مکالمے کی طاقت اور اس کی اہمیت


جو طاقت بات چِیت، گفتگو اور مکالمے میں ہے، وہ دنیا کے کسی چاقو، پسٹل، گَن، توپ یا ایٹم بم میں بھی نہیں ہے۔ جو مسئلہ آپ بات چِیت کے ذریعے سہولت اور آسانی سے حل کر سکتے ہیں، وہ نتیجہ کسی لڑائی، مار کٹائی کے بعد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے ہزاروں برسوں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ ہمیشہ مسئلے کو بڑھاوا دیتی ہے، اسے حل نہیں کرتی۔ قدیم دور میں، جب دنیا کی آبادی کم تھی، مذاہب، نظریات اور عقائد کی بھرمار نہیں تھی، اس وقت بھی مسائل کو حل کرنے کا سب سے کامیاب ذریعہ بات چیت اور مکالمہ ہی تھا۔ آج، جب دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ چکی ہے، مختلف ثقافتوں، مذاہب، زبانوں اور نظریات کے ساتھ، مکالمے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تصادم ہمیشہ تباہی لاتا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، لیکن اس کے برعکس، اقوام متحدہ کا قیام، جو مکالمے اور سفارت کاری کی بنیاد پر بنایا گیا، دنیا میں امن قائم کرنے کی ایک کامیاب کوشش ثابت ہوا۔ دوسری طرف، سرد جنگ کے دوران سفارتی تعلقات نے ایٹمی جنگ کے خطرے کو کم کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت کی طاقت جنگ کے مدمقابل کہیں زیادہ موثر ہے۔ ایک مشہور تحقیق ”Conflict Resolution Quarterly“ میں شائع کی گئی جس نے یہ ثابت کیا کہ مکالمہ تنازعات کو حل کرنے میں 78 فیصد زیادہ موثر ہے بنسبت جبر یا دباؤ کے۔ اسی طرح، ”Journal of Peace Research“ کی ایک تحقیق نے ظاہر کیا کہ بین الاقوامی تعلقات میں سفارت کاری نے 90 فیصد معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا ہے، جو مکالمے کی طاقت کو ثابت کرتا ہے۔

پاکستان کے مخصوص سماجی، تعلیمی، اور مذہبی مسائل کے تناظر میں مکالمے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے معاشرے میں مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان نظریاتی اور تعلیمی تفریق ایک نمایاں مسئلہ ہے۔ مدارس میں روایتی مذہبی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ عصری تعلیمی ادارے جدید سائنسی اور فنی علوم کی ترویج کرتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان ایک مکالمے کی عدم موجودگی نے معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ اگر ان دونوں نظاموں کے درمیان مفاہمت کے لیے مکالمے کا آغاز کیا جائے، تو یہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی اہمیت کو سمجھنے اور ایک متوازن تعلیمی نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، 2019 میں پاکستان میں حکومت کی طرف سے ”یکساں نصابِ تعلیم“ کے نفاذ کی کوشش ایک ایسا موقع تھا جہاں مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن، مکالمے کی کمی کی وجہ سے یہ اقدام مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔

پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں لسانی، مذہبی، اور ثقافتی اختلافات نمایاں ہیں۔ ملک میں اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، اور دیگر زبانوں کے بولنے والے افراد کے درمیان مکالمہ ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم مختلف ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔ مذہبی تنوع کے تناظر میں، پاکستان کے شہر لاہور میں ”بادشاہی مسجد“ اور ”گُردوارہ دربار صاحب“ کے قریب واقع ہونا ایک مثال ہے کہ مذہبی مکالمہ اور رواداری کیسے ایک پرامن معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے حالیہ سالوں میں کرتار پور راہداری کا قیام ایک اور مثال ہے، جہاں سکھ یاتریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستانی حکومت نے مذہبی مکالمے کو اہمیت دی۔

نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بات چیت انسانی جذبات اور خیالات کو سمجھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ کارل راجرز (Carl Rogers) کی ”Client۔ Centered Therapy“ اس بات پر زور دیتی ہے کہ موثر کمیونیکیشن کے ذریعے مسائل کو بہتر طور پر سمجھا اور حل کیا جا سکتا ہے۔ سماجی طور پر، مکالمہ معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے امن اور مفاہمت کے اصولوں کو اپنایا اور بات چیت کے ذریعے نسل پرستی جیسے گہرے سماجی مسئلے کو حل کیا۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں سینکڑوں ثقافتیں اور بیسیوں مذاہب اپنے منفرد شناخت کے ساتھ موجود ہیں، اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں قبول کرنا ہی امن کا راستہ ہے۔ ہر فرد کو اپنے عقائد اور ثقافت پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، اور ہمیں دوسروں کی اس آزادی کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، کینیڈا جیسے ممالک میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے افراد کی شمولیت اور رواداری نے معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ مکالمہ نہ صرف نظریاتی اختلافات کو کم کرتا ہے بلکہ معاشی مسائل کے حل میں بھی معاون ہے۔ بین الاقوامی تجارتی معاہدے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ بات چیت کے ذریعے کس طرح ممالک اپنے اختلافات کو ختم کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح، تعلیمی اداروں میں مکالمے کی تربیت طلباء کو مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کے قابل بناتی ہے۔

یاد رکھئیے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو 200 ممالک پر مشتمل ہے، جہاں سینکڑوں ثقافتیں روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، جہاں بِیسیوں مذاہب اپنے اپنے مذہبی اور مسلکی فرق کے ساتھ اپنی شناخت اور دوسروں کے احترام کا رشتہ برقرار رکھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں، جہاں دَسِیوں صنفی اور سوچ کے تضادات آپس میں گتھم گتھا ہیں، وہاں کوئی کیسے یہ امید رکھ سکتا ہے کہ کوئی ایک اپنے خیالات و نظریات کی بنیاد پر ساری دنیا کو اپنے جیسا بنا سکے گا!

اگر ہم پانچ سے دس ہزار برسوں کی معلوم دنیا کا بغور مطالعہ کریں تو بہت ہی آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کبھی بھی اور کسی بھی دور میں ایسے خیالات و نظریات مستقل بنیادوں پر لوگوں کی دلوں اور زندگیوں کا حصہ نہیں بن پائے جو منطق کے بجائے عقیدے کی بنیادوں پر استوار کیے گئے ہوں۔ بدلتی دنیا اور آپس میں ضم ہوتے خیالات و نظریات اور سوچ و ثقافتوں کو اگر ہم سمجھیں گے نہیں، اور اگر ہم تنوع کا احترام کرتے ہوئے سب کے ساتھ چلنے کی روش نہیں اپنائیں گے تو نا تو ہم امن کے ساتھ دوسروں کے ساتھ چل سکیں گے اور نا ہی دوسرے ہمارے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کر سکیں گے۔

آج کے دور میں، ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر دوسروں کے خیالات، ثقافت، اور مذہب کو احترام دینا سیکھنا ہو گا۔ ”جیو اور جینے دو“ کے اصول کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم سب صرف ایک بات سمجھ لیں کہ جس طرح ہمیں اپنے مذہب، مسلک، ثقافت اور رسم و رواج پے رہنے کی پوری آزادی ہے، ایسے ہی یہی آزادی دوسروں کو بھی ہے کہ وہ بھی اسی آزادی کا مکمل استعمال کر سکتے ہیں۔ کرنا ہم سب نے یہ ہے کہ اپنے خیالات و نظریات کو دوسروں پہ مسلط نہ کریں اور کسی کو بھی مجبور نہ کریں کہ وہ ہماری رسم و روایات کی پیروی کرے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو ہم دوسروں کے خیالات و نظریات میں مداخلت دیے بغیر، اور بغیر نمود و نمائش کے اپنے اصولوں پے چلتے رہیں گے تو یقیناً ہم اپنے بچوں کو ایک بہتر دنیا میّسر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ مکالمہ ایک موثر طریقہ ہے جو اختلافات کو کم کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اصولوں پر عمل درآمد میں کئی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ ایک بڑی رکاوٹ تعصب اور ذہنی بندش (Cognitive Bias) ہے، جو افراد کو دوسروں کے نقطہ نظر کو قبول کرنے سے روکتی ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کے دوران بعض گروہ ایک دوسرے سے بات چیت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیالات میں پہلے سے موجود غلط تصورات مکالمے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ تعلیمی اور سماجی سطح پر عدم برابری ہے۔ بہت سے افراد مکالمے میں حصہ لینے کی اہلیت نہیں رکھتے کیونکہ ان کے پاس مناسب تعلیمی یا لسانی مہارت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ افراد سے موثر انداز میں مکالمہ نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے مسائل حل کرنے کے لیے رابطے کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی رہنما بعض اوقات مکالمے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو مکالمے کی شفافیت اور اثر کو محدود کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے غلط معلومات کا پھیلاؤ بھی مکالمے کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔

مکالمے کی تربیت کو موثر بنانے کے لیے تعلیمی نصاب میں شامل کرنا ضروری ہے۔ طلباء کو تنقیدی سوچ اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تربیت فراہم کی جائے۔ تاہم، اس پر مکمل عمل درآمد میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں، جنہیں پالیسی کے نفاذ کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مکالمے اور اختلاف رائے کو مثبت طریقے سے حل کرنے کی تربیت اور تعلیمی مراکز میں سماجی مسائل کے حل کے لیے مکالمے پر مبنی تربیتی ماڈیولز متعارف کرائے جائیں۔ اگر ہم مکالمے کی طاقت کو پہچانیں اور برداشت و رواداری کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، تو ہم نہ صرف اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور خوشحال دنیا بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani