حکمتِ وقت


Hassan Umar Sahafi

افغانستان میں طالبان کی واپسی نے نہ صرف عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی منظرنامے میں ایک زبردست تبدیلی کی، بلکہ بھارت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج اور موقع بھی ثابت ہوا۔ بھارت کی حکمت عملی نے عالمی تعلقات، اقتصادی مفادات اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے کو دیکھتے ہوئے ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ طالبان کے اقتدار کے بعد بھارت کی پوزیشن ایک عجیب توازن کا شکار تھی، اسے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا تھا۔

طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد بھارت کو سب سے بڑا چیلنج اس بات کا تھا کہ وہ کیسے اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ بھارت کے لیے افغانستان کی جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے غیر معمولی رہی ہے۔ افغانستان کے معدنی ذخائر، چابہار بندرگاہ، اور وسطی ایشیا تک رسائی بھارت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے تھے۔ تاہم، طالبان کی حکومت کا تسلیم کرنا ایک پیچیدہ فیصلہ تھا کیونکہ عالمی سطح پر طالبان کے بارے میں منقسم آراء تھیں، اور بھارت کو اپنے اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کا چیلنج درپیش تھا۔

بھارت نے جو راستہ اختیار کیا وہ ایک محتاط حکمت عملی پر مبنی تھا جس میں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ طالبان کے ساتھ تعلقات میں بھارت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کے اقدامات عالمی سطح پر اس کی حیثیت اور روابط کو متاثر نہ کریں۔ اس کے باوجود، افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد بھارت نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے چابہار بندرگاہ جیسے منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز کی۔

چابہار بندرگاہ کی اہمیت بھارت کے لیے اس لیے خاص تھی کہ یہ اس کے لیے پاکستان کے بائی پاس کے طور پر کام کر سکتی تھی۔ اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور اس کی جانب سے بھارت کی ہر کوشش کی مخالفت کے باوجود، چابہار بھارت کے لیے ایک سنہری موقع تھا جس سے اس کے تجارتی راستے مزید محفوظ اور مضبوط ہو سکتے تھے۔

افغانستان کے معدنی ذخائر میں تانبا، لیتھیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کا ذخیرہ ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات کے لیے اہم ہیں۔ بھارت نے ان ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، اس حکمت عملی کے ذریعے بھارت نے نہ صرف اپنے داخلی اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے بھارت کی حکمت عملی ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارت کے لیے افغانستان میں طالبان کا اقتدار ایک موقع تھا جس کے ذریعے وہ پاکستان کے قریب اپنی موجودگی کو مستحکم کر سکتا تھا۔ تاہم، اس موقع کو اسٹرٹیجک طور پر استعمال کرنے کے بجائے بھارت نے اپنی حکمت عملی میں توازن برقرار رکھا۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کی افغانستان میں موجودگی کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھا ہے، اور بھارت نے پاکستان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات میں محتاط رویہ اختیار کیا۔

افغانستان میں بھارت کے مفادات کا تحفظ اور عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کا استحکام دونوں کے لیے بھارت نے طالبان کے ساتھ تعلقات کو ایک محتاط حکمت عملی کے طور پر اپنایا ہے۔ بھارت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ طالبان سے تعلقات بڑھانے سے اس کے عالمی تعلقات متاثر نہ ہوں۔ بھارت نے عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے لیے افغانستان میں اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ اس حکمت عملی نے بھارت کو عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور افغانستان میں اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کیا۔

افغانستان میں بھارت کی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اس نے نہ صرف اقتصادی مفادات کو ترجیح دی بلکہ وہاں کے عوام کے لیے انسانی امداد فراہم کرنے کے ذریعے بھی طالبان کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ بھارت نے افغانستان میں غذائی امداد، طبی سامان اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کیں تاکہ طالبان کے اقتدار کے باوجود وہاں کے عوام کی حالت بہتر ہو سکے اور بھارت کا مثبت امیج قائم ہو سکے۔

اس دوران بھارت نے اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ افغانستان کی معیشت میں بھی مدد فراہم کی۔ بھارت نے افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں کی بنیادیں رکھنے اور اسپتالوں میں امداد فراہم کرنے جیسے منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف افغانستان کے عوام کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا بلکہ اس کے ذریعے بھارت نے افغانستان میں اپنی موجودگی کو مثبت طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔

طالبان کے اقتدار کے باوجود بھارت نے یہ ثابت کیا کہ اس کی حکمت عملی عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کامیاب ثابت ہوئی۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سطح پر بھی ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جس نے اسے نہ صرف افغانستان میں اپنے مفادات کو کامیابی سے برقرار رکھنے کا موقع فراہم کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔

آخرکار، بھارت کی یہ حکمت عملی افغانستان میں اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھنے، عالمی سطح پر اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے اور طالبان کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

Facebook Comments HS