کیا غزہ اپنے پکاسو کی تلاش میں ہے؟
سپین کی سول وار تاریخ کی وہ پہلی جنگ تھی جس میں ہوائی جہازوں کی مدد سے باقاعدہ یا بڑی تعداد میں شہری آبادی پر بمباری کی گئی۔ تباہ کاری کے اُن مناظر نے بہت سے لوگوں بشمول نامور مصور پابلو پکاسو کو متاثر کیا تھا جس کے احساسات ایک پینٹنگ گورنیکا کی صورت میں سامنے آئے۔ پینٹنگ کا نام سپین کے باسک ریجن کے اُس گاؤں پر ہے جس پر فضائی بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے تھے۔ پکاسو کی بنائی یہ پینٹنگ پہلی بار پیرس انٹرنیشنل ایگزیبشن اور پھر دنیا کے مختلف شہروں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔ یہ نا صرف متاثرین کے لئے فنڈ ریزنگ اور دنیا کی توجہ سپینش سول وار کی طرف مبذول کروانے میں کامیاب ہوئی بلکہ اب تاریخ کی سب سے اہم انٹی وار پینٹنگ مانی جاتی ہے۔
جنگوں میں انسانی ٹریجڈی کی عکاسی کی پرانی تاریخ ہے جو نثر، نظم اور پینٹنگز کے ساتھ ماڈرن زمانہ میں کیمرہ سے کھنچی تصویروں اور جنگ کی لائیو کوریج پر بھی مشتمل ہے جس نے جنگوں اور ان کے متاثرین کے حال کو گھر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ کم و بیش پچھتر سال سے فلسطین میں جاری جنگ کی کوریج بھی مختلف طریقوں سے ہوتی آئی ہے اور اس ٹریجڈی کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لئے بھی ادیب، شاعر، پینٹر اور جرنلسٹ مسلسل لیکن بغیر کامیابی کے اپنا رول ادا کرتے آئے ہیں۔ ویسے اس ضمن میں کامیابی ہوتی کیا؟ شاید صرف اتنی کہ 7 اکتوبر کے واقعہ کو ایک ویکیوم یا خلا میں تصور نا کیا جاتا۔
7 اکتوبر کو ٖحماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے حملہ کو مغربی حکومتوں کی طرف سے بغیر کسی جواز یا خلا میں تصور کیے جانے پر کون قصور وار ہے؟ یقیناً وہ ادیب، شاعر، پینٹر اور جرنلسٹ تو نہیں ہیں جو اپنا رول اپنے جان و مال کی قیمت چکا کر کرتے آئے ہیں۔ مغربی طاقت کے ایوانوں میں بظاہر ایسے لوگ بھی ہیں جن کی عوامی نمائندگی اور سویلین حقوق کی جدوجہد کو سپورٹ کرنے کی لمبی تاریخ ہے کسی بھی طرح کے فلسطینی احتجاج کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کا ردعمل ماننے سے انکاری ہیں اور غزہ میں ڈیڑھ سال سے جاری قتل عام کو اسرائیل کا حق دفاع مانتے ہیں۔ اس ضمن میں بشمول سوشل میڈیا کی کوریج کے کوئی نشریاتی کمی بھی نہیں ہے چاہے اسے کرنے کا مغربی اداروں کا انداز ضرور ایسا ہے جو اسرائیل کو مظلوم دکھاتا ہے۔
پکاسو کی گورنیکا سپینش سول وار کی طرف صرف توجہ دلانے کی حد تک ہی کامیاب ہوئی تھی۔ سپین کی ریپبلیکن حکومت تین سال کے اندر نیشنلسٹ لیڈر فراچسکو فرانکو کی بغاوت کے نتیجہ میں شروع ہوئی جنگ میں شکست کھا گئی تھی اور اگلے پینتیس سال وہاں اس کی آمریت قائمرہی۔ غزہ میں تباہ کاری کی طرف توجہ دلانے میں اگرچہ کوئی پکاسو جیسی شہرت کا فنکار سامنے نہیں بھی آیا لیکن کچھ ملکوں جیسے آئر لینڈ اور ساؤتھ افریقہ کی حکومتیں، دنیا بھر کی سول سوسائٹی خاص طور پر امریکی یونیورسٹی طلبا اور اقوام متحدہ کے مختلف ادارے جیسے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس وغیرہ اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ اپنا رول ایک حد تک ادا کر چکے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کے معاملہ میں بنیادی ذمہ داری رکھتا ہے کی مثال میں یہ حد ہے کیا؟ اس کا اندازہ اس کے جنرل سیکریٹری انتونیو گتیئرز کی اسرائیل کی فضائی بمباری شروع ہونے کے تقریباً فوراً بعد ایک ہی ہفتہ میں دو پریس کانفرنسوں سے مل جاتا ہے۔
گتیئرز نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملہ کے بعد اسرائیل کی طرف سے غزہ پر شروع ہوئی فضائی بمباری کی شدت کا اندازہ لگا چکنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا حماس کا وجود خلا میں ہے؟ یعنی کیا پچھلے پچھتر سال کا اسرائیلی تسلط اس حملہ کا ذمہ دار نہیں ہے؟ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کی طرف سے ایسے بیان پر خوشگوار حیرت البتہ زیادہ دیر قائم نا رہی اور اسے دوسرے دن ہی مغربی دنیا خاص طور پر امریکہ کے دباؤ میں ایک اور پریس کانفرنس میں اپنے اس بیان کی ’وضاحت‘ دینا پڑ گئی۔ اقوام متحدہ جس کے سامنے فلسطین کا سوال دہائیوں سے موجود ہے، متعدد موقعوں پر اسرائیل کی بربریت اور اس کی سرحدوں کے مسلسل پھیلاؤ کے خلاف اپنی ہی پاس کی قراردادیں ہیں ایسا یو ٹرن اُس وقت آخری امید کے ٹوٹ جانے کے مترادف ہی تھا۔ تو اگر کوئی زمینی احساس یا طاقت غزہ کی مصیبت ختم نا کر سکی ہو تو شاید کون کر سکے؟
گتیئرز کے یو ٹرن اور فلسطین میں نہتے انسانوں کی بے چارگی کے بڑھتے احساس پر میں نے اُس وقت ایک تحریر کو نظم کی صورت دینے کی کوشش کی تھی۔ غزہ میں اب تک مزید ہو چکی کئی گنا تباہی اور ہلاکتوں کے بعد مجھے لگتا ہے کہ فلسطین کے معاملہ میں کسی ’پکاسو‘ کی تلاش سے کوئی فائدہ متوقع نہیں لیکن اپنی بے سُود نظم ’گتیئرز کا جواب‘ آج پہلے سے بھی زیادہ متعلقہ لگتی ہے ؛
گتیئرز کا اسی ہفتے منگل کو سوال
کیا حماس خلا میں ہے؟
کیا فلسطین پر سالوں کا تسلط
ہوا میں ہے؟
بدھ تک البتہ اسے
جواب مل بھی چُکا تھا
وہ سمجھ گیا تھا
جو تھا میں نا سمجھا، کہ
حماس کا وجود خلا میں ہے
ابو یوسف غزہ میں ہے
اور مریم حالت نزاع میں ہے
یوسف جو کچھ لمحے قبل
کھیل رہا تھا، اب
بارود سے بکھرا فضا میں ہے
ابو یوسف، مریم بھی سمجھ گئے آخر
میں جو نا سمجھا تھا گتیئرز کا جواب
فلسطین خود تو نہیں، لیکن
فلسطین کا خُدا خلا میں ہے


