سٹاک ہوم سویڈن کی سیر
ایک خواہش یہ رہی کہ دنیا کہ بڑے شہروں کی سیر کی جائے اکثر خواہشیں ہوتی ہی تشنہ رہنے کے لیے ہوتی ہیں۔ پیرس سے واپسی پہ جلدی ہی سٹاک ہوم کا پروگرام بن گیا۔ اور سٹاک ہوم کے آرلاندو ائرپورٹ پر فضائے سٹاک ہوم جو سمندر کی خوشبو سے معطر ہے۔ میں سانس لینے کی توفیق بلکہ سعادت کہنا چاہیے۔ ملی۔ صرف کتابوں میں پڑھنے یا فلموں میں دیکھنے سے بھی ذہن میں وہ تاثر قائم نہیں ہو سکتا جو وہاں جا کر خود مشاہدے سے قائم ہوتا ہے۔
سٹاک ہوم کی وہ خوبصورتی جس کو میں اس قلیل مدت میں دیکھ سکا اس کے ذکر سے پہلے یہاں کے باسیوں کی تعریف و توصیف کرنا میں ایک فرض سمجھتا ہوں۔ مجھے ٹرینوں میں ادھر سفر کرنے میں پہلے اور دوسرے دن خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آفریں ہے کہ جس سے بھی میں نے کچھ پوچھا وہ میرے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آیا۔ بلکہ بعض پلیٹ فارمز پہ بوجہ مرمت نصب برقی تختیاں اترے ہونے کی وجہ سے مجھے صحیح پلیٹ فارم تک پہنچا کر گئے۔ مجھے اس بات پہ بھی بہت خوشی ہوئی کہ ہر شخص ہی انگلش بولتا ہے اور لب و لہجہ انتہائی واضح خوبصورت اور قابل فہم ہے۔ معمولی سے انگلش میں شد بُد رکھنے والا بھی یہاں بآسانی کام چلا سکتا ہے۔ مزید برآں ان کی سویڈش زبان تو ڈوئچ کی بہن ہی لگتی ہے۔ کہ پچاس فیصد نہیں بیس تیس فیصد تو سمجھ آ رہی ہوتی ہے۔ اس بات کا عقدہ اوشن بس میں ٹور کے دوران گائیڈ لڑکی نے حل کر دیا کہ 1945 تک تو یہاں جرمن زبان بھی بولی جاتی تھی پھر سب نے متفقہ فیصلہ کر کے انگلش کو زبان ثانی کے طور پہ رائج کر دیا اور جرمن زبان بوجہ اپنے ادق پن کے تیسرے نمبر پہ ٹھہری۔
میں اگرچہ ٹھہرا تو ہوٹل میں تھا مگر سوچا کہ پہلے اپنی مسجد کے طواف کے بعد سیر کا آغاز کیا جائے۔ وہاں پر جن دوستوں سے جاتے ہی تعارف ہوا۔ وہ بھی کچھ ایسی محبت اور پیار سے ملے کہ گویا ہمیشہ سے دوست رہے ہوں۔ ان میں مکرم بشیر احمد صاحب قریشی اور مکرم فاتح صاحب نے کمال محبت اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔
سٹاک ہوم میں اگر سیر کرنی ہو تو وہاں اپنے وقت کے مطابق SL کا پاس بنوا لینا چاہیے۔ جس کے ساتھ آپ ہر اس بس ٹرین حتیٰ کہ بوٹ پہ سفر کر سکتے ہیں جس پہ ( SL ) کا لوگو بنا ہوا ہو۔ مجھے تو صرف بس ٹرین کا پتہ تھا۔ قریشی صاحب نے جب بوٹ کا بھی بتایا۔ تو میری گویا عید ہو گئی۔ کیوں کہ کشتی پہ سفر تو وینس کی فلمیں دیکھ دیکھ کر ایک دیرینہ خواہش بن چکی تھی۔ گو کہ وہ تو کھویا چپو چلا کر سیر کرواتا ہے۔ آمورے میو۔ دوو ہے سے ای تو۔ مگر یہاں پہ ہر رفتار پہ چلنے والی کشتیاں ہر جگہ اسی پاس کے ساتھ آپ کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ قریشی صاحب نے پہلی ملاقات پہ ہی مجھے لگ بھگ دو گھنٹے خوب سیر کروائی اور جُر گارڈن جہاں سے میں آباز میوزیم سے ہو آیا تھا۔ آباز ایک سویڈن کا معروف زمانہ گروپ جس کا میوزک مجھے ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔ جس میں سے مثلاً۔ میں نے ایک خواب دیکھا میں اسی کے مطابق گا رہی ہوں۔ یا جیتنے والا سب کچھ لے جائے گا۔ وغیرہ بہت خوبصورت ٹیکسٹ کے ساتھ خوب صورت میوزک ہے۔ مگر وہاں پہنچنے پہ پتہ چلا کہ اس کی ٹکٹ کچھ زیادہ ہی مہنگی ہے۔ سوچا کہ اگر وہ خود وہاں موجود ہوں اور ان کے ساتھ ایک تصویر بن سکتی تو پھر شاید یہ ٹکٹ خرید لیتا ان کے جوتے کپڑے یا سٹیج وغیرہ پہ اتنے پیسے کیا دینے ہیں۔ گانے ویسے ہی سب سن رکھے ہیں۔ لہذا دل کو سمجھا بجھا کر سمندر کنارے تھوڑا گھوم پھر کر واپس ٓگیا۔ البتہ شام جو قریشی صاحب پھر وہیں مگر اس انسباط کے ساتھ کہ ان کشتیوں پہ بھی بیٹھا جاسکتا ہے۔ ساتھ لے گئے ہم دونوں وقت کی قلت کے باوجود سمندر کی دوسری جانب Slussen تک گئے۔ اور وہاں سے شاہی محلات کے پاس سے گزر کر ایک یادگاری اشیاء کے بازار میں کچھ چہل قدمی کر کے ہم واپس سٹی سینٹر آ گئے۔
مکرمی قریشی صاحب اور مکرم فاتح صاحب کی وساطت سے مکر صدر صاحب سے بات کرنے پہ مسجد کے گیسٹ روم میں بھی کچھ دن گزارے کی آفر پہ پانچ دن ہوٹل پہ رہنے کے بعد گیسٹ روم میں آ گیا۔ جہاں سب کی محبت اور اپنائیت سے بھی لطف اندوز ہوا۔ کیوں نہ ہو کہ بیعت خلافت احمدیہ کے عروۃ الوثقی ’کو تھامنے کی برکت سے ہم سب ایک رشتہ سے منسلک ہیں اور جہاں بھی کسی احمدی بھائی سے ملاقات ہو جائے۔ اس کا ایک اپنا ہی حظ و نشاط ہے۔
اگلے روز یعنی اتوار کو بھی مکرم قریشی صاحب نے کمال محبت اور بے لوث طریقے سے آدھا دن میرے ساتھ مجھے گھماتے پھراتے اور راستے ٹرینیں شہر کے حصے اور بہت ساری معلومات بھی ساتھ فراہم کرتے رہے۔ میرے پاس تو ان کے اس اخلاص اخلاق کے شایان شان الفاظ ہی نہیں البتہ یہ بھی یقین ہے کہ ایسے لوگ بھی شاید کسی نیکی کے بدلے بطور نعمت خداوندی کبھی نہ کبھی زندگی میں مل جاتے ہیں۔
چونکہ مجھے بسوں ٹرینوں سے زیادہ کشتیوں کی سیر کا مزہ لینے کی خواہش تھی۔ لہذا سب سے پہلے جُر گارڈن سے ہم نے 82 نمبر کشتی جو کہ ہر قسم کی ماڈرن سہولیات سے آراستہ ہے اس پہ سوار ہو کر Slussen گئے اور وہاں سے نمبر تراسی اور چوراسی جن کے مختلف جہات کی طرف روٹس ہیں۔ ان پہ بیٹھ کر خوب سیر کی۔ نمبر چوراسی کشتی کی رفتار تو حیرت انگیز طور پر تیز تھی۔ یہ کشتیاں مختلف جزائر کبائر صغائر پہ لوگوں کو اتارتی اور چڑھاتی ہوئی واپس اپنے اڈے پہ آجاتی ہیں۔ میرے ساتھ کے چند جرمن لڑکے لڑکیاں ایک جزیرے پر اتر گئے۔ کہ وہاں بھی دیکھنے کو بہت کچھ ہے میں پہلے دن تو جزیرے پہ چند مکانات دیکھ کر ہچکچایا۔ پوچھنے پہ پتہ چلا کہ اگر کشتی نہ بھی آئی تو واپسی کے لیے بسیں بھی مل جاتی ہیں۔ سوچا اس اجڑے سے جزیرے پر سند باد جہازی کی طرح اگر آج کے دور میں پتے نہ بھی کھانے پڑیں۔ تو دھکے ضرور کھانے پڑ سکتے ہیں۔ لہذا میں نے اسی کشتی میں واپسی کو ہی عافیت جانا۔
کل یعنی جمعرات کو میں نے سٹی ہال دیکھنے کا پروگرام بنایا اور ٹکٹ لے کر ایک گروپ میں جس کا گائیڈ اس عظیم الشان عمارت کی تاریخ اور اس میں ہونے والی تقریبات کے بارے میں بتاتا رہا۔ یہ عمارت راگنر اوسٹ برگ کی ڈیزائن کردہ ہے جو اٹالین فنِ تعمیر سے بہت متاثر تھا۔ یہ عمارت 1911 سے 1923 تک گیارہ برس میں مکمل ہوئی۔ میں اسے اس کے سو گز سے بلند مینار کو دیکھ کر گرجا سمجھ رہا تھا۔ جبکہ یہ عمارت اس دور میں بطور سٹی ہال یعنی شہر کے راتھ ہاؤس کے طور پہ تعمیر کی گئی۔ اس کے اندر جو سب سے بڑا ہال ہے اسے بلیو ہال یعنی نیلا ہال کہا جاتا ہے شروع میں آرکیٹیکٹ نے اس ہال کو نقشے پر بلیو رنگ دیا اور گیارہ سال تک ہر طرف اس کا بطور بلیو ہال ہی چرچا رہا۔ مگر چونکہ ساری عمارت کے لیے اسپیشل سرخ اینٹ استعمال کی گئی۔ اور اس کی سرخی آرکیٹیکٹ کو ایسی بھائی۔ کہ اس نے اسے سرخ ہی رہنے دیا۔ البتہ نام چونکہ بلیو ہال مشہور ہو چکا تھا۔ بلیو ہال نام ہی رہنے دیا گیا۔ اسی ہال کی گود میں ہی ہر سال دس دسمبر کو نوبل انعام کی تقریب منعقد ہوتی ہے اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے اعزاز میں بھی متذکرہ تقریب یہیں پہ منعقد ہوئی۔ جبکہ انعام کسی اور جگہ پہ دیا جاتا ہے۔ اس کی بالائی منزل پہ ایک عظیم الشان کیبنٹ ہال ہے جس میں شہر کے ایک سو ایک نمائندے شہر کے مسائل کے حل کے لیے بیٹھتے ہیں۔ یہاں پر بہت نفیس لکڑی جو سرخ رنگ کی ہے استعمال کی گئی ہے۔ ماحول انتہائی خوبصورت اور پر شکوہ ہے۔ اوپر کی گیلریوں میں اخباری نمائندوں وغیرہ کے لیے بہترین انتظام ہے۔
عمارت کا گنبد ایک سو چھ گز بلند ہے اور چھت میں ایک سو چھوٹے چھوٹے گنبد ہیں۔ اس کے آگے ایک بیضوی ہال ہے جہاں سترہویں صدی میں فرانس میں بنائے گئے قالین دیواروں پہ آویزاں ہیں۔ اس کے آگے پرنس گیلری ہے جہاں پر پرنس اوئیگاں نے اپنے ذوق اور سٹاک ہوم کے کچھ خوب صورت ساحلوں اور درختوں کی تصاویر بنوائی ہوئی ہیں جو بہت دیدہ زیب ہیں۔ اسی طرح تین تاجوں کا ایک ہال ہے جس کی دیواروں پہ سویڈن کی 1790 کی تاریخ بصورتِ تصاویر کنندہ ہے۔ آخر پہ ایک طلائی ہال جسے یہاں گولڈن ہال کہا جاتا ہے لے جایا گیا یہ ایک انتہائی خوبصورت ہال ہے جس کی دیواروں پہ سویڈن کی نویں صدی عیسوی تا 1920 تک کی تاریخ کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ ہال اینار فورستھ کی تخلیق کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کی دیواروں پر اٹھارہ ملین چھوٹی شیشے اور اٹھارہ کیرٹ سونے کی جو جرمنی سے لائی گئی تھیں۔ موسائیک جڑی ہوئی ہیں۔ سامنے کی دیوار پہ تخیلاتی لیڈی سٹاک ہوم کی جو پانیوں پہ ایشیا اور امریکہ کے درمیان براجمان ہے۔ اس کے بائیں طرف اس دور کی سلطنت عثمانیہ کی تہذیب اور دائیں طرف امریکہ کی تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان دونوں تہذیبوں کا سنگم سٹاک ہوم کو دکھایا گیا ہے۔ اس دور کے مشہور وائی کنگز جو کہ اس دور کے پیراٹ اور کاروباری لوگ تھے ان کی تاریخ پہ بھی بات ہوئی۔
اسی ہال میں بینکاروں کی میٹنگز بھی ہوتی ہیں اور بہت امیر کبیر لوگ اپنی شادیوں کی تقریبات کے لیے بھی یہ ہال کریہ پہ لیتے رہتے ہیں۔ آخری چند دن مسجد میں دوستوں کی میزبانی سے بھی مستفید ہوا دس روز کی سیر کے بعد چونکہ واپسی کی فلائیٹ بہت صبح کی تھی۔ کہ وہاں مسجد سے ٹرین پہ ائر پورٹ وقت پہ نہیں پہنچا جا سکتا تھا۔ میں نے فاتح صاحب سے ٹیکسی کے لیے پوچھا تو انہوں نے کمال محبت سے مجھے وقت پہ ائرپورٹ پہنچانے کی حامی بھر لی۔ آج کے دور میں ایسی محبت و اخلاص اور میزبانی بطور خاص یورپ میں شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کی وجہ ہر شخص کی ذاتی مصروفیات ہیں۔ بہر حال بطور خاص قریشی صاحب اور فاتح صاحب کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔


