پاکستان بنگلا دیش تعلقات؛ ایک نئے دور کا آغاز


 

بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان دو سال تک اسے آزاد ریاست ماننے سے انکاری رہا، حتیٰ کہ جب کامن ویلتھ آرگنائزیشن نے بنگلہ دیش کی آزاد حیثیت کو تسلیم کیا تو پاکستان نے احتجاجاً اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔

تاہم جب 22 فروری 1974 ء کو اسلامی تعاون تنظیم کا دوسرا اجلاس پاکستان میں منعقد ہوا، تو دیگر مسلم ممالک کے ایما پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو الگ ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ یوں شیخ مجیب الرحمٰن بطور بنگلہ دیشی وزیر اعظم پہلی بار لاہور آئے۔ پھر اسی سال جون میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران بنگلہ دیش نے کچھ بنیادی مطالبات سامنے رکھے۔

جسں میں بنگال میں پھنسے بہاری مسلم جن کی اکثریتی زبان اردو تھی، انہیں واپس پاکستان بھیجنا، جنگ میں ”وار کرائمز“ کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی، اثاثہ جات کی تقسیم اور ریاستی سطح پر معافی مانگنے جیسے اہم مطالبات شامل تھے۔ جس پر کچھ پیش رفت ہونے سے پہلے ہی اگست 1975 ء میں مجیب الرحمٰن کا قتل ہو گیا۔ پھر نئی قیادت کے ساتھ کچھ تعلقات میں بہتری آئی، تاہم مکمل دوستانہ تعلقات قائم نہ ہو سکے۔ پھر پرویز مشرف نے بنگلہ دیش کے دورے پر اکہتر کے واقعات کو قابل افسوس قرار دیا۔ تاہم شیخ حسینہ حکومت کا مطالبہ ریاستی سطح پر معافی مانگنے کا قائم رہا۔ حتیٰ کہ آج بھی بنگلہ دیشی قیادت اس مطالبے پر قائم ہے کہ پاکستان کو جنگی جرائم پر معافی مانگنی چاہیے۔

پاکستان نے سرکاری سطح پر تو معافی نہ مانگی، اس کے باوجود تعلقات قائم رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں جمود حسینہ رجیم کی جماعت اسلامی راہنماؤں کو پھانسیاں دینے اور مودی کیمپ میں گھسنے کے بعد آیا۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا، پھر 2015 ء میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فلائٹس بھی بند ہو گئیں۔ حسینہ حکومت نے سارک میں بھارت کی حمایت کی اور اسے ناکام کرنے میں بھارت کا ساتھ دیا۔

حسینہ حکومت کے جانے کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون پر آمادہ ہے۔ سات اگست کے بعد نئی قیادت نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ بھارت بنگلہ دیش میں اپنے اثر و رسوخ کو ختم ہوتا دیکھ کر بنگلہ دیش پر عالمی سطح پر امریکہ کی مدد سے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ جس میں ہندوؤں کے خلاف مذہبی انتہا پسندی کو جواز بنایا جا رہا ہے۔

حسینہ کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں بھارت مخالف ایک لہر اٹھی ہے۔ جس نے بھارت کی تزویراتی گہرائی کو چیلنج کیا ہے۔ کیونکہ بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو لے کر مشکل میں ہے۔ پہلے مالدیپ میں بھارت نواز حکومت کا خاتمہ اور پھر بنگلہ دیش میں بھارت مخالف قیادت کے ظہور نے اس کے لئے نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر چین کے بڑھتے اثرات کو روکنے کے لئے بنگلہ دیش کے مخالف ہر قدم اٹھا سکتا ہے۔ جس میں دوبارہ حسینہ کو اقتدار کی مسند پر بیٹھانا بھی شامل ہے۔

تاہم اب تک کی صورتحال کے مطابق بنگلہ دیش بھارتی اثر سے نکل کر چین اور پاکستان کی طرف باہمی احترام کے ساتھ تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے جا رہا ہے۔

پاکستان اور بنگلادیش برادر اسلامی ممالک ہیں۔ جن کے درمیان بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ جبکہ ان کا مخالف بھی بھارت ہے۔ بھارتی آبی جارحیت سے لے کر سرحد پر بھارتی کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ٹیکسٹائل، زراعت، کھیل، فوجی ساز و سامان، لوگوں کے درمیان تعلقات، اور ثفافتی شعبوں میں تعاون کے لئے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

بنگلہ دیش میں نئی قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نیا موڑ دینے کے لئے پر عزم ہے، تاہم ضرورت عملی اقدامات کی ہے تاکہ ایک دوسرے کے پوٹینشل کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی اور معاشی مفادات کا حصول ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں امن و امان اور ترقی کے لئے سارک ممالک سے مل کر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

Facebook Comments HS