اکیلے لوگوں کا ہجوم : تعارف و تجزیہ
اردو افسانے کے آغاز کو تقریباً سوا سو سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں اُردو افسانے کی تاریخ میں کئی رجحانات پیدا ہوئے اور پھر ماند پڑ گئے۔ اس ضمن میں سماجی حقیقت نگاری، رومانویت، اشتراکی حقیقت نگاری، تجریدیت، علامت پسندی اور شعور کی رو وغیرہ کے تجربات، نمایاں ہیں۔ ان تحریکوں اور بیانیہ تکنیکوں کی بدولت جہاں افسانے کے موضوعات میں تنوع آیا، وہیں فنی لحاظ سے اس میں گہرائی اور گیرائی بھی پیدا ہوئی۔ ترقی پسند تحریک کے تحت اس میں جہاں طبقاتی تضاد پر توجہ مرکوز کی گئی وہیں تقسیمِ ہندوستان کے کرب، اپنوں سے دوری اور کیمپوں کی روداد کو موضوع بنایا گیا اور انسان کی فردیت اور اس کی ذات، اجتماعیت میں دب کر رہ گئی۔ جنگ، امن، انقلاب جیسے الفاظ اتنے استعمال ہوئے کہ کلیشے بن کر رہ گئے۔ خارجی عوامل نے انسان کے باطن کو بے چین کرنا شروع کر دیا۔ ان حالات کے تحت نئی نسل میں روایت سے انحراف شروع ہوا اور ایسے ادبی رجحان کی تلاش شروع ہوئی جس میں فرد کی فردیت اور اس کی باطنی کیفیات کو اوّلیت حاصل تھی۔ افسانہ نگاروں نے خارجی عناصر کے عوامل سے فرد کی باطنی کیفیات کی تلاش کو ممکن بنایا۔ اس تلاش کے نتیجے میں جدیدیت کا رجحان سامنے آیا۔ جدیدیت داخلی کرب کا اظہار ہے جس میں خارجیت سے داخلیت، شورو غل سے خاموشی اور ہجوم سے تنہائی کے سفر کا بیان ہوتا ہے۔
ساحر شفیق کے افسانوں کے مجموعہ ”اکیلے لوگوں کا ہجوم“ اسی طرز کے افسانوں پر مشتمل ہے۔ مجموعے کا عنوان اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ اس میں ایسے کرداروں کو مُصوَّر کیا گیا ہے جو اکیلے پن کا شکار ہیں۔ ساحر شفیق کا یہ مجموعہ پہلی بار 2010 ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اس کی دوسری اشاعت 2022 ء میں فکشن ہاؤس لاہور سے ہوئی ہے۔ مذکورہ مجموعے میں بائیس افسانے شامل ہیں۔ ان افسانوں کے تقریباً تمام کردار تنہائی کی اذیت سے دو چار ہیں۔ مثلاً مجموعے کے پہلے ہی افسانے ”میرے بال ڈارک بلیک نہیں ہیں“ کے کردار مسز جیسمین کو دیکھ لیجیے جو زمانہ طالبِ علمی میں گائناکالوجسٹ بننا چاہتی تھی مگر اس کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا۔ اب وہ گھریلو خاتون کی زندگی گزار رہی ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور وہ ادھیڑ عمری کی حدود میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کا خاوند سرکاری ہسپتال میں ملازم ہے۔ وہ اپنے اکلاپے کو دور کرنے کے لیے فون پر مردوں کو دوست بناتی ہے اور اُن سے دیر تک گپ شپ کرتی ہے لیکن جیسے ہی کوئی مرد اس کے قریب آنے لگتا ہے وہ اس سے دوری اختیار کر لیتی ہے۔ اس کا مقصد ان سے جنسی تعلقات استوار کرنا ہرگز نہیں، محض وقت کاٹنا مقصود ہے۔ تنہائی کو دور کرنے کا اس نے انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے جو افسانے کے قاری کے لیے دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح لیڈی آسٹل کا کردار ہے جو تنہائی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے معاشقے کرتی رہتی ہے، مردوں کو وہ محض وقت گزاری کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس کی دوست جینی جب اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اسے کچھ اس طرح جواب دیتی ہے۔ ”جینی، عورتیں مردوں پر رحم کھانے لگیں تو عورتیں نہ رہیں، رفاہی ادارے بن جائیں، مردوں اور کتوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے، کسی بھی وقت کاٹ سکتے ہیں، کم از کم میرا تجربہ تو یہی کہتا ہے۔“ اس مجموعے میں موجود دیگر افسانوں میں ”ایک زندہ آدمی (جو خود کو مرا ہوا سمجھتا تھا )“ ، ”وہ آدمی جو بہت سوچتا تھا“ ، ”آدمیوں جیسا آدمی“ ، ”ایک آدمی (جو اپنے آخری دوست کے ہاتھوں مارا گیا)“ اور ”وہ آدمی جو مزید کچھ نہیں سننا چاہتا“ وغیرہ اسی انسانی کیفیت کے نمایندہ افسانے ہیں۔
ان کے بعض افسانے ایسے ہیں جن میں کوئی کہانی موجود نہیں انھیں شخصی خاکے کہہ لیں یا کوئی اور نام دیں، افسانے کی لگی بندھی تعریف کے سانچے میں نہیں آتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انھوں نے مرزا اطہر بیگ کی طرح اینٹی سٹوری کا تجربہ کیا ہو۔ مثلاً ”وہ لفظ جنھیں چیونٹیاں گھسیٹ رہی تھیں“ میں دو کردار لفظ تقسیم کرتے رہتے ہیں اور افسانہ اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ ان دونوں کرداروں میں بریک اپ کے بعد کوئی ایسی چیز تھی جو اُنھیں بے چین رکھتی ہے اور وہ ان کے مشترکہ الفاظ ہیں۔ اس لئے وہ اُن کی تقسیم کا فیصلہ کرتے ہیں اور پورا افسانہ اس تقسیم کے عمل کے بیان میں گزر جاتا ہے۔ ساحر شفیق کے بیشتر کردار خوف، عدم استحکام، بے یقینی، بے سمتی، آوارگی اور تنہائی کا شکار ہیں۔ اس مجموعے کے ٹائٹل افسانے ”اکیلے لوگوں کا ہجوم“ کو دیکھ لیجیے اس میں بھی ایسی ہی کیفیات کا بیان ہے۔ اس افسانے کا کردار داؤد بھی تنہائی کی اذیت سے دو چار ہے۔ وہ خود سے جدا ہو کر اپنے آپ کو تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ جن جن جگہوں پر وہ خود کو تلاش کرتا ہے، وہاں اسے اپنا آپ میسر نہیں آتا۔ اپنے آپ سے دوری اسے قبرستان تک لے جاتی ہے۔
اس مجموعے میں ایسے افسانے بھی ہیں جو حقیقت نگاری کی ذیل میں آتے ہیں ان میں سے ”بانا باجی“ سرِ فہرست ہے۔ اس افسانے میں مصنف نے پنجاب کے ٹاٹ سکولوں کے کلچر کو اس خوب صورتی اور باریکی سے پینٹ کیا ہے کہ آج سے تیس پینتیس سال قبل کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ یہ قاری کو اس کے بچپن میں لے جاتا ہے۔ افسانے میں ناسٹیلجیا کی کیفیات نمایاں ہیں۔ بانا باجی کے کردار کو مہارت سے نبھایا گیا ہے جو افسانے کے بیان کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ یہ کردار ان کا ہمیشہ زندہ رہنے والا کردار بن سکتا ہے۔ افسانہ ”نیم پلیٹ“ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھنے والا افسانہ ہے جس میں مریم باجی کا کردار بانا باجی کا عکس محسوس ہوتا ہے۔ جیسے بانا باجی جوان ہو کر مریم باجی کا روپ اختیار کر گئی ہے۔ انتہائی سنجیدہ، ہر وقت مطالعے میں غرق، بظاہر اردگرد سے لاتعلق لیکن باطن میں کہیں خارج سے جڑی ہوئی جس کا اندازہ قاری کو اس وقت ہوتا ہے جب مرزا خاقان کی وفات کے بعد اس کے گھر کے باہر سے نیم پلیٹ اکھاڑی جاتی ہے۔ اس مجموعے میں اور بھی کئی ایسے افسانے ہیں جن میں قاری کو چونکا دینے اور حیرت زدہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ ساحر کے زیادہ تر افسانوں کی لوکیل ہماری زمین سے تعلق نہیں رکھتی۔ یورپی ممالک اور ان کی ثقافت میں رہ کر افسانہ تخلیق کیا گیا ہے۔ عام قاری کو یہ بھی گماں ہو سکتا ہے کہ ساحر نے افسانے خود سے تخلیق نہیں کیے بلکہ یورپی ممالک کے افسانوں کو اردو زبان میں ڈھالا ہے اور کرداروں کے نام تک وہی رہنے دیے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اُن کے مضبوط تخیل اور یورپی ادب کے مطالعے کا نتیجہ ہے کہ وہ پنجاب میں بیٹھ کر بھی روسی، جرمن، فرانسیسی، انگلستانی اور امریکی زمینوں کی کہانیاں بیان کر سکتے ہیں۔ مختصراً اکیلے لوگوں کا ہجوم ”ایک دلچسپ افسانوی مجموعہ ہے جس کے کردار عام انسانوں سے ہٹ کر ہیں، آوارہ گرد، خود سے بچھڑے ہوئے، اداس، تنہائی کا شکار اور مردم بیزار جو شاید عام قاری کے لیے متلی کا باعث بنیں لیکن جو لوگ کامیو، بیکٹ سارتر اور سیمون دی بووا کو پڑھنے کے عادی ہیں ان کے لئے دلچسپ ہوں۔ آپ بھی اس افسانوی مجموعے کو پڑھیں اور ساحر کی کہانیوں کا لطف لیں۔


