علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت قسط 3


” پھر میں نے اس سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں ایسا ہوا ہے! اس پر اس عورت نے کہا کہ ہاں! یہ بچہ ہے نا، اس کے باپ نے ایک دفعہ میرے گلے میں بجلی کی استری والی تار ڈال کر کھینچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کام اُلٹ ہو گیا! “ ۔

” ارے! کیا اُلٹ ہو گیا؟“ بے ساختہ میں نے سوال کر ڈالا۔

” یہی بات میں نے بھی اُس سے پوچھی تو کہنے لگی کہ بجائے کہ وہ میرا گلا گھونٹتا، میں نے وہ تار اُس کے گلے میں ڈال دی! پھر جب تار کو کھینچا تو اس کی ناک سے خون کی پچکاری دیوار پر گئی۔ میں نے پوچھا تو پھر کیا وہ مر گیا؟ جواب دیا کہ نہیں نہیں وہ زندہ ہے! میں نے کہا کہ اب آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں۔ کہنے لگی کہ ابھی اوپر کے کمرے تو دکھاؤں! اوپر لے گئی۔ وہاں ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس پر باہر کی جانب لکھا تھا ’ویل کَم‘ !

اور اندر لکھا تھا ’ویل کم مسٹر عمرانی‘ ۔ میں تو حیران رہ گیا کہ یہ ہے کیا؟ میں کس چکر میں پھنس گیا؟ وہ کہنے لگی کہ یہ کمرہ آپ کا ہے! وہاں کچھ اور عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں جو شاید وہاں دیر سے پہنچی تھیں۔ میں سیڑھیاں اتر کر جب وہاں سے جانے لگا تو وہ عورت بولی کہ یہ میری سہیلیاں ہیں اور آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں نے کہا کہ بی بی پھر سہی ابھی مجھے جانے دیں اور یوں میں واپس آ گیا! پھر کہیں کمال بھائی کو یہ بات معلوم ہوئی اور انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ کہنے لگے کہ شاہ صاحب آپ بچ گئے“ ۔

” ارے! “ ۔ میں بولا۔

” یہ کوٹھی اُسی آدمی کی ہے جسے وہ عورت مارنا چاہتی تھی اور وہ لڑکا جو اس کے پاس ہے اسی آدمی سے ہے۔ کوٹھی اس عورت نے اپنے نام کرا لی ہے۔ اس عورت نے اُس شخص کو فقیر کر دیا۔ یہ عورت اسکول جاتی تھی اور وہ آدمی گاڑی میں گزرتا تھا بس گاڑی میں لفٹ کیا لی وہ شخص اس کے قابو آ گیا! اب اس عورت کو ایک مجذوب قسم کا شخص درکار ہے۔ اب آپ وہاں قطعاً نہ جائیں! میں نے کہا کہ توبہ! میں اب کہاں جانے والا! “ ۔

” واقعی یہ تو بہت ہی عجیب و غریب قصّہ ہے۔ علّامہ صاحب! ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ لوگوں کے دُکھ درد دور کرنے کے لئے آپ سے جو ہو سکتا ہے وہ کر دیتے ہیں لیکن کسی سے پائی دھیلا نہیں لیتے“ ۔

” بالکل کچھ بھی نہیں لیتے۔ پورے پاکستان میں کوئی ایک آدمی یہ ثابت کر دے کہ میں نے کسی سے پائی، دمڑی لی ہو میں اس کی دمڑی واپس کروں گا! میں ایک مزدور باپ کا بیٹا ہوں اور ساری عمر مزدوری کی ہے۔ میرے بچے معقول ہیں، کوئی فکر و فاقہ نہیں ہے الحمدللہ! تو میں کیوں اِن کاموں میں پڑوں؟ بس گھر ہی میں رہتا ہوں اور آپ لوگوں کی دعاؤں کا طالب ہوں۔ خود آپ سے تقریباً 15 سال کے بعد ملا ہوں، مجھے تو حیرانی ہو گئی کہ میں زندہ ہوں! “ ۔

” اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہم پر سلامت رکھے! “ ۔ میں نے کہا۔
” آپ بتلا دیں کیا آپ نے مجھے کچھ بدلا ہوا دیکھا؟ جیسا تھا ویسا ہی ہوں! “ ۔
علّامہ صاحب گاڑی میں نہیں بیٹھتے

” علّامہ صاحب! عجیب و غریب بات جو آپ سے متعلق مجھے سب سے پہلے معلوم ہوئی وہ یہ کہ علّامہ صاحب صرف موٹر سائیکل پر بیٹھیں گے کار میں نہیں پھر اُس پر جو سب سے زیادہ کھٹارا ہو! کیا واقعی ایسا ہی ہے؟“ ۔

” ہاں ایسی ہی بات ہے شاہد بھائی! ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ میرے مرحوم بڑے بیٹے، پروفیسر صاحب نے گاڑی لی۔ وہ ہر دو سال بعد گاڑی بدل لیتا تھا۔ ہمارے کسی عزیز کی بارات تھی۔ یہ سب لوگ گاڑی میں بیٹھ کر جا رہے تھے۔ وہ اپنی بیوی اور بچیوں کو پہلے چھوڑ آیا۔ اگلی سیٹ اُس نے خالی رکھی کہ ابو بیٹھیں گے اور کہا کہ آئیں ابو بیٹھیں! میں نے کہا کہ میں تو گاڑی میں نہیں بیٹھتا۔ ساری عمر گَڈوں میں سفر کرنے والا، ساری عمر میں نے سائیکل چلائی میں تو کبھی اِن کاموں میں پڑا ہی نہیں میں تو درویشی لائن کا بندہ ہوں!

تم جاؤ بیٹا میں آ رہا ہوں۔ وہ بیچارہ (شالیمار ٹاؤن کی) سُپر مارکیٹ تک کار کے ڈرائیور کے ساتھ پیسنجر والی طرف کا دروازہ کھُلا چھوڑ کر میرے ساتھ ساتھ کار میں آتا رہا۔ کہتا رہا کہ ابو برکت کے طور پر ہی آ جاؤ لیکن میں نے کہا کہ آنا ہی نہیں اور میں نہیں بیٹھا! میری بیوی اور بیٹی اس گاڑی میں موجود تھیں وہ چلی گئیں اور میں ان کے بعد گلشنِ راوی میں انمول شادی ہال پہنچ گیا“ ۔

” علّامہ صاحب! جب آپ پہلی مرتبہ رضوان جعفری صاحب کے ساتھ ہمارے ٹی وی چینل پر آئے تھے واپسی پر جب میں نے آپ کو دفتر کی گاڑی میں چھوڑنے کو کہا تو رضوان مجھ سے کہنے لگے کہ نہیں بھائی علّامہ صاحب تو موٹر سائیکل پر ہی جائیں گے وہ بھی کھٹارا! کار میں جانا ان کی شان کے خلاف ہے جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ ٹوٹی پھوٹی موٹر سائیکل پر جانا اُن کی شان کے خلاف ہے! “ ۔

قہقہے۔

” صحیح بات ہے! یہ میں عام کہتا تھا اور اب بھی وہی ہے۔ رضوان جعفری کے بھائی ڈاکٹر سلمان بہت بڑا نیورو سرجن ہے جس کا دبئی میں بڑا نام اور گولڈن ویزا ہے۔ یہ دنوں بھائی میرے شاگرد بھی ہیں۔ میرے شاگردوں میں بھائی کمال کا بیٹا، جواد ایلیا اور آج کا ایک بہت بڑا ذاکر ظہیر الحسن ظہیر اور بہت سے دوسرے ہیں! لیکن میرے پاس کچھ نہیں ؛ میں تو اپنے لئے سواری بھی نہیں رکھتا“ ۔

” علّامہ صاحب ہر ایک شخص کو پرکھنے کے پیمانے الگ ہیں“ ۔ میں نے کہا۔

” بالکل صحیح! میرے خیال میں احترامِ سادات ضر وری ہے۔ پھر یہ کہ لوگ مجھے پیسہ دیتے ہیں میں وہ ضرورت مندوں میں فوراً ہی بانٹ دیتا ہوں۔ علامہ صبیح حیدر شیرازی صاحب بتا دیں گے کہ آٹے کے توڑے آتے تھے، زکواۃ آتی تھی وہیں تقسیم کر دیتا تھا۔ ایک بڑا مشہور واقعہ ہے کہ کوئی صاحب مجھے پیسے دے گئے۔ میں نے اختر حسین جو آج کل کراچی میں ہیں اس وقت وہ یہاں کے جنرل سیکریٹری تھے، مجھ سے کہنے لگے کہ آپ پیسے رکھ لیجیے۔ میں نے کہا کہ میں کیوں رکھوں؟ آپ رکھ لیں جب میں کہوں تو دے دیجئے گا۔ ہر ماہ مجھ سے کہتے کہ وہ پیسے رکھے ہوئے ہیں اور میں نے تو وہ کھول کے بھی نہیں دیکھے۔ جب خوفناک زلزلہ آیا تو اس زمانے میں بھائی اختر کو فون کیا کہ وہ پیسے لے کے فٹا فٹ آ جاؤ! پھر وہ پیسے انہوں نے مستحقین کے لئے بھیج دیے“ ۔

” ماشاء اللہ آپ نے اپنے بزرگوں اور بچوں کا ذکر کیا، اس حوالے سے نئی نسل کو کوئی ہلکی پھلکی نصیحت! “ میں نے کہا۔

” یہی نصیحت ہے کہ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے پیار کرو، مستورات کو دیکھ کر نظریں نیچی کر لو اور جو صاحبانِ اقتدار ہیں ان کا احترام کرو۔ انہیں سپورٹ تو کرو لیکن ان کی ہر بات کو حرفِ آخر نہ سمجھو۔ حرفِ آخر قرآنِ پاک کا ہر لفظ اور نبی ﷺ کا ہر فرمان ہی ہے! اور خلفائے راشدین ہوں، خلفائے محمدِ مصطفے ٰ ﷺ ہوں، آئمہ اہلِ بیت ہوں، حسینِ شہیدِ کربلا علیہ السلام ہوں اِن سب کے فرمودات کو اپنے پیشِ نظر رکھو! اقتدار کی رسّہ کشی خدا کے لئے چھوڑ دو ! کتنی مصیبتیں کاٹ کر پاکستان بنا تھا۔ مجھ سے کسی بچی نے بیس سال پہلے ایک انٹرویو لیا تھا میں نے کہا تھا کہ جب پاکستان بنا تو میں ہندوستان میں تھا اور دوسری جماعت میں گیا تھا۔ تب ایک ہی نعرہ تھا ’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘ ۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ بالکل نہیں تھا“ ۔

” ارے! “ میں نے حیرت سے کہا۔

” جی ہاں بالکل نہیں تھا! یہ بعد میں جماعتِ اسلامی نے گھڑا! البتہ قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ یہ ضرور کہتے تھے کہ ہم محمدِ مصطفے ٰ ﷺ کے نام پر اسے حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن ہم پاکستان بنانے کا ہدف پورا نہ کر سکے۔ ہماری بنیاد اس کلمے پر ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد ہے“ ۔

تصنیفات

” علّامہ صاحب آپ نے شعر و شاعری کی بھی بات کی ہے تو آپ نے حمد، نعت، منقبت، غزل، نظم، گیت، مرثیہ، سلام، نوحہ وغیرہ میں سے کس پر طبع آزمائی کی؟“ ۔

” جی ہاں! میری کئی کتابیں ہیں۔ ’مِضرابِ نرجِس‘ غزلیات کا مجموعہ تھا جو اب ناپید ہے۔ اس کے بعد ’قندیلِ مودت‘ تھی۔ وہ بھی اب شاید کسی کسی کے پاس ہو۔ اس کو میں نے مرتب کیا تھا اپنی دانست میں، جس میں بڑے بڑے نامی گرامی شعراء کو اکٹھا کیا تھا۔ نمبر دو ، میری کتابوں میں آغا علیم رضوی ایڈووکیٹ جو سپریم کورٹ کا بہت بڑا وکیل اور عظیم مُفکّر ہے، قسم بخدا ویسا کسی عالم کے پاس علم نہیں جتنا اُس کے پاس ہے! اُنہوں نے میری رباعیات کو اکٹھا کیا“ ۔

” آپ کی اپنی لکھی ہوئی رباعیات؟“ میں نے پوچھا۔

” جی ہاں میری اپنی رباعیات۔ میں نے کبھی یہ نہیں کیا کہ آگے بڑھ چڑھ کر رہوں۔ میری یہ عادت کبھی نہیں رہی۔ تو میری لکھی ہوئی رباعیات مختلف لوگوں کے پاس تھیں۔ میرے پاس تو کوئی بیاض ہی نہیں ہے! “ ۔

ایک سہرے کا دلچسپ واقعہ
” کسی زمانے میں رُخصتی اور سہرے لکھوائے جاتے تھے، کیا آپ نے بھی کبھی لکھے؟“ ۔

” جی ہاں! میں نے سہرے لکھے اور بہت لکھے۔ ایک سہرے کا واقعہ بھی سنا دیتا ہوں۔ وہ یہ کہ میں نے سید ثروت حسین کاظمی کا سہرا لکھا۔ ان کے ماموں سید فیّاض حسین زیدی تھے جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ وہ شاعر بھی تھے اور ان کے بھائی سید سرفراز حسین جو میرے پھوپھا ہیں، اُن کے ماموں ہیں۔ تو وہ سہرا میں نے لکھا جو ملتان میں پڑھا گیا۔ میں چائے کا عادی ہوں۔ مجھے پتا تھا کہ انہوں نے اب رحیم یار خان جانا ہے تو میں چائے پینے چلا گیا۔ اس دوران کسی نے وہ سہر1 گا کے پڑھا۔ فیاض حسین بہت بڑا اور بہت اچھا شعر کہنے والا آدمی تھا۔ اُس سہرے کا ایک شعر یہ تھا :

رات کے پچھلے پہر سرگوشی ء غنچہ و گل کی
نمودِ آب و گِل سے کس قدر ہے با خبر سہرا

نمودِ آب و گِل سے کس قدر ہے با خبر سہرا سُن کر وہ ایک دم تڑپ اُٹھے۔ کہنے لگے واہ! کیا فلسفہ ہے! شبِ زفّاف کو سرگوشیاں بالکل اُٹھتی ہیں لیکن یہ کمال نہیں ہے کہ نمودِ آب و گِل سے کس قدر ہے با خبر سہرا! واہ نمودِ آب و گِل ہو رہی ہے! بے ساختہ کہنے لگے کہ کس نے کہا یہ سہرا؟ بھائی سید سرفراز حسین نے کہا کہ یہ ماموں رمضان کے بیٹے نے کہا ہے۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا عمرانی نے؟ فوراً کہنے لگے کہ ہاں بھئی شعر اچھا کہتا ہے ”۔

شاعری اور اختیار حسین اختر صاحب کی شاگردی

” میں ابھی آٹھویں جماعت میں تھا تو شعر موزوں کرنا شروع کر دیے۔ ہمارے چنیوٹ کے باہر گلی پر ایک بہت بڑا لکڑ کئی سالوں سے پڑا ہوا تھا جس سے ایک جہیز کا فرنیچر بن سکتا تھا۔ میں اس پر بیٹھ جا یا کرتا تھا۔ وہاں سے کوئی خاتون گزری جنہیں دیکھ کر میں نے غزل کا ایک مصرعہ کہا :

’ وہ گزرے جو ہو کر قریں سے ہمارے، لپک کر سمٹ کر شتابی شتابی‘

میں انٹ شنٹ مارتا رہا، شعر مرتب ہونے لگے اور غزل کہہ دی۔ اس کے بعد میں نے اختیار حسین اختر صاحب کی شاگردی اختیار کی۔ مجھے مرحوم و مغفور کے پاس لے جانے والے نوحہ خوان، خادم حسین لنگاہ تھے۔ طالب حسین ان کے دوستوں میں سے تھے اور طالب حسین، اختر صاحب کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ اختر صاحب زبردست شاعر تھے۔ جیسے مرثیہ میں انیسؔ اور دبیر ؔ کا مقام ہے ویسا ہی مقام نوحۂ جدید میں اختر کا ہے۔ اختر صاحب کا ثانی نہ ہندوستان میں ہے نہ ہی پاکستان میں! ”۔

” ارے! اِن کا اتنا بڑا مقام ہے؟“ ۔ میں نے حیرت سے کہا۔
” جی ہاں بے شک! ان کا شعر دیکھئے :
اکبر کی لاش پر نہ پوچھ موت کی زردیاں نہ تھیں
اُٹھتا ہوا شباب تھا سوئی ہوئی بہار تھی

اب آپ دیکھیں کیا حُسن ہے۔ بہار، شباب اور واقعہ؟ واقعہ نوحہ کا ! یہ ہے ایک مثال! ایک جگہ وہ کہتے ہیں کہ دریا کیا دور ہے؟ کیا بہت دور تھا؟ کوئی طاقت تھی جو انہیں روک لیتی! تو اب اختر اس کو نوحے میں یوں کہتے ہیں :

دریا بھی بہت دور نہیں تشنہ لبوں سے
نزدیک ہے کوثر یہ شہیدوں کو یقین ہے

منزلِ یقین کیا ہے؟ کہ دریا تو بہت دور ہے، حالاں کہ وہ قطعاً دور نہیں! البتہ (حوض) کوثر دور ہے مگر شہیدوں کو اس کے نزدیک ہونے کا یقین ہے!

اختر صاحب میرے استاد تھے۔ انہوں نے طالب حسین صاحب کو خط لکھا کہ اگر میرے بعد کوئی نام پائے گا تو وہ عمرانی مہاجر پائے گا! ”۔

” واہ واہ! کیا بات کہہ دی اختر صاحب نے! جی بے شک! علّامہ صاحب آپ کی بڑی پذیرائی ہے۔ یہ بتائیں کہ خود آپ نے جو پہلا نوحہ لکھا اس کا کیا پس منظر ہے؟“ ۔ میں نے کہا۔

” اس کا پس منظر مجھے یاد نہیں کیوں کہ نوحہ میں نے بہت کم لکھا۔ سلام بہت لکھا۔ جب مجھے خادم حسین لنگاہ، اختر صاحب کے پاس لایا تو طالب حسین بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک قریشی صاحب بھی موجود تھے۔ شیخ محمد حسین نقوی بخاری کے دربار کے حجرے میں یہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں ان کا نوحہ آیا تھا: ’پردیس جانے والے پھر لوٹ کر نہ آئے‘ ۔ اختر صاحب نے مجھ سے پنجابی میں پوچھا کہ کیا تم سید ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں! طالب حسین نے کہا کہ یہ پنجابی جانتا ہے۔ پھر کہا کہ سید صاحب! آپ کا کیا تخلّص ہے؟ میں نے کہا کہ عطائی! مجھ سے پوچھا اس کے کیا معنی ہوئے؟ میں نے جواب دیا کہ عطا کردہ۔ پنجابی میں کہنے لگے کہ ایسا لگتا ہے جیسے عطائی ڈاکٹر بیٹھے ہوتے ہیں! “ ۔

قہقہے۔
……………………
(جاری ہے )

Facebook Comments HS