عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: چوتھی قسط


شیر خوارگی میں شمن کو سولہ سترہ برس کی انا کے حوالے کیا گیا۔ انا شمن کو پال تو رہی تھی لیکن اپنی عمر کی وجہ سے اس میں دیکھ بھال کرنے اور بچی کی ضروریات کو سمجھ کر خیال رکھنے کی صلاحیت اور گنجائش یا کیپیسٹی نہیں تھی۔ وہ جس عمر میں ہے اس کے خود اپنے فطری تقاضے ہیں۔ یہ تقاضے خود ایک طاقت کے حامل ہوتے ہیں اور جسموں اور سوچوں کو ڈرائیو کرتے ہیں۔ اسی لیے جب راتوں میں شمن بھیگتی، لتھڑتی اور جاگتی ہے تو انا جاگ نہیں پاتی۔ یہ غفلت ارادتاً نہیں، فطرتاً ہے۔ پھر انا کا ایک عاشق بھی ہے۔

اکثر وہ دونوں شمن کو لے کر گھر والوں کی نظر سے بچ کر بھینسوں کے بھوسے والی کوٹھڑی میں جا دبکتے اور لوٹتے پوٹتے ہیں۔ اسی میں ایک بار ڈری سہمی شمن کے چیخنے سے دوسرے ملازم آ گئے اور وہ پکڑے گئے۔ اُسی دن انا کو واپس بھیج دیا گیا۔

”اُسے (شمن کو ) ایسا معلوم ہوا کہ یتیم ہو گئی۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہ کئی دن اور کئی رات روتی رہی۔“

انا کے جانے کے بعد اسے بڑی بہن منجھو نے پالنا شروع کیا۔ وہ منجھو کے سینے سے لپٹ کر دودھ پینے کے دوران ہاتھ چلاتی ہے۔ جب بچہ بچی ماں کا دودھ پیتے ہوئے ہاتھ چلاتے ہیں تو ماں کو نہ عجیب لگتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی ہلچل مچتی ہے اور ماں بچی بچے کو ہاتھ چلانے سے نہیں روکتی۔ لیکن بہن ماں نہیں، بہن ہی رہتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بچے کا لمس اپنے معنی تبدیل کر لیتا ہے اور بہن کے لیے ناپسندیدہ یا ایمبیرسنگ ہو جاتا ہے اور وہ ہاتھ کو جذباتی انگیخت کر سکنے والے حصوں تک جانے سے روک دیتی ہے۔

”وہ گھبرا کر اُسے دور لٹا دیتی۔“

یوں بچی کے شعور میں محرومی اور تنہائی کے بیج اپنی جگہ بنانا شروع ہوئے۔ مصنفہ نے اس کی صراحت نہیں کی لیکن آگے جا کر اُس کی عادتوں میں تغیر اور فرق کے ساتھ اُس کی نافرمانی، ضد اور اصرار دکھایا ہے۔

انا کے جانے کے بعد منجھو کی شادی دوسرا بڑا سانحہ تھا جو اس پہ گزرا۔

”منجو چلی گئی گھر میں جیسے موت ہو گئی۔ سارا گھر سو گیا مگر شمن کے حصے کی نیند غائب ہو گئی۔ کئی بار منجھو کو پکار پکار کر شمن کا ہچکیاں لیتے لیتے حلق سوکھ گیا۔

منجھو بی۔ منجھو بی۔ ہائے منجھو۔ وہ رات بھر سسکیوں سے پکارتی رہی۔

منجھو کے جاتے ہی اس کی گت بن گئی کئی دن تو کسی کو یاد ہی نہیں آیا کہ وہ بھی گھر میں ہے یا نہیں۔ نہلانے یا کنگھی کرنے کی تو ضرورت ہی کیا ہے جب بہت ہی بساند پھوٹنے لگی تو سڑتی ہوئی نالی کی طرح لوگ اس سے دور دور رہنے لگے میل اور کھجلی سے بے قرار ہو کر وہ راتوں کو چلاتی، سر کے بال چپک کر چٹائی بن گئے۔ ”

سوچئیے اگر کسی کی زندگی خود اس کے لیے ایک سوال بن جائے اور وہ خود بھی نہ جان سکے کہ وہ کس لیے پیدا کی گئی ہے؟ اور وہ اس عمر میں ہو کہ سمجھ بھی نہ پائے کہ اُس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟

”دن بھر وہ منجھو کو بھولی رہتی مگر رات کو وہی منجھو بی کی رٹ لگاتی۔ تنگ آ کر اماں نے بوڈی بوا سے کہا بوا تم ہی سلا لو اللہ ماری کو۔ مگر شمن نے سوتے میں انہیں پاس لیٹا دیکھ کر اُن کے بال کھسوٹ ڈالے اور دھکیل دیا اکیلی پڑی ہتھیلیوں کو چبایا کی۔ جب سب سو جاتے وہ جاگا کرتی اس کے ہاتھ منجھو کی گردن کی تلاش میں کھری پٹیوں پر رینگا کرتے۔ اس کا جی چاہتا ایک بار نرم گرم گردن اس کی گرفت میں آ جائے تو پھر وہ مر جائے گی پر نہیں چھوڑے گی۔ پڑی پڑی وہ بھوکے کمینے دولہا کو کوسا کرتی جو منجھو کو چیل کی طرح جھپٹا مار کر لے گیا تھا۔“

منجھو کے بعد ”بھنگن“ کی لڑکی پنیا، شمن کی دنیا بنتی ہے۔

”دونوں بھینس کے تھان کے پیچھے جا کر ایک دوسرے کے گلوں میں ہاتھ ڈالے ٹپکا کرتیں پھر ریت میں لوٹیں لگاتیں، مٹھیاں بھر بھر کے ریت پانی کے چلوؤں کی طرح اچھالتیں پھر سوکھے ہوئے پتوں کے چمچ سے ریت پینا شروع کرتیں۔ سب نے اُس کا نام بھتنی رکھ دیا تھا جب چھیڑنے کے لیے بھتنی بھتنی کہتے تو وہ واقعی چڑیلوں کی طرح آنکھیں نکال کر غراتی۔ بلی کی طرح دشمن پر جھپٹا مارتی۔ جب وہ دانتوں سے کسی کی بوٹی چباتی تو اوپر نیچے کے دانت گوشت میں آرپار ہو کر آپس میں بج اٹھتے۔ “

دیکھیے شمن نے مزاحمت کیسے سیکھی اور اس کا آغاز کس عمر سے ہوا؟ وہ جان گئی تھی کہ اسے زندگی اپنے برتے پر گزارنی ہے۔ ایک چھوٹی سی بچی جس کی پروا نہ ماں کو ہے نہ باپ کو نہ بڑی بہن اور بھائیوں کو، سوائے ایک بہن اور نوکروں کے، وہ گھر میں کسی کو عزیز نہیں۔ اس کے پاس اب صرف جبلت ہے جو اسے جیتے رہنا سکھاتی ہے اور اُس نے وہ سیکھا جو اُس کی عیب جوئی کے لیے کہا جاتا۔ وہ اس قدر معصوم کہ اُسے ہی اپنی شناخت اور پہچان سمجھنے لگی، جیسے چڑیل کہا گیا تو وہ چڑیل بننے لگی۔

منجھو کے میکے آنے پر دیکھیے کیا ہوا؟

”اس نے شمن کو دیکھا تک نہیں۔ وہ بدل بھی تو بہت گئی تھی۔ ساری پھول جیسی فراکیں مرجھا گئی تھیں اور جانگیوں کی بجائے اوٹنگے بد وضع پاجامے پہننے لگی تھی۔

بڑی دیر بعد نہ جانے کیسے وہ اسے یاد آ ہی گئی : شمن کہاں ہے؟ منجھو نے پوچھا اور شمن کے دل کو بری طرح ٹھیس لگی۔ اوہ، تو اب منجھو بی اسے پہچانے گی بھی نہیں۔ یہ گھنٹہ بھر سے دروازے سے لگا کون ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جا رہا ہے۔ کس نے کئی بار اس کا ریشمی دوپٹہ چھو کر متوجہ کرنے کی ناکام کوششیں کیں اور یہ کون صبر کیے دیوار سے خاموش لگا کھڑا ہے۔ شمن نہیں تو پھر اور کون ہو سکتا ہے! مگر اسے ماں بہنوں کے گلے سے فرصت ملے تو کسی اور کا بھی دھڑکتا ہوا دل ذرا سکون پائے۔ آپا کی لڑکی نوری کو تو آتے ہی کلیجے سے لگا لیا اور شمن جیسے پچھل پیری چڑیل تھی کہ لوگوں کو نظر بھی نہ آئی۔

پھر بھی جب منجھو نے اسے اپنے مہکتے ہوئے سینے سے لگا لیا تو اس کے دل سے ہزاروں سوتے پھوٹ نکلے اور سوکھی سوکھی ہچکیاں لیتی وہ اس کے شانے سے ٹک گئی۔

”جوئیں، جوئیں، اے ہے منجھو! اس کے ہزاروں جوئیں بھری پڑی ہیں“ آپا اور اماں چلائیں۔
”گندی ہے یہ بھنگن کی لونڈیا“ ۔

”نوری اترائی اور منجھو کی گود میں چڑھ بیٹھی۔ کسی نے نہ دیکھا کہ شمن دھکا کھا کر باہر چل دی، چپکے سے میلے کپڑوں کے گٹھڑ میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ آج وہ دل اور دماغ دونوں سے رو رہی تھی۔“

Facebook Comments HS