سید سردار شاہ، کلمتی بلوچ اور مکران


حسب معمول اپنے موبائل فون پر فیس بک اسکرولنگ کے دوران سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی سندھ اسمبلی میں کی جانے والی ایک تقریر کا ویڈیو کلپ دیکھا۔ سید سردار شاہ اپنی تقریر میں سندھ کے عظیم تاریخ دان جناب گل حسن کلمتی کو سندھ کی تاریخ پر گرانقدر تحقیقی کام سر انجام دینے پر خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ بلاشبہ گل حسن کلمتی نے کراچی کی گمشدہ عوامی تاریخ کو منظر عام پر لا کر ایک عظیم کام سر انجام دیا ہے۔ سید سردار شاہ نے اپنی تقریر میں کلمتی قبیلے اور پرتگالی حملہ آوروں کے خلاف بلوچ مزاحمت کے حوالے سے تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”واسکو ڈی گاما 15 ویں صدی میں مکران کے ساحلوں پر اترا“

چونکہ بات تاریخی ریکارڈ کی درستگی کی ہے تو اس ضمن میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ واسکو ڈی گاما 15 ویں صدی یعنی 1498 میں کالی کٹ (ملبار/ ملابار موجودہ ریاست کیرالہ انڈیا) کے ساحل پر اترے تھے نہ کہ ساحل مکران پر۔

پرتگالی پہلے یورپی نو آباد کار نہیں تھے جو مکران کے ساحلوں تک پہنچے اس سے پہلے حرص، لالچ توسیع پسندی، لوٹ مار اور قبضہ گیریت کے تحت یونانی فوجیں بھی مکران میں آئی تھیں یورپیوں کے علاوہ مسلم عرب حملہ آوروں نے بھی مکران پر قبضہ کیا تھا۔ سید سردار شاہ کی تقریر سننے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ مکران پر پرتگالی قبضے کا مختصر احوال تحریر کر دیا جائے۔

انڈیا میں 1505 سے لے کر 1961 تک مختلف علاقوں پر پرتگالی نو آبادیاں یا پرتگالی قبضہ قائم رہا جن میں گوا، دمن، دیو، کوچین اور ملبار جیسی پرتگالی نو آبادیاں تھیں جو وائسرائے کے ذریعے براہ راست پرتگالی بادشاہت کی عملداری میں تھیں۔

اب چلتے ہیں مکران پر پرتگالی حملے کی طرف۔ 1581 میں جب گوادر پر پرتگالیوں نے حملہ کیا تو اس وقت پرتگالی انڈیا کے وائسرائے فرانسسکو ڈی میسکرینہاس تھے۔

گوادر پر پرتگالی حملہ کا پس منظر یہ تھا کہ ساحلی علاقوں کے بلوچ ایک طرف ساحل مکران پر پرتگالی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے خلاف تھے تو دوسری طرف وہ مکران اور ایران کے ساحلوں میں پرتگال کے خلاف برسر پیکار عثمانی ترکوں کے بحری بیڑوں کی مدد بھی کر رہے تھے انہیں رسد و سامان بھی پہنچا رہے تھے۔ سلطنت عثمانیہ پر اس وقت سلطان سلیمان قانونی کی حکومت تھی (تجارت کی خاطر سمندری راستوں پر قبضے کے حوالے سے ترکوں اور پرتگالیوں کی بحری جنگوں کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہے ) ایران کے شاہ اسماعیل بھی سلطنت عثمانیہ کے خلاف تھے اور وہ سمندری راستوں پر سلطنت عثمانیہ کے خلاف ایک طاقتور اتحادی کی تلاش میں تھے۔ چونکہ ساحل مکران کے بلوچ عثمانی ترکوں کی مدد کر رہے تھے اس لیے شاہ ایران بلوچوں کی سمندری طاقت اور ان کے اثر رسوخ کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔ اس صورتحال کا پرتگالیوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ کیونکہ سمندروں میں ترکوں کے خلاف لڑنے اور ان کے تجارتی اثر و رسوخ کو کم یا ختم کرنے کے لیے انہیں بھی ایران کی شکل میں ایک مقامی اتحادی کی ضرورت تھی۔

1514 میں مملکت ہرمز کے نام سے منسوب ملحقہ آبنائے ہرمز ( خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک اہم آبنائے۔ اس کے شمالی ساحلوں پر ایران اور جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور سلطنت اومان واقع ہیں ) پر پرتگالی قبضہ ہو گیا تھا۔ ہرمز خلیج فارس کے ساتھ 42 کلومیٹر رقبہ پر مشتمل ایک جزیرہ ہے۔ مملکت ہرمز سلجوقی ترک اور ایلخانی منگول حکمرانی کے بعد ایران کے ماتحت ریاست کے طور پر قائم تھی۔ ہرمز ایک نیم خودمختار ریاست تھی جو ایرانی بادشاہوں کی سرپرستی میں تھی۔ مملکت ہرمز 11 ویں صدی میں قائم ہوئی اور 1514 میں پرتگالیوں کے قبضے تک برقرار رہی۔

ہرمز پر پرتگالی قبضے کے بعد شاہ ایران نے پرتگالی وائسرائے برائے انڈیا افانسو ڈی البقرقی کے پاس گوا میں ایک نمائندہ ایرانی وفد بھیجا۔ ایران اور پرتگال نے سمندری تجارت پر اجارہ داری کے لیے ترکی کے خلاف دونوں ممالک کے اتحاد اور ایران کی جانب سے گوادر پر قبضہ اور ترکی کی مدد کرنے والے بلوچوں کی سرکوبی کے لیے پرتگال کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائیوں پر رضامندی کا اظہار کیا۔ 1507 سے 1650 تک مسقط (اومان) بھی پرتگالیوں کے قبضے میں تھا تاہم 1581 میں سلطنت عثمانیہ نے دوبارہ مسقط کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1581 میں ترک بحری بیڑہ علی بیگ کی قیادت میں مسقط پہنچا تو ہرمز کے پرتگالی گورنر فرڈیننڈ گونزالیز ڈی میں نزیس نے پرتگالی بحریہ کے کمانڈر لوئیس ڈی المیں ڈا کو جنگی بحری بیڑے کے ساتھ علی بیگ کی پیش قدمی کو روکنے اور ترک فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسقط پہنچنے کے احکامات دیے۔

ترکوں کے اس اچانک حملے سے پرتگالی قلعے سے فرار ہو گئے تھے۔ عثمانی ترکوں نے کچھ پرتگالیوں کو قتل کر دیا۔ علی بیگ نے مسقط شہر کو چھ دن تک لوٹا۔ ترک سپاہیوں نے بڑی مقدار میں لوٹ کا مال جمع کیا انہوں نے قلعے میں واقع چرچ کو بھی تباہ کر دیا۔ عثمانیوں نے تین پرتگالی بحری جہاز بھی قبضے میں لے لیے۔ تاہم کمانڈر لوئیس ڈی المیڈا نے مسقط پہنچ کر ترکوں کے خلاف کارروائی کرنے کے گورنر ہرمز کے احکامات نظر انداز کرتے ہوئے ساحل مکران پر حملہ کر دیا۔

بلوچی لوک روایات، حمل کی زندگی پر کی جانے والی شاعری اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی داستانوں کے مطابق جب پرتگالیوں نے مکران کے ساحلی شہروں پر حملے شروع کیے اور لوٹ مار کی تو حمّل نے بلوچوں کو مجتمع کیا، انہیں مقامی طور پر بنائے گئی ہتھیاروں سے مسلح کیا، جہازوں کا ایک بیڑہ تیار کیا اور پرتگالیوں کا سمندر میں پیچھا کیا۔ متعدد مواقع پر اس نے پرتگالیوں کو شکست دی اور انہیں اپنا راستہ تبدیل کرنے یا کھلے سمندر میں واپس جانے پر مجبور کیا۔ تاہم، ایک بار جب حمل سمندر میں تھا تو اچانک پرتگالی جہازوں کے ایک بڑے بیڑے سے اس کا سامنا ہوا۔ حمّل نے پرتگالیوں کے خلاف روایتی ہتھیاروں سے سخت جنگ کی لیکن آخرکار وہ زخمی ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پرتگالی اسے باندھ کر گوا یا انڈیا کے کسی اور علاقے میں لے گئے جہاں اسے قید کر لیا گیا۔ قید کے دوران پرتگالی حکام نے حمّل کی بہادری، حوصلے اور اس کے سمندری جنگ کے تجربے کی وجہ سے پرتگالی بحری فوج میں ایک افسر بن جانے اور پرتگالی خاتون سے شادی کرنے کی پیشکش کی۔ تاہم حمّل نے کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا اور آخرکار پرتگالی قید میں ہی اس کا انتقال ہو گیا۔

اس کے بعد حمّل بلوچوں کا قومی ہیرو بن گیا۔ اس کی بہادری اور حوصلے کے قصے ضرب المثل بن گئے۔ حمّل کے غم میں روایتوں پر عمل کرنے والی بلوچ خواتین آج بھی ہفتے کے دن اپنے سر نہیں دھوتیں یا اپنے بال نہیں سنوارتی ہیں۔ حمّل کی گرفتاری کے بعد پرتگالیوں نے مکران کے ساحلی شہروں کی لوٹ مار شروع کر دی تھی اور 1581 میں مکران کے تین شہروں پسنی، گوادر اور تھیس کو لوٹ کر جلا دیا گیا تھا۔

حمل کی گرفتاری کے بعد پرتگالیوں نے پورے پسنی شہر کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پسنی کے ساحل پر لنگر انداز متعدد کشتیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ گوادر شہر کو بھی لوٹ کر جلا دیا گیا۔ ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اور ملحقہ آبادیوں پر پرتگالیوں نے قبضہ کر کے لوٹ مار کی۔ کلمت بھی انہی میں سے ایک بندرگاہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں کلمت ایک بہت ہی خوشحال ریاست تھی۔ کلمت اپنے زمانے کا مشہور و معروف تجارتی مرکز تھا۔ پرتگالیوں کے خلاف لڑنے والے مشہور جنگجو، کلمتی قبیلے کے سردار اور حاکم کلمت حمل کلمتی کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ تاہم موجودہ زمانے میں کلمت چند سو ماہی گیر گھرانوں پر مشتمل ایک پسماندہ ساحلی علاقہ ہے۔ سردار حمل کو میر حمل کلمتی، حمل جئند اور حمل ہوت بھی کہا جاتا ہے۔

بلوچوں کی پرتگالیوں کے خلاف مزاحمتی جنگوں کی نشانیاں چھینی گئی وہ دو توپیں ہیں جن کو گوادر اور پسنی میں بطور نشانی رکھا گیا تھا۔

گوادر کے رہائشی نوجوان نبیل احمد بلوچ نے حمل کی زندگی اور بلوچ۔ پرتگالی جنگ کے حوالے سے ”حمل جیئند۔ بلوچوں کی تلوار“ کے عنوان سے ای بک گرافک ناول (تصویری ناول) شائع کیا ہے جو ایمیزون پر فروخت کے لئے دستیاب ہے۔

Facebook Comments HS