صدر ٹرمپ کی تقریر اور نئے امریکہ کا ظہور


صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کی افتتاحی تقریر کئی اعتبار سے منفرد ہے۔ انہوں نے جو سچ سمجھا اسے دو ٹوک انداز میں کھل کر سب کے سامنے رکھ دیا۔ انہیں امریکہ سے متعلق منفی و مثبت حقائق کا پورا ادراک ہے جس کی جھلک ان کے خطاب میں جابجا نظر آتی ہے۔ ان کی تقریر کا پراعتماد لہجہ، امریکہ کے اس مثبت پہلو کی جانب اشارہ ہے کہ وہ انسانی ضروریات کے تقریباً ہر معاملے میں خود کفیل ہے۔ اس کے پاس کرہ ارض کا تیسرا سب سے بڑا زمینی علاقہ ہے جہاں دنیا کی صرف 5 فیصد آبادی رہتی لیکن عالمی پیداوار میں اس کا حصہ 25 فیصد ہے، اس کی صرف ایک ریاست کیلیفورنیا کی جی ڈی پی فرانس کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے، اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل و گیس ذخائر ہیں، وہ اہم ترین معدنیات سے مالا مال ہے، وہاں ہر موسم اور آب و ہوا پائی جاتی ہے، یہ ملک تمام غذائی اجناس اور پھل پیدا کرتا ہے، یہاں دنیا کے میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ اور ایک لاکھ میل سے طویل ساحلی پٹی ہے، اس ملک میں علم و دانش کی عظیم درس گاہیں ہیں، وہ دنیا کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی، تحقیق اور ایجادات کا مرکز ہے، سب سے زیادہ نوبل انعام امریکی حاصل کرتے ہیں، صرف لائبریری آف کانگریس میں سیکڑوں کلو میٹر پر محیط کتابوں کے شیلف ہیں، ریاست کنساس میں ہر سال اتنی گندم پیدا ہوتی ہے جس سے پوری دنیا کے لوگ دو ہفتے تک اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ یہ اور اس جیسے کئی عوامل امریکہ کو کسی بڑے داخلی بحران سے محفوظ رکھتے ہیں۔

ان حقائق سے اجاگر ہوتا ہے کہ امریکا کی معیشت کو ان دنوں اندرونی نہیں بلکہ بیرونی عوامل کے باعث سنگین مسائل درپیش ہیں۔ وہ آج اگر یہ فیصلہ کر لے کہ اسے اپنے بے پناہ وسائل پر انحصار کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے تو وہ باآسانی ایسا کر سکتا ہے۔

امریکہ کو مندرجہ بالا مثبت پہلو کے ساتھ ایک منفی صورت حال کا بھی سامنا ہے جس کی نوعیت خارجی ہے۔ اسے سیاسی معاشی، تجارتی، علاقائی مسائل اور سرد جنگ کے مسلح تنازعات ورثے میں ملے ہیں جس کی جھلک بھی ان کے افتتاحی خطاب میں ملتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا درست ہے کہ امریکہ نے دنیا کے ملکوں کو ٹیکنالوجی فراہم کی، تجارتی مراعات دیں، ان کی برآمدات کے لیے اپنی منڈیاں کھولیں، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی لوگوں کے لیے دروازے وا کیے لیکن ان سب اقدامات کا فائدہ امریکہ کو کم اور دوسرے ملکوں کو کہیں زیادہ ہوا۔ ان ممالک میں صنعت، خدمات اور تجارت کے شعبوں میں غیرمعمولی ترقی ہوئی، بہت بڑا متوسط طبقہ پیدا ہوا، خوش حالی میں اضافہ اور غربت میں کمی ہوئی، سماجی ترقی کے اشاریے بہتر ہوئے اور لوگوں کے معیار زندگی میں مثبت تبدیلی رونما ہوئی۔

صدر ٹرمپ کا یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ کی ہزاروں صنعتیں بند ہو گئیں، کساد بازاری پیدا ہوئی، لاکھوں کارکن روزگار سے محروم ہو گئے، اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کے حامل تعلیم یافتہ غیر ملکی نوجوانوں کی قانونی آمد سے امریکی متوسط طبقے کے نوجوان بے روزگار ہونے لگے، غیر قانونی تارکین کے باعث حکومت کو ٹیکس سے مسلسل محروم رہنا پڑا، ان کو رہائش، صحت و تعلیم کی فراہمی کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنی پڑی اور منشیات و جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

دنیا اب یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ صدر نے اپنی افتتاحی تقریر میں متذکرہ بالا منفی و مثبت حقائق کے پس منظر میں جو اعلانات کیے ہیں اس پر عمل درآمد کے لیے وہ کیا حکمت عملی اختیار کر نے والے ہیں۔ انہوں نے بار بار پر جوش انداز میں، ”امریکہ کو دوبارہ عظیم“ بنانے کا عہد کیا اور عوام میں مایوسی پیدا کیے بغیر انہیں یہ تلخ حقیقت باور کرائی کہ آج ہمارا ملک ماضی کی طرح عظیم نہیں رہا لیکن ہمیں اپنی عظمت رفتہ ہر قیمت پر واپس لانی ہے۔ انہوں نے ’امریکی چیزیں خریدو۔ امریکیوں کو روزگار دو۔ Buy American۔ Hire American۔ کا نعرہ دے کر خود انحصاری کا مشکل راستہ اپنانے کی تلقین کی اور لوگوں کو ممکنہ مشکل حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا پیغام دیا۔ یہ ولولہ انگیز باتیں سن کر بیسویں صدی کے اس دور کی یادیں تازہ ہو گئیں جب استعمار کی غلامی سے آزاد ہونے والے بہت سے ملکوں نے خود پر انحصار کرنے کی انقلابی پالیسی اپنائی اور مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے فروغ کے لیے درآمدات پر پابندیاں لگائیں یا بھاری محصول عائد کر دیے۔ جن ملکوں کے رہنماؤں نے یہ پالیسی اپنائی وہ پچاس اور ساٹھ کی دہانی کے نوجوانوں کے ہیرو بن گئے۔ اس موضوع پر کئی افسانے اور گیت لکھے گئے۔ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہانی ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنی معیشت کو ضابطوں اور پابندیوں سے آزاد کر رہا ہے۔ اس ماحول میں آزاد منڈی کی معیشت کے زبردست علم بردار ملک میں بدیسی (غیر ملکی ) کی بجائے دیسی (مقامی ) اشیاء خریدنے کی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز مظہر ہے۔

اپنے پروگرام پر عمل درآمد کی ابتدا کرتے وقت امریکی صدر کے ذہن میں دو باتیں ضرور رہی ہوں گی۔ اول یہ کہ دو سال بعد ملک میں وسط مدتی انتخابات منعقد ہوں گے اور دوم کہ چار سال بعد وہ دوبارہ کبھی امریکہ کے صدر نہیں بن سکیں گے لہٰذا انہوں نے آنے والے چار برسوں کو سامنے رکھ کر اپنی منصوبہ بندی کی ہو گی۔ وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر وہ لوگوں پر معاشی دباؤ کم کرنا چاہیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا دباؤ اسی طرح بڑھتا رہا تو ان کی پارٹی پر اس کے منفی انتخابی اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا وہ لوگوں کو روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کے ساتھ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو ترقی دینے کی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ روزگار کے فوری مواقع، آئی ٹی اور اے آئی سمیت دیگر اعلیٰ ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری سے پیدا ہوں گے۔ صدر ٹرمپ، سعودی عرب جیسے مالدار دوست ملکوں کے علاوہ ان بڑے کارپوریٹ اداروں کی حمایت بھی حاصل کرنا چاہیں گے جنہیں سخت بین الاقوامی مسابقت کے دور میں ریاستی سرپرستی کی کافی ضرورت ہے۔ ٹیرف میں اضافے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا احیاء ہو گا، تیل، گیس اور کانکنی کے شعبوں میں ترقی ہو گی۔ ملک میں غیرقانونی تارکین وطن کارکنوں کی کل تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ہے، ان کی محدود تعداد ( فی سال ایک لاکھ) کو ملک بدر کرنے اور مزید غیر قانونی آمد روکنے سے غریب اور بے روزگار امریکیوں کو راحت ملے گی۔

صدر ٹرمپ کے بیرونی پروگرام میں دو ترجیحات بنیادی ہوں گی۔ ان کی پہلی ترجیح ہو گی کہ امریکہ کا سرمایہ دوسرے ملکوں پر ضائع نہ کیا جائے۔ اس کی ایک مثال 36 ملکوں پر مشتمل نیٹو اتحاد ہے جس کے 3.5 ارب ڈالر بجٹ کا 15.8 فیصد صرف امریکہ ادا کرتا ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت ( WHO) کو صدر ٹرمپ نے چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ چین کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے وہ اس ادارے کو 39 ملین ڈالر دیتا ہے جب کہ امریکہ کی آبادی 34 کروڑ ہے اور وہ اسے سالانہ 500 ملین ڈالر ادا کرتا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے 5.7 ٹریلین، ویت نام جنگ میں 1 ٹریلین، اور 9 / 11 کے بعد عراق اور افغان جنگ میں 3 ہزار 700 ارب ڈالر ( 3.7 ٹریلین) ضائع کر دیے جب کہ ان جنگوں سے متعلق دیگر غیر معمولی اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ان اخراجات کا امریکی معیشت اور عوام کو بہت کم براہ راست فائدہ پہنچا۔ صدر ٹرمپ امریکی سرمایہ بچانے کے لیے سرد جنگ دور کے مسلح تنازعات کی باقیات کو ہر قیمت پر ختم کرنا چاہیں گے، افغان طالبان سے امریکی اسلحے کی واپسی کے مطالبے کو اس عمل کا نقطہ آغاز کہنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں لڑائیوں، خانہ جنگیوں، مذہبی جہاد کا فوری خاتمہ اور اگلے مرحلے میں عرب ملکوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرانا ان کی ترجیحات میں شامل ہو گا۔ ڈنمارک، پاناما، میکسیکو اور کینیڈا ان کے کمزور اور پرانے حلیف ہیں جنہیں دھمکا کر شرائط منوانا اور خود کو طاقتور دکھانا مقصود ہو گا۔ ٹیرف کے نفاذ کے حوالے سے وہ فوراً برکس پر 100، چین پر 60 اور سب پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے سے گریز کریں گے۔ اس کا نقصان دنیا کو کم اور خود امریکہ کو زیادہ ہو گا لہٰذا صدر اپنے ٹیرف کے کارڈ کا استعمال کاروباری تقاضوں کے مطابق کریں گے۔

اب دیکھنا ہو گا ہمارے خطے سے متعلق وہ کیا حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ ہم طویل عرصے تک مغرب کی نیابتی جنگ لڑ کر اس کی کفالت میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کاش امریکہ کو پھر ہماری ضرورت پڑے اور ہمارے وارے نیارے ہو جائیں۔ ہمیں اب خواب سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آ جانا چاہیے۔ اس خطے میں ہم امریکہ کے اسٹریٹیجک اتحادی نہیں ہیں، یہ حیثیت اب بھارت کو حاصل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پرانے صدور سے بالکل مختلف اور کاروباری لین دین کرنے والے (Transactional) صدر ہیں اس لیے ان کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہے گا۔ ان سے معاملہ کرنے کا کوئی موقع اگر مل جائے تو ہمیں حکمت سے کام لیتے ہوئے ”ہمارا اصولی موقف“ کی گردان سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ہمارا اور امریکہ کا بھلا کیا موازنہ لیکن ہم دونوں میں ایک مماثلت ضرور موجود ہے۔ امریکہ نے اگر ”اشتراکی کافر“ کے خلاف نظریاتی جنگوں کے جہنم میں ہزاروں ارب ڈالر نہ جھونکے ہوتے اور طویل مددتی مفاد کی بجائے فوری منافع کی لالچ میں چین کو ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارتیں اور سرمایہ نہ دیا ہوتا تو آج نہ وہ اس مشکل میں ہوتا اور نہ صدر ٹرمپ کو ایک قوم پرست رہنما کی طرح یہ تقریر کرنی پڑتی۔ دوسری جانب ہم نے سیکڑوں ارب ڈالر کے لالچ میں سات دہائی تک ”اشتراکی کافر“ کے خلاف امریکی بلاک کی جنگ لڑی، دہشت گردی کو خود اپنے گھر لے آئے اور دیوالیہ ہونے کے قریب جا پہنچے۔ آج ہم اور ہمارا پرانا کفیل، دونوں دنیا میں پریشان اور تنہا کھڑے ہیں۔

آپ صدر ٹرمپ کی تمام باتوں سے اتفاق نہ کریں لیکن ان کو داد ملنی چاہیے کہ انہوں نے ’عظمت رفتہ‘ کے سحر سے نکل کر تلخ سچائیاں بیان کیں، ناکامیوں کا کھلا اعتراف کیا اور اپنے عزائم کی پردہ پوشی نہیں کی۔ وہ معاشی طور پر ایک قوم پرست امریکہ کا منفرد اور حیران کن تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ کیا ایک نئے امریکہ کا ظہور ہونے والا ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کر دے گا۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh