ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (2)

سوال: آپ کے اس مقدمہ کی رُو سے یہ اخذ کرنا درست ہے کہ مشرقی فلاسفہ میں زندگی سے رغبت اور قربت زیادہ پائی جاتی ہے؟
جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ ایک جاپانی فلسفی کیتارو نیشیدہ اپنی کتاب ’این انکوائری اِن ٹُو دا گُڈ‘ میں سوال اٹھاتا ہے کہ خیر کہاں ہے؟ اُس کے مطابق خیر روزمرہ زندگی میں ہی موجود ہے۔ ایک مقام پر اس نے لکھا کہ میں چالیس برس تک ڈائس کے اس جانب بیٹھ کر اساتذہ سے درس لیتا رہا ہوں اور اب آئندہ کے چالیس برس ڈائس کے دوسری جانب کھڑے ہو کر ’زندگی کیا ہے؟‘ کا جواب بتانا چاہوں گا۔ گویا کیتارو کا مطلوب و مقصود نکتہ زندگی کی معنویت جاننا ہے۔ ہیگل اور ہائیڈیگر کے فلسفے کو اپناتے ہوئے بدھ مت کے زبان و بیان کی آمیزش سے اس نے کیوتو سکول کا قیام عمل میں لایا۔ نیشیدہ کے ایک شاگرد نے ریلیجئن اینڈ نتھنگ نس (دین و نیستی) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی، جس کے ابتدائیہ میں ایسے تین بنیادی سوالات پیش کیے ہیں، جو اپنی نوع میں بالکل وہی ہیں جو رومیؒ نے اٹھائے ؛ میں کہاں سے آیا ہوں؟ میرے آنے کا مقصد کیا ہے؟ میری منزل کہاں ہے؟ خواہ اس کی رومیؒ سے واقفیت ہو یا نہ ہو لیکن ان سوالات کی اساس یکساں ہے۔
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو ہرِ زیست کا فہم حاصل کرنا مشرقی فکر و فلسفہ میں ترجیحی بنیادوں پر اوّلیت کا درجہ رکھتا ہے۔ غالب مغربی افکار میں زیادہ تر توجہ کائنات، موجوداتِ کائنات اور ان کی فعالیت پر مرکوز ہے۔ یہی سبب ہے کہ ٹیکنالوجی (اپنی موجودہ حالت میں ) مغرب ہی میں زور و شور سے ابھر کر سامنے آئی کیونکہ مغربی زاویۂ نگاہ خارج میں موجود حاضر و موجود دنیا پر مرتکز ہے۔ اس کے برعکس مشرقی نقطۂ نگاہ باطن کے اسرار پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مغربی تہذیب و تمدن ٹیکنالوجیائی فضا میں گُندھا ہوا نظر آتا ہے جب کہ مشرقی تہذیب و تمدن اپنی فکری اساس میں متصوفانہ، عارفانہ اور شاعرانہ مزاج کا پروردہ ہے۔ قصہ مختصر، مغرب آفاق پر جبکہ مشرق انفس کو ترجیحاً اپنا مطمح نظر بناتا ہے۔ باطنی، درونی یا انفسی زاویۂ نگاہ کی وجہ سے مشرقی فکر و فلسفہ میں ٹیکنالوجی اور سامنے کی حاضر و موجود دنیا، موجوداتِ کائنات کی دریافتوں (خاص معنوں میں تسخیر) کو ترجیح نہیں دی گئی۔
سوال: اب ہم بیونگ چُل ہان کے تعارف کی غرض سے اس کی تحاریر کے ثقافتی پسِ منظر اور ان کے ہاں زیرِ بحث موضوعات کی وضاحت جاننا چاہتے ہیں۔
بیونگ چُل ہان بنیادی طور پر کورین شہری ہیں لیکن جرمنی میں جا بسے اور وہیں جرمن فلسفے بالخصوص ہائیڈیگر کے وجودی افکار کا گہرائی میں مطالعہ کیا اور مابعد مفکرین بالخصوص ڈِلیوُز کے افکار کو بھی کھنگالا۔ وہ ایک ایسا فلسفی ہے کہ جس نے مشرقی فکر و فلسفہ کی اساس کو مغربی یورپی اور جرمن فلسفے کی زبان کے ساتھ رکھ کر ایک ترکیب بنائی ہے۔ میں دراصل انھیں ایک سنتھی سائزر سمجھتا ہوں جس نے مشرقی اور مغربی فکر کا سنتھیسز پیش کیا ہے۔ ہان کے تجربات اور محسوسات مشرقی ہیں جب کہ سُوجھ بُوجھ اور تفہیم مغربی فکر سے ماخوذ ہے، اس لیے ان کی تحاریر میں دونوں کی جھلک نمایاں ہے۔
اپنی مشہور کتاب ’دی برن آؤٹ سوسائٹی‘ میں انھوں نے ٹیکنالوجی اور ڈیجٹلائزیشن پر استوار ہونے والے معاصر سرمایہ دارانہ نظام میں زندگی بسر کرنے والے ’انسان‘ کو موضوعِ مرکز بناتے ہوئے اس سے وابستہ متفرق نفسی، معاشرتی اور شخصی مسائل سے متعلق مباحث کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے نکتہ اٹھایا کہ معاصر جدید سماج فرد سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمہ وقت مسلسل حصولِ کامیابی کی دوڑ میں خود کو صرف کرتا رہے۔ فردِ واحد کی یہ بے سروپا دوڑ اس کی شخصیت کی کایا کلپ اور بالآخر مسخ شدگی پر منتج ہوتی ہے۔ یہاں انھوں نے ’ہائپر ایکٹویٹی‘ کے تصور کو ایک عارضے کے طور پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لگاتار کامیابیاں سمیٹنے کی جد و جہد بجائے فرد کو آرام و سکون فراہم کرنے کے دراصل اسے مزید بے اطمینانی، بے قراری اور اضطرابیت میں مبتلا کرنے کے علاوہ معرفتِ نفس اور مقصدِ حیات کی شناسائی میں مزاحم ہوتے ہوئے خود اذیتی کے رویوں کو جنم دیتی ہے۔
اسی کتاب میں یہ مقدمہ بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ اب طبقاتی خلیج کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اب یہ واقعہ لازم ٹھہرا ہے کہ تمام لوگ خود کو ایک کموڈٹی کے رُوپ میں ڈھالیں، خود کو بیچیں اور بِک جانے پہ لطف اندوز ہوں۔ سادہ الفاظ میں ہمیں ہر حال میں کامیاب ہونا ہے اور اپنی حاصل شدہ کامیابی کو واضح اور نمایاں بھی کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا پرچار کہاں کیا جاوے؟ ظاہر ہے کہ عہدِ حاضر کی ڈیجٹل فضا میں ہی کہ جہاں خود نمائشی کو نمایاں کرنے کے بہت سے مواقع اور سہولیات بہم دستیاب ہیں۔ سوشل میڈیائی پلیٹ فارمز ایسی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں جن کے ساتھ یہ ڈسکرپشن چسپاں ہوتی ہے کہ میں نے فلاں ایوارڈ حاصل کیا، فلاں معرکہ فتح کر لیا، یہ کامیابی اپنے نام کی۔ پھر وہ لائیکس کے انتظار میں رہتے ہیں۔ جتنے زیادہ لائیکس اتنا زیادہ سطحی سا حظ۔ لیکن اس کارِ ناتمام کی کوئی انتہا بھی تو نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ماحصل سوائے مزید اضطرابیت اور بے قراری کے۔
سوال: کہا جاتا ہے کہ مشل فوکو پر تنقید کے باوجود بیونگ چُل ہان اس سے متاثر بھی تھا۔ اس ضمن آپ کی کیا رائے ہے؟
بیونگ چُل ہان اس نکتے پر مشل فوکو کے زیرِ اثر معلوم ہوتا ہے کہ وائلنس اب مادی ہیئت میں موجود نہیں۔ فوکو نے مدلل دعویٰ کیا کہ فزیکل وائلنس انیسویں صدی میں ختم ہو چکا ہے اور اب حاکم قوتیں عوام کو سائیکولوجیکل سطح پر اپنے زیرِ تسلط رکھتی ہیں۔ ہان کا کہنا ہے کہ یہ سائیکولوجیکل ٹارچر فزیکل ٹارچر کے مقابل زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔ سادہ الفاظ میں موجودہ سرمایہ دارانہ سماج ’سافٹ پاور‘ کے اصول کے تحت کارگر ہے۔ ہان کا کہنا ہے کہ ہم مسلسل اس دباؤ کی کیفیت میں رہتے ہیں کہ ہمیں دیکھا جا رہا ہے، ہمیں خوبصورت دکھائی دینا ہے، کامیاب ہونا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کس لیے؟ آخر ہم جئیں گے کب؟ یہ وہ سوال ہے جو بیونگ کی مشرقی روح سے برآمد ہوتا ہے۔ میرے نزدیک ژی ژیک اور ہان ہم مرتبہ فلسفی ہیں لیکن مشرق و مغرب کے تجربات کی آمیزش کی بنا پر بیونگ کا مقام نسبتاً بلند ہوجاتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ جس پر ہان نے توجہ دی وہ ہے ’دوسرے‘ ، ’غیر‘ یا ’ادَر‘ کا مسئلہ۔ وہ نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے اپنے اور ’دوسرے‘ کے درمیان ایک حدِ فاصل کھینچ دی ہے جس سے ’دوسرا‘ ہم سے دور سے دور تر ہوتا چلا گیا ہے۔ اپنی ’میں‘ میں سمٹ کر رہ جانے کی وجہ سے اپنے اردگرد کے لوگوں سے بالخصوص اپنے پیاروں سے اب ہمارا کتنا بالمشافہ ناتا تعلق باقی رہ گیا ہے؟ ہم زیادہ سے زیادہ محض فون کال یا سوشل میڈیائی میسج پر ہی اکتفا کیے رکھتے ہیں۔ میرے ایک شاگرد نے بتایا کہ وہ ایک ماہ کے لیے امریکہ میں مقیم اپنی والدہ سے ملاقات کے سلسلے میں گیا، جب واپس ایران آنے لگا تو اس کی والدہ نے کہا کہ تم رخصت بھی ہو رہے ہو جبکہ میں نے تمھیں جی بھر کے دیکھا تک بھی نہیں، تم اپنے ہی کام میں اس قدر مصروف رہے کہ میری طرف ذرا بھر توجہ بھی نہ دی، درِ حقیقت تم میرے ساتھ تھے بھی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ہان تاکید کرتا ہے کہ ہمیں خود میں بہر حال ایک ٹھہراؤ پیدا کرنا چاہیے۔ اپنی ذات سے شناسائی بڑھانی چاہیے اور مادّی کامیابیوں کے پیچھے دیوانہ وار بھاگنے سے اجتناب برتنا چاہیے۔
ہان اس مقام پر ہائیڈیگر سے متاثر نظر آتا ہے کہ ہم ایسے وجود ہیں جن کے لیے ’دوسرے‘ کا ہونا ایک لحاظ سے بدیہی حقیقت ہے۔ ہم فطری طور پر سماجی وجود ہیں لیکن موجودہ عہد کے طرزِ رہن سہن نے ’دوسرے‘ کی صحبت کو ہم سے چھین لیا ہے۔ بہرحال، ہمیں کسی ایسے ’دوسرے‘ کی حاجت رہتی ہی ہے جس سے ہم گفتگو کر سکیں، اپنے دکھ درد بانٹ سکیں، مل کر آہ و زاری کرسکیں۔ عہدِ حاضر کے غالب روّیوں میں مشرقی روح کی خواہش اور مطلوب و مقصود کا جدید مغربی شعار قلع قمع کر دیتے ہیں۔ ہان اپنے مخاطب کو باخبر کرتا ہے کہ جو تم نے کھو دیا ہے، اس کے ہاں تلاش نہ کرو جس کی ملکیت میں وہ کبھی رہا ہی نہیں۔
سوال: اگر ان مقدمات کا لبِ لباب اخذ کیا جائے تو کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ بیونگ چُل ہان نے مشرقی زاویۂ نگاہ سے مغربی فکر و فلسفہ پر اشکالات اٹھائے ہیں؟
ہاں، ایسا ہی ہے، وہ مغربی فکر و فلسفہ کو چیلنج کرتا ہے، لیکن مغربی فریم ورک میں رہتے ہوئے۔ کیونکہ مشرقی روایات میں فلسفہ کسی سسٹم کو بروئے کار لاتے ہوئے موجود نہیں رہا بلکہ مذہبی، متصوفانہ، عارفانہ اور شاعرانہ اسالیب سے زیادہ متعلق رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہان کی زبان فلسفیانہ اور استدلال پر مبنی ہے لیکن اس کی تحاریر کا پیغام مشرقی روح سموئے ہوئے ہے۔ پس، ہان کا زبان و بیان تو مغربی ہے پر روحِ کلام مشرقی ہے۔
(ختم شُد)



