”اردو املا: مسائل و مباحث کی روایت“ ایک تعارف


ڈاکٹر ابرار خٹک کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہے۔ وہ اس وقت خوشحال خان خٹک ڈگری کالج، کوڑہ خٹک، نو شہرہ میں اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اب تک میری ان سے بس ایک ہی ملاقات رہی ہے، وہ بھی اس وقت جب وہ لائلپور تشریف لائے تھے۔ ان کے ساتھ جتنا وقت گزرا، اس میں زیادہ تر علمی موضوعات پر بحث رہی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا ذریعہ محمد عابد بنے جنھوں نے ان کی مذکورہ کتاب کو اپنے ادارے مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2024 ء میں شائع کیا۔

اس وقت وطنِ عزیز کی تمام یونیورسٹیوں کی تحقیقی رفتارِ کار دیکھی جائے تو بہت تیز ہے لیکن ان میں سے جسے حقیقی معنوں میں تحقیق کہا جا سکتا ہے وہ، آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خال خال کوئی ایسا طالبِ علم میسر آتا ہے جو دل جمعی اور لگن سے تحقیق کرنے کا خواہاں ہوتا ہے ورنہ سب سہل طلب تحقیق کے خارزاروں سے گبھرا جاتے ہیں۔ اس تحقیقی کساد بازاری پر یونیورسٹیوں کے باہر بیٹھے ناقدین بڑی دیدہ دلیری اور فراخ دلی سے دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں جس میں وہ کسی حد تک درست بھی ہیں۔

بے جا تنقید کرنے والوں میں اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے عمر بھر ایک بھی تحقیقی کتاب نہیں لکھی ہوتی لیکن تحقیقی معیارات متعین کرنے اور محققین کی کوتاہیوں کی نشاندہی میں، وہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار خٹک صاحب کا مذکورہ مقالہ اس معیار کا حامل ہے کہ ان کی بے جا تنقید کا، منھ بند کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ان کی مذکورہ کتاب، ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کی ”اردو املا کے مسائل و مباحث:تحقیقی و تنقیدی مطالعہ“ کی تشکیلِ جدید ہے اور یوں یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق میں ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوا کا جھونکا بھی ہے۔ اس قسم کے موضوعات پر تحقیق کرنا، جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ یہ کام کسی سہل طلب محقق کے بس سے باہر تھا جسے خٹک صاحب نے ژرف نگاہی اور عرق ریزی سے انجام دیا ہے۔

انسانی تاریخ کے ارتقا کا جائزہ، یہ آشکار کرتا ہے کہ دنیا میں ہر شے تغیر پذیر ہے اور جیسے جیسے تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں ویسے ویسے انسانی ضروریات میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہی عمل زبان کے ساتھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے اس لیے، اس کے پرانے اصول و ضوابط ترک کر کے نئے اصول و ضوابط طے کرنے پڑتے ہیں۔ وہ زبانیں جن میں انسانی ضروریات کے تحت تغیرات رونما نہیں ہوتے وہ آہستہ آہستہ انحطاط کا شکار ہو کر صفحۂ ہستی سے معدوم ہوجاتی ہیں۔ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں اپنے زمانے کی بڑی زبانیں زوال کا شکار ہوئیں اور آج وہ صرف تاریخ کے صفحات میں قید ہیں۔

زبان جب ارتقا کے عمل سے گزرتی، تقریر کے دائرے کو پھلانگتی، تحریری منطقوں میں داخل ہوتی ہے تو اسے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا تعلق املا اور رسم الخط سے ہوتا ہے۔ ماہرین ان کی معیاری صورتوں کا تعین کرتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ وہ زبانیں جو تبدیلیوں کو قبول نہیں کرتیں، ان کا زندہ رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر ابرار خٹک نے محنت و جانفشانی سے ان مسائل کی روایت کو مذکورہ کتاب میں زیرِ بحث لانے کی کوشش کی ہے۔

اس کوشش میں انھوں نے اب تک پاکستان اور بھارت میں اشاعت پذیر ہونے والی املائی کتب، مضامین اور مقالات کا جائزہ لیا ہے۔ املا اور تلفظ کے ان مسائل کو معرض، تفہیم میں لانے کے لیے انھوں نے کتاب میں پانچ ابواب رقم کیے ہیں جن میں پہلا باب ”اُردو اِملا کے مسائل و مباحث“ کے نام سے شامل ہے۔ جس میں املا کی تعریف، اُردو املا کا ارتقاء، طریقِ کار اور اسلوب شامل ہے۔ ارتقا پر بات کرتے ہوئے انھوں نے پندرہویں صدی سے آغاز کیا ہے اور انیسویں صدی تک کی املائی خصوصیات کو پیش کیا ہے۔

باب دوم ”اردو املا کے نظری اصول و ضوابط کی تاریخی روایت“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔ اس باب میں انھوں نے اصلاحِ املا کی روایت، اس کے مسائل، ان کے حل پر تفصیل سے بات کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو املا اور تلفظ کے مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔ املا اور تلفظ کے مختلف پہلوؤں پر بات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”دنیا کی ہر زبان اپنے صوتی نظام اور لب و لہجے کے مطابق دخیل الفاظ میں تصرف کرتی ہے، اس لیے ہر لفظ کے معاملے میں اصل زبان کے تلفظ پر اصرار کرنا درست نہیں بلکہ جس زبان میں وہ بولا جا رہا ہے اس کی پیروی درست ہوگی البتہ صوری اور معنوں تقاضوں کو ملحوظ رکھنا اکثر صورتوں میں لازم ٹھہرے گا“ ۔

تیسرے باب میں اردو املا کے عملی طریقہ کار اور اسلوب پر بات کی گئی ہے جس میں علمائے املا اور اداروں کی سفارشات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ باب چہارم میں علمائے املا کے مابین اختلافات اور اشتراکات پر بحث شامل ہے۔ ان اختلافات کی صورت میں جو علمی اور فکری نکات سامنے آئے ہیں یہ باب ان کو سمجھنے میں مددگار ہے۔ کتاب کے آخر میں ادارہ برائے فروغِ اردو قومی زبان، اسلام آباد کی 2022 ء کی ”سفارشاتِ اردو املا“ کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ عام قاری کسی الجھن کا شکار نہ ہو اور معیاری املا کا ممکنہ حد تک تعین ہو سکے۔

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی موجودگی میں یکسانیت اور معیاری املا کی ضرورت و اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ آج کے دور میں اردو زبان کے قاری کو لکھنے اور پڑھنے میں اشکال کا سامنا نہ ہو اور کسی حد تک ڈاکٹر صاحب نے ان اشکال کو دور کرنے کا جتن کیا ہے۔ ڈاکٹر ابرار خٹک کی یہ کتاب ان طالبِ علموں اور اساتذہ کے لیے حد درجہ اہم ہے جو زبان و ادب سے منسلک ہیں اور جن پر زبان کی ترویج و ترقی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کتاب کی اشاعت پر ڈاکٹر ابرار خٹک صاحب کو مبارک باد۔

Facebook Comments HS