مالک کی بیٹی اور کرخت شکل آدمی


khawar jamal

میرا جنم کوڑے کے ڈھیر پر ہوا تھا۔

ماں باپ کا کچھ پتہ نہ تھا، مر گئے کہ زندہ ہیں۔ شاید کسی نے ترس کھا کر مجھے کبھی گود لے لیا ہو گا لیکن گھر میں اس نے بھی نہیں رکھا۔ میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو گلیوں میں آوارہ گھومتے ہوئے ہی پایا۔ کہیں سے کچھ کھانے کو مل جاتا تو ٹھیک ورنہ کچھ دن پانی پی کر بھی نکل جاتے تھے۔ رات گزارنے کے لیے میں نے قبرستان کے پاس ایک کھنڈر ڈھونڈا ہوا تھا۔ وہاں میرے جیسے دو چار اور بھی آتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد وہاں ایک عمارت بن گئی اور میں پھر در بدر ہو گیا۔

ایک دن میں اس شہر سے تنگ آ کر ایک سمت میں چلنے لگا کہ کوئی اور جگہ ڈھونڈتا ہوں۔ چلتے چلتے تھک کر ایک جگہ گر گیا۔ میں ہانپ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے قریب آ رہا ہے۔ میں نے آنکھیں کھولیں۔ ایک شخص پانی کی بوتل لے کر کھڑا تھا اور میرے زندہ یا مردہ ہونے کا اندازہ لگا رہا تھا۔ میں مشکل سے اٹھا تو اس نے مجھے پانی پلایا۔ اس نے میری بہت مدد کی اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کا گھر بہت بڑا تھا۔ وہاں کئی گھوڑے، بیل اور بکریاں تھیں۔

مجھے بکریوں کا خیال رکھنے کی نوکری مل گئی۔ کھانا پانی بھی وہیں ملنے لگا۔ میرے مالک کی ایک بیٹی تھی۔ بہت خوب صورت تھی۔ وہ اکثر مجھے مسکرا کر دیکھتی تھی۔ میں بھی اس کے آس پاس منڈلاتا رہتا تھا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ وہ جب بھی باہر کہیں نظر آئے تو میں اس کے قریب رہوں۔

ایک دن کچھ لوگ مالک سے ملنے آئے۔ سب اس دن بہت خوش تھے سوائے مالک کی بیٹی کے۔ وہ بہت پریشان لگ رہی تھی۔ ان میں سے ایک بندہ مجھے بہت ہی برا لگا۔ اس کی شکل بھی انتہائی کرخت تھی۔ وہ سب چلے گئے تو میں دروازے کے باہر ہی بیٹھا مالک کی بیٹی کا انتظار کرتا رہا۔ وہ شام کو باہر آئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا لیکن مجھے دیکھتے ہی مسکرانے لگی۔

چند دن بعد گھر میں گہما گہمی شروع ہو گئی۔ بہت سے لوگ آنے جانے لگے۔ رنگ روغن والے گھر چمکانے لگے جس کے بعد بہت سے پھول بوٹے لگا دیے گئے۔ مجھے اور بکریوں کے ریوڑ کو کچھ عرصے کے لیے گھر کے باہر میدان میں نکال دیا گیا۔ تین دن بعد بہت سے لوگ ایک بڑی ٹولی کی شکل میں آئے۔ وہ خوشی سے ناچ رہے تھے۔ اس دن بہت سے دھماکے بھی ہو رہے تھے لیکن کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ میں گھر کی ایک دیوار پر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ مالک کی بیٹی اس دن اس کرخت شکل والے آدمی کے ساتھ چلی گئی۔

سب کچھ ویسا ہی ہو گیا دوبارہ۔ میں اور بکریوں کا ریوڑ گھر کے اندر آ گئے لیکن میں اداس رہنے لگا۔ ایک دن اچانک مالک کی بیٹی گھر آ گئی۔ وہ بہت رو رہی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی بھی نہیں۔ میں دروازے کے باہر ہی بیٹھ گیا۔ اتنے میں وہی کرخت شکل والا آدمی چیختا چلاتا ہوا آ کر اندر گھس گیا۔ وہ اور مالک کی بیٹی جھگڑا کرنے لگے۔ مجھے اچانک خطرہ محسوس ہونے لگا۔ میں کھڑا ہو کر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ مالک بھی آس پاس نہیں تھا۔ اس کرخت شکل والے آدمی نے مالک کی بیٹی کو مارنا شروع کر دیا۔

اب مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں بھاگا، چھلانگ لگائی اور گھر کا دروازہ پار کر کے اس آدمی پر حملہ کر دیا۔ وہ گر چکا تھا اور میں اس کے سینے پر سوار تھا کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا۔ میں اڑ کر دیوار کے ساتھ جا لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے پیٹ میں کسی نے انگارے بھر دیے ہوں۔ میں نے دیکھا مالک کے ہاتھ میں بندوق تھی جس کی نال سے دھواں نکل رہا تھا۔ وہ میری طرف حقارت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک آدمی مجھے ٹانگوں سے گھسیٹتا ہوا گھر سے باہر لے گیا۔

میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا تو مالک کی بیٹی اسی کرخت شکل آدمی کے ساتھ واپس جا رہی تھی۔ میں وہیں پہنچ گیا جہاں سے چلا تھا۔ وہ آدمی مجھے کوڑے کے ایک ڈھیر پر پھینک کر چلا گیا۔ آخر میں گلیوں میں گھومنے والا ایک آوارہ کتا ہی تو تھا۔

میری موت بھی کوڑے کے ڈھیر پر ہی ہو رہی تھی۔

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal