکٹ لینے کے بعد اور باقی سے میں نے لاہور اسٹیشن سے ٹیکسی پکڑ کے گھر جانا تھا کیونکہ کرائے بڑھ گئے ہیں اس لئے میں نے 1500 سنبھال لئے جو میں دینے کے قابل نہیں تھا۔
اے ٹی ایم میرا بلاک تھا اور کوئی پیسہ نہ جیب میں نہ گھر میں پڑا تھا کہ میں اِن کی مدد کر دوں۔ اُس لمحے میں نے خود کو اِتنا بے بس محسوس کیا کہ سائیڈ پہ ہو کے میں رو لیا، رونا آ گیا مجھے اُن کی مجبوری پہ اور اُس کہانی پہ جو اُن پہ بیتی۔ باتیں کرتے کرتے وقت گزر گیا اور میں ٹرین میں سوار ہو گیا، ٹرین چل پڑی لیکن اُس فیملی کے ایسے نقش دماغ میں بیٹھے کہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ اب اللہ کی تقسیم دیکھیں۔ اُس ڈبے میں میرے آگے ایک ایسی فیملی تھی جو اُمرا میں آتے ہیں۔ میں پھر رو پڑا کہ یا اللہ کیا تدبیریں ہیں تیری، تو ہی جانے اور اُن کی مشکل آسان کردے۔ ٹرین لاہور پہنچ گئی اور اگلا شاک مجھے لاہور پہنچ کے ملا۔
رکشے میں بیٹھا، بہت شریف سا آدمی تھا۔ ہم راستے میں باتیں کر رہے تھے کہ اُس نے بتایا کہ سَر کام ہے ہی نہیں دو تین دن سے میں داتا صاحب سے کھانا کھا رہا ہوں۔ مجھے بہت دُکھ ہوا۔ وہ شخص میرا بھی حوصلہ باندھ رہا تھا کہ سَر اونچ نیچ آتی رہتی ہے آپ بھی پریشان نہ ہوا کریں۔ اتنے میں ہم گھر پہنچ گئے، 500 کرایہ تھا وہ میں نے ابھی جیب سے نکالے ہی تھے کہ اُس کا فون بج گیا صبح کے 5 : 30 بجے کے قریب۔ پیسے میرے ہاتھ میں ہیں وہ فون پہ بات کر رہا ہے، مجھے بس اُس کی کانپتی آواز آئی کہ ”ماں چلی گئی“ ۔
یہ سُن کے میرے بھی ہوش اُڑ گئے مجھے اپنا وقت یاد آ گیا۔ میں بھاگا اُس کے پاس گیا اور کھڑا ہو گیا۔ اب وہ فون پہ بات بھی کر رہا ہے اور ادھر اُدھر سے پیسے بھی نکال کے گِن رہا ہے، میں سائیڈ پہ بیٹھ گیا اور قابو نہ کر سکا، چُپ کر کے دِل کھول کے رویا۔ اتنے میں فون بند ہوا میں نے اُسے تسلی دی، بیٹے کو آواز دی کہ پانی لے کے آؤ کیونکہ اُس کا بلڈ پریشر گِر رہا تھا۔ اُسے پانی پلایا اور اُس نے صرف اتنا کہا کہ سَر 1000 آپ دے دیں گے ایبٹ آباد کی ٹکٹ کروانی ہے، خیر یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ اُسے پانی پلایا، آن لائن ٹکٹ بُک کروائی اور وہ چلا گیا میرے حواس گُم کر کے۔
اِس ایک دن میں وہ کچھ دیکھ اور سُن لیا میں نے کہ گھر تو میں آ گیا لیکن میں کتنے دن ایسے ہی بیٹھے بیٹھے دُعا کرتے رونے لگ جاتا کہ یا اللہ اُن پہ رحم کر، سب پہ رحم کر اور سب کے لئے آسانیاں پیدا کر، سب کی آزمائشیں آسائشوں میں بدل دے اور سب کو سکون عطا فرما۔ آمین۔ گھر والوں کو تو میں نے سب کچھ کافی دن بعد بتایا کیونکہ مجھے ایسا شاک لگا تھا کہ میں بول تک نہیں پا رہا تھا۔ بس چُپ کر کے بیٹھا رہتا تھا۔ یہ ٹور میرے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن کے رہ گیا، اب بھی مجھے وہ سب یاد آتا ہے، آنکھوں کے آگے فلم چلتی ہے، کانوں میں اُن بھائی صاحب کی باتیں گونجتی ہیں، وہ بچہ نظر آتا ہے اور اُس رکشے والے کے احساسات اور جو اُس پہ اُس وقت گزری، یہ سب میرے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔


ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
بہت شکریہ