گزر بسر کی جنگ
وہ کچن میں کھڑی اپنی ڈھلتی عمر کے حوالے سے سوچ رہی تھی کہ اچانک اس کے پیچھے سے آواز آئی۔
”امی میں پورے گھر میں آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں اور آپ یہاں کچن میں نجانے کیا کر رہی ہیں۔“ محمودہ کالج سے آنے کے بعد امی سے لپٹ جاتی ہے۔
”ارے آ گئی میری پیاری بیٹی! میں تمھارے لیے کھانا بنانے کچن میں آئی ہوئی ہوں۔ تم نے آج کالج سے آنے میں دیر کیوں کی؟ میں تمھارے لیے فکر مند ہو رہی تھی۔“
”امی آپ بے جا فکرمند ہو رہی ہیں ورنہ مجھے کالج سے گھر آتے آتے اتنی دیر لگ ہی جاتی ہے۔“
فہمیدہ چالیس سال کی عمر میں بھی اپنی بیٹی کی پرورش اور گھر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہے۔ جب اس کی شادی ہوئی تھی تب وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نسوانیت سے بھرپور تھی۔ شادی کے تیسرے سال احمد کسی کار حادثے میں انتقال کر گیا تب سے بیٹی کی ذمہ داری فہمیدہ پر آ گئی۔ خاندان والوں نے اس کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا اور آمدنی کا کوئی راستہ نظر نہیں آیا لہذا بھری جوانی میں اسے مجبوراً جسم فروشی کا پیشہ اختیار کرنا پڑا۔ اس کے پاس اس وقت اس کے جسم کے سوا کچھ بھی نہ تھا کیونکہ نہ وہ تعلیم یافتہ تھی نہ اس کے ماں باپ نے اسے کوئی ہنر سکھایا تھا۔
شوہر کے انتقال تک وہ فقط اپنے مرد سے جڑی رہی مگر شوہر کے انتقال کے بعد حالات ناسازگار ہوئے اور گھر میں فاقے پڑنے لگے تو اس نے مجبوراً ایک تھیلی آٹے کے لیے لوگوں کے ساتھ سونا شروع کیا۔ شروع شروع میں اسے یہ کام عجیب لگتا تھا مگر آہستہ آہستہ جسم بیچنا اس کے لیے مزدوری کرنے جیسا کام ہو کر رہ گیا۔ شروع شروع میں جب معاشرے میں فہمیدہ کا نام جسم فروش عورتوں کی لسٹ میں آیا تو سب خاندان والوں نے کڑی تنقید کی۔ سب نے برا بھلا کہا یہاں تک کہ اس کے ساتھ سب نے قطع تعلق کیا۔ مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی بلکہ جو بھی اسے اس کام سے روکتا وہ اس کے آگے اپنے اخراجات اٹھانے کی شرط رکھ دیتی اور کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کی اور اس کی بیٹی کی ذمہ داری اٹھائے۔
سبھی محلے والوں نے اس گھر سے اپنا تعلق توڑ دیا مگر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ سارے مردوں کی نظریں اس گھر کی جانب مرکوز رہتی تھیں۔ رات کو چھپ چھپ کے مرد اپنی تسکین حاصل کرنے اس کے گھر جاتے تھے۔ محلے کی شریف عورتوں کے لیے فہمیدہ کا گھر سوکن سے کم نہیں تھا جب کہ مرد اس گھر کو دارالامان سمجھتے تھے۔ فہمیدہ ہمیشہ ضرورت اور خواہش پر اکتفا کرتی تھی لہذا بھری جوانی میں بھی اس نے اپنی قیمت سستی رکھی۔ مرد ایک تھیلی آٹے کی قیمت میں اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے تھے۔ محلے کے آدھے سے زیادہ گھروں میں لڑائی کی وجہ فہمیدہ بنتی تھی کیونکہ لوگ اپنی اپنی چڑچڑی بیویوں کو چھوڑ کر اس کی بانہوں میں پناہ ڈھونڈتے تھے۔
گزرتے وقت کے ساتھ اس کی بھی جوانی ڈھل گئی۔ اب اس میں وہ کشش، وہ جاذبیت اور وہ جنسیت نہ رہی جو مردوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ لہذا اسے اپنے کمائی کے لیے گاہک ڈھونڈنے پڑتے تھے۔ جس دن کوئی گاہک ملتا اس دن گھر کا چولہا جلتا ورنہ ٹھنڈا پڑا رہتا۔ اب اس کے اخراجات بھی بڑھ گئے تھے کیونکہ اس کی بیٹی اب کالج جانے لگی تھی۔ فہمیدہ کو جب جسم فروشی کا پیشہ اختیار کرنا پڑا تب اسے شدت سے اپنی کم علمی اور بے ہنری کا احساس ہوا تبھی اس نے اپنے آپ سے عہد کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنی بیٹی کو پڑھائے گی۔ اس وجہ سے وہ معاشرے کی ملامت سے بے پروا اور تمام معاشرتی اقدار کو توڑتی ہوئی کمائی کی راہ تلاش کرتی رہتی تھی۔ اس نے اپنے رشتہ دار مردوں، محلے کے لڑکوں اور بزرگوں سبھی کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھا۔ سب ایک دوسرے سے چھپ چھپ کر اس کے پاس اپنی تسکین حاصل کرنے آتے تھے۔
مگر اس کی ڈھلتی عمر کے ساتھ اس کا جسم بھی ڈھیلا پڑ گیا تھا لہذا لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بیٹی محمودہ بھی جوان ہو رہی تھی۔ وہ بھی اپنی والدہ کی طرح حسین و جمیل تھی۔ نسوانیت کی جملہ خصوصیات اس میں موجود تھیں بلکہ اس کو گلی سے گزرتے ہوئے لوگ ٹھہر ٹھہر کر دیکھتے تھے۔ سب کی نظریں محمودہ کی مچلتی جوانی پر جمی رہتیں اور اس جوانی کے پھل کو توڑنے کی تمنا سبھی رکھتے تھے۔ فہمیدہ کو مردوں کی نفسیات اور ان کی کمینگی کا بخوبی اندازہ تھا لہذا اس نے اپنی بیٹی کو سب سے بچا کے رکھا۔ وہ یہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی کو وہ رسوائی اٹھانی پڑے جو وہ ساری زندگی اٹھاتی رہی ہے۔ جب کبھی اس کا کوئی عاشق اس کی بیٹی کی اٹھتی جوانی کا تذکرہ کرتا تو وہ اسے ڈانٹ دیتی بلکہ خبردار کرتی کہ اس کی بیٹی کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ فہمیدہ کے اس سخت رویے کا اثر یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ محلے کے لوگ اس سے دوری اختیار کرنا شروع ہو گئے۔ گاہکوں کے نہ آنے سے اس کے گھر میں فاقے پڑنے لگے لہذا اسے زندگی کرنے کے لیے باہر سے گاہکوں کو بلانا پڑا۔ اب اسکردو اور سنٹر شوگر سے بھی لوگ اپنی جنسی بھوک اور نئے ذائقے کو چکھنے کے لیے اس کے پاس آتے تھے۔ لوگ علاقے میں سیر و تفریح کے لیے آتے تو راتوں میں مزے لوٹنے کے لیے فہمیدہ کو ایک آپشن کے طور پر استعمال کرتے۔ اس سے دونوں کا فائدہ ہو جاتا یعنی لوگوں کو تفریح کے لیے سامان میسر آتا اور اسے اخراجات کے لیے پیسے مل جاتے۔
جب یہ سلسلہ چل پڑا تو علاقے کے مقامی پریشان ہو گئے کیونکہ آئے روز ان کے محلے میں انجان لوگ گاڑیاں لے کر گھومنے آنے لگے۔ جس گلی میں فہمیدہ کا گھر تھا اس گلی میں تو ہر روز ایک نہ ایک گاڑی کھڑی نظر آتی تھی۔ انجان لوگوں کے محلے میں آنے سے اہل علاقہ کو اپنی بہو بیٹیوں کی فکر ہونے لگی لہذا اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے محلے کی کمیٹی کی جانب سے میٹنگ رکھی گئی۔ کسی نے کہا ”ماں بیٹی دونوں کو محلے سے نکل باہر کرو، ان کی وجہ سے ہماری بہو بیٹیاں بھی محفوظ نہیں۔“
کوئی کہتا تھا ”ان کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کرو“
کسی نے کہا ”ماں بیٹی کو کسی شہر میں دارالامان بھیج دو۔ ہماری نظروں سے دور وہ جو بھی کریں ان کی مرضی۔“
محلے میں رکھنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا مگر آخر میں مولانا صاحب جو صاحب استطاعت بھی تھے اور محفلوں میں ان کہ بات مانی جاتی تھی نے مشورہ دیا ”ان ماں بیٹی کو محلے سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ ان کی اصلاح ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ جب یہ عورت اپنا جسم فروشی کا پیشہ چھوڑ کر ایک شریف عورت کی طرح گزر بسر کرے گی تب معاشرے کی حیا برقرار رہے گی۔“
ایک صاحب کہنے لگے : ”مولانا صاحب آپ ہمارے لیے واجب التعظیم ہیں اور آپ کی ہر بات سر آنکھوں پہ مگر یہ تو بتائیں کہ اس رذیل عورت کو راہ راست پر کیسے لائیں گے؟“
مولانا صاحب اپنے مخصوص اور متاثر کن انداز میں بولے ”اس کا اب ایک ہی حل ہے کہ محلے کی کمیٹی ان ماں بیٹی کی کفالت کی ذمہ داری لے۔“
ایک بزرگ نے کہا ”یہ آپ نے بڑی معقول بات کی ہے اب سے ان کی کفالت کی ذمہ داری کمیٹی کی ہے اور اس طرح باہر کے انجان لوگوں کا ہمارے محلے میں آنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور ہماری بہو بیٹیاں محفوظ رہیں گی۔“
سب نے اس فیصلے پر اتفاق کیا اور فہمیدہ کو گاؤں کے بزرگوں نے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس سے اس کی رائے نہیں لی گئی بلکہ زبردستی یہ فیصلہ مسلط کیا گیا اور اس کو تنبیہ کی گئی کہ آئندہ اس کے گھر باہر سے کوئی گاہک نہیں آئے گا اور وہ آج سے ہی جسم فروشی کا پیشہ چھوڑ دے گی۔
اس فیصلے کا کچھ خاص اثر نہیں ہوا لہذا دن میں تو معمولات معمول پر چلتے مگر رات ہوتے ہی کوئی گاڑی آ کر اس گلی میں رک جاتی۔ محلے والوں کو یہ طریقہ ناگوار گزرا اس لیے کمیٹی کی جانب سے دوسری میٹنگ بلائی گئی۔ اس بار میٹنگ میں کافی غور و خوض کے بعد وہی مولانا صاحب فرمانے لگے ”بھائیو! اور بزرگو! یہ رذیل عورت اس طرح اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گی اس کو اس حرکت سے روکنے کے لیے ہمیں رات کو پہرا دینا ہو گا۔ اس کام کے لیے ہم اپنے نوجوانوں پر اعتماد نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کو پہرے پر کھڑا کریں گے تو وہ خود راتوں کو فہمیدہ کے ساتھ گل چھرے اڑائیں گے۔ بلکہ اس سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اس کی جوان بیٹی محمودہ بھی تو ہے ہمارے جوانوں کی نظر اس پر ہے لہذا جوانوں کو یہ ذمہ داری نہیں دے سکتے۔“
ایک تجربہ کار بزرگ نے کہا ”مولانا صاحب آپ کی بات بالکل درست ہے ہم اپنے نوجوانوں پر کسی صورت بھروسا نہیں کر سکتے۔ یہ کام آپ کیوں نہیں کرتے؟ ویسے بھی اس محلے میں آپ سے زیادہ با اعتبار اور پاک باز کوئی نہیں ہے ہمیں آپ پہ کامل بھروسا ہے کیوں نہ آپ پہرا داری کیا کریں۔“
ایک دو اور لوگوں نے بھی اس بات کی تائید کی بلکہ اکثریت نے مولانا صاحب پر اعتماد ظاہر کیا۔ لہذا سب کے متفقہ فیصلے سے یہ بات طے ہوئی کہ آئندہ راتوں کو مولانا فہمیدہ کے گھر پہرا دیں گے۔
”مولانا صاحب میں کبھی یہ برا کام نہیں کرنا چاہتی مگر میری مجبوری مجھے مجبور کرتی رہی۔ میں تو گزر بسر کی جنگ لڑ رہی ہوں۔ اب مجھے اور کچھ نہیں چاہیے سوائے اپنی بیٹی کی تعلیم اور اس کی حفاظت کے۔“ فہمیدہ روہانسی آواز میں مولانا کے سامنے اپنی بے بسی کی داستان سنا رہی تھی۔
”آپ فکر نہ کریں آپ کی حفاظت میں کروں گا مگر آج سے اپنے گاہکوں کو آنے سے منع کر دیں۔“
”مولانا صاحب میں اب کسی کو بلاتی نہیں ہوں وہ بس پرانے گاہک ہیں تو پھر زبردستی آ جاتے ہیں۔ اب آپ رات کو پہرا دے رہے ہیں تو شاید کسی کے آنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ میں عمر کے اس حصے میں پہنچی ہوں کہ مجھے خود یہ کام اچھا نہیں لگتا مگر میں اپنے اور اپنی بیٹی کے اخراجات پورا کرنے کے لیے مجبوراً کر رہی تھی اب جب کمیٹی نے ہماری کفالت کی ذمہ داری اٹھائی ہے تو مجھے یہ کام کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔“ فہمیدہ اپنی بات کہتے کہتے خاموش ہو گئی۔
جب سے مولانا صاحب نے رات کو پہرا دینا شروع کیا تب سے گاہکوں کے آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ بلکہ محلے کے وہ لوگ بھی جو اپنی تسکین کے لیے فہمیدہ کے ہاں جاتے تھے انھوں نے بھی مولانا کے ڈر سے وہاں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ دو ڈھائی مہینے یہ سلسلہ چلتا ہے اور مولانا صاحب فہمیدہ کے گھر پر رات دیر تک ٹھہرتے رہتے اور سارا محلہ سکون کی نیند سو جاتا۔ اب سب اپنی اپنی زندگی میں مطمئن تھے اور اس بات کی خوشی تھی سب کو کہ فہمیدہ کو راہ راست پر لانے کے لیے مولانا صاحب نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ایک دن صبح سویرے فہمیدہ کے چیخنے چلانے کی آواز آنے لگی۔ مسلسل رونے والی آواز سن کر سب محلے والے اس کے گھر پہنچ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ محمودہ بے ہوش پڑی ہے اور فہمیدہ رو رو کر اپنا آپ ہلکان کر رہی ہے۔ لوگوں نے جلدی سے ہیلپ لائن پہ کال کر کے ایمبولینس منگوائی اور محمودہ کو ڈی ایچ کیو ہسپتال اسکردو لے گئے۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد لوگوں کو مولانا صاحب کا خیال آیا ان کے بارے میں سب ایک دوسرے سے پوچھتے رہے۔ تب محلے کی ایک عورت سے پتہ چلا کہ مولانا صاحب صبح سویرے سوٹ کیس اٹھائے کہیں نکل گئے ہیں۔ ان کے گھر والوں سے مولانا کے یوں اچانک غائب ہو جانے کے حوالے سے پوچھا گیا مگر ان کو اس حوالے سے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔
تین دن بے ہوش رہنے کے بعد محمودہ کو ہوش آیا اور اس کی رپورٹ یہ آئی کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ دو ماہ بعد پتہ چلا وہ ماں بننے والی ہے۔


