علامہ اقبال اور ہائیڈل برگ میں شبنم اور ستاروں کا ایک مکالمہ
کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بہ طور اقبال شناس اور بہ طور قوم اس عالی دماغ کے پیغام کو تو رسمی طور پر بہت غیر معمولی طور پر اہمیت دی لیکن بہ طور فن کار ہم نے کبھی انھیں جاننے کی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال بہ طور مفکر تو بہت بلند ہوتے چلے گئے لیکن بہ طور تخلیقی فن کار ہم ان سے زیادہ آشنا نہ ہو سکے۔ یہ ایک اجتماعی غفلت ہے کہ جس کا علامہ اقبال شکار ہوئے ہیں۔ اس نظم ‘ شبنم اور ستارے’ میں شبنم کی زبانی انسانوں کی بستی کا احوال بڑی درد مندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس درد مندی میں مشرق کی شعری روایت کا حسن تخلیقی ذہن کو لبھاتا ہے۔ دنیا کے اس باغ میں کلی کھلتی تو ہے لیکن مرجھانے کی خاطر، یہاں صبا آتی تو ہے لیکن پلٹ جانے کی خاطر، گُل کھلتے ہیں لیکن نالہ ءبلبل کی صدا سن سکتے ہیں اور نہ ہی میرے دامن سے موتیوں کو چن سکتے ہیں، خوش آواز پرندے قفس میں مقید کر دیے جاتے ہیں، پھولوں کے سایے تلے خار اگتے ہیں، نرگس کی آنکھ ہمیشہ آنسوؤں سے تر رہتی ہے اور طالب نظارہ ہونے کے باوجود محروم ہے، اس گلشن میں شمشاد نام کو آزاد ہے، تاروں کو انساں نے شررِ آہ سمجھا تو مجھے (شبنم) کو آسمان سے ٹپکا ہوا آنسو قرار دیا، چاند کے نشاں کو داغِ جگر جانا گیا، اس بستی کی بنیاد زوال اور تبدیلی پر ہے، انساں کی یہ بستی اس جہان پر فریاد کی تصویر کی صورت موجود ہے۔
شبنم کی زبانی انساں کی بستی کے احوال پر یہ نظم ختم ہو جاتی ہے اور قاری ستاروں کے رد عمل کا منتظر رہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال نے اس نظم کو اس مقام پر ختم کرنا زیادہ مناسب جانا کہ جہاں کچھ سوالات برقرار رہیں اور یہ علامہ اقبال کا عمومی تخلیقی رویہ بھی تھا کہ کلائمکس پر نظم اختتام پذیر ہو جاتی ہے اور سوچنے والوں کے لیے بہت سے سوال بھی چھوڑ جاتی ہے۔ مظاہر ِفطرت میں کم و بیش اسی نوع کے زوال، فنا اور تغیر کی کہانی علامہ اقبال کی نظم "حقیقت حسن” میں بھی نمایاں ہے کہ جس میں انھوں نے اس دنیا کی نمود کو رنگ تغیر کے تناظر میں دیکھا گیا اور اس دنیا کو تصویر خانہ اور شب ِ دراز ِ عدم کا ایک ایسا فسانہ قرار دیا کہ جس کا حسن اس کے زوال ہی میں پوشیدہ ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ ‘ حقیقت حسن’ بھی ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے لکھی گئی۔ ‘ اختر صبح’ کے بارے میں تو یہ واضح ہے کہ اس نظم کو ہائیڈل برگ میں بیٹھ کر لکھا گیا۔ ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے لکھی جانے والی ان پانچ چھ نظموں کا موضوع مظاہر فطرت کی خوش نمائی تلے زوال، فنا اور متحارب نمود ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے ان کا شعری اور تخلیقی رویہ مشاہدہ فطرت کے نہایت لطیف اور باریک پہلوؤں کا احاطہ کرتا رہا۔
ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے مختصر زمانہ ءقیام ( 02 جولائی 1907ء تا 5 نومبر 1907ء) کے دوران میں لکھی جانے والی اردو نظموں میں مظاہر فطرت کے نہایت لطیف مشاہدات کا ثمر موجود ہے۔ یورپ میں قیام بالخصوص جرمنی میں ان کا عرصہ ءقیام فطرت کے مشاہدات کی انوکھی روداد ہے کہ جسے علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ‘ شبنم اور ستارے’ کی صورت میں تمثیل کی تکنیک میں پیش کرتے ہوئے مظاہر فطرت کو کرداروں کا درجہ عطا کیا اور ان کے باہمی مکالمے سے اپنی فکری گہرائی کو اجاگر کیا۔
ہائیڈل برگ ایک وادی کی صورت نہایت حسین شہر ہے جس کے بیچوں بیچ دریائے نیکر رواں ہے اور اس دریا کے دونوں طرف بلند پہاڑوں کی ڈھلانیں سرسبز درختوں سے بھری ہوئی ہیں۔ فطرت اس شہر پر مہربان ہے اور روئے زمین کے چند ایک نہایت حسین خطوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ علامہ اقبال یورپ جانے سے قبل ہی فطرت کی رعنائی سے جھلملاتی ہوئی اردو نظمیں کہہ چکے تھے اور ان کا دل فطرت کی جانب رجوع کی عالم میں پہلے ہی سے تھا جسے ہائیڈل برگ اور میونخ میں فطرت کے بے پناہ حسن نے اور زیادہ متاثر کیا۔ اسے اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال جب انگلستان سے ہائیڈل برگ پہنچے تو تب خزاں کے موسم کی آمد آمد تھی جو یورپ میں بسا اوقات بہار سے بھی زیادہ رنگین ہوتا ہے کہ درختوں کے پتے مختلف رنگ اختیار کرتے ہوئے اپنی شاخوں سے جدا ہونے کو تیار ہوتے ہیں۔
ہائیڈل برگ میں موسم خزاں کی رعنائی اور رنگا رنگی کے پہلو بہ پہلو ایک پیغام ِ فنا پوری فضا میں مکمل شدت سے ساتھ موجود ہوتا ہے اور حساس دل اس منظر سے افسردہ ضرور ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے ہاتھ خالی ہونے لگتے ہیں اور ہرا بھرا شہر خنک سرمئی نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ راقم کو اس موسم میں ہائیڈل برگ کو دیکھنے کا موقع ملا ہے، موسم سرما کی آمد سے پہلے پورا شہر درختوں کے پتوں سے خالی شاخوں کے سرمئی رنگ سے بھر جاتا ہے۔
ہائیڈل برگ میں فطرت کے حسنِ بلا خیز کا جھڑ کر ختم ہو جانا، درختوں کے ہاتھوں کا خالی ہونا اور موسم خزاں کے سبھی استعاروں کا موجود ہونا علامہ اقبال کے قلب و نظر پر کیا اثر چھوڑ گیا ہو گا، اس کا سراغ ان کی نظم "شبنم اور ستارے” سے بھی نمایاں ہے۔ ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کی سماجی زندگی کی چند جھلکیاں عطیہ فیضی کے روز نامچے سے معلوم ہوتی ہیں اور کچھ حد تک ایما ویگناسٹ کے نام لکھے جانے والے مکاتیب سے بھی ہائیڈل برگ میں ان کے روز و شب کا اندازہ ہوتا ہے لیکن علامہ اقبال کی فکری جہات کا تعین ان کی نظموں سے ہی زیادہ بہتر انداز میں کیا سکتا ہے۔ ہائیڈل برگ میں لکھی جانے والی یہ نظم دست قدرت کے ہاتھوں زندگی کے حسین تر مظاہر کے فنا ہونے، حیات کے پہلو بہ پہلو ممات کے تصورات اور مظاہر قدرت میں متحارب اور مخالف علائم کی موجودگی کی تخلیقی روداد بن جاتی ہے کہ جس کی ایک مثال گُل کے زیرِ سایہ خار کا نمو پذیر ہونا ہے۔
اقبال کی یہ نظم رومانی شاعری کے باوصف ہونے کے سبب مظاہر فطرت کو سامنے لاتی ہے لیکن مظاہر فطرت کا ہر استعارہ دراصل زمین پر انسانی زندگی کی علامت ہے، اس طور یہ نظم محض مظاہر فطرت کے زوال تک خود کو محدود نہیں رکھتی بلکہ زمین پر حیات انسانی میں گُل اور خار کی دوئی کی ناگزیر حقیقت کو فنکارانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔
یہ نظم علامہ اقبال کے شعری مجموعے ‘ بانگ درا’ کے حصہ سوم ( 1908ء تا۔ ) میں موجود ہے لیکن معتبر تر شواہد ایسے موجود ہیں کہ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نظم کو علامہ اقبال نے ستمبر 1907ء میں ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے تخلیق کیا۔ اس اعتبار سے اس نظم کو ‘ بانگ درا’ کے حصہ دوم ( 1905ء سے 1908ء تک) میں موجود ہونا چاہیے تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نظم ‘ بانگ ِدرا’ کے حصہ سوم (1908ء سے۔ ) میں اولیں ایڈیشن سے موجود ہے۔ بانگ درا‘ میں شامل نظموں اور غزلیات کو چونکہ خود علامہ اقبال نے زمانی اعتبار سے تین حصوں میں منقسم کیا ہے، اس لیے شارحین اقبال نے اقبال کی شاعری کے ادوار اور ان کے فکری ارتقا کو اسی زمانی تناظر میں رکھ کر پیش کیا ہے۔ اس بارے میں وثوق سے کہنا دشوار ہے کہ ستمبر 1907ء میں لکھی جانے والی اس نظم کو علامہ اقبال نے’ بانگِ درا’ کے دوسرے دور میں شامل کیوں نہ کیا کہ اس دوسرے دور کی نظموں کا زمانی تعلق ان کے قیام یورپ سے وابستہ ہے اور یہ نظم ‘ بانگ درا’ کے تیسرے دور میں کیسے شامل ہوئی کہ اس دور کی تخلیقات کا تعلق قیام یورپ سے بعد کے زمانے سے ہے۔ قیاس اس بارے میں کئی دریچے وا کرتا ہے کہ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ علامہ اقبال کی حیات کے دوران میں اس شعری مجموعے کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ تمام تر اشاعتوں میں ترتیب و اہتمام یکساں رہا۔ اس شعری مجموعے کے ہر حصہ کے ساتھ قوسین میں زمانے کی صراحت موجود ہے کہ جسے ہر خاص و عام دیکھ سکتا ہے۔ ذیل میں علامہ اقبال کے ہاتھ سے لکھی گئی اس نظم کا عکس پیش خدمت ہے کہ جس پر ان کے اپنے قلم سے اس نظم کے تحریر کیے جانے کا زمانہ اور مقام درج ہے :
ذیل میں اس متن کو بہ مطابق قلمی بیاض کمپیوٹر ٹائپنگ میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ متن کو پڑھنے میں آسانی ہو۔
4 ستمبر 1907ء ہائیڈل برگ
اک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارے ہر صبح نئے تجھ کو میسر ہیں نظارے
کیا جانیے تو کتنے جہاں دیکھ چکی ہے جوبن کے مٹے ان کے نشاں دیکھ چکی ہے
زہرا نے سنی ہے یہ خبر ایک ملک سے انسانوں کی بستی ہے بہت دور فلک سے
کہہ ہم سے بھی اس کشور دلکش کا فسانہ
گاتا ہے قمر جس کی محبت کا ترانہ
” اے تارو نہ پوچھو چمنستانِ جہاں کی گلشن نہیں اک بستی ہے وہ، آہ و فغاں کی
آتی ہے صبا واں سے پلٹ جانے کی خاطر بیچاری کلی کھلتی ہے مرجھانے کی خاطر
کیا تم سے کہوں کیا چمن افروز کلی ہے ننھا سا کوئی شعلہ بے سوز کلی ہے
گل نالہ ءبلبل کی صدا سن نہیں سکتا دامن سے مرے موتیوں کو چن نہیں سکتا
ہیں مرغ ِ نوا ریز گرفتار غضب ہے اگتے ہیں تہ سایہ گل خار غضب ہے
رہتی ہے سدا نرگس بیمار کی تر آنکھ دل طالب نظارہ ہے محروم نظر آنکھ
دل سوختہ گرمی فریاد ہے شمشاد زندانی ہے اور نام کو آزاد ہے شمشاد
تارے شرر آہ ہیں انساں کی زباں میں میں گریہ گردوں ہوں گلستاں کی زباں میں
نادانی ہے یہ گرد زمیں طوف قمر کا سمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کا
بنیاد ہے کاشانہء عالم کی ہوا پر
فریاد کی تصویر ہے قرطاس فضا پر
علامہ اقبال کی قلمی بیاض میں شامل اس نظم کا یہ عکس اس نظم کے زمانہ تحریر اور مقام کا معتبر ترین ماخذ ہے کہ جس سے اس امر کا حتمی تعین ہو جاتا ہے کہ ‘ بانگ درا’ میں شامل نظم ‘ شبنم اور ستارے’ ہائیڈل برگ میں ستمبر 1907ء میں تخلیق کی گئی اور ‘ بانگ درا’ میں اس کا وقوع زمانی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ اس نظم کو ‘ بانگِ درا’ کے حصہ دوم میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ ‘ بانگ درا’ میں اس نظم کے وقوع کے بارے میں ڈاکٹر صابر کلوری صاحب نے چند بلیغ اشارے کیے ہیں کہ اس نظم سے پہلے ‘ فاطمہ بنت عبداللہ’ موجود ہے کہ جو ‘ وکیل’ امرتسر میں 7 جون 1913ء کو شائع ہوئی لیکن اس کا زمانہء تحریر نومبر 1912ء ہے۔ اس نظم کے بعد ‘ محاصرہ ادرنہ’ کے عنوان سے ایک نظم موجود ہے۔ کلوروی صاحب کے بقول محاصرۂ ادرنہ فروری 1913ء کا واقعہ ہے۔ اس لحاظ سے نظم ‘ شبنم اور ستارے’ نومبر 1912ء اور فروری 1913ء کے درمیان کی تصنیف ہونی چاہیے، جودرست نہیں۔ صابر کلوروی صاحب کے مطابق "چاہیے تو یہ تھا کہ علامہ اسے حصہ دوم میں شائع کرتے۔ لیکن علامہ نے اسے حصہ سوم یعنی 1908ء کے بعد کے کلام میں شامل کیا” جس زمانے میں صابر کلوروی صاحب کا یہ مضمون شائع ہوا شاید تب رسائل میں عکس شائع کرنے کی سہولت نہ ہوتی ہوگی، اس لیے شہادت کے طور پرقلمی بیاض سے اس نظم کا عکس شامل نہ کر سکے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں قلمی بیاض تک رسائی تو ممکن ہو لیکن اس کا عکس لینے اور اسے پیش کرنے کی سہولت موجود نہ ہو۔ ہم نے علامہ اقبال کی قلمی بیاض سے یہ عکس اس مضمون میں پیش کر دیا ہے کہ اس نظم کے زمانہ تحریر اور مقام کی تائید میں معتبر ترین ماخذ دیکھا جا سکے۔
علامہ اقبال کی قلمی بیاض اور ‘ بانگ درا’ کے میں موجود اس نظم کے متن میں اختلاف نسخ فقط بعض الفاظ کی املاکی صورت میں موجود ہے۔ قلمی بیاض میں ‘ زہرا’ جبکہ ‘ بانگِ درا’ میں اس کی املا ‘ زہرہ’ درج ہے۔ قلمی بیاض میں ‘ دیکہہ’ جبکہ ‘ بانگِ درا’ میں ‘ دیکھ’ ، بیاض میں ‘ ننہا’ بانگ درا میں ‘ ننھا’ ، بیاض میں ‘ آنکہہ’ بانگ میں ‘ آنکھ، بیاض میں’ ہے ‘ جبکہ بانگ میں’ ہے ‘ درج ہے۔ قلمی بیاض میں عنوان درج نہیں جبکہ شعری مجموعے میں یہ نظم’ شبنم اور ستارے ‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ قلمی بیاض میں پہلے شعر میں دوسرے مصرعے میں’ ہر صبح میسر ہیں۔ ‘ میں سے’ میسر ہیں ‘ کوقلم زد کیا گیا اور مصرعے کی صورت یہ ہے’ ہر صبح نئے تجکو میسر ہیں نظارے ‘ ۔ گمان ہوتا ہے کہ مصرعہ مکمل کرنے سے قبل ہی اس میں سے’ میسر ہیں ‘ کو قلم زد کیا گیا ہو گا کیوں کہ مصرعے میں آگے چل کر کوئی لفظ قلم زد کیا ہوا نظر نہیں آتا۔ کہیں کہیں مختلف الفاظ کو جوڑ کر لکھنے کا تفاوت بھی بیاض اور بانگ میں موجود ہے۔ بیاض میں’ جوبن کے ‘ جبکہ’ بانگ درا ‘ کا وہ ایڈیشن جو اقبال کی زندگی میں شائع ہوا، اس میں اسے’ جوبنکے ‘ کتابت کیا گیا۔ اقبال اکادمی کے زیر اشاعت شائع ہونے والے’ کلیات اقبال۔ اردو‘ میں اسے’ جوبن کے‘ درج کیا ہوا ملتا ہے۔ اس نوع کے معمولی نوعیت کے اختلاف نسخ یا املاء کے علاوہ نظم کا متن دونوں جگہ یکساں ہے کہ جو اپنی جگہ علامہ اقبال کے مزاج سے بہت ہٹ کر ہے۔ علامہ اقبال کی قلمی بیاضوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے کلام میں بہت کانٹ چھانٹ کی تھی، نظموں میں بند کے بند تبدیل کر دیے یا اشعار میں ترامیم و اضافے سے بہت کام لیا۔ گمان کیا جاسکتا ہے کہ کانٹ چھانٹ کا یہ عمل’ بانگِ درا ‘ کی ترتیب کے دوران کیا گیا ہو گا۔
ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے علامہ اقبال نے جو نظمیں تخلیق کیں اوران میں سے بعد ازاں جن نظموں کو ’بانگ درا‘ میں شامل کیا، قلمی بیاض اور شعری مجموعے میں ان کے متون میں واضح فرق موجود ہے۔ کہیں اشعار کی ترتیب بدل دی گئی، کہیں اشعار میں ترامیم کی گئیں تو کہیں کچھ اشعار کو حذف کیا گیا لیکن ہائیڈل برگ میں لکھی جانے والی یہ واحد نظم ہے کہ جس میں ترمیم و اضافہ نظر نہیں آتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس رو میں یہ نظم تخلیق ہوئی، کم وبیش سترہ برس بعد مصرعوں کی اسی ترتیب کے ساتھ شعری مجموعے کا حصہ بنی۔ عام طور پر ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ اولیں نشست میں جو خیال قلم بند کیا جائے، وہ اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی من و عن اسی اولیں شکل میں شائع ہو۔ یہ نظم اس امر کی دلیل ہے کہ علامہ اقبال کے دل و دماغ پر جو خیال 1907ء میں جن الفاظ کی صورت اترا تھا، اسی شکل میں برسوں بعد شعری مجموعے کا حصہ بنا۔ ذیل میں علامہ اقبال کی حیات میں شائع ہونے والے شعری مجموعے ’بانگِ درا‘ میں سے اس نظم کا متن پیش خدمت ہے کہ جس سے باآسانی قلمی بیاض اور شعری مجموعے میں موجود متن کی ایک سی صورت دیکھی جا سکتی ہے۔
اس نظم کے محرکات پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ایک محرک خارجیت کا ہے کہ جس کی جانب مضمون کے آغاز میں اشارہ کیا گیا لیکن ساتھ ساتھ یہ خیال بھی دامن گیر ہے کہ تخلیق شعر ایک نہایت درجہ پراسرار عمل ہے کہ جسے کھوجنے کا سراغ صدیوں سے لگا یا جاتار ہا ہے لیکن کوئی حتمی تعین کیا نہیں جا سکا۔ خارجی عوامل سے لے کرشخصیت کی تشکیل، باطنی اٹھان، بچپن اور لڑکپن کے تجربات کو فرائیڈ نے اپنی نفسیات میں بہت اہمیت دی، ژونگ نے اجتماعی لاشعور کا سراغ لگا کر تخلیقی عمل کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ سماج میں موجود جبر، نا انصافی اور ظلم کو بھی تخلیق شعر کے اسباب میں جانا گیا تو کہیں خود غالب جیسے نابغے نے اسے نوائے سروش قرار دے کر اور پراسرار بنا دیا۔ ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کی تخلیق ہونے والی اردو نظموں کی تخلیقی موجبات کا حتمی تعین کرنا تو از حد دشوار اسی سبب سے ہے کہ تخلیقی عمل کی توجیہہ یا وضاحت دینے میں صدیوں کی دانش چنداں کامیاب نہیں ہو پائی۔ اسی سبب سے چند برس قبل ہمارے ہاں بھی امتزاجی تنقید کی طرف دھیان دیا گیا کہ کسی ایک نظریے، اصول یا ادبی دبستان کی روشنی میں تخلیق اپنے امکانات کو ظاہر نہیں کر سکتی۔ کسی نظم، افسانے، ناول وغیرہ کے تخلیقی محرکا ت تک رسائی اور تخلیقی عمل کی پراسراریت کا سراغ لگانا بسا اوقات نقاد یا محقق کے لیے کار محال بن جاتا ہے۔
بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہائیڈل برگ میں فطر ت مظاہر کا باریک اور لطیف مشاہدہ اس نظم کی تخلیق کا باعث بنا ہو گا کہ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ جب علامہ اقبال ہائیڈ ل برگ میں موجود تھے تو تب چمن کی سیر کو آیا ہوا شباب سوگوار ہو جانے کو تھا۔ یہی وہ سکوت لالہ و گل ہے کہ جس سے علامہ اقبال کلام پیدا کرتے ہیں۔ اگست 1907ء کے آخری دو ہفتوں کی تفصیل جو عطیہ فیضی کے روز نامچے میں ملتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا یہ عرصہ سماجی سطح پر بہت مصروف اور متحرک گزرا۔ ممکن ہے کہ ستمبر میں سماجی سطح پر اس ہما ہمی کے ایک دم ختم ہو جانے پر یہ کیفیت ان پر طاری ہوئی ہو۔ اس طور داخلی اور خارجی سطح پر ہر دو اعتبار سے کچھ قیاسات کیے جا سکتے ہیں۔ اس نظم کے مجموعی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے ایک اور محرک کی جانب بھی دھیان جاتا ہے کہ ہائیڈل برگ میں قیام کے دوران ہی علامہ اقبال کو گوئٹے کو گہرائی سے جاننے کا موقع ملا۔ سعید اختر درانی صاحب نے وضاحت سے ہائیڈل برگ میں اقبا ل اور گوئٹے کے مابین فکری روابط کی داغ بیل پڑنے کی جانب اشارہ کر رکھا ہے۔
اقبال اور گوئٹے اقبالیات کا مستقل موضوع ہے اور اس پر بہت لکھا جا چکا۔ اس نظم کے زمانہ ءتحریر کو اگر سامنے رکھا جائے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ افلاک کی سمت اقبال کی فکری اڑان ہائیڈل برگ میں رہتے ہوئے زیادہ طور پر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ یہی وہ دور ہے کہ جب وہ دریائے نیکر کے کنارے گوئٹے کی ‘ فاؤسٹ’ کا مطالعہ کر رہے تھے کہ جس کا زیادہ موثر اظہار کہیں بعد میں جا کر ‘ پیام مشرق’ ہوا کہ جہاں علامہ اقبال مولانا رومی کی زبانی یہ بیان کرتے ہیں کہ اس (گوئٹے) نے سر اعظم صحیح معنوں میں سمجھ لیا ہے۔ اس طور علامہ اقبال نے بعد میں جا کر مشرق کی بلند پایہ تخلیقی ہستیوں (رومی اور غالب) کے ساتھ گوئٹے کو لے آتے ہیں۔ اس نظم میں افلاک پر ہونے والے مکالمے کی جانب علامہ اقبال کا فکری اور تخلیقی جھکاؤ گوئٹے کو ہائیڈل برگ میں پڑھنے کا ثمر بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس نظم کا کوئی ایک محرک دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس عہد کے کئی دھارے آ کر ایک ساتھ مل جاتے ہیں۔
اس نظم میں علامہ اقبال نے تمثیلی انداز میں مظاہر فطرت کے دو کرداروں (شبنم اور ستارے) کا انتخاب کیا اور ان کے باہمی مکالمے پر اس نظم کی بنیاد رکھی۔ اس مکالمے کا آغازنامعلوم، دوری اور نا آشنائی کے بھید سے ہوتا ہے۔ نظم کے آغازمیں ستارے شبنم کی تعریف کرتے ہیں کہ ہر صبح تجھ کو نت نئے نظارے میسر ہوتے ہیں، نہ جانے تو اب تک کتنے ہی جہان دیکھ چکی ہے اور اس جہان میں جوبن کی کتنی ہی نشانیوں کو بنتا سنورتا اور بگڑتا دیکھ چکی ہے۔ ہم میں سے صبح کے ستارے (زہرہ) نے ایک فرشتے سے یہ خبر سنی ہے کہ انسانوں کی بستی فلک سے بہت دور آباد ہے۔ اس کشور دل کش کا فسانہ ہم سے کہہ کہ چاند اس کی محبت کے گیت گاتا پھرتا ہے۔
اس نظم کے ابتدائی بند میں نامعلوم کی کشش، ان دیکھے جہانوں کی خبر پانے کی شدید آرزو موجود ہے۔ اس آرزو میں علامہ اقبال نے ڈرامائیت کا عنصر پیدا کیا کہ نظم میں آگے چل کر انھیں ستاروں کے لیے اس ان دیکھے اور ان جانے جہان کی حقیقت کو آشکار کرنا تھا کہ رات کوستاروں کے لیے انسانوں کی بستی تاریکی کی چادر میں چھپ جاتی ہے اور ہر شے سکوت کا پردہ اوڑھ کر گم ہوجاتی ہے۔ دن چڑھنے کے ساتھ ستارے آسمان سے غائب ہو جاتے ہیں اور انسانوں کی بستی کی ہما ہمی اور اس کے متحرک مناظر سے ان کی آنکھ محروم تماشا رہتی ہے۔ ستاروں اور انسانوں کی بستی کے درمیان تخلیقی سطح پر ربط کا ذریعہ شبنم ہی ہے کہ جو فلک سے نیچے اتر کر زمین پر اپنا وردو کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے ہائیڈل برگ میں لکھی جانے والی نظموں میں شبنم کو تخلیقی اوج پر برتا ہے کہ جس کی ایک مثال اسی زمانے میں لکھی جانے والی ایک نظم ‘ اخترِ صبح’ ہے کہ جس کا تجزیہ ہم پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ فلک اور انسانوں کی بستی کے مابین ربط کی ایک اور اہم مثال علامہ اقبال کی نظم ‘ حقیقتِ حسن’ ہے کہ جس میں شبنم کو زمیں کا محرم کہا گیا کہ اس زمیں کے محرم کو افلاک پر ہونے والی گفتگو کا علم ہو جاتا ہے کہ جب یہی راز زمیں پر پہنچتا ہے تو چمن سے موسم بہار روتا ہوا رخصت ہوتا ہے کہ حسن کی حقیقت اس کے زوال میں پوشیدہ رکھی گئی ہے۔
‘ شبنم اور ستارے’ میں بھی ہائیڈل برگ میں لکھی جانے والی دیگر اردو نظموں کی مانند علامہ اقبال نے شبنم کو تمثیلی انداز میں ایک کردار کا درجہ عطا کیا ہے کہ جو دیگر مظاہر فطرت سے ہم کلام ہے۔ اس نظم کے آغازمیں شبنم سے ستاروں کا ہم کلام ہو کر انسانوں کی بستی کو ‘ کشورِ دل کش’ قرار دینا انسان کی قوت تسخیر کی جانب اہم اشارہ ہے کہ جس قوت کے سبب انسان نے اپنی بستی کو دل کش بنا رکھا ہے لیکن ستاروں کی آنکھ اس نظارے سے محروم ہے۔ ستاروں کے استفسار میں انسان کی عظمت کا راز بھی پوشیدہ ہے، قوت تسخیر کا اعجاز بھی اس استفسار میں نمایاں ہے اور ان دیکھے اور ان جانے جہان کی کشش بھی اس استفسار میں اجاگر ہو رہی ہے۔ اس استفسار میں اس ان دیکھے جہان کی برتری کا احساس بھی نمایاں ہے۔ یہ علامہ اقبال کا تخلیقی اعجاز ہے کہ انھوں نے ابتدائی بند کے چند ہی اشعارمیں فلک اور زمیں سے متعلق مابعدالطبعیاتی معاملات کا ایک جہان آباد کر دیا۔
اس نظم کا دوسرا اور آخری بند انسانوں کی بستی سے متعلق شبنم کے مشاہدات پر مشتمل ہے۔ وہ اپنے مشاہدات امنگ سے بھری ہوئی ستاروں کی محفل سے سامنے رکھتی ہے اور ستاروں کے اشتیاق بھرے استفسارات کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے کہ اے تارو! مجھ سے انسان کی بستی کے بارے میں مت پوچھو، وہ گلشن نہیں ہے بلکہ آہ و فغاں کی ایک اجڑی ہوئی بستی ہے۔ علامہ اقبال نے کلاسیکی فارسی اور اردو شعری روایت میں مستعمل استعارروں (صبا، کلی، شعلہ، گل، نالہ ءبلبل، دامن، موتی، مرغ نوا ریز، قفس، گُل، خار، سایہ ءگُل، نرگس بیمار، طالب نظارہ، شمشاد، دلِ سوختہ، زندانی، تارے، شررِ آہ، گریہ گردوں، طوف قمر، داغِ جگر، کاشانہ عالم، قرطاسِ فضا وغیرہ) اور شعری تصورات کو کمال فن سے اس نظم کی فضا کا حصہ بنایا ہے۔ ان چند استعاروں اور شعری تصورات سے با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ اڑھائی برسوں میں یورپ میں رہ چکنے کے بعد بھی علامہ اقبال کا تخلیقی رشتہ مشرق کی شعری سرزمین سے کس قدر استوار تھا۔ ہائیڈل برگ میں آنے سے قبل آپ انگلستان کی سرزمیں پر دو اڑھائی برس گزار کر آئے تھے اور اس عرصے میں وہ انگریزی شعری روایت سے بہ خوبی آگاہ ہو چکے تھے۔ ‘ بانگِ درا’ کے پہلے حصہ میں ایمر سن، ٹینی سن اور لانگ فیلو کی نظموں سے ماخوذ نظمیں آپ کہہ چکے تھے۔ فطرت کے مشاہدات پر مشتمل انگریزی شعری روایت کا اسلوب، علائم و رموز اور لب و لہجہ ورڈزورتھ، کولرج اورشیلے وغیرہ کی وساطت سے ان تک پہنچ چکے تھے لیکن ہائیڈل برگ تک آتے آتے ان کے تخلیقی دامن میں مشرق کے استعارے ہی جگمگا رہے تھے۔ دوسرے بند میں موجود اشعار اس کی واضح مثال ہیں۔
اس نظم کی فضا مظاہر فطرت کے عمیق تر مشاہدے، مظاہر فطرت میں ڈوب جانے یا قدرت کے مظاہر میں حلول کر جانے سے عبارت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوع کی نظم کہنے والا انجذاب کی روحانی منازل سے گزرا ہے تو یہ سب بیان میں لایا ہے۔ مشاہدہ کی دنیا میں اتر کرسامنے موجود منظر کا حصہ بن جانا، اس نظم کا بھر پور جمالیاتی تجربہ ہے کہ جس میں فقط شاعر ہی شامل نہیں بلکہ اس نے اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس سفر میں شامل کر لیا۔ یہ معجزہ فن کی نمود ہے۔ زمین پر رہتے ہوئے افلاک پر ہونے والے مکالمے کو لکھنا غیر معمولی جذب و کیف کی نشانی ہے۔
اس نظم کی تخلیق کا زمانہ سامنے رکھیں۔ ‘ اسرار خودی’ ، ‘ رموز بے خودی’ ، ‘ جاوید نامہ’ وغیرہ تو بہت بعد کی غیر معمولی تخلیق ہیں۔ ‘ جاوید نامہ’ کہ جس میں علامہ اقبال نے مولانا رومی کے ساتھ ہفت افلاک کی سیر کی، افلاک کی وسعتوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس تخلیقی رویے کا نقطہ آغاز‘ شبنم اور ستارے’ جیسی نظموں سے ہو جاتا ہے کہ جب آپ افلاک پر ہونے والے مکالمات کو اپنی اردو نظموں کا حصہ بنا رہے تھے اور خود اس غیر معمولی تخلیقی تجربے کا حصہ بن رہے تھے۔
لندن اور ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کی شخصیت میں ایک نمایاں فرق ان کے آس پاس رہنے والوں نے بھی محسوس کیا اور یہ فرق حالت استغراق میں رہنے کا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہائیڈل برگ آنے سے دو اڑھائی برس قبل علامہ اقبال کا قیام انگلستان میں رہا۔ جن لوگوں نے علامہ اقبال کے ساتھ لند ن میں کچھ وقت بسر کیا اور بعد میں ہائیڈل برگ میں بھی کچھ وقت علامہ کے ساتھ گزارا، ان لوگوں کی یاداشتوں میں کئی مقامات پر اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ جرمنی علامہ اقبال کے رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔ جرمنی بالخصوص ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کا طرز عمل غیر معمولی اندازمیں انجذاب اور حالت استغراق سے وابستہ رہا۔ عطیہ فیضی کی یاد داشتوں اور بیاض کے کئی مقامات پر اس کا تذکرہ موجود ہے۔ ان کی انگریزی کتاب ‘ اقبال’ کا آغاز ہی ان سطور سے ہوتا ہے :
” On the 22nd day of August، 1907 the practical realictic outlook of Heidelberg was surcharged with a mystical atmosphere، and University Professors were wondering how to get Iqbal out of trance he had gone in to since the last night”
(22 اگست 1907ء کو ہائیڈل برگ کی علمی اور حقیقت پسندانہ زندگی صوفیانہ فضا سے معمور تھی اور یونیورسٹی کے پروفیسر حیران و پریشان ہو رہے تھے کہ کس طرح اقبال کو اس حالت استغراق سے باہر نکالیں جو اس سے قبل رات سے ان پر طاری تھی)
علامہ اقبال کے ہائیڈل برگ میں گزارے ہوئے وقت کے بارے میں اپنی یاداشتیں تحریر کرتے ہوئے عطیہ فیضی نے علامہ اقبال کے شخصیت کے اس نقش پر آگے چل کر مزید روشنی ڈالی کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی میں علامہ اقبال کے زمانہ ءقیام کی ایک نمایاں جہت جذب و کیف کے عالم میں رہنا ہے اور ان کے ہاں یہ جذب و کیف اور حالت استغراق کا مرکز مشاہدہ فطرت تھا کہ جو زیر مطالعہ نظم کے ہر شعرسے جھلک رہا ہے۔ اس کتاب کے بہت سے مقامات پرعلامہ اقبال کے ہاں ہائیڈل برگ میں حالت استغراق کے کئی بلیغ اشارے موجود ہیں۔ ایک مقام پر اس مکالمے کا تذکرہ بھی ہے کہ جو اس موضوع پر ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال اور عطیہ فیضی کے مابین سیر و تفریح کے دوران میں ہوا اور اسی مکالمے کے دواران میں سیر کے شرکا میں سے کسی ایک نے جو تصویر کیمرے سے اتاری، وہ تصویر بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کتاب میں درج یاد داشتوں سے علامہ اقبال کے والد بزرگوار کی زندگی میں روحانی تجربات اور ان تجربات کا علامہ اقبال کی شخصیت پر اثرات کے بہت واضح اشارے بھی ملتے ہیں۔
عطیہ فیضی نے اپنی کتاب میں بہت سے مقامات پر روحانی جذب و کیف کو استدال کی بنیاد پر چنداں اہمیت نہیں دی لیکن انھوں نے اپنے مشاہدات کو چھپانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ ایک مقام پر آ کر انھیں شدت سے یہ محسوس ہوا کہ جرمنی علامہ اقبال کے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے۔ یہاں کے جن درختوں کے نزدیک سے وہ گزرتے ہیں یا جس گھاس پر وہ چلتے ہیں، ان سے بھی اقبال ہم کلام ہو کر تحصیل علم کی وادی میں سفر کر رہے ہیں۔ ہائیڈل برگ میں یہ گزرے ہوئے اس وقت اور زیر مطالعہ نظم کے درمیان چند ہی دنوں کا فاصلہ ہے۔
گمان کیا جا سکتا ہے کہ ہائیڈل برگ کی فضانے علامہ اقبال کو مشاہد ہ فطرت کے اس مقام تک پہنچا دیا تھا کہ جہاں وہ خود مظاہر فطرت میں حلول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ فطرت کے مظاہر کو اپنی نظموں میں کرداروں کی صورت دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان کرداروں کے مابین ہونے والے مکالمے کوغیر معمولی جذب و کیف کے ساتھ اپنے تخلیقی منظر نامے کی آواز بناتے ہیں۔ ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کی رہائش کے اطراف میں فطرت کے حسن کا مشاہد ہ راقم نے بھی کر رکھا ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے اطراف میں فطرت کے حسن کے غیر معمولی اظہار کا تذکرہ سعید اختر درانی نے بھی غیر معمولی تاثرات کے ساتھ کیا ہے۔ انگلستان اور جرمنی میں علامہ اقبال کی شخصیت میں نمایاں ہونے والے اس فرق کو بیان کرتے ہوئے آپ لکھتی ہیں :
” So unlike to what I had seen him in London، Germany seemed to pervade his being، and he was picking knowledge form the trees that he passed by and the grass he trod upon”
اپنے آپ کو، اطراف کو غیر کی نظر سے دیکھنا بہ ذات خود بہت بڑا تخلیقی تجربہ ہے کہ جس میں غیر جانبداری بھی پیدا ہوتی ہے اور قبولیت کے لیے بھی دل آمادہ ہوتے ہیں۔ مرزا غالب نے کہا اور اس کہے کا شہرہ بھی بہت ہوا کہ میں خود کو اپنا غیر تصور کر لیا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال محض اپنی انفرادی ہستی کو نہیں بلکہ اس عالم آب و گِل کو غیر کی نظر سے اور بلندی کی نظر سے دیکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے عرصہ قیام کو شارحین اقبال نے ایما ویگناسٹ کے ساتھ ربط و ضبط کو کچھ زیادہ ہی حیثیت دے رکھی ہے جبکہ اس شہر میں سوچنے والے نابغے کے لیے مظاہر فطرت کے مشاہدات کے ساتھ ساتھ کچھ اور ساماں بھی موجود تھا کہ جس کی طرف دھیان کم دیا گیا۔ ہائیڈل برگ اور علامہ اقبال کے باب میں سعید اختر درانی بھی ایما ویگناسٹ کو اقبال کے لیے "گوئٹے اور ہائنے اور کانٹ اور شوپنہار‘ تک قرار دے رکھا ہے اور بعد میں آنے والوں نے بھی اسی جہت میں ان کے خیالات کی زیادہ ترویج کی کہ جو ہمارے خیال میں کچھ حد تک مبالغہ آمیز تصورات ہیں۔
ہائیڈل برگ میں اسی عالم استغراق، مشاہدہ فطرت میں جذب و کیف، افلاک پر مکالماتی فضا، حیات و ممات کے تصورات، حیاتِ انساں اور مظاہر قدرت میں تغیر وتبدل، ان دیکھے جہان کے لیے لپک، مشرقی شعری روایت سے گہرے تعلق اور بدلتے ہوئے موسم اور مناظر نے اس نظم کو ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے عرصہ قیا م کی یادگار بنا دیا کہ جس میں علامہ اقبال کے ہاں انسانوں کی بستی کو ستاروں کی بلندی سے دیکھنے کا غیر معمولی تخلیقی اعجاز نظر آتا ہے۔ ستاروں اور شبنم کے مابین مکالماتی فضا کی حامل یہ نظم حیات و ممات کے لطیف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس نظم کی مدد سے ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے فکری ارتقاءکا نشاں بھی ہمارے سامنے آتاہے۔ اگرچہ یہ ممکن نہیں کہ ‘ بانگ درا’ کی نئی اشاعتوں میں اس نظم کو تیسرے حصے سے نکال کر دوسرے حصے میں شامل کیا جائے کہ زمانی اعتبارسے اس نظم کا وقوع قیام یورپ کے دوران لکھی جانے والی نظموں کے ساتھ ہے اور دوسرے دور کی دیگر نظموں کے ساتھ اس نظم کی موضوعاتی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔ تاہم، یہ کیا جاسکتا ہے کہ ماہرین اقبال اس تحقیق کی روشنی میں ‘ شبنم اور ستارے’ کو ‘ بانگ درا’ کے دوسرے حصہ میں شمار کریں تاکہ علامہ اقبال کے فکری ارتقاءکا تعین درست اندا زمیں پیش کیا جا سکے۔ ‘ بانگ درا’ کے تیسرے حصے میں اس نظم کے شامل ہونے کے سبب ڈاکٹر گیان چند صاحب نے اپنی کتاب ‘ ابتدائی کلام اقبال۔ بہ ترتیب مہ و سال’ میں اس نظم کو شامل نہیں کیا۔ اگر یہ قلمی بیاض ان کے پیش نظر ہوتی تو صورت حال مختلف ہوتی جبکہ انھوں نے "ضعیف امکان” کی بنا پر کچھ منظومات کی نشان دہی کی کہ جو سفر یورپ سے پہلے کی ہیں یا سفر یورپ کے بعد کی ہیں لیکن اس امکان میں یہ نظم جگہ نہیں بنا سکی۔ ہائیڈل برگ میں علامہ اقبال کے علمی مشاغل کے پہلو بہ پہلو ان کے تخلیقی جہان کا سراغ لگانے کے لیے یہ نظم بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔


