علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت (1)
کچھ عرصہ پہلے حضرت علّامہ سید احسن عمرانی صاحب نے میرے اصرار پر مجھے وقت دیا کہ میں ان سے اُن کی زندگی کی کہانی سُن سکوں! میں مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اس گفتگو کو صدا بند کرنے کا موقع دیا۔ ایک عرصے بعد میں نے اِن کے نیاز حاصل کیے تھے۔ اس نشست میں انہوں نے تاریخ کے ایسے ایسے دریچے کھولے کہ میں خود حیران پریشان رہ گیا! علّامہ صاحب نے پہلے اپنے جدِ امجد سے گفتگو شروع کی کہ وہ کہاں سے آئے؟ میں نے علّامہ صاحب سے اپنی پہلی ہی ملاقات میں قیاس کیا تھا کہ ان کا تعلق سہارنپور سے ہے۔
کیتھل میں مورثِ اعلیٰ کی آمد
” آپ اپنے جدِ امجد کے بارے میں بتائیے“ ۔
” بھائی صاحب! میرے جدِ اعلیٰ سید کمال الدین اور سید جمال الدین دو بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں کا تعلق ترمذ سے تھا۔ دونوں ہی ہم شکل تھے۔ پہچاننا مشکل تھا کہ ان میں سے بڑا کون اور چھوٹا کون ہے؟ داڑھی، صورت، لباس اور حرکات ایک ہی جیسی۔ یہاں تک کہ لہجہ بھی یکساں تھا! یہ دونوں بھائی 911 ہجری (تقریباً 1505 عیسوی) میں ’کیتھل‘ ہندوستان میں آ گئے۔
” یہاں سادات کے تین قبیلے آباد تھے۔ ایک تھے سید کمال شاہ جو قادری کہلاتے اور بغداد سے تشریف لائے تھے۔ اور میرے جدِ اعلیٰ۔ یہ دونوں صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ اِن دونوں بھائیوں میں ایک نہٹور چلے گئے اور وہیں بیٹھنا شروع کر دیا پھر وہیں اُن کا مزار بنا۔ ان کی مشہوری نہٹور، بجنور اور سہارنپور تک ہے۔ اُن ہی میں سے ہم ہیں! “ ۔
میر فیاض حسین زیدی ترمذی صاحب کی کتاب ’عہدِ گُل‘
” اگر مفصّل تحقیق کی جائے تو ہمارے شجرے میں ولی اور قلندر بھی آتے ہیں۔ میاں جھنڈو کے بیٹے میر فیاض حسین زیدی ترمذی صاحب نے ’عہدِ گُل‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ فیاض حسین صاحب 1854 میں پیدا ہوئے اور راولپنڈی میں مدفون ہوئے۔ اُن کی اس کتاب میں کیتھل کی تاریخ محفوظ ہے۔ مسلمانوں کے قدیم خاندانوں میں قریشی، پٹھان، شیخ، سادات وغیرہ تھے۔ پھر ہندوؤں کی ذاتیں تھیں۔ یہاں تک کہ سابقہ بھارتی وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری صاحب بھی کیتھلی نژاد ہیں۔ کیتھل سکھوں کے زیرِ تسلط رہا لہٰذا اس کی زبان نِکھر نہ سکی۔ کیتھل تھا تو مضافاتِ دہلی میں لیکن سکھوں کی بولی اس کی زبان پر اثر انداز ہو گئی۔ یہاں کی ایک مقامی زبان ’ڈانگرو‘ اور دوسری ’بانگرو‘ کہلاتی ہے۔ ڈانگرو ڈنگروں والی کچھ سخت قسم کی زبان ہے جو میواتی بولتے ہیں۔ بانگرو زبان ڈانگرو سے تھوڑی سی زیادہ مہذب ہے“ ۔
علّامہ صاحب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہنا شروع کیا: ”میں 1942 میں سادات بہار کوٹ، کیتھل میں پیدا ہوا۔ میرے والدِ محترم میر امراز حسین زیدی اور ان کے والد غلام عباس صاحب۔ دادا کے دوسرے بھائی، فِدا حسین کی نسل سے سید غلام حسنین کربلائی جو مادرزاد ولی تھے۔ وہ تہہ الارض کا ہنر جانتے تھے۔ میں نے ان کی خود کئی ایک کرامات دیکھی ہیں! ان کا میرے تایا کے ہاں راولپنڈی میں مکان نمبر H 66 میں انتقال ہوا۔ اس مکان پر میں نے دعویٰ بھی کیا اور کامیاب بھی ہوا لیکن انکم ٹیکس کا ایک وکیل ان کے ایک حصے میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہا تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ مالک مکان میاں بیوی کی تو کوئی اولاد نہیں تو وہ اس حصّہ پر قابض ہو گیا۔ میرے تایا کے زمانے میں ہی اس کے قبضے کا مقدمہ عدالت میں چل رہا تھا۔ پھر میرے ہی ایک عزیز اشتیاق حسین عرف چھاتو جن کے والد ریلوے میں ملازم تھے، نے وہ مکان اس وکیل سے مل ملا کے بیچ دیا۔ اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے سنگل بینچ کے جج فقیر محمد صاحب نے دے دیا۔ میں چونکہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں تھا اور جج فقیر محمد صاحب کو جانتا تھا لیکن فیصلے کے بعد میں خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ البتہ میں پولیس لے کر راولپنڈی کی وارث روڈ پر گیا۔ اب اُس مکان پر میرے تایا کی بیٹی قابض تھیں“ ۔
” میرے تایا میر فیاض حسین جو مسلم لیگ کے پرانے لیڈر تھے اور 1929 میں بلدیہ کیتھل کے مئیر منتخب ہوئے تھے، تو میری تایا زاد بہن نے کہا کہ کیا بھائی مکان خالی کرانے کے لئے بہنوں کے پاس پولیس لاتے ہیں؟ مجھے غیرت کھا گئی اور پولیس واپس بھیج کے خود بھی واپس آ گیا کہ شاید انہیں حیا آ جائے گی! لیکن عزیز اشتیاق حسین عرف چھاتو کو کہا گیا کہ عمرانی صاحب کے تیور تو اُلٹے ہیں۔ میری تایا زاد بہن نے اُس سے مل کر پیسے لے لئے اور چھاتو کے حق میں دستبردار ہو گئیں۔ یہ قبضہ محض ایک بیٹھک پر تھا جس پر انکم ٹیکس کے وکیل شیخ ذوالفقار قابض تھا“ ۔
” غلام حسین کربلائی صاحب اپنے والد صاحب کے ایک ہی بیٹے تھے جن کی ایک ہی بہن تھیں۔ بہن کی اولاد نہیں تھی۔ اِدھر میرے والد صاحب میر غلام حسین صاحب سے 15 سال چھوٹے تھے۔ یہ نسل جو آگے چلی وہ میرے والد صاحب سے چلی!“ ۔
” آپ کو بھائی صاحب! ایک بات بتاؤں کہ دل گُردے والی عورتیں بڑی کم ملتی ہیں۔ میرے والد صاحب ایک عورت بیاہ کر لائے جن کا نام ’بی دامن‘ تھا۔ وہ جب آئیں تو اُن سے کوئی بچہ نہ ہوا۔ کہنے لگیں کہ میر صاحب! مجھ سے کچھ نہ ہو گا آپ اپنی نسل کیوں منقطع کر رہے ہیں؟ آپ شادی کر لیجیے۔ والد صاحب نے کہا کہ نہیں! تب بی دامن خود ایک خاتون کو بیاہ کے لے آئیں۔ ان کے ہاں بھی کچھ نہ ہوا۔ پھر اُس کے بعد اِن دونوں نے ایک تیسرا رشتہ ’ساداتِ کُنڈری‘ میں کیا جو کیتھل سے آٹھ کوس کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے رئیسِ اعظم میر رشید حسین تھے۔ اُن کی چچی میری پھُپھی تھیں۔ اُن کا نام مامن النسا المعروف ’بو مامَن‘ تھا۔ یہ کیتھل کی زمینوں جاگیروں کی مالکن تھیں۔ میر رشید حسین کی شادی، مصنف میر فیاض حسین زیدی کی بہن چوا بیگم سے ہوئی۔ ان سے اولاد چلی جس میں ایک ثروت حسین اور ایک فرحت حسین ہیں۔ فرحت حسین نے ملتان میں سکونت اختیار کی۔ فرحت حسین قِبلہ میرے بھائی لگے۔ وہ اتنے بڑے آدمی تھے، آپ اس زمانے میں لاہور میں تھے کہ میرے سلسلے میں ایک اہتمام کیا گیا جس میں وہ مہمانِ خصوصی کے طور پر تشریف لائے تھے۔ وہ میر رشید حسین اور صغرا کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ یہ میاں جھنڈو کے داماد، میر فیاض حسین جو بلدیہ کیتھل کے چیرمین تھے ان کے بہنوئی تھے۔ انہوں نے علیگڑھ سے بی اے، ایم اے کیا۔ انہیں شاعروں کے پورے پورے دیوان یاد تھے۔ انہیں ملتان کی طرف شجاع آباد اور بگڑے میں رقبہ ملا“ ۔
” تو اب مسئلہ یہ ہے کہ میں تو بڑے غریب سے گھر کا آدمی ہوں۔ میری والدہ ساداتِ برسد سے تعلق رکھتی ہیں۔ ساداتِ برسد زیدی الواسطی ہیں۔ میں نان پور (والدہ کی طرف ) سے زیدی الواسطی اور داد پور (والد کی جانب ) سے زیدی الترمذی ہوں۔ میرے نانکے اور دادکے دونوں زیدی ہیں۔ نجیب الطرفین وہ ہیں جو علی اور فاطمہ کی اولادیں ہیں، ہم نجیب الطرفین ہیں! “ ۔
” میرا ایک چھوٹا بھائی سید افضال حسین زیدی المعروف جالو شاہ تھا۔ جالو ایم آر ڈی کا بہت بڑا لیڈر تھا۔ وہ ڈی سی آفس میں فرید اللہ شاہ صاحب کا پی اے بھی رہا۔ بعد میں بتدریج مزدور لیڈر ہو گیا اور پیکیجز لمیٹڈ میں چلا گیا۔ اُس وقت کے گورنر پنجاب، غلام مصطفے ٰ ٰ کھر کے زمانے میں عبد الرحمٰن کا قتل ہو گیا۔ جب گولیاں چلیں تو گلاب دیوی اسپتال کے سامنے سے میرا بھائی بھاگ کر اسپتال کے اندر چلا گیا اور کسی بیڈ کی نیچے چھُپ گیا لہٰذا وہ اپنی تلاش میں آ نے والوں کو نہیں ملا۔ افضال پر اس قتل کے مقدمے ہو گئے۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ میرا بھائی 14 فروری 2014 کو سادات کالونی سمن آباد میں انتقال کر گیا۔ اُن کے بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں! ایک بچہ لاہور میں اور باقی اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ دو لڑکے ڈاکٹر قدیر خان کی لیبارٹری میں تکنیک کار ہیں“ ۔
میرے بچے
” میرے بڑے بیٹے عمران حیدر نے 3 ایم اے کیے : ایم اے فارسی، ایم اے پنجابی اور ایم اے اردو! اس کو 20 جنوری 2012 کو شہید کر دیا گیا۔ یہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں پروفیسر تھا۔ یہ بڑا لائق اور پڑھائی میں ’ٹاپر‘ تھا۔ اس نے 48 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کر لی۔ اسے منڈی بہاؤ الدین کے قریب بہنے والی دو نہروں کے درمیان شہید کر دیا گیا۔ میں خاموش ہو گیا۔ میں نے اللہ سے درخواست نہیں کی تھی کہ اے پروردگارِ عالم مجھے بیٹا دینا، یہ اُس کی مہربانی اور کرم کہ اُس نے دیا! اور جب اللہ نے کہا کہ واپس کر دو تو میں نے واپس کر دیا اور اُس پر اظہارِ افسوس بھی نہیں کیا! مجھے بعد میں پُرانے صحافی ڈوگر صاحب سمیت کئی لوگوں نے کہا کہ یہ عمرانی روتا کیوں نہیں؟ میں نے کہا کہ میں روؤں گا تو امام حسین کو روؤں گا اپنی اولاد پر نہیں! الحمدللہ میں نے ایسا ہی کیا! خاموش رہا“ ۔
” میرا دوسرا بیٹا سید فاران حیدر زیدی پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ڈپٹی ٹریژر ہے۔ اس کا ایک ہی بیٹا سید وصی عبّاس ہے جو ابھی کے جی میں پڑھتا ہے۔ میرا تیسرا بیٹا عدنان، جس کے ساتھ آپ یہاں آئے ہیں وہ ہائی کورٹ میں وکیل ہے۔ اس کی شادی میں نے چنیوٹ میں اپنے ایک دوست کی بیٹی سے کر دی۔ یہ دونوں بہت سعادت مند بچے ہیں۔ بڑے بیٹے عمران حیدر کی اہلیہ نے بھی دو تین ایم اے کیے ہیں“ ۔
ایک تاثر کہ علّامہ عمرانی صاحب جلالی ہیں
” علّامہ صاحب! آپ کے بارے میں یہ ایک عام تاثر ہے کہ آپ بہت جلالی طبیعت کے مالک ہیں۔ لوگ آپ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ کچھ اس پر روشنی ڈالیے“ ۔
” جی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں! یہ مشہور کر دیا گیا ہے۔ میں ڈرانے کی شے ہوں نا ہی کوئی درندہ! جلال مجھے اس لئے آتا ہے کیوں کہ میرا خاندان جلالی ہے۔ سید کمال الدین اور سید جلال الدین جب پہلی دفعہ کیتھل میں اترے ہیں تو وہ اجری کا تالاب کہلاتا تھا۔ اجری ہنومان جی کی ماں کا نام تھا۔ اس کے محل کے ساتھ ہی نیچے ایک تالاب تھا۔ پرندے، مقامی لوگ اور عرب کے رہنے والے جب سفر کرتے ہیں تو وہ ندی اور دریا کے کنارے قیام کرتے ہیں تا کہ پانی ملتا رہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امامِ حسین علیہ السلام جب کربلا پہنچے ہیں تو انہوں نے شط الفرات پر اپنا قیام کیا۔ اس لئے کہ پانی ملتا رہے۔ دوسرے یہ کہ میر انیس حیدرآباد دکن گئے جہاں محفلِ مسالمہ ہو رہی تھی۔ نواب صاحب صدارت فرما رہے تھے۔ اسٹیج سیکریٹری کو نام گیا انہوں نے کہا کہ ایک نووارِد ہیں ان کو بھی جگہ دی جائے۔ جب وہ پڑھنے کے لئے آئے تو یہ کہا:
ہاتھ منہ دھونے لگے اکبر تو موجوں نے کہا
ہم نے اب دیکھا پیغمبر کو وضو کرتے ہوئے
کیوں کہ رسولِ خدا ﷺ نے کسی دریا کے کنارے کبھی وضو نہیں کیا تھا۔ اور جنابِ علی اکبر رفتار میں گفتار میں مزاج اور ہر ایک چیز میں ہم شکلِ پیغمبر ﷺ تھے ”۔
” تو ہماری طبیعت جلالی اس لئے ہے کہ ہمارے ہاں کمال بھی ہے اور جمال بھی ہے! کمال یہ ہے کہ ہم کمال الدین اور جمال الدین کی اولاد ہیں۔ اب یہ مجھ سے چپک کر رہ گیا کہ میں جلالی ہو گیا ورنہ ہم تو بہت جمالی آدمی ہیں۔ میں تو جمال الدین زیدی ترمذی کی اولاد میں سے ہوں“ ۔
” جیسا کہ پہلے ذکر کیا کیتھل میں تین گھرانے تھے۔ ایک بغداد سے آیا تھا۔ وہ قادری کہلاتے تھے جن کا سلسلہ قادریہ تھا۔ ان کا نام تھا اسماعیل محمد کمال الدین قادری۔ یہ اندرکوٹ میں تھے۔ اور یہ دونوں بھائی کمال الدین اور جمال الدین ساداتِ بہارکوٹ میں تھے۔ دونوں کے ناموں، کمال الدین، میں مماثلت ہے۔ جمال الدین زیدی الترمذی نہٹور چلے گئے۔ بجنور، نہٹور اور سہارنپور میں اِن کی اولاد پھیلی جو ہمارے بزرگ تھے۔ اُدھر کمال الدین کیتھل میں قیام پذیر رہے“ ۔
” کیتھل ہی وہ جگہ ہے جہاں رضیہ سلطانہ قتل ہوئیں۔ سلطانہ کا مقبرہ آج بھی کیتھل میں موجود ہے۔ کیتھل کے 8 دروازے اور 13 تیرتھ ( اشنان کی جگہیں ) تھیں۔ اس کے علاوہ باؤلیاں، شوالے تھے۔ چوں کہ یہ سکھوں کے تسلط میں رہا لہٰذا یہاں کئی ایک گردوارے بھی تھے۔ کیتھل کے قصاب، پٹوے، اور چھوٹی قومیں ( پنجابی زبان میں کمّی کہتے ہیں ) ڈانگرو زبان بولتی تھیں۔ مثلاً
میر فیاض حسین کے دادا کی چوک میں بہت بڑی حویلی تھی۔ ایک دن وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے تو کسی نے پوچھا کہ یہاں سے ہم نے قصابوں کے محلّے میں جانا ہے تو آپ نے کہا کہ بھائی سیدھا نیچے ڈھلان پر چلتا جا۔ جہاں پر گالی گلوچ ہو رہی ہو وہی اُن کا محلہ ہو گا! اور وہ شخص واقعی پہنچ بھی گیا! ”۔
” علّامہ صاحب! یہ بھی دیکھا گیا کہ بعض اوقات کسی مخصوص کیفیت میں جو آپ کی زبان سے ادا ہو جائے وہ ہو جاتا ہے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ ۔
” اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ میرے بزرگوں کی عطاء ہے! زبان میں تاثیر رکھ دی۔ یہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جو ایک دفعہ مجھ سے ملا ہے پھر وہ میرے حصار سے باہر نہیں جا سکا!“ ۔
” یہ صحیح بات ہے! آپ سے متعلق ایک یہ بھی تاثر ہے کہ اگر کسی نے کوئی دُکان یا مکان لیا اور آپ کو برکت کی دعا کے لئے بلوایا، کہا کہ مرثیہ یا سلام پڑھ دیجئے تو آپ عموماً وہاں نہیں جاتے کیوں کہ آپ کو فوراً علم ہو جاتا ہے کہ اس کے پیچھے پیسہ جائز تھا کہ نہیں! یہ بات کہاں تک صحیح ہے؟“ ۔
”جی ہاں یہ بالکل صحیح بات ہے! قطعی طور پر صحیح! مجھے نہیں پتا کہ آپ (سمیت) لوگ اتنی گہرائی میں جا کر میرے بارے میں تحقیق کریں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر وہ جائز پیسے سے لی گئی ہے تو اُس میں کاروبار چلے گا اور اگر ناجائز پیسے سے ہے تو چمک دمک آ جائے گی لیکن معاملہ کسی بھی وقت نقصان کی طرف چلا جائے گا۔ لہٰذا اللہ کی راہ میں زکوٰۃ دینا بڑا فرض ہے۔ ہر مال میں زکوٰۃ دیں“ ۔
(جاری ہے )




