فیمنزم اور باچا خان
فیمینزم یا نسائیت کی تعریف کچھ یوں ہے
”نسائیت، نسوانیت، تانیثیت یا تحریک آزادیٔ نسواں ان معاشرتی تحریکوں، سیاسی تحریکوں اور تانیثی نظریات کا ایک سلسلہ ہے جس کا مقصد جنس کی سیاسی، معاشی، ذاتی اور معاشرتی مساوات کو متعین اور قائم کرنا ہے“
جنس کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم سے جو طبقات وجود میں آتے ہیں۔ ان کا رشتہ آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ آقا اور غلام کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
صنفی بنیادوں پر آقا اور غلام کے رشتے کو ختم کر کے مرد و عورت کے درمیان برابری کی بنیادوں پر رشتہ استوار کرنے کی تمام کاوشیں فیمینزم کے زمرے میں آتے ہیں۔
جنس کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم کی جڑیں تاریخ میں بہت دور تک جاتی ہے۔ زرعی انقلاب کے بعد سے انسانی تاریخ میں صدیوں سے موجود سوشل فیبرکس کو اس قدر تھوڑا گیا کہ اس کے بعد سے جس سماج کی جو بنیادیں رکھی گئی۔ وہ ہر طرح سے استحصالی تھا۔
اس نظام کی بنیادوں میں جو بگاڑ تھا۔ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی منظم شکل اختیار کرتا گیا۔ جس کے نتیجے میں جو سماج سامنے آئی۔ اس میں مرد عورت برابر تھے نہ ہی مرد آپس میں برابر تھے۔
اس نظام کی ارتقائی منازل پر پھر کبھی بحث کریں گے۔ مگر تاریخ میں آگے آ کر بیسویں صدی کے ہندوستان پر نظر دوڑائے۔
سونے کی اس چڑیا پر تاج برطانیہ کے ”سفید فاموں“ نے قبضہ جما رکھا ہے۔
کسی بھی قسم کا استحصال دوسرے استحصالی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ تاج برطانیہ کو مضبوط کرنے کے لیے ان مروجہ ”رسوم و رواج“ کو جو تاج برطانیہ کو دوام بخشتا ہو، نہ صرف برقرار رکھنا تھا مگر انہیں اور بھی مضبوط رکھنا تھا۔
ان حالات میں ہندوستان کی نسائی تحاریک جن منازل کو طے کرتے ہوئے آگے بڑھی ہے۔ ان کو ”وائٹ فیمینزم“ کے فریم ورک میں سمجھنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو گا۔
اکادمیہ نے نسائیت کو تین مختلف مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ تیسری دنیا میں فیمینزم کو سمجھنے کے لیے تیسرا مرحلہ سمجھنا ضروری ہے۔ جو نسائیت کو قومی شناخت سے الگ نہیں دیکھتی۔ یہ مرحلہ 1990 کی دہائی میں شروع ہو کر 2010 تک احاطہ کرتی ہے۔
اس مرحلے میں عورتوں کے حقوق کو ان کی قومی شناخت سے جوڑ کر ان پر بحث کی گئی۔ اس بات میں شبہ نہیں کہ ایک افغان خاتون کبھی بھی ایک یورپی خاتون کے برابر نہیں ہو سکتی۔ ملکہ ثریا (ملکہ افغانستان) کی قوم کو برباد کرنے کے لئے مذہبی انتہاپسندوں کو مارگریٹ تھیچر (برطانوی وزیراعظم) کی حکومت نے کیوں اور کیسے سپورٹ کیا؟ یہ پوری دنیا جانتی ہے۔
کیا جین کرک پیٹرک، جس کی کاوشوں سے افغان انتہاپسندوں کو اسٹنگر میزائل دیے گئے، اس افغان عورت کے برابر ہو سکتی ہے، جس کا شوہر اور تین بیٹے اس جنگ کا ایندھن بنے؟
فیمنزم قومی شناخت کے بغیر دیکھنا، خود فیمنسٹ تحریکوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
فیمنزم کو قومی شناخت سے الگ نہ دیکھنے پر ہندوستان کے منورین میں جو نام سب سے پہلے ذہن میں اتا ہے وہ فخر افغان خان عبدالغفار خان کا ہے۔
بمبئی میں ایک جلسے سے خطاب کرتی ہوئی سروجنی نائیڈو نے اکتوبر 1934 میں کہا تھا۔
” باچا خان کہتے ہیں کہ میں لیڈر نہیں ہوں، لیکن جب ہندوستان کے لیڈروں کی قطار میں باچاخان کو دیکھتی ہوں تو مجھے دوسروں سے گز بھر اونچے دکھائی دیتے ہیں“
باچا خان دوسروں سے گز بھر اونچے کیوں تھے؟ اس کا جواب ہر اس شخص کے پاس ہو گا جو باچا خان کی تحریک کا مطالعہ کر چکا ہو۔ راقم ایک ہزار ایک دلیلوں سے سروجنی نائیڈو صاحبہ کی کہی ہوئی بات کو ثابت کر سکتا ہے۔
اپنے پچھلے بلاگ میں راقم نے کہا تھا کہ باچا خان نے خدائی خدمت گار تحریک کی بنیادیں ڈالتے وقت نظریات درآمد نہیں کیے۔ اس کی سب سے بڑی مثالوں میں ایک باچا خان کا تحریک نسائیت کا اپنا نقطہ نظر تھا۔ یورپی معاشرے میں اس وقت وائٹ فیمینزم کا بول بالا تھا۔ ایک صدی بعد جس فیمنزم پر بات کی جا رہی ہے۔ باچا خان نے اسے ایک صدی پہلے پریکٹس کیا۔ باچا خان اپنے وطن میں رائج رسومات کے ساتھ تاج برطانیہ کی طرف سے تھوپے گئے تمام استحصالی نظاموں سے باغی تھا۔
خدائی خدمت گار تحریک کی پختون دانش نے زمانے کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے پوسٹ ٹرتھ ایرا (Post Truth Era) میں بھی اپنی ایک خاص پہچان بنا رکھی ہے۔
باچا خان نہ تو پدرسری سماج کے آگے جھکے اور نہ ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے استحصالی نظام کی رنگینیوں میں ڈوبے۔
باچا خان نے ہر وقت پدرسری سماج پر وار کیا۔
انہوں نے سب سے پہلے اپنے پختون وطن کے ہر حجرے اور ہر دہلیز پر جا کر لوگوں کو آزادی کے معنی سمجھائے۔ باچا خان کے نزدیک فرنگی استعمار کا ہندوستان سے نکلنا ہر گز آزادی نہیں۔ باچاخان کے ہاں تصور آزادی ان کے فلسفہ عدم تشدد جتنا وسیع تھا۔ باچا خان کی آزادی طبقاتی معاشرے سے، پدرسری معاشرے سے، مذہبی عدم برداشت سے اور سب سے بڑھ کر فرنگی استعمار کی فکری بے ایمانیوں سے آزادی تھی۔ باچا خان کے خدائی خدمت گاروں نے آزادی کے اس کثیر الجہتی تصور کو اپنے پلے باندھا تھا۔
باچا خان کی تحریک نے پدرسری سماج پر ہر طرف سے وار کیے۔ ان میں سب سے بڑا وار فیمینزم کو قومی آزادی کے ساتھ جوڑ کر کیا گیا۔ خدائی خدمت گار تحریک کی فکری بنیاد رکھنے والوں کی شاعری اور مضامین پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے۔ کہ اس تحریک نے اور اس کے بانی نے کس قدر شدت سے پدرسری سماج کی بنیادیں ہلا دی تھی۔
جلسے، جلوسوں، رسالوں، اخباروں اور حجروں میں جب پدرسری سماج پر گرم مباحثے شروع ہوئے۔ تب عظیم باچا خان نے قومی شناخت سے پیوند آزادی کے کثیر الجہت تصور سے جڑی فیمینزم کے حق میں پدرسری سماج پر ایک اور مضبوط وار کیا۔
اور یہ وار پدرسری سماج کے خلاف بنے اس سٹیج کی باگ ڈور خود عورتوں کے حوالے کرنا تھی۔
اگرچہ باچا خان کی تحریک میں فیمینزم کی بنیاد خود مردوں نے رکھی تھی۔
باچا خان، فضل الرحیم ساقی، عبدالاکبر خان اکبر اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے جب عورتوں کی حقوق کے لئے پختون معاشرے میں ایک توانا مکالمے کی شروعات کی۔ تب انہوں نے خود الف جان خٹکہ، سیدہ بشرہ بیگم، اقبال پروین یوسفزے، روشن غنی خان، مجیدہ بیگم، امینہ خاتون، سیدہ ادینہ، ماہرہ سلطان، نورجہان بیگم اور بیگم زری سرفراز خان کو یہ اسٹیج حوالے کیا۔
ان کو یہ بات خوب سمجھائی کہ اس سماج کے خلاف جدوجہد میں اگرچہ مرد ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے مگر خدائی خدمت گار تحریک کے اندرون میں سے اٹھی اس نسائی تحریک کی رہنمائی خود عورتیں ہی کریں گی۔
24 اکتوبر 1945 کو ”پختون“ رسالے میں ”ایک بہن کی نظم“ پر اپنے اداریے نوٹ میں باچا خان لکھتے ہیں۔
” میری زندگی کا مقصد یہی ہے کہ عورتوں کو اپنے پوری حقوق مل جائے۔ مگر اس بہن کی خدمت میں عرض ہے کہ اس دنیا میں اپنا حصہ اپنے بل بوتے ہی لینا پڑے گا“
یہاں پر یہ بات ضروری ہے کہ اگرچہ فیمنزم کی یہ تحریک قومی آزادی کے وسیع تصور سے جڑی ضرور تھی مگر اس کی حیثیت کبھی بھی ثانوی نہ تھی۔ بلکہ قومی آزادی سے پہلے صنفی آزادی مقصود تھی تب جا کر قومی آزادی یقینی ہو سکتی تھی۔
اس حوالے سے خود باچا خان کہتے ہیں۔
” جس قوم کی عورتیں بیدار ہوجائیں اور اپنی قوم و ملک کی آزادی کے لئے کمر کس لیں تو اس قوم و ملک کو کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔ ایسی اقوام بہت جلد منزل پا لیتی ہیں“
قومی آزادی کے لئے عورتوں کا بیدار ہونا ضروری ہے۔ منزل تب ہی ممکن ہو سکے گی۔
باچا خان سمجھتے تھے کہ جب معاشرے کی آدھی آبادی کو گھر بٹھایا جائے۔ تو قوم کا آدھا وجود مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسے میں آزادی اور قومی ترقی کے بارے سوچنا بھی محال ہے۔
پدرسری سماج کے رکھوالے عورت کو معاشرے سے ایکس کمیونیکارڈ کرنے کے لیے عورت کے وجود میں سب سے پہلے اس کی ذہنی صلاحیتوں کی نفی کرتے ہیں۔ باچا خان ایسے افکار کے مقابل صف میں جا کر کھڑے ہوئے۔ بلکہ ایک قدم آگے جا کر پختون عورتوں کو مردوں سے زیادہ ذہین سمجھتے تھے۔
ان خیالات کا ذکر ان کے تحاریر میں جگہ جگہ ملتا ہے۔
وہ ہر جگہ کہتے تھے
”پشتون عورتیں مردوں سے بڑھ کر ذہین ہے“
باچا خان عورتوں کے حق خود ارادیت کے داعی تھے۔ بچپن میں طے کیے گئے شادیوں کے سخت خلاف تھے۔ باچاخان عورت کو مکمل انسان سمجھتے اور دوسروں سے یہ بات منوانے کے لئے عمر بھر جدوجہد کی۔
باچاخان لکھتے ہیں
”کوئی بھی قوم عورتوں کی حیثیت مانے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ مگر ہمارے معاشرے میں صرف امور خانہ داری اور بچوں کی تربیت عورتوں کے حوالے ہوتی ہیں۔“
باچا خان عمل کے آدمی تھے۔ جب بیمار پڑ گئے تو لندن میں علاج کے لیے ڈاکٹر مطیع اللہ کے گھر رکے تھے۔ فضل رحیم ساقی لکھتے ہیں کہ ضعیف اور بیمار باچا خان بیگم ڈاکٹر مطیع اللہ کے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ اگرچہ وہ بہت منع کرتی مگر باچا خان یہ کہتے کہ میں تیار خور نہیں۔ اپنے حصے کا کام میں ضرور کروں گا۔
باچا خان کی تحریک میں پدرسری سماج کا بائیکاٹ اس نہج تک پہنچ چکا تھا کہ مروجہ پردے کے خلاف مضامین اور شاعری بھیجنے پر لکھاریوں کو باقاعدہ انعامات سے نوازا جاتا تھا۔
اس سے بڑھ کر بھلا نسائی سوال کے ساتھ اور کیسے کھڑا ہوا جائے کہ خدائی خدمت گار قیمت شاہ نے پردے کے خلاف نظم لکھنے پر 25 روپے انعام رکھا تھا۔
مروجہ پردے کے خلاف نظم لکھنے پر یہ انعام کرک کے الف جان خٹکہ نے جیتا۔ ان کے اس پشتو انعامی نظم کے ترجمے کا ایک بند آپ کی نظر
عورت بھی دل رکھتی ہے
دل میں خواہشات رکھتی ہے
سر میں دماغ
دماغ میں احساسات رکھتی ہے
نہ ہے یہ سنگ
تمہاری طرح جذبات رکھتی ہے
اچھے خیالات رکھتی ہیں
بلکہ تم سے بھی شاندار رکھتی ہے
الف جان خٹکہ جیسے لاکھوں نوجوانوں پر باچاخان کی کرشماتی شخصیت کا اثر ہو رہا تھا۔ سیمون دی بووا کی اس ہم عصر نے آنے والے نسلوں کے لئے جو علمی خزانہ ”پختون“ رسالے کے بکھرے صفحوں پر چھوڑا ہے۔ وہ عالمی نسائی تحریکوں کی ادب میں نئے ممکنات کو جنم دے سکتا ہے۔
1940 کی دہائی میں کرک کے دور دراز ”احمدی بانڈا“ میں جو شاعری ہو رہی تھی۔ وہ اتنی موثر تھی کہ انگریزوں کو بار بار ”پختون“ رسالے پر پابندی عائد کرنی پڑتی۔ الف جان خٹکہ اور سیدہ بشریٰ بیگم کی شاعری سے انگریز خوف کھاتا تھا۔ یہ سمجھنا آسان ہے۔ مگر پاکستان کی اسلامی جمہوریہ کو اس سے کیا خطرہ تھا کہ ”پختون“ پر پابندی عائد کی؟
عظیم باچا خان نے سو سال پہلے جو بات پختون مرد عورت کو سمجھائی تھی۔ سو سال بعد آج اس کی ضرورت ہر وقت سے زیادہ ہے۔
آج کے نوجوان مرد عورت کو اس بات پر سوچنا پڑے گا کہ باچا خان کی حقیقی سیاسی جدوجہد کو کن قوتوں نے کچلا؟
اس حقیقی سیاسی جدوجہد کو کچلنے کے بعد جو خلا سامنے آیا، اسے کن ”قوتوں“ نے کن کن ”لوگوں“ سے بھرا؟ اور ان لوگوں نے بعد میں نسائی سوال کو کس قدر کچلا؟
کیوں فیمنسٹ ہونا ایک گالی بن کے رہ گئی؟
ان سوالوں کے جواب دیے بغیر، ان کا مداوا کیے بغیر نہ تو نیا پاکستان چل سکے گا اور نہ ہی پرانا۔

