ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ۔ لٹل بوائے اور فیٹ مین


ابھی کچھ عرصہ پہلے، یہی کوئی پانچ دس سال قبل سائنس پر راسخ ایمان رکھنے والے اور ٹیکنالوجی کے مداح بل گیٹس کی شان میں رطب اللسان رہتے تھے کہ اتنے میں سائنس اور سیاست کے میدان میں ایک نئی انٹری آ گئی جس نے لوگوں کو ایک نئی چکا چوند سے متعارف کروا دیا، اب لوگ بل گیٹس کو بھول کر اس کی کرشمہ سازیوں کے سحر میں گرفتار ہیں، لگتا ہے کہ یہ شخصیت اس حقیقی دنیا کو ایک طلسم میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہے، ایک نئی دنیا جس کی سرحدیں چکنی مٹی اور سنگلاخ چٹانوں سے شروع ہو کر خلاء کی بے کراں وسعتوں تک پھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں، یہ شخصیت ہے ایلون مسک، امریکہ کے ایوانوں میں آج کل جس کا طوطی بولتا ہے، یہ ایلون مسک کون ہے، امریکہ کے 2024 کے صدارتی انتخابات سے پہلے والے اور انتخابات کے بعد والے ایلون مسک میں کیا فرق ہے، پہلے والا مسک تو دنیا کا امیر ترین آدمی، ایک ٹیک ٹائیکون لیکن بعد والا مسک کون ہے، کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا گوئبلز ہے، اس کا بیربل یا ابوالفضل جیسا کوئی رتن، یا اس کا پارمینیو، یا پھر اس کے شریر میں ان تمام کی روحیں حلول کر چکی ہیں، (محولہ بالا چند جملوں کی رد تشکیل کرنے کا جواز بھی موجود ہے)۔

کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک متلون مزاج آدمی ہے اس کے ذہن کو پڑھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن ایلون مسک کی شخصیت اس کے برعکس ہے، اس کے بارے میں پیشگوئی کرنا قدرے آسان ہے، اور امریکی سیاست میں تو ہر دو شخصیات کا کردار اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے، کیونکہ سیاست کے اس کارزار میں دولت کے بل بوتے پر اقتدار اور اقتدار کے ذریعے دولت کی کمائی کا شیطانی چکر صدیوں سے جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایلون مسک کی خوشی کا عالم دنیا نے دیکھا، وہ اتنا خوش تھا کہ خوشی سے جھوم رہا تھا بلکہ فرط جذبات میں وہ ہٹلر جیسی حرکت بھی بیٹھا جس پر ٹرمپ نے اس کی گوشمالی کی یا نہیں مخالفین نے جی بھر کے نکتہ چینی کی، وہ اتنا خوش تھا کہ جتنا شاید ٹرمپ کے بچے خاتون اول میلانیا بھی خوش نہ تھی حتیٰ کہ ٹرمپ شاید خود بھی اتنا خوش نہیں ہوا گا۔ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایلون مسک نے کہا کہ یہ کوئی معمولی فتح نہیں تھی، یہ انسانی تہذیب کا دوراہا تھا، اور تہذیب کا مستقبل محفوظ ہو گیا ہے، امریکیوں نے سرد جنگ کے بعد جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے کو تیاگ کر اب تہذیب کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے، ، سرمایہ داری نظام اور کمیونزم کی چپقلش کے بعد اب تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ( تھیوری) مارکیٹ میں آ چکا ہے،

درحقیقت ایلون مسک کی صورت میں ( کم از کم گزشتہ ایک صدی کے عرصے میں ) امریکہ کو ہنری کسنجر کے بعد ایک ایسا مہرہ میسر آ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ادھورے منصوبوں کی تکمیل کر سکتے ہیں، کم از کم ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے، حلف اٹھانے کے بعد پہلے تین دنوں میں ٹرمپ کی فیصلہ سازی کے عمل میں غیر متوقع سرعت نے دنیا کو ورطہ حیرت میں تو ضرور ڈال رکھا ہے لیکن حلف اٹھانے سے ایک ماہ قبل اس کے بیانات نے بھی کم تہلکہ نہیں مچایا، جن میں سب سے اہم اور قابل ذکر کینیڈا، گرین لینڈ اور پانامہ کینال کو امریکہ میں شامل کرنے کا عندیہ تھا، ان بیانات کے رد عمل میں کینیڈا اور گرین لینڈ کے حکمرانوں کے بیانات بھی سامنے آئے لیکن ان بیانات کے جواب بھی ٹرمپ کی بجائے ایلون مسک ہی دیتا رہا، ان جوابی بیانوں میں اس کا لہجہ تحکمانہ تو تھا ہی لیکن کینیڈا کے معزول وزیر اعظم کو تو اس نے باقاعدہ جھاڑ پلا دی، جس نے صرف اتنا کہا تھا کہ کینیڈا برائے فروخت نہیں ہے، یہ درست ہے کہ ٹرمپ نے اپنی ان خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ وہ کسی فوجی مہم جوئی کا ارادہ نہیں رکھتے، اس بات پر لوگوں نے قدرے اطمینان کا اظہار کیا لیکن حقیقت میں یہ مہم جوئی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ایک اور غیر متوقع فیصلہ یہ سامنے آیا کہ کم از کم تین ماہ کے پوری دنیا پر امریکی امداد کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ بڑی مشکل میں ہے اور اسے چمڑی اور دمڑی دونوں کو بچانا پڑ گیا ہے، چمڑی بچانا تو شاید اتنا مشکل نہیں لیکن دمڑی بچانے کا کام اس نے اپنے دوست ایلون مسک کو سونپ دیا ہے، گلوبل ایمپائر قائم کرنے کا دیرینہ خواب اب ایک بزنس ایمپائر کے بے تاج بادشاہ کی مدد سے پورا کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کو Department of Government Efficiency کا سربراہ ہی مقرر کر رکھا ہے لیکن امریکہ کی واچ ڈاگ ایجنسی نے clash of interest کے تحت ایلون مسک پر سخت اعتراضات اٹھا دیے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کے سب سے موثر ٹول ایکس ( سابقہ ٹویٹر) کے مالک کی حیثیت سے اس کی سرکاری کارکردگی اور اس کے کاروبار ایک دوسرے کے آڑے آ سکتے ہیں، یا ایک دوسرے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، ٹرمپ نے ابتدائی تین چار دنوں میں جو اقدامات کیے ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کا ہر صورت میں لحاظ رکھتا ہے، آخر اس نے 2021 میں اپنے حق میں ہونے والے مظاہروں میں گرفتار لوگوں کو بھی تو معاف کر دیا ہے، اور ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے پر بھی اس لئے نظر ثانی کر لی ہے کہ ٹک ٹاک انتخابی مہم میں اس کے کام آئی، بائیڈن کی پالیسیوں کو ریورس کر نے کے پس پردہ صرف ایک وجہ ہے کہ وہ بائیڈن کے جوتے میں پاؤں نہیں رکھنا چاہتا، اسے بائیڈن کی جوٹھی پالیسیاں ہر گز پسند نہیں، وہ اپنی مرضی کی جنگیں مسلط کرے گا، اور اپنی مرضی کا امن قائم کرے گا، بلکہ یہ کام وہ پہلے ہی شروع کر چکا ہے، امریکہ کا معاشی بحران اس کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اسے تمام تر توجہ امریکہ کی بگڑتی ہوئی معیشت پر مرکوز کرنی پڑے گی، معیشت کی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے اب سعودی عرب امریکہ میں چھ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، ( لیکن ٹرمپ اس پر بھی مطمئن نہیں اس نے ایم بی ایس کو ایک ہزار بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا دھمکی آمیز مشورہ بھی داغ دیا ہے ) مہنگائی کو کم کرنے، فی کس آمدن میں کمی اور افراط زر کو روکنے کے لئے ٹیکس، محصولات میں اضافہ، امیگریشن پر پابندی، ڈبلیو ایچ او کی رکنیت سے دستبرداری کے علاوہ آمدن میں اضافے کی غرض سے کینیڈا، گرین لینڈ اور پانامہ کینال کے امریکہ میں انضمام کا عندیہ دے چکا ہے، اگر پانامہ کینال امریکہ کے تسلط میں آ جائے تو وہ امریکہ کا سی پیک ثابت ہو سکتا ہے، ٹرمپ کے نزدیک تو دانشمندی بائیڈن کے قریب سے بھی نہیں گزری، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دینے کے لئے وہ کام کرنے پر بھی تیار ہے جو بائیڈن کو کرنا چائیں تھے مثلاَ امریکہ کی توسیع پسندی کی روایت تو ڈیموکریٹ کے ساتھ منسوب کی جاتی ہے، اور اس سلسلے میں Manifest Destiny کا اصول جو ایک عرصے سے سرد خانے میں پڑا تھا، دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔

یہ اصطلاح امریکہ میں سب سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک ترجمان جریدے کے ایڈیٹر جان ایل سولیوان نے 1845 میں استعمال کی تھی، اس نے امریکہ کے داخلی امور میں فرانس، برطانیہ اور سپین جیسی یورپی طاقتوں کی دخل اندازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا براعظم میں ہماری آبادکاری اور توسیع ہمارا حق ہے، اس زمانے کی وگز پارٹی (آج کل کی رپبلکن پارٹی) نے اس اصطلاح کا مضحکہ اڑایا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ امریکی ایجنڈے کا جزو لاینفک بن کر رہ گئی، جس کے مطابق یہ امریکیوں کا حق ہے کہ وہ پورے براعظم پر قبضہ کر لے، کینیڈا، گرین لینڈ اور پانامہ کینال پر قبضے یا ان کی خریداری کی خواہش اسی اصول کی عکاسی کرتی ہے، اس سلسلے میں ایلون مسک ٹرمپ کے بیانات اور پالیسیوں کی حمایت میں پیش پیش ہے، ویسے بھی امریکیوں کی رگ رگ میں pragmatism رچا ہوا ہے لہذا ٹرمپ بھی اسی سوچ کے ساتھ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق ہر حیلہ آزمانے کے لئے تیار ہے۔

اور ایلون مسک اس کے شانہ بہ شانہ ساتھ دینے کو ہمہ وقت اور ہمہ تن تیار ہے۔ سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں یعنی 1983ء میں رونالڈ ریگن نے، سوویت یونین کی طرف سے انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے خدشے کے پیش Strategic Defence Initiative کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے سٹار وار بھی کہا جاتا تھا، اس پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کرتے کرتے آٹھ سال گزر گئے، اس پروگرام کے خلاف کانگریس کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہوئیں اور باہر سے بھی لوگوں نے بھرپور تنقید کی، ماہرین نے اس کے قابل عمل ہونے پر سوالات اٹھائے، سیاسی قیادتوں خاص طور پر ڈیموکریٹس نے بھی مخالفت کی لیکن اسی اثناء میں سوویت یونین ٹوٹ گیا اور اس پروگرام کی فائلیں داخل دفتر ہو گئیں۔

اس پروگرام کے مطابق سوویت یونین کے میزائلوں کے توڑ کے لئے خلاء میں لیزر سٹیشن قائم کیے جانے تھے جہاں سے روسی میزائلوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا، اگر صدر ریگن کو بھی کوئی ایلون مسک میسر ہوتا تو وہ منصوبہ سٹار وار یقیناً پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا، کیونکہ اگر ایلون مسک یوکرین کے اداکار صدر زلنسکی کی مدد سٹار لنک کے ذریعے کر سکتا ہے تو امریکہ کے اداکار صدر ریگن کے سٹار وار پروگرام میں ضرور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا بلکہ وہ سارا پروگرام اپنے ذمے لے لیتا، لیکن اب امریکہ کے پہلوان صدر کو ایلون مسک کی سہولت میسر ہے جس نے xSpace اور xAI کے ذریعے سلوک کی تمام منزلیں طے کر لی ہیں اب امریکہ زمینی خشک وتر سے تجاوز کر کے آسمانوں پر اپنا راج سنگھاسن قائم کر سکتا ہے۔

وہ X یعنی سابقہ ٹویٹر کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کی گن سن بھی لے سکتا ہے اور مخبریاں بھی کر سکتا ہے، امریکیوں کا ٹریک ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے میں دیر نہیں کرتے خواہ اس کے لئے انہیں ہیرو شیما اور ناگاساکی جیسے گنجان شہر ہی کیوں نہ تباہ کرنے پڑ جائیں، اسی ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں ایلون مسک اور ٹرمپ کی جوڑی دیکھ کر طرح طرح کے وسوسے ذہن میں آ سکتے ہیں جن میں ایک تو یہ ہے کہ کہیں ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ Little boy اور fat man کا دوسرا جنم نہ ثابت ہو جائے اور دوسرا امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر دو شخصیات Metamorphosis کے عمل سے گزر کر یا جوج ماجوج کے خوف سے موٹو اور پتلو میں تبدیل ہو جائیں، (خدا بہتر جانتا ہے، کیونکہ آخر ولادی میر پیوٹن اور زی ژنپنگ کی جوڑی بھی اسی کرہ ارض پر بودوباش رکھتی ہے اور عالمی سیاست اور معیشت کی چند ڈوریاں ان کے ہاتھ میں بھی ہیں)، ہمارے خدشات اور خواہشات اپنی جگہ لیکن قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ایک ایسا آدمی جس نے فزکس بھی پڑھی ہوئی ہو اور بزنس بھی، جس نے اپنی ذاتی ذہانت سے حقیقی خلاء کو اپنے راکٹوں کے ذریعے مسخر کر لیا ہو اور سائبر سپیس کو مسخر کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کا جن اس کے قبضے میں ہو، سات آٹھ کمپنیوں اور ساڑھے چار سو ارب ڈالر کا مالک دنیا کا امیر ترین آدمی اور مجوزہ گلوبل ایمپائر کے سربراہ کا دست راست جب سیاست میں ٹانگ اڑانا شروع کر دے تو سمجھیں گڑ بڑ ہے، اور اس کے بارے میں یہ پیشگوئی کرنا کوئی مشکل کام نہیں کہ بے تاج بادشاہ تو وہ ہے ہی، بس اس کے سر پر تاج سجنے کی دیر ہے، اور یہ دور کی بات بھی نہیں بس یہی کوئی چار پانچ سال، اور بس۔ فی الحال اس کی مثال اس اونٹ کی ہے جس نے اپنا سر خیمے میں داخل کر دیا ہے۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS