نوکری کھا جانے والے کیڑے۔
کیسی بات ہوتی ہے جب آپ اپنی پوری محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام اپنی جاب سرانجام دے رہے ہوتے ہیں لیکن آپ کے ساتھ کام کرنے والے آپ کے کولیگ اور سینئیرز آپ کے خلاف ایسی سیاست اور ایسا منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی ملازمت نہ صرف خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ کئی مرتبہ اپ کو اس سے ہاتھ بھی دھونے پڑ جاتے ہیں اور اس موقع پر جب کہ آپ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو ایک ملازمت کرتے ہوئے کچھ عرصہ مکمل ہو گیا ہے، اب آپ اپنے سٹینڈرڈ آف لائف کو مینٹین کر رہے ہیں اپنی زندگی کو بہتر گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپ ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں اپنے بچوں کے لیے اپنے گھر والوں کے لیے اپنی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے گھر کو چلا رہے ہوتے ہیں اس صورتحال میں جب ان لوگوں کی منفی سیاست کی وجہ سے ملازمت کے ختم ہوجاتی ہے تو آپ کو بہت بڑا دھچکا لگتا ہے اور آپ فوری طور پہ اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ اب آپ کے گھر کے اخراجات کیسے چلیں گے آپ کے گھر کا کچن کیسے چلے گا یہ بات وہ لوگ بھی جانتے ہیں جو آپ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں اپنی سیاست چمکانے کے لئے جان بوجھ کے آپ کی ملازمت کو ختم کروا دیتے ہیں اور آپ کے لیے کامیابی اور ترقی کے دروازے بند کر دیتے ہیں
ہمارے معاشرے میں اس وقت ایسے کتنے ہی لوگ ہوں گے جو ان منفی رویوں کا شکار ہو کر اپنی ملازمت ختم ہونے کی وجہ سے ایک شدید ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں زندگی کے معمولات کو برقرار نہ رکھ سکنے کی وجہ سے اپنی زندگی میں ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی اس ناکامی کا نتیجہ بسا اوقات ان کی اچانک موت، ہارٹ اٹیک یا خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اب بات یہ ہے کہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں جب آپ اپنی قابلیت سے اپنی اہلیت کے مطابق کوئی نوکری حاصل کرتے ہیں اور اس کو اچھی طرح سرانجام دیتے ہیں پوری محنت سے پوری دلجمعی سے تو لوگ اپ کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں کہ آپ کی ملازمت کو خطرہ ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی تو وہ ختم ہو بھی جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ چاہے وہ باس ہوں یا کولیگ یہ لوگ آپ سے جیلس ہوتے ہیں انسکیور ہوتے ہیں ان کو اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا اچھی طرح سے معلوم ہوتا ہے یہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ کی جاب مستقل ہو اور آپ آفس میں مستقل بہتر پوزیشن یا ان سے بہتر مقام حاصل کر سکیں اور اس مقصد کے لیے وہ ہر ممکنہ منفی ہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں جو آپ کی ملازمت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بعض دفعہ سینیئرز میں یہ رویہ عام پایا جاتا ہے کہ وہ نئے آنے والے جونیئر کے اوپر منفی سیاست کرتے ہیں اور اس سیاست میں بار بار جونیئرز کی نوکری ختم کروا دی جاتی ہے۔ اور پھر دوبارہ سے جونیئر کی پوسٹ پر ہائرنگ شروع ہو جاتی ہے اس طرح سے اعلی افسران کی نظر ان کی کارکردگی پر نہیں رہ پاتی اور وہ اسی الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ دوبارہ ہائرنگ کرنی ہے اور نئے آنے والے کو دفتری ماحول کے مطابق ڈھالنا ہے، اس تمام صورت حال کا فائدہ مذکورہ فرد اٹھاتا ہے اور اپنی تمام کوتاہیاں آپ کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔
اس کشمکش کا بدترین پہلو یہ ہے کہ ایسی سیاست کرنے والے لوگ جب ایک جگہ سے دوسری جگہ نوکری تبدیل کرتے ہیں جو آج کل کا عام رجحان ہے تو ان کے متعلق منفی بیانات ان کے لیے ناخوشگوار تاثرات کا باعث بنتے ہیں اور ان کی منفی سرگرمیوں کی رپورٹ ان سے پہلے نئے دفتر میں پہنچ چکی ہوتی ہے، اس بنیاد پر ان کو زیادہ تر ملازمت پر رکھا ہی نہیں جاتا اور کبھی نئی جگہ پر پہنچنے کے بعد ان کو اپنی پرانی پوزیشن سے ہٹنے کے بعد اپنی اصل اوقات پتہ چلتی ہے یہاں نئی نوکری پر ان کو اسی تمام منفی اور زہریلی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ اب تک دوسروں کو دو چار کرتے رہے تھے اور اس کے نتیجے میں ان کی نوکری بار بار جاتی ہے اور پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ جب نوکری ملتی ہی نہیں کیونکہ دنیا گول ہے اور تمام نوعیت کے کاروباری ادارے آپس میں ایک لنک رکھتے ہیں جس سے وہ تمام لوگ جو ایک دفعہ کسی ادارے میں کام کر چکے ہوں ان کے بارے میں پائے جانے والے تاثرات سے سبھی آگاہ ہوتے ہیں لہذا ان کی ایک دفعہ منفی رپورٹنگ ہو جائے تو یہ لوگ تا عمر بے روزگار رہتے ہیں۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر انسان یہ سوچ لے کہ اللہ تعالی نے اس کا اختیار محدود رکھا ہے تو اس کا کوئی سبب ہے اس میں اللہ تعالی کی کوئی حکمت کار فرما ہے چاہے آپ چھوٹی پوسٹ پر ہوں چاہے بڑی پوسٹ پر ہوں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ یہ اختیارات آج آپ کے پاس ہیں کل کسی اور کے پاس ہوں گے اور اس وقت آپ بے اختیار ہوں گے۔


