ڈیرہ بگٹی: ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت
ڈیرہ بگٹی بلوچستان کا واحد ضلع ہے جو پچھلے ستر سالوں سے پورے ملک کی ایندھن کی مجموعی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چاروں اطراف گیس کمپنیوں کی وجود نے اس شہر کے نام کو دنیا میں نمایاں اور سڑکوں کی زبوں حالی عوام کی زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہیں۔ اس کو جاننے کے لیے مختلف لوگوں سے ملاقات کرنا پڑا۔
طویل تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتی خزانے سے نکلنے والے فنڈز زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ہضم کر لیے جاتے ہیں۔ یہ ایک منظم گروہ کا کام ہے جس میں سیاستدان، ٹھیکیدار اور بیوروکریسی کے نمائندے شامل ہیں۔
جب کوئی ترقیاتی منصوبہ منظور ہوتا ہے تو اس کا ٹھکا اکثر سیاستدان کے قریبی ساتھی کو دیا جاتا ہے۔ اس ٹھیکے کی قیمت کا ایک بڑا حصہ رشوت کی شکل میں مختلف سطحوں پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یہ رقم سیاستدانوں، ٹھیکیداروں، بیوروکریٹس اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والوں میں بانٹی جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، منصوبے پر بہت کم رقم خرچ ہوتی ہے اور وہ بھی بہت کم معیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
میری معلومات کے مطابق پروجیکٹ کوئی برسر اقتدار سیاست دان اپنے من پسند شخص کے حوالے کرتا ہے اور ٹھیکیدار نے اس سے خریدنا ہوتا ہے۔ جو کہ ٹینڈر کے طریقے کار کو مکمل بائی پاس کرتی ہے۔ اور اس کی فروخت پہلے سے طے ہوتی جو کہ اس مکمل پروجیکٹ کا دس فیصد ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایم پی اے کے اپنے دس فیصد نکلتا ہے جو کہ ٹھیکیدار کو کیش جمع کرنا ہوتا ہے۔ اور دو فیصد سی ڈی بینک میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ اور پانچ فیصد مٹھائی کے طور پر متعلقہ دفتر والوں کو دینا پڑھتا ہے۔ جو کہ کیش ان کے حوالے کرنے ہوتے ہیں۔ اور دس فیصد سیکورٹی کے لیے بنک میں رکھوانا پڑتا ہے۔ جو کہ کام مکمل ہونے کے بعد ملنے ہوتے ہیں۔ اور بارہ فیصد اس متعلقہ دفتر کو دینے ہوتے ہیں جس کا کام کرنا ہوتا ہے جیسے بی این ڈار، پی ایچ ای وغیرہ کا کام لیا تو اس ادارے کو افسران کو دینا پڑتا ہے۔ اور دس فیصد دوسرے طاقت وار حلقوں کو دینا ہوتا ہے۔ باقی اکتالیس فیصد رقم قسطوں پر ٹھیکیدار کو حکومت کی طرف سے ملتی ہے۔
اب ٹھیکیدار کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دس سے پندرہ فیصد بچا لوں۔ اور کام صرف پچیس سے تیس فیصد کیا جاتا ہے۔ جس سے ناقص میٹریل استعمال کر کے بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ اور ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں اس وقت سینکڑوں ادھورے کام پڑے ہیں۔ مزید یہ کہ استعمال ہونے ولا میٹریل پنجاب سے لے کر آیا جاتا ہے۔ جس پر آدھا آدھا خرچہ آتا ہے (یعنی دس روپے کی اینٹ پر دس روپیہ کرایہ ) ۔ تو ٹھیکیدار کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح حکومتی الاٹ رقبہ پر ایک چار دیواری بنا لوں۔ اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہی ہوتا ہے۔ وہ بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں اور ان کی زندگیاں مشکل ہو جاتی ہیں۔
اس مسئلے کا حل کے لیے کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو عوامی منصوبوں پر خرچ ہونے والے پیسے کی شفافیت کو یقینی بنانا ہو گا۔ اس کے لیے ایک موثر نظام بنایا جانا چاہیے جس کے تحت عوام کو یہ جاننے کا حق ہو کہ ان کے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔
یہ ایک طویل اور مشکل عمل ہو گا لیکن اس کے بغیر ڈیرہ بگٹی جیسے علاقوں کا ترقی کرنا ناممکن ہے۔


