بین الصوبائی اقامتی منصوبہ
کوئی بھی خواب، خیال یا تخیل جب عملی صورت اختیار کر کے کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے تو خواب دیکھنے والا اپنی اس کامیابی اور محنت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور جب یہ کامیابی کسی ادارے کے سربراہ کے نصیب میں لکھی جائے تو اُس کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔
زندگی سب کے لیے ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہر شے پلیٹ میں رکھی نہیں ملتی۔ اُنہیں محنت اور ریاضت سے زندگی بنانی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات ایسے ہی لوگ عظیم انسان بنتے ہیں۔
یہ آواز کافی عرصے سے سنائی دے رہی تھی کہ مضافات میں رہنے والے اہل قلم کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔
اسے خوش قسمتی ہی سمجھیے کہ یہ کامیابی اکادمی ادبیات، اسلام آباد کی موجودہ سربراہ کے حصے میں آئی۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ملک بھر سے نوجوان اہل قلم سے درخواستیں طلب کیں۔ دو سو سے زائد درخواستوں کی چھان بین کے لیے سینئر اہل قلم کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر سلطان ناصر صاحب نے درخواست کی کہ آپ میرٹ پر ملک کے ہر علاقے سے دو ایسے لوگوں کا انتخاب کریں۔ جو معیار پر پورے اترتے ہوں۔ کمیٹی نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بیس نوجوان اہل قلم کا انتخاب کیا۔ کوشش کی گئی کہ خواتین اہل قلم کی نمائندگی بھی ہو۔
پاکستان کے طول و عرض سے منتخب ان نوجوان اہل قلم کو اسلام آباد لایا گیا۔ اکادمی ادبیات نے بہترین میزبانی کا حق ادا کیا۔ اُن کے دس روزہ قیام کے لیے مختلف پروگرامز ترتیب دیے۔
انہیں اسلام آباد کی مختلف درسگاہوں کی سیر کرائی گئی۔ شہر کے نامور ادیبوں سے اُن کی ملاقات کروائی گئی۔
اسلام آباد کے کچھ اہل قلم کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ میری خوش قسمتی کہ کہ یہ اعزاز میرے حصے میں بھی آیا۔
نوجوان اہل قلم سے مکالمہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو خواب میں بھی ایسے پروٹوکول ملنے کی امید نہیں تھی۔ اور بطور لکھاری تو ایسی پذیرائی کی بالکل اُمید نہیں تھی۔ ہم میں خدا داد تخلیقی صلاحیت تو تھی مگر ناقدری زمانہ کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لکھنے سے بد دل ہو چکے تھے۔ مگر اب ہمارے اندر اعتماد پیدا ہوا ہے۔ دس دن مل جل کر رہنے سے تعلقات بھائی چارے میں بدل گئے۔ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی جلا ملی۔ اسلام آباد میں ایسے نامور اہل قلم سے ملنے، اُن سے مکالمہ کرنے کا موقع ملا جن کی تحریریں پڑھ کر ہم نے لکھنا سیکھا۔ ہم خواہش کے باوجود زندگی میں کبھی بھی اتنے سارے اہل قلم سے نہیں مل سکتے تھے۔ ہمارے لیے اسلام آباد آنا اور پھر نامور اہل قلم سے ملنا ناممکن تھا۔
ہمارے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہماری پذیرائی بحیثیت لکھاری ہوئی۔ اب ہمیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر فخر ہونے لگا ہے۔ اب پاکستان کے ہر علاقے میں ہمارے دوست بن گئے ہیں، جن کی بدولت ملک کے ہر علاقے میں لکھے جانے والے ادب تک ہماری ذاتی رسائی ہوگی۔ مختلف صوبوں سے آئے ہوئے دوستوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا تجربہ بھی بہت اچھا رہا۔ ہم میں سے اکثر نے ہم مذہب، ہم مسلک یا ہم زبان نہ ہونے کے باوجود ایک ہی کمرے میں رہے، جس سے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔
ایک لڑکے نے بتایا کہ میرے ساتھ کمرہ شیئر کرنے والا لڑکا قوت سماعت سے محروم تھا، میں نے دس دن اس سے باتیں کرنے، سمجھنے اور سمجھانے کا طریقہ سیکھا۔ ان میں سے ایک نوجوان وہیل چیئر پر تھا، جسے ساتھیوں نے بہت اچھی طرح سمبھالا اور سارا وقت ساتھ رکھا۔
یہ نوجوان ہیرے جواہرات کی طرح ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ جن کی پذیرائی ہم سب پر واجب تھی۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کا یہ انقلابی قدم تعریف کا محتاج نہیں۔ کیونکہ اچھا عمل بانجھ نہیں ہوتا۔ وہ نسلیں تخلیق کرتا ہے اور پھر نسلیں خود اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
نوجوان اہل قلم کا آخری پڑاؤ میرے گھر پر تھا۔ اس تقریب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف، عارف صاحب، ڈاکٹر وحید رانا، ڈاکٹر فاروق عادل، ڈاکٹر فوزیہ سعید، ڈاکٹر ملیحہ، انجم خلیق، ڈاکٹر ایوب علوی، اور اکیڈمی ادبیات کے سلطان ناصر اور عاصم بٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خیالات سے نوجوانوں کو مستفید کیا۔ نوجوانوں کے پُرجوش خیالات جان کر میں سوچتی رہی کہ اگر یہ سفر تسلسل سے چلتا رہا تو ہم یقیناً نسلوں کے تفاوت کو کم کر سکتے ہیں۔ اور پھر نوجوان نسل کے اس شکوے (کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا ) کا قرض بھی چُکا سکتے ہیں۔
دوسرے اداروں کو بھی چاہیے کہ ایسی گنجائش پیدا کریں اور اہل ثروت کو بھی رضاکارانہ جذبے کے ساتھ اپنی آغوش وا کرتے رہنا چاہیے۔
شاید ہمارا یہ عمل ہماری اُکھڑی ہوئی جڑوں کو مضبوطی کے ساتھ اپنی مٹی کے ساتھ پیوست ہونے میں مددگار ثابت ہو۔
ہم پاکستانی ہونے پر شرمندہ نہیں، بلکہ فخر کرسکیں۔ ہمارے اندر مایوسی اور صوبائی تعصب کا خاتمہ ہو جائے، اور ہم بھائی چارے کے ایسے بندھن میں بندھ جائیں جو ہماری آپس کی دوریوں اور مسلکی تفرقوں کو ختم کر کے ہمارے دل کو قومیت کے جذبے سے سرشار کر دے۔ اور ہم سب یک زبان ہو کر گائیں۔
اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں، اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں


