فرانسیسی مصّور کلاڈ مَونے اور میں


جب ہم این۔ سی۔ اے میں پڑھ رہے تھے تو میڈم سلیمہ ہاشمی نے ہمیں ایک ذمے داری سونپی جو کلاس ہی کا کام تھا۔ یہ کام ہمیں امپریشنسٹ مصوروں کی پینٹنگز کو روشنی اور رنگوں کے تال میل سے ہُو بہُو ان کے انداز میں کاپی کرنا تھا۔ اس اندازِ مصوری میں چھوٹے اور تیز برش سٹروک لگا کر روشنی اور سائے کے امتزاج سے پینٹنگز بنائی جاتی تھیں۔ اس کا مقصد قدرتی مناظر اور پینٹر کے جذبات کو اپنے کینوس پر رنگوں کے ذریعے قید کرنا ہوتا ہے۔ مجھے وین گاف اور کلاڈ مونے کا کام بہت پسند تھا۔

سب سے پہلے کلاڈ مَونے کے کام کے بارے میں کچھ بات ہو جائے۔ انیسویں صدی کا مشہور فرانسیسی مصور کلاڈ مَونے تھا۔ وہ امپریشن ازم کے بانیوں میں تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے فن میں روشنی اور رنگوں کا شاعرانہ امتزاج اس کے کام کو منفرد بناتا ہے۔ مَونے کے فنِ مصوری میں تخیلاتی مناظر گہرا جذباتی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ مَونے کی پینٹنگز میں قدرتی مناظر انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیے گئے ہیں۔ پینٹنگز میں باغ، جھیلیں، پانی، درخت اور آسمان کے نرم رنگ ایسے دکھائی دیتے کہ جیسے وہ کسی انوکھے خوابناک ماحول کا حصّہ ہوں۔ مونے کی پینٹنگز میں رنگوں کے ذریعے کینوس پر اتارے گئے مناظر کی خاموشیاں جیسے اپنے دیکھنے والے سے گفتگُو کرتی ہیں۔ مَونے کے فنِ مصوری میں رنگوں اور روشنی کا حسین تال میل بہت متاثر کن حد تک خوب صورت ہے۔ ایک پینٹنگ میں غروب آفتاب ہلکی دُھند میں لپٹا ہوا منظر سنہرے اور نارنجی رنگوں میں دیکھنے والوں کے جذبات کو متحرک کرتا ہے۔ مَونے کے فن پارے آج بھی دنیا کی بڑی بڑی آرٹ گیلریز کی زینت ہیں۔ مَونے کی مشہور ترین پینٹنگز جیسے Wterlilies اور Japanes Bridge نرم نرم باتیں کرتے ہوئے رنگ اور تالاب میں پانی کا عکس ایسا لگتا ہے جیسے کسی حسین خواب کی تصویر۔ انیسویں صدی کی خامشی اور صاف سُتھری فضا مَونے کے فن میں نظر آتی ہے۔ ہر حساس فنکار کی طرح اس کی زندگی میں بھی بہت سے اتار چڑھاؤ اور دُکھ بھی آئے۔ مَونے کی پہلی بیوی Camille Doneieux اس کی بہت سی پینٹنگز میں نظر آتی ہے۔ مگر اس کی بیوی کی بے وقت موت نے اسے گہرے دُکھ سے دو چار کیا۔ پھر اس نے اپنے گھائل دل کو فنِ مصوری کی طرف اور زیادہ لگایا تاکہ بیوی کی یاد سے بچ سکے۔ اس کی مصوری اس کے لیے سکون کا ذریعہ بنی۔ وہ اپنے باغات میں کبھی پانی کے حوض بناتا، پُھول اُگاتا اور پھر انہیں دیکھ کر اپنے کینوس پر اتارتا۔

اب میں بات کرتی ہوں ان پینٹنگز کی جو میں نے اپنی پسند سے مَونے کے کام سے منتخب کیں۔ ایک اس کی Sunrise کے نام سے بنائی گئی پینٹنگ جو مونے کی مشہور تخلیق میں سے ایک ہے۔ اسی پینٹنگ کے نام پر امپریشن ازم تحریک کا نام تجویز کیا گیا۔ اس پینٹنگ میں جھیل پر پڑتے سورج کی روشنی کی مدھم کرنوں کا عکس، دھندلکے میں چھپا ہوا جہاز جس میں مَونے نے نرم نارنجی اور لاجوردی رنگوں کے حسین امتزاج سے خوابیدہ اور پُر سکون ماحول پیدا کیا ہے۔ اس میں مَیں نے titanium white، cerrulean blue، autumn orange اور pale yellow رنگ اپنے پیلٹ پر نکالے اور پینٹ کرنا شروع کر دیا۔ ایک نظر مَونے کے شہ پارے پر اور پھر اسے اپنے کینوس پر کاپی کرنے لگی۔ کچھ دیر کے لیے مجھے لگا کہ میں مَیں نہیں رہی مَونے ہو گئی ہوں۔ میں انیسویں صدی کے طلسماتی ماحول میں اُتر گئی۔ جہاں شفاف آسمان تھا اور فضا میں کنول کے پھولوں کی مہک بسی تھی اور جھیل کے اُجلے پانیوں میں لاجوردی رنگوں کے تیز اور ہلکے شیڈز لہلہا رہے تھے۔ مَونے کی دوسری شاہ کار پینٹنگ Woman with a Parasol کو اپنے کورے کینوس پر اُتارا اس میں ایک عورت رومانوی کھلی چراگاہ میں چمکتی ہوئی نرم سی دھوپ میں چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سرسراتی ہوا اور عورت کے ہوا سے لہراتے ہوئے کپڑے بلاشبہ پُرانے دور کے اس رومانوی ماحول کی یاد دلاتی ہے جس میں رہنے کو آج کے دور کے مشینی انداز کا انسان بے قرار ہے۔ اس پینٹنگ میں مونے کا سات سالہ بیٹا بھی ساتھ کھڑا ہے عورت مَونے کی بیوی ہے۔ مَونے کی یہ پینٹنگ 1875 میں بنائی گئی جب وہ پیرس کے گردونواح میں رہا کرتا تھا۔ اس تصویر کو مصور کرتے ہوئے میں اس دنیا کی باسی نہیں تھی بلکہ پرانے عہد کے پیرس کے گردونواح میں تھی۔ مَونے کی پینٹنگز صرف دیکھنے کی چیز نہیں بلکہ جب اسے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہر منظر ایک کہانی سناتا ہے۔ جہاں مصوری شاعرانہ باتیں کرتی ہے۔ فطرتی حسن کے محبت بھرے رنگوں میں میرے برش ڈوب کر اُبھرتے تو میں کبھی مَونے کے پہلو میں جا بیٹھتی اس سے اس کی مصوری کی تکنیک سیکھنے کے لیے کبھی اس دور کی ہلکی ٹھنڈی سرسراتی ہواؤں کو اپنی انگلیوں سے چُھوتے ہوئے عجیب سی خوشی محسوس کرتی۔ تیسری پینٹنگ میں نے مونے کی مشہور ترین Poppies بنائی جو اس نے 1873 میں پینٹ کی تھی۔ یہ شاہ کار بھی فرانس کے ایک دیہی علاقے کے کھیتوں کی منظر کشی ہے جہاں بہت سے سُرخ پوست یعنی Poppies کے پُھول کھلے ہوئے ہیں۔ اس میں بھی مونے کی بیوی اور اس کا سات سالہ بیٹا ژاں ہے۔ وہ پُھولوں کے درمیاں چہل قدمی کر رہے ہیں۔ پس منظر میں ایک پہاڑی پر درخت نظر آتے ہیں جو فاصلے کی گہرائی کا تصور پیدا کرتے ہیں۔ اس پینٹنگ میں مَیں نے مَونے کے انداز اور رنگوں میں ورملین ریڈ، لاجوردی، وریڈین گرین کے مختلف شیڈز استعمال کیے البتہ سُرخ پوست کے پھولوں کو پیش منظر یعنی سامنے کے حصے میں Vermilion Red کو برش سے بڑے بڑے دھبوں کی طرح بغیر آئل مکس کیے لگایا تو شاعرانہ کیفیت اور خوابناک منظر جو میرے کورے کینوس پر اترا تو میں ایک جادُوئی دنیا میں چلی گئی۔ آئل پینٹس کو برش سے اُٹھا کر جب کینوس پر لگایا تو مانو جیسے مکھن کی نرمی میں میری پَوریں ڈوب گئیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “فرانسیسی مصّور کلاڈ مَونے اور میں

  • 01/02/2025 at 6:54 شام
    Permalink

    بہت عمدہ مضموں مونےکی پینٹ گز بہت معجزاتی ہوتی ہیں اور سمجھ نہیں آتا کہ کیسے کیا کرتے تھے۔ آپ نے آرٹ پہ لکھ کر جی خوش کردیا۔

Comments are closed.